شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 24

شيعہ حضرات كا عقيده ہے كہ حضرت علىؓ امام معصوم هيں مگر ہم ديكھتے ہيں كہ انہوں نے اپنى صاجزادى ام كلثومؓ كى شادى عمرؓ بن خطاب سے كى جو كہ حضرات حسنؓ و حسينؓ كى حقيقى بہن تھیں، یہ کیسا تضاد ہے؟؟ شيعہ حضرات اپنے اس اعتراف كى بنياد پر دو صورتوں ميں سے كسى ايک صورت كو قبول كرنے پر مجبور ہيں۔

 سوال: 1 سيدنا علىؓ غير معصوم هيں كيونكہ انھوں نے اپنى بيٹى كى شادى كافر سے كى ہے۔ اور يہ چيز شيعہ مذهب كے عقائد اساسى كے منافى ہے۔ بلكہ اس سے يہ بھى پتہ چلا كہ كوئى امام بھى معصوم نهيں كيونكہ وه بھى تو انہیں كى اولاد ميں سے ہيں۔

 سوال: 2 سيدنا علىؓ نے برضا ورغبت سيدنا عمرؓ كو اپنا داماد بنايا هے، لہٰذا يہ ان كے مسلمان ہونے كى واضح دليل ہے۔

 سوال: 3 شیعہ حضرات ابوبکرؓ اور عمرؓ کو کافر گردانتے ہیں، ہمارے لیے تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ علیؓ جو کہ شیعوں کے نزدیک امام معصوم ہیں، نے سیدنا ابوبکرؓ اور عمرؓ کی خلافت کو بسر وچشم قبول کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے دونوں کی بیعت بھی کی ہے۔

اس سے یہ لازم آتا ہے کہ علیؓ غیر معصوم تھے کیونکہ انہوں نے ،بقول شیعہ، ظالم دھوکے باز اور کافروں کی بیعت کی اور ان دونوں کے منصب خلافت کا بذات خود اقرار بھی کیا؟۔ یہ چیز علیؓ کی عصمت کو نیست و نابود کرنے والی ہے اور ظالم کو ظلم کے لیے شہ دینے والی بھی ہے جب کہ ایسی حرکت کسی صورت میں بھی معصوم سے سرزد نہیں ہوسکتی۔ علیؓ کا یہ مؤقف مبنی برصواب ہے کیونکہ سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ دونوں مؤمن صادق ہیں، دونوں ہی رسول اللہﷺ کے خلیفہ اور دونوں ہی عدل و انصاف کا پیکر ہیں مذکورہ جواب سے پتا چلا کہ شیعہ حضرات ابوبکرؓ اور عمرؓ کی تکفیر اور ان پر لعن و طعن اور گالی گلوچ کرنے میں اور ان دونوں کی خلافت سے عدم رضامندی کے اظہار میں اپنے امام کے مخالف ہیں۔ یہاں ہم مذکورہ قضیہ میں حیرت و استعجاب کا شکار ہو جاتے ہیں کیا ہم ابوالحسن علیؓ بن ابی طالب کی راہ اختیار کریں یا ان گنہگار و بدکردار شیعوں کا طریقہ اپنائیں؟

 سوال: 4 سیدنا علیؓ نے فاطمہؓ کی وفات کے بعد کئی عورتوں سے شادی کی ہے اور ان سے کئی بیٹے اور بیٹیاں بھی پیدا ہوئیں جن میں سے درج ذیل اسماء قابل ذکر ہیں:

1: عباس بن علیؓ بن ابی طالب

2: عبداللہ بن علیؓ بن ابی طالب

3: جعفر بن علیؓ بن ابی طالب

4: عثمان بن علیؓ بن ابی طالب

ان لوگوں کی والدہ کا نام اُم البنین بنت حزام بن دارم ہے۔{ کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمہ لعلی الاربلی}

5: عبیداللہ بن علیؓ بن ابی طالب

6: ابوبکر بن علیؓ بن ابی طالب

ان دونوں کی والدہ کا نام لیلی بنت مسعود الدارمیۃ تھا۔{نفس المصدر 66/2}

علیؓ کے بیٹوں کے ناموں میں سے یہ بھی ہیں:

7: یحیی بن علیؓ ابی طالب

8: محمد اصغر بن علیؓ بن ابی طالب

9: عون بن علیؓ بن ابی طالب

یہ تینوں اسماءؓ بنت عمیس کے صاحبزادے ہیں۔ {نفس المصدر۔}

آپؓ کی اولاد میں مندرجہ ذیل نام بھی ہیں:

10: رقیہ بنت علیؓ بن ابی طالب۔

11: عمر بن علیؓ بن ابی طالب، جو 35 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ان دونوں کی والدہ کا نام ام حبیبہ بنت ربیعہ تھا۔{کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ، لعلی الاربلی}۔

12: ام الحسن بنت علیؓ بن ابی طالب

13: رملۃ الکبری

ان دونوں کی والدہ کا نام ام مسعود بنت عروہ بن مسعودالثقفی تھا۔ {نفس المصدر}

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی باپ اپنے جگر گوشہ کا نام اپنے دشمن کے نام پر رکھ سکتا ہے؟ ہمیں تعجب ہے کہ ایسا باپ جو غیرت و حمیت کا پیکر تھا۔ اپنے بیٹوں کو کیونکر ان مذکورہ ناموں سے موسوم کرسکتا ہے؟ ہم شیعہ حضرات سے پوچھتے ہیں کہ سیدنا علیؓ اپنے بیٹوں کو ان لوگوں کے ناموں سے کس طرح موسوم کرسکتے ہیں؟ جن کو تم علیؓ کا دشمن گردانتے ہو؟

کیا یہ بات باور کی جاسکتی ہے کہ ایک عقل مند انسان اپنے احباء و اقرباء کے نام اپنے دشمنوں کے ناموں پر رکھ سکتا ہے تا کہ ان کا نام زندہ و جاوید رہے؟

یہ بات بھی معلوم ہے کہ علیؓ قریش خاندان کے سب سے پہلے فرد ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کے نام ابوبکر، عمر اور عثمان رکھے ہیں؟ اگر انہیں ان ناموں سے بغض ہوتا تو وہ اپنے بیٹوں کو ان ناموں سے کیوں موسوم کرتے؟

نہج البلاغہ جو شیعوں کے نزدیک معتبر کتاب تسلیم کی جاتی ہے، کا مؤلف بیان کرتا ہے کہ علیؓ نے خلافت سے استعفٰی دے دیا اور استعفٰی دیتے وقت آپؓ نے یہ فرمایا کہ میری جان چھوڑ دو! اور میرے علاوہ کسی اور کو اس منصب کے لیے تلاش کرو۔ {ملاحظہ کریں نہج البلاغہ: صفحہ 136۔ 367ـ366ـ 322}

یہ فرمان مذہب شیعہ کے بطلان پر دلالت کرتا ہے جس کے شیعہ حضرات قائل ہیں، یہ بات کیسے ممکن ہے کہ حضرت علیؓ خلافت سے استعفیٰ دیکر دست بردار ہوں؟ جبکہ ان کو امام وقت کے منصب پر فائز کرنا اور خلیفۂ وقت کا عہدہ دینا۔ بقول شیعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض عین لازمی حکم ہے اور وہ حضرت ابوبکرؓ سے اس کا مطالبہ بھی کیا کرتے تھے جیسا کہ تمہارا (شیعہ) حضرات کا خیال ہے۔

سوال: 5 شیعوں کا عقیدہ ہے کہ جگر گوشۂ رسول ﷺ فاطمہ بتولؓ کی ابوبکرؓ کے دور خلافت میں بے عزتی اور بے حرمتی کی گئی حتیٰ کہ زد و کوب کے دوران میں ان کی پسلی توڑ دی گئی ان کے گھر کو جلانے کی کوشش کی گئی اور ان کے جنین کو ساقط کر دیا گیا جس کا انہوں نے محسن نام بتایا ہے،

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیدنا علیؓ کی زوجۂ محترمہؓ کے ساتھ اس طرح کا حادثہ پیش آیا تو علیؓ کہاں بیٹھے رہے۔ انہوں نے اپنی بیوی کی بےحرمتی کا بدلہ تک نہیں لیا جبکہ  سیدنا علیؓ شجاعت و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے۔ کمال حیرت ہے کہ اتنا سانحہ ہو جانے کے باوجود ان کی غیرت و حمیت کو جوش تک نہیں آیا؟

تاریخ شاہد ہے کہ کتنے کبار صحابہؓ نے اہل بیت نبیﷺ سے رشتہ مصاہرت جوڑا۔ اس خاندان عالی شان میں شادی بیاہ کیے اور اپنی بیٹیوں کو بھی اس خاندان میں دیا۔ خصوصاً شیخین نے اس خاندان میں شادی بیاہ کرکے آل بیت سے اپنے تعلقات کو مستحکم رکھا۔ ان حقائق کو مؤرخین و اہل سیر نے باتفاق بیان کیا ہے۔

صفحہ 1 از 24