Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عمر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ملاقات اور مذاکرات

  ابو شاہین

حضرت عمر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ملاقات اور مذاکرات

 جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کربلا پہنچے تو حضرت عمر بن سعدؓ کے شہسوار آپ کے سامنے کھڑے تھے، اس وقت اس کے ساتھ شمر بن ذوالجوشن اور حصین بن تمیم بھی تھا۔ (انساب الاشراف: جلد، 3 صفحہ، 166) جس لشکر کی حضرت عمر بن سعدؓ قیادت کر رہا تھا وہ چار ہزار کی نفری پر مشتمل تھا۔ جب ابن زیاد نے اس سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے جنگ کا مطالبہ کیا، تو اس نے اسے ردّ کر دیا مگر جب اس نے اسے منصب سے معزول کر کے اسے قتل کرنے اور اس کا گھر گرانے کی دھمکی دی، تو وہ اس کے لیے آمادہ ہو گیا۔ 

(تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 335)

جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کربلا پہنچے تو انہیں شہسواروں نے گھیر لیا۔ اس پورے علاقہ کو ’’طرف‘‘ کہا جاتا ہے اور پھر انہوں نے حضرت عمر بن سعدؓ کے ساتھ مذاکرات شروع کر دئیے، اس دوران میں آپ نے اس پر اس امر کو واضح کر دیا کہ وہ صرف اہل کوفہ کے مطالبہ پر یہاں آئے ہیں اور دلیل کے طور پر انہوں نے دو بڑے بڑے تھیلوں کی طرف اشارہ کیا، جن میں انہیں کوفہ بلانے والوں اور ان سے بیعت کرنے والوں کے خطوط اور نام موجود تھے۔ سیدنا عمر بن سعدؓ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے جو کچھ سنا اس کی روشنی میں اس نے ابن زیاد کو لکھا، بسم اللہ الرحمن الرحیم، میں جب یہاں آ کر حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کے مقابل اترا تو ان کے پاس ایک قاصد بھیجا، میں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ یہاں کس مقصد کے لیے آئے ہیں اور وہ کیا چاہتے ہیں؟ تو انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ مجھے اس شہر کے لوگوں نے خطوط لکھے، میرے پاس ان کے قاصد آئے اور اس بات کے خواست گار ہوئے کہ میں یہاں آؤں، اس پر میں ادھر چلا آیا، اب اگر انہیں میرا آنا ناگوار ہے اور انہوں نے قاصدوں کے ذریعے سے جو کچھ کہلا بھیجا تھا، اب ان کی رائے اس کے خلاف ہو گئی ہے تو میں واپس چلا جاؤ ں گا۔ جب یہ خط ابن زیاد کو سنایا گیا تو اس نے یہ شعر پڑھا،

اَ لْاٰ ن اذا علقت مخالبنا بہ

یرجو النجاۃ ولاۃ حین مناص

’’اب جب کہ وہ ہمارے پنجہ میں پھنس گئے ہیں تو اس سے نکلنا چاہتے ہیں مگر اب ان کے لیے کوئی جائے مفر نہیں۔'‘

پھر ابن زیاد نے اس خط کا سیدنا ابن سعدؓ کو یہ جواب دیا، بسم اللہ الرحمن الرحیم، اما بعد! مجھے تمہارا خط ملا، تم نے جو کچھ لکھا میں نے اسے بخوبی سمجھ لیا ہے، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کہہ دو کہ وہ خود اور ان کے تمام انصار یزید بن معاویہ کی بیعت کریں، اگر انہوں نے بیعت کر لی تو پھر ہم جو مناسب سمجھیں گے کریں گے۔ جب حضرت ابن سعدؓ نے ابن زیاد کا یہ خط پڑھا تو اسے بہت دکھ ہوا۔ وہ کہنے لگا، ابن زیاد کو امن و سلامتی سے کوئی غرض نہیں ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 337)

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اس پیش کش کو ردّ کر دیا، مگر جب انہیں ابن زیاد کے موقف کی سختی اور خطرناکی کا اندازہ ہوا تو انہوں نے حضرت ابن سعدؓ سے دوبارہ ملاقات کر کے اس سے فرمایا کہ میں اس وقت تمہارے سامنے تین تجاویز پیش کرتا ہوں تم ان میں سے جسے چاہوں میرے لیے پسند کر لو، (المحن لابی العرب: صفحہ، 156)

الف: میں جدھر سے آیا ہوں مجھے اس طرف واپس جانے دیا جائے۔

ب: مجھے مسلمانوں کی کسی سرحد کی طرف نکل جانے دیا جائے، وہاں میں ان لوگوں میں ایک عام شخص بن کر رہوں گا اور میرا نفع و نقصان ان کے نفع و نقصان کے ضمن میں ہو گا۔

ج: تم میرے راستے سے ہٹ جاؤ تاکہ میں شام چلا جاؤں اور اپنا ہاتھ یزید بن معاویہ کے ہاتھ میں دے دوں۔

(ایضا: صفحہ، 156)

عین ممکن تھا کہ ابن زیاد اس سے موافقت کر لیتا اور پھر انہیں یزید کے پاس بھیج دیتا، مگر شمر بن ذوالجوشن نے جو خط وصول کرتے وقت اسی مجلس میں بیٹھا تھا، مداخلت کرتے ہوئے ابن زیاد کی اس رائے پر اعتراض کر دیا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو یزید کے پاس بھیج دیا جائے۔ اس نے ابن زیاد کے سامنے اس امر کو واضح کیا کہ امر صائب یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے انصار سب تیرے حکم کے سامنے سر جھکا دیں اور ان کے بارے میں تیرا ہی فیصلہ نافذ العمل ہو۔ (تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 340 اور 341) جب یہ خبر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے اس مطالبہ کو ردّ کرتے ہوئے فرمایا، و اللہ میں کبھی ابن زیاد کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا۔ (حقبۃ من التاریخ: صفحہ، 132 تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 342) پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا، تم میری اطاعت سے آزاد ہو۔ مگر انہوں نے آپ کا ساتھ دینے اور شہادت تک آپ کے ساتھ مل کر لڑنے پر اصرار کیا۔ (تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 346) ابن زیاد نے مقام نخیلہ (نخیلۃ: کوفہ کے قریب ایک جگہ) کی طرف روانگی کے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے عمرو بن حریث کو کوفہ کا عامل مقرر کیا اور پل پر سے لوگوں کے گزرنے پر پابندی لگا دی، کیونکہ اسے معلوم ہوا تھا کہ کوفہ سے بعض لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرف چوری چھپے جانا شروع ہو گئے ہیں۔ (الطبقات: جلد، 5 صفحہ، 378)