حضرت عمرؓ کے متعلق توہین آمیز الفاظ کہ وہ منافقین میں سے تھے۔(فتح الباری)
زینب بخاریحضرت عمرؓ کے متعلق توہین آمیز الفاظ کہ وہ منافقین میں سے تھے۔(فتح الباری)
(الجواب اہلسنت)
حضرت حذیفہؓ نبی کریمﷺ کے وہ صحابی ہیں جن کو آپﷺ نے منافقین کے نام بتا دیے تھے۔ حضرت عمرؓ نے ان کے سامنے فرمایا حذیفہؓ میں تو منافق ہو گیا، تو حضرت حذیفہؓ نے فوراً فرمایا نہیں عمرؓ آپ منافق نہیں ہیں، گویا اس حکیمانہ طریقہ سے حضرت عمرؓ نے معلوم کر لیا کہ میرے محبوبﷺ نے جن لوگوں کے منافق ہونے کی نشاندہی فرمائی تھی ان میں میرا نام تو نہیں ہے کیونکہ حضرت حذیفہؓ اس راز کے امین تھے، فوراً فرمایا لیکن آئندہ میں کسی کو نہ بتاؤں گا! یہ حکیمانہ طریقہ سے حضرت عمرؓ کا اپنے ایمان کی تصدیق حاصل کر لینا نہ توہین ہے اور نہ ہی گستاخی بلکہ کمال تقویٰ کی علامت ھے.
حضرت حنظلہؓ نے آپﷺ کی خدمت میں یہ عرض کیا تھا کہ خدا کی قسم حنظلہ تو منافق ہو گیا۔ آپﷺ نے فرمایا وہ کیسے؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں تو ایمان کی حالت یہ ہوتی ہے گویا ہم آنکھوں سے جنت جہنم کو دیکھ رہے ہیں اور جب گھروں کو جا تے ہیں تو بیوی بچوں میں جا کر وہ کیفیت باقی نہیں رہتی۔( بخاری وغیرہ ملخصاً)
آپﷺ نے تسلی دی تھی کہ حنظله منافق نہیں مذکورہ روایت میں بھی راز دان رسول حذیفہ الیمانؓ نے حضرت عمرؓ کو تسلی دی کہ پریشان نہ ہوں آپ مومن ہیں منافق نہیں ۔ امام بخاری نے اس عنوان پر مستقل باب قائم کیا ہے کہ خوف النفاق عامۃ الایمان ، اس بات سے ڈرتے رہنا کہ دولت ایمان سے کہیں ہاتھ دھو نہ بیٹھیں، یہ ایمان کی علامت ہے نہ کہ توہین ۔ مگر شیعہ لوگوں کو سیدھی بھی الٹی نظر آتی ہے، اس ایمانی کیفیت کو بھی بھینگی نظر سے دیکھ کر قابل اعتراض عبارت جانا حالانکہ یہ بات قابل تعریف ہے۔
اعتراض میں الفاظ ہیں کہ وہ منافقین میں سے ہیں یہ محض دجل اور برے نفس کی بری تدبیر ہے ورنہ عکسی صفحہ تو اس وہم کو ہمیشہ کے لیے دفن کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ حضرت عمرؓ منافقین میں سے نہیں تھے اور رحمت عالمﷺ کی سچی زبان سے جو فہرست ایمان والوں کی بیان ہوئی تھی اور حضرت حذیفہ الیمانؓ کو اس فہرست سے آپﷺ نے آگاہ فرمایا تھا۔ اس میں سیدنا فاروق اعظمؓ کا اسم گرامی ایمان میں پختہ کار اور منافقین سے کوسوں دور لوگوں میں تھا۔