فتنہ گوھر شاہی کی مختصر ہسٹری - دورِ حاضر کے فتنے | دفاع…

فتنہ گوھر شاہی کی مختصر ہسٹری

  اہل سنت

صفحہ 2 از 3
عبارات میں دن کو کبھی کبھی اس عورت کے پاس چلا جاتا‘ وہ بھی عجیب و غریب فقر کے قصے سناتی اور کبھی کھانا بھی کھلا دیتی (بحوالہ : روحانی سفر صفحہ 34)
کہنے لگی آج رات کیسے آ گئے۔ میں نے کہا پتہ نہیں۔ اس نے سمجھا شاید آج کی اداؤں سے مجھ پر قربان ہوگیا ہے اور میرے قریب ہوکر لیٹ گئی اور پھر سینے سے چمٹ گئی
(بحوالہ کتاب: روحانی سفر صفحہ 32)
اب کچھ عقائد انکی ویب سائٹ سے ملاحظہ کیجئے جو کہ انکی کتابوں میں بھی موجود ہیں۔
1۔اللہ کے بجائے ریاض الگوہر ہی مالک المک ہے۔
2۔ گوھرشاہی کے تمام مرید گوھرشاہی کے انتقال کو گوھرشاہی کی موت تسلیم نہیں کرتے بلکہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ گوھرشاہی جسم سمیت روپوش ہوگیا ہے، یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح گوھر شاہی بھی اپنا جسم چھوڑک کر غیبت  صغریٰ میں چلے گیا ہے اور قیامت سے پہلے حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ گوھرشاہی دوبارہ آئے گا۔
3۔ ریاض الگوہر کا عکس حجرہ اسود، چاند، مریخ وغیرہ میں موجود ہے۔
4۔ انکا موجودہ پیشوا یونس الگوہر کہتا ہے کہ جو شخص گوہر شاہی کو امام مہدی تسلیم نہیں کرتا اسے رب نہیں ملے گااور نہ ہی ایمان نصیب ہو گا۔
5۔ گوہر شاہی لعین کی پشت پر مہرِ مہدی لگی تھی۔
6۔ حجرہ اسود ہماری ملکیت ہے جسے سعودی عرب سے چھین لیں گے۔
7۔گوہر شاہی ملعون کی نشانیاں قرآن اور سابقہ کتب میں موجود ہیں۔
8۔ حجرہ اسود پر رنگ پھیر دیا گیا ہے، اسلئے تمام راسخ العقیدہ مسلم حج و عمرہ سے اجتناب کریں، کیونکہ قبولیت مشکوک ہے۔
9۔ امام مہدی پر وہ ایمان لائیں گے جو چاند اور سورج کی عبادت کرتے ہیں۔
آج کل گوہر شاہی کے چیلوں نے ’’مہدی فاؤنڈیشن‘‘ کے نام سے کام کرنا شروع کردیا ہے۔پاکستان کی بعض سیاسی قوتوں کی سپورٹ کی وجہ سے یہ جماعت دوبارہ سرگرم ہو رہی ہے۔ اس کے کارکنان دنیا بھر میں ای میلز اور خطوط کے ذریعہ خباثتیں پھیلا رہے ہیں۔ مسلمانوں کے تمام مسالک کے علماء نے انہیں گمراہ قرار دیا ہے اور انکے ساتھ تعلقات کو ناجائز کہا ہے۔
1ـگوہر شاہی کے نزدیک اللہ تعالیٰ شہ رگ کے پاس ہوتے ہوئے بھی (نعوذ باللہ) انسانوں کے اعمال سے لاعلم ہیں چنانچہ گوہر شاہی اس عقیدے کا اظہار اپنے ملحدانہ کلام میں کچھ یوں کرتاہے:
قریب ہے شہ رگ کے اسے کچھ پتہ نہیں
بے راز ہوئے محمد کاش تو نے پایا وہ راستہ نہیں
(بحوالہ تریاق قلب صفحہ:18)
2ـجب گوہر شاہی خدا کو لاعلم کہہ سکتا ہے تو ایسے ملعون کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید میں تحریف کرنا بھی کوئی مشکل نہ ہوگا چنانچہ وہ کہتا ہے کہ:
”قرآن مجید میں بار بار آیا ہے کہ ”دع نفسک وتعال“ ترجمہ: ”نفس کو چھوڑ اور چلا آ“ (بحوالہ مینارہ نور طبع اول 1402ھ) حالانکہ قرآن کریم میں کہیں یہ الفاظ موجود نہیں “۔
3ـجب وہ ایسی جھوٹی آیات اپنی طرف سے گھڑے گا تو اس سے کوئی حوالہ بھی طلب کرے گا‘ چنانچہ اس نے پہلے سے ہی اس کا بندو بست کردیا اور کہہ دیا کہ:
قرآن کے صرف 30 پارے نہیں‘ بلکہ کل 40 پارے ہیں چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ:
”یہ موجودہ قرآن پاک عوام الناس کے لئے ہے جس طرح ایک علم عوام کے لئے ہے جبکہ دوسرا علم خواص کے لئے ہے جو سینہ بسینہ عطاء ہوا اسی طرح قرآن پاک کے دس پارے اور ہیں․․․ الخ (بحوالہ حق کی آواز ص:۵۲)
4ـگوہر شاہی مخلوق کو خدا کے ذکر سے پھیر کر اپنے ذکر میں لگانے کے لئے کہتا ہے کہ:
” یہ قرآن مجید فرماتا ہے کہ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے میرا ذکر کرو وہ پارے (یعنی وہ مزید دس پارے جو موجودہ قرآن کے علاوہ ہیں گوہرشاہی کے ہاں) کہتے ہیں کہ اپنا وقت ضائع نہ کرو‘ اسی کو دیکھ لینا اس کی یاد آئے تو (بحوالیہ آڈیوکسیٹ خصوصی خطاب نشتر پارک کراچی)“۔
5ـ موجودہ قرآن مجید نے شراب کو حرام قرار دیا ‘ لیکن شاید کہ گوہرشاہی کو اپنے خصوصی ان دس پاروں میں جو صرف اس پر (شیطان کی طرف سے) نازل ہوئے ہیں۔ شراب کو حلال قرار دیا گیاہے‘ چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ  کے اس قول کی کہ مجھے حضور ا سے دو علم عطاء ہوئے ایک تم کو بتا دیا‘ دوسرا بتادوں تو تم مجھے قتل کردو‘ اس کی تشریح میں گوہر شاہی لکھتا ہے کہ:
” وہ دوسرا علم یہ ہے کہ شراب پیو‘ جہنم میں نہیں جاؤگے اور بغیر کلمہ پڑھے اللہ تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے“۔ (بحوالہ یاد گار لمحات صفحہ:9 ۔۔10)
6ـ گوہرشاہی کو زمین پرتو آرام آیا نہیں‘ اس لئے اس کے نفس نے فضاء میں بھی پرواز کی وہ چاند ‘ سورج اور حجر اسود پر اپنی شبیہ کے متعلق لکھتاہے کہ:
” چاند سورج اور حجر اسود پر شبیہ اللہ کی نشانیاں ہیں‘ یہ من جانب اللہ ہے اور ان کو جھٹلانا گویا کہ اللہ کی بات سے نفی ہے“۔ (بحوالہ حق کی آواز ص:26)
7ـ دنیا کا اصول ہے کہ اپنے محسن کی مدح اور تعریف کی جاتی ہے‘ چونکہ گوہرشاہی بھی اس اصول سے مجبور ہوکر شیطان کی مدح سرائی کرتا ہے تاکہ اس کی طرف سے شیطان کے حق میں کمال ناسپاسی نہ ہو‘ چنانچہ وہ کہتاہے کہ:
” شیطان کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گناہ میں لگاتاہے‘ لیکن خود کبھی شامل نہیں ہوتا․․․ الخ۔ (بحوالہ یادگار لمحات صفحہ40)
8ـجو شخص ہدایت من جانب اللہ سے محروم ہو اور اس کی ہدایت میں کلام خداوندی یعنی قرآن مجید اور فرامین رسول ا یعنی احادیث مبارکہ کارگر نہ ہو اور وہ ان سے ہدایت نہ لے سکے تو آخر وہ کہاں جائے گا؟ اس سوال کا جواب اگر گوہرشاہی خود دے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ اس کا ہادی نہ خدا ہے اور نہ اس کے رسول ا کی تعلیمات‘ چنانچہ وہ خود لکھتا ہے کہ:
” ایک دن پتھریلی جگہ پیشاب کرہا تھا پیشاب کا پانی پتھروں پر جمع ہوگیا اور ویساہی سایہ مجھے پیشاب کے پانی میں ہنستا ہوا نظر آیا جس سایہ سے مجھے ہدایت ملی تھی“۔ (بحوالہ روحانی سفر صفحہ:۲)
9ـ․ پوری امت مسلمہ کے ہاں زکوٰة ڈھائی پر سینٹ ہے‘ لیکن گوہرشاہی مال وزر کی محبت میں اس قدر آگے بڑھا کہ اس نے اپنے مرید وں پر مزید پچانوے پرسینٹ زکوٰة عائد کردی اور مجموعی طور پر اس کے ہاں زکوٰة ساڑھے ستانوے پرسینٹ ہوگئی وہ کہتا ہے کہ یہ (موجودہ) قرآن کہتاہے کہ:
صفحہ 2 از 3