شیعہ سے 185 سوالات
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبندشيعہ حضرات كا عقيده ہے كہ حضرت علىؓ امام معصوم هيں مگر ہم ديكھتے ہيں كہ انہوں نے اپنى صاجزادى ام كلثومؓ كى شادى عمرؓ بن خطاب سے كى جو كہ حضرات حسنؓ و حسينؓ كى حقيقى بہن تھیں، یہ کیسا تضاد ہے؟؟ شيعہ حضرات اپنے اس اعتراف كى بنياد پر دو صورتوں ميں سے كسى ايک صورت كو قبول كرنے پر مجبور ہيں۔
سوال: 1 سيدنا علىؓ غير معصوم هيں كيونكہ انھوں نے اپنى بيٹى كى شادى كافر سے كى ہے۔ اور يہ چيز شيعہ مذهب كے عقائد اساسى كے منافى ہے۔ بلكہ اس سے يہ بھى پتہ چلا كہ كوئى امام بھى معصوم نهيں كيونكہ وه بھى تو انہیں كى اولاد ميں سے ہيں۔
سوال: 2 سيدنا علىؓ نے برضا ورغبت سيدنا عمرؓ كو اپنا داماد بنايا هے، لہٰذا يہ ان كے مسلمان ہونے كى واضح دليل ہے۔
سوال: 3 شیعہ حضرات ابوبکرؓ اور عمرؓ کو کافر گردانتے ہیں، ہمارے لیے تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ علیؓ جو کہ شیعوں کے نزدیک امام معصوم ہیں، نے سیدنا ابوبکرؓ اور عمرؓ کی خلافت کو بسر وچشم قبول کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے دونوں کی بیعت بھی کی ہے۔
اس سے یہ لازم آتا ہے کہ علیؓ غیر معصوم تھے کیونکہ انہوں نے ،بقول شیعہ، ظالم دھوکے باز اور کافروں کی بیعت کی اور ان دونوں کے منصب خلافت کا بذات خود اقرار بھی کیا؟۔ یہ چیز علیؓ کی عصمت کو نیست و نابود کرنے والی ہے اور ظالم کو ظلم کے لیے شہ دینے والی بھی ہے جب کہ ایسی حرکت کسی صورت میں بھی معصوم سے سرزد نہیں ہوسکتی۔ علیؓ کا یہ مؤقف مبنی برصواب ہے کیونکہ سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ دونوں مؤمن صادق ہیں، دونوں ہی رسول اللہﷺ کے خلیفہ اور دونوں ہی عدل و انصاف کا پیکر ہیں مذکورہ جواب سے پتا چلا کہ شیعہ حضرات ابوبکرؓ اور عمرؓ کی تکفیر اور ان پر لعن و طعن اور گالی گلوچ کرنے میں اور ان دونوں کی خلافت سے عدم رضامندی کے اظہار میں اپنے امام کے مخالف ہیں۔ یہاں ہم مذکورہ قضیہ میں حیرت و استعجاب کا شکار ہو جاتے ہیں کیا ہم ابوالحسن علیؓ بن ابی طالب کی راہ اختیار کریں یا ان گنہگار و بدکردار شیعوں کا طریقہ اپنائیں؟
سوال: 4 سیدنا علیؓ نے فاطمہؓ کی وفات کے بعد کئی عورتوں سے شادی کی ہے اور ان سے کئی بیٹے اور بیٹیاں بھی پیدا ہوئیں جن میں سے درج ذیل اسماء قابل ذکر ہیں:
1: عباس بن علیؓ بن ابی طالب
2: عبداللہ بن علیؓ بن ابی طالب
3: جعفر بن علیؓ بن ابی طالب
4: عثمان بن علیؓ بن ابی طالب
ان لوگوں کی والدہ کا نام اُم البنین بنت حزام بن دارم ہے۔{ کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمہ لعلی الاربلی}
5: عبیداللہ بن علیؓ بن ابی طالب
6: ابوبکر بن علیؓ بن ابی طالب
ان دونوں کی والدہ کا نام لیلی بنت مسعود الدارمیۃ تھا۔{نفس المصدر 66/2}
علیؓ کے بیٹوں کے ناموں میں سے یہ بھی ہیں:
7: یحیی بن علیؓ ابی طالب
8: محمد اصغر بن علیؓ بن ابی طالب
9: عون بن علیؓ بن ابی طالب
یہ تینوں اسماءؓ بنت عمیس کے صاحبزادے ہیں۔ {نفس المصدر۔}
آپؓ کی اولاد میں مندرجہ ذیل نام بھی ہیں:
10: رقیہ بنت علیؓ بن ابی طالب۔
11: عمر بن علیؓ بن ابی طالب، جو 35 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ان دونوں کی والدہ کا نام ام حبیبہ بنت ربیعہ تھا۔{کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ، لعلی الاربلی}۔
12: ام الحسن بنت علیؓ بن ابی طالب
13: رملۃ الکبری
ان دونوں کی والدہ کا نام ام مسعود بنت عروہ بن مسعودالثقفی تھا۔ {نفس المصدر}
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی باپ اپنے جگر گوشہ کا نام اپنے دشمن کے نام پر رکھ سکتا ہے؟ ہمیں تعجب ہے کہ ایسا باپ جو غیرت و حمیت کا پیکر تھا۔ اپنے بیٹوں کو کیونکر ان مذکورہ ناموں سے موسوم کرسکتا ہے؟ ہم شیعہ حضرات سے پوچھتے ہیں کہ سیدنا علیؓ اپنے بیٹوں کو ان لوگوں کے ناموں سے کس طرح موسوم کرسکتے ہیں؟ جن کو تم علیؓ کا دشمن گردانتے ہو؟
کیا یہ بات باور کی جاسکتی ہے کہ ایک عقل مند انسان اپنے احباء و اقرباء کے نام اپنے دشمنوں کے ناموں پر رکھ سکتا ہے تا کہ ان کا نام زندہ و جاوید رہے؟
یہ بات بھی معلوم ہے کہ علیؓ قریش خاندان کے سب سے پہلے فرد ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کے نام ابوبکر، عمر اور عثمان رکھے ہیں؟ اگر انہیں ان ناموں سے بغض ہوتا تو وہ اپنے بیٹوں کو ان ناموں سے کیوں موسوم کرتے؟
نہج البلاغہ جو شیعوں کے نزدیک معتبر کتاب تسلیم کی جاتی ہے، کا مؤلف بیان کرتا ہے کہ علیؓ نے خلافت سے استعفٰی دے دیا اور استعفٰی دیتے وقت آپؓ نے یہ فرمایا کہ میری جان چھوڑ دو! اور میرے علاوہ کسی اور کو اس منصب کے لیے تلاش کرو۔ {ملاحظہ کریں نہج البلاغہ: صفحہ 136۔ 367ـ366ـ 322}
یہ فرمان مذہب شیعہ کے بطلان پر دلالت کرتا ہے جس کے شیعہ حضرات قائل ہیں، یہ بات کیسے ممکن ہے کہ حضرت علیؓ خلافت سے استعفیٰ دیکر دست بردار ہوں؟ جبکہ ان کو امام وقت کے منصب پر فائز کرنا اور خلیفۂ وقت کا عہدہ دینا۔ بقول شیعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض عین لازمی حکم ہے اور وہ حضرت ابوبکرؓ سے اس کا مطالبہ بھی کیا کرتے تھے جیسا کہ تمہارا (شیعہ) حضرات کا خیال ہے۔
سوال: 5 شیعوں کا عقیدہ ہے کہ جگر گوشۂ رسول ﷺ فاطمہ بتولؓ کی ابوبکرؓ کے دور خلافت میں بے عزتی اور بے حرمتی کی گئی حتیٰ کہ زد و کوب کے دوران میں ان کی پسلی توڑ دی گئی ان کے گھر کو جلانے کی کوشش کی گئی اور ان کے جنین کو ساقط کر دیا گیا جس کا انہوں نے محسن نام بتایا ہے،
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیدنا علیؓ کی زوجۂ محترمہؓ کے ساتھ اس طرح کا حادثہ پیش آیا تو علیؓ کہاں بیٹھے رہے۔ انہوں نے اپنی بیوی کی بےحرمتی کا بدلہ تک نہیں لیا جبکہ سیدنا علیؓ شجاعت و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے۔ کمال حیرت ہے کہ اتنا سانحہ ہو جانے کے باوجود ان کی غیرت و حمیت کو جوش تک نہیں آیا؟
تاریخ شاہد ہے کہ کتنے کبار صحابہؓ نے اہل بیت نبیﷺ سے رشتہ مصاہرت جوڑا۔ اس خاندان عالی شان میں شادی بیاہ کیے اور اپنی بیٹیوں کو بھی اس خاندان میں دیا۔ خصوصاً شیخین نے اس خاندان میں شادی بیاہ کرکے آل بیت سے اپنے تعلقات کو مستحکم رکھا۔ ان حقائق کو مؤرخین و اہل سیر نے باتفاق بیان کیا ہے۔
چنانچہ نبی کریمﷺ نے عائشہ بنت ابی بکرؓ اور حفصہؓ بنت عمرؓ سے شادی کی اور یکے بعد دیگر اپنی دو بیٹیوں رقیہؓ اور ام کلثومؓ کا رشتہ تیسرے خلیفہ راشد عثمان بن عفانؓ کو دیا۔ دنیا آپؓ کو ذوالنورین کے لقب سے پکارتی ہے۔
آپؓ کے صاحبزادے ابان بن عثمانؓ نے ام کلثوم بنت عبداللہ بن جعفرؓ بن ابی طالب سے شادی کی۔ ام قاسم بنت الحسن بن الحسن بن علیؓ بن ابی طالب کی بیٹی مروان بن ابان بن عثمان کی زوجیت میں تھیں۔ زید بن عمرو بن عثمان کے عقد میں سکینہ بنت حسینؓ تھیں۔
ہم صحابہ کرامؓ میں سے صرف خلفائے ثلاثہؓ کے ذکر پر اکتفا کریں گے ورنہ خلفائے ثلاثہؓ کے علاوہ اور بہت سے صحابہ کرامؓ ہیں جن کا اہل بیت سے سسرالی تعلق تھا جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اہل بیت اور صحابۂ کرامؓ کا آپس میں رشتہ و ناطہ تھا۔ {دامادی و رشتوں کی تفصیل الدرالمنثور من تراث اھل البیت میں دیکھیں}۔
شیعہ حضرات کے معتمد علیہ مصادر و مراجع میں منقول ہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنے ایک بیٹے کا نام ، جو آپ کی بیوی لیلی بنت مسعود کے بطن سے تھا ابوبکرؓ کے نام پر رکھا تھا۔
حضرت علیؓ بنی ہاشم میں وہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے اپنے بیٹے کو اس نام سے موسوم کیا ہے۔{مقاتل الطالبین لابی الفرج الاصبھانی الشیعی صفحہ 91}
سیدنا حسنؓ بن علیؓ نے اپنے بیٹوں کے یہ نام رکھے تھے:
1: ابوبکر
2: عبدالرحمٰن
3: طلحہ
4: عبیداللہ
{التنبیہ والاشراف للمسعودی الشیعی: صفحہ 263}
علاوہ ازیں حسن بن حسن بن علی نے اپنے بیٹوں کو صحابہ کرامؓ کے ناموں سے موسوم کیا تھا۔{مقاتل الطالبین لابی الفرج الاصبھانی الشیعی}
موسیٰ کاظم نے اپنی صاحبزادی کا نام عائشہ رکھا تھا۔ اہل بیت رسول اللہﷺ میں کچھ لوگوں نے ازراہ محبت اپنی کنیت ابوبکر رکھی تھی اگرچہ انکا نام کچھ اور تھا، مثال کے طور پر زین العابدین بن علی {کشف الغمۃ لاربلی صفحہ 26 جلد 3 نفس المصدر صفحہ 317 جلد 2}
اور علی بن موسی الرضا
{مقاتل الطالبین لابی الفرج الاصبھانی الشیعی صفحہ 561ـ 526}
نے اپنی اپنی کنیت کو ابوبکر کے نام سے موسوم کر رکھا تھا۔
اب ہم ان لوگوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو عمرؓ کے نام سے موسوم کر کے پکارا تھا۔ ان میں بھی سر فہرست سیدنا علیؓ کا نام نامی آتا ہے ۔ آپؓ نے اپنے بیٹے کا نام عمر الاکبر رکھا تھا جو ام حبیب بنت ربیعہؓ کے بطن سے تھے باللف کے مقام پر اپنے بھائی حسینؓ کی معیت میں ان کی شہادت کا حادثہ پیش آیا اور سیدنا علیؓ نے اپنے دوسرے بیٹے کا نام عمر الاصغر رکھا تھا۔ ان کی والدہ کا نام الصہباء التغلبیہؓ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں طویل زندگی سے نوازا تھا اور انہوں نے اچھی خاصی زندگی پائی اور اپنے بھائیوں کی شہادت کے بعد ان کے صحیح وارث اور جانشین کہلائے۔{ملاحظہ ہو: الارشاد للمفید صفحہ 353، معجم رجال الحدیث للخوئی صفحہ 13 جلد 1، و مقاتل الطالبیین لابی الفرج صفحہ 83}
حضرت حسنؓ بن علیؓ نے اپنے دونوں بیٹوں میں سے ایک کو حضرت ابوبکرؓ اور دوسرے کو حضرت عمرؓ کے نام نامی اسم گرامی سے موسوم کر رکھا تھا۔ ( الارشاد للمفید صفحہ 194۔ منتہی الامال جلد 1 صفحہ 240. امۃ الطالب صفحہ 81)
علی بن الحسینؓ بن علیؓ
{الارشاد للمفید: جلد 2 صفحہ 155 کشف الغمہ: جلد 2 صفحہ 201}
علی زین العابدین موسیٰ کاظم، حسین بن زید بن علی، اسحاق بن الحسن بن علی بن الحسینؓ، حسن بن علی بن الحسن بن الحسین بن الحسن نے اپنے آباؤ اجداد کی سنت کو زندہ رکھا اور اپنے بیٹوں کو خلیفۂ ثانی کے اسم گرامی سے موسوم کر کے ان سے اپنے تعلق کا ثبوت پیش کیا۔
ان کے علاوہ اسلاف کی ایک طویل فہرست ہے لیکن اندیشہ طوالت کے باعث ہم صرف اہل بیت میں سے انہی متقدمین کے ذکر پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔{مزید تفصیل: مقاتل الطالبین، الدرالمنثور صفحہ 65۔ 69}
جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے اپنی بیٹیوں کا نام سیدہ عائشہؓ کے نام پر رکھ کر اہل بیت سے محبت کا ثبوت دیا ہے ان میں موسیٰ کاظم
{الارشاد صفحہ 302 الفصول الھمہ صفحہ 242، کشف الغمہ جلد 3 صفحہ 26}
اور علی بن الھادی کا نام نامی سرفہرست ہے۔{الارشاد المفید جلد 2 صفحہ 312}
یہاں پر ہم صرف ام المؤمنین عائشہؓ کے ذکر پر اکتفا کریں گے۔
سوال: 6 کلینی نے کتاب الکافی میں ذکر کیا ہے کہ ائمہ علیہم السلام جانتے ہیں کہ وہ کب مریں گے اور جب مریں گے اپنے اختیار سے ہی مریں گے۔ {اصول الکافی للکلینی: جلد 10 صفحہ 258۔ الفصول الھمہ صفحہ 155}
مجلسی اپنی کتاب بحارالانوار میں ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ کوئی ایک امام ایسا نہیں ہے جو فوت ہوا ہو بلکہ ان میں سے ہر ایک مقتول ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوا ہے۔ ( بحار الانوار: جلد 43 صفحہ 364)
یہاں ہم شیعہ برداری سے پوچھنا چاہیں گے کہ اگر آپ کے امام علم غیب جانتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اس بات کا پتہ تھا کہ انہیں کھانے کے لیے دستر خوان پر کیا پیش کیا جارہا ہے لہذا اگر کھانے پینے کی چیز تھی تو یہ بات بھی ان کے سابقہ علم میں تھی کہ یہ کھانا زہریلا ہے جس سے بچنا چاہیے۔ علم کے باوجود ان کا اس کو کھانا اور اس کو کھانے سے پرہیز نہ کرنا تو خودکشی ہے کیونکہ انہوں نے جان بوجھ کر زہریلا کھانے سے اپنے آپ کو لقمۂ اجل بنایا ہے گویا وہ خودکشی کرنے والے ہوئے حالانکہ نبی کریم ﷺ نے اس بات سے متنبہ فرما دیا ہے کہ خودکشی کرنے والا آگ کا ایندھن ہے۔ کیا شیعہ حضرات اپنے ائمہ کے اس انجام سے راضی ہیں ؟
سوال: 7 سیدنا حسن بن علیؓ نے امیر معاویہؓ کے لیے خلافت سے ایسے موقع پر دستبرداری اور مصالحت کا اعلان کیا تھا، جس وقت ان کے پاس جان نثار بھی موجود تھے اور سیدنا امیر معاویہؓ سے جنگ جاری رکھنا بھی ممکن تھا۔ اس کے برخلاف آپؓ کے بھائی حسینؓ نے یزید کے خلاف اپنے چند اقارب کے ساتھ جنگ کو ترجیح دی۔ جبکہ باعتبار وقت، آپؓ کے لیے نرمی اور مصلحت اندیشی کا پہلو اختیار کرنا زیادہ مناسب تھا۔
مذکورہ صورت حال اس نتیجے سے خالی نہیں کہ دونوں بھائیوں میں سے ایک حق پر تھے اور دوسرے غلطی پر، یعنی اگر سیدنا حسنؓ کا لڑنے کی صلاحیت کے باوجو اپنے حق سے دستبرداری اختیار کرنا برحق ہے تو سیدنا حسینؓ کا مصالحت کا امکان ہوتے ہوئے اور طاقت و قوت سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے خروج کرنا باطل ہوگا اور اگر سیدنا حسینؓ کا کمزوری اور ناتوانی کے باوجود خروج کرنا برحق تھا تو سیدنا حسینؓ کا قوت کے باوجود مصالحت اختیار کرنا اور اپنے حق خلافت سے دستبردار ہونا باطل ہوگا۔
اس سوال کا شیعہ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے کیونکہ اگر وہ یہ کہیں کہ سیدنا حسنینؓ دونوں ہی حق پر تھے تو انہوں نے اجتماع ضدین کا ارتکاب کیا۔
اور اگر وہ حسنؓ کے فعل کے بطلان کی بات کرتے ہیں تو ان کے قول سے سیدنا حسنؓ کی امامت کا بطلان لازم آتا ہے اور ان کی امامت کے باطل ہونے سے ان کے والد سیدنا علیؓ کی امامت اور عصمت خودبخود باطل ہو جاتی ہے کیونکہ سیدنا علیؓ نے آپ کے بارے میں وصیت کی تھی اور شیعہ کے مطابق امام معصوم اپنے جیسے معصوم شخص کے لیے ہی وصیت کر سکتا ہے۔
اور اگر وہ سیدنا حسینؓ کے فعل کے بطلان کی بات کرتے ہیں تب بھی ان کے لیے مفر نہیں ہے کیونکہ ان کے اس قول سے سیدنا حسینؓ کی امامت و عصمت پر زد پڑتی ہے اور ان کی امامت اور عصمت کے باطل قرار پانے سے ان کے تمام بیٹوں اور ان کی ساری اولاد کی امامت اور عصمت باطل ہو جاتی ہے کیونکہ سیدنا حسینؓ کے دم سے ہی ان کی ذریت کی امامت و عصمت قائم ہے جب اصل کا بطلان ہو گیا تو فرع خودبخود باطل ہو گئی۔
سوال: 8 شیعہ کے مشہور عالم کلینی نے اپنی کتاب (الکافی جلد 1 صفحہ 239) میں یہ روایت نقل کی ہے کہ ہم سے ہمارے کئی ساتھیوں نے ابوبصیر سے یہ روایت نقل کی ہے کہ میں ایک مرتبہ ابو عبد اللہ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے عرض کیا میں آپ علیہ السلام پر قربان جاؤں، دراصل میں آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہیں کوئی ہماری سرگوشی سن تو نہیں رہا ہے؟ کہتے ہیں کہ ابو عبداللہ علیہ السلام نے پردہ گرا دیا، پھر ابوبصیر کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا: کہ اے ابو محمد! اب تمہارے جی میں جو آئے پوچھو۔ میں نے کہا میں قربان جاؤں آپ پر ۔۔۔اس کے بعد آپ علیہ السلام نے تھوڑی دیر کے لیے سکوت اختیار کیا پھر فرمایا: ہمارے پاس مصحف فاطمہ علیھا السلام ہے اور ان کو کیا پتہ کہ مصحف فاطمہ علیھا السلام کیا ہے؟ ابو بصیر نے کہا میں نے استفسارکیا! مصحف فاطمہ علیھا السلام کیا ہے؟ فرمایا: یہ وہ مصحف ہے جس میں تمہارے اس قرآن سے تین گنا زیادہ مواد موجود ہے اور تمہارے قرآن کا اس میں ایک حرف بھی موجود نہیں ہے۔ ابوبصیر نے کہا میں نے کہا یہی تو علم ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا رسول اللہﷺ کو مصحف فاطمہؓ کی خبر تھی؟ اگر آپؓ کو مصحف فاطمہؓ کی خبر نہیں تھی تو آل بیت کو اس کی خبر کیسے پہنچی؟ حالانکہ آپﷺ تو اللہ کے رسول تھے؟ بالفرض نبی کریمﷺ کو اس کی خبر تھی تو آپ نے اس کو اپنی امت سے مخفی رکھا؟ جبکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
يٰۤـاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ۔۔(سورۃالمائدہ آیت 675)
ترجمہ: اے رسول! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ) تم نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔
سوال: 9 کلینی کی کتاب الکافی کے جزء اول میں ان ناموں کی ایک فہرست ہے جن کے واسطے سے شیعہ حضرات نے رسول اللہﷺ کی احادیث اور اہل بیت کے اقوال نقل کیے ہیں ان میں مندرجہ ذیل نام بھی ہیں۔
1: مفضل بن عمر، 2: احمد بن عمرالحلبی، 3: عمر بن ابان، 4: عمر بن اذینہ، 5: عمر بن عبدالعزیز، 6: ابراہیم بن عمر، 7: عمر بن حنظلۃ، 8: موسی بن عمر، 9: عباس بن عمر وغیرہ
ان تمام ناموں میں عمر ہے۔ خواہ وہ راوی کا نام ہے خواہ راوی کے باپ کا، بہرحال عمر ہر نام میں موجود ہے۔
آخر ان تمام لوگوں کا نام عمر کیوں رکھا گیا ہے؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان لوگوں کو حضرت عمرؓ سے محبت اور لگاؤ تھا۔
سوال: 10 اللہ تعالیٰ اپنی کتاب محکم میں ارشاد فرماتے ہیں۔
وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيۡنَ۞ الَّذِيۡنَ اِذَآ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَالُوۡٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَ۞اُولٰٓئِكَ عَلَيۡهِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةٌوَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُهۡتَدُوۡنَ ۞(سورۃ البقرہ آیت 155 تا 157)
ترجمہ: اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ “ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں، اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں۔
وَالصّٰبِرِيۡنَ فِى الۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيۡنَ الۡبَاۡسِ (سورۃ البقرہ: آیت 177)
ترجمہ: اور تنگ دستی تکلیف و جنگ کے وقت صبر سے کام لینے والے ہیں۔
حضرت علیؓ نے نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "اے نفس! اگر تجھے جزع و فزع اور نوحہ و ماتم سے نہ منع کیا گیا ہوتا اور آپﷺ نے صبر کی تلقین نہ کی ہوتی تو میں رو رو کر آنکھوں کا پانی خشک کر لیتا۔"
{نہج البلاغہ: صفحہ 576 اور مستدرک الوسائل: صفحہ 445 جلد 2}۔
یہ روایت بھی مروی ہے کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا ہے "جس نے مصیبت کے وقت اپنی رانوں پر ہاتھ مارا تو اس کا عمل ضائع اور برباد ہوئے گا۔{الخصال للصدوق صفحہ 612 اور وسائل الشیعہ جلد 3 صفحہ 270}۔
حضرت حسینؓ نے حادثۂ کربلا میں اپنی بہن زینبؓ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا میری پیاری بہن! میں تم کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں اگر میں قتل کر دیا جاؤں تو تم مجھ پر گریبان چاک نہ کرنا اور اپنے ناخنوں سے اپنے چہرے کو نہ چھیدنا اور میری شہادت پر ہلاکت و تباہی کی دہائی نہ دینا۔
ابو جعفر القمی نے نقل کیا ہے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو جب اپنے ساتھیوں کے متعلق معلوم ہوا فرمایا: "تم کالا لباس زیب تن مت کیا کرو کیونکہ یہ فرعون کا لباس ہے۔ "
{من لا یحضرہ الفقیہ جلد 1 صفحہ 232 اور کتاب وسائل الشیعہ جلد 2 صفحہ 916}
تفسیر صافی میں اس آیت { وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورۃ الممتحنۃ آیت 12}
کے ضمن میں یہ ہی کہا گیا ہے کہ نبی کریمﷺ نے عورتوں سے اس بات پر بیعت لی کہ وہ بطور سوگ کالا لباس نہیں پہنیں گی اور نہ گریبان چاک کریں گی اور نہ ہلاکت وبربادی کی پکار لگائیں گی۔
کلینی کی کتاب فروع الکافی میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے فاطمہؓ کو وصیت کی تھی کہ جب میرا انتقال ہو جائے تو نہ تو اپنے چہرے کو نوچنا اور نہ ہی مجھ پر بال لٹکا لٹکا کر غم کا اظہار کرنا اور نہ ہی ہلاکت و بربادی کی دہائی دینا اور نہ میرے لیے کسی نوحہ کناں کو مقرر کرنا۔
{فروع الکافی: جلد 5 صفحہ 527}
شیعہ کے علماء المجلسی، النوری اور البرد جردی نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا: "نوحہ و ماتم اور گانے بجانے کی آوازیں اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں۔"
{بحارالانوار جلد 72 صفحہ 103، مستدرک الوسائل جلد 1 صفحہ 143، 144، جامع احادیث الشیعہ جلد 3 صفحہ 488 اور من لایحضرہ الفقیہ جلد 2 صفحہ 271}
ان تمام روایات اور حقائق کی نقاب کشائی کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیعہ حضرات کیوں حق کی مخالفت پر آمادہ ہیں؟ اب آپ ہی بتلائیں کہ ہم کس کی تصدیق کریں اللہ کی، رسولﷺ کی اور اہل بیت کی یا شیعہ کے ذاکرین کی؟؟
سوال: 11 اگر زنجیر زنی، نوحہ خوانی اور سینہ کوبی میں عظیم اجر و ثواب ہے جیسا کہ شیعہ حضرات کا دعویٰ ہے {دیکھیے: ارشاد السائل صفحہ 184 اور صراط النجاۃ جلد 1 صفحہ 432}
تو شیعوں کے مذہبی رہنما اور ان کے ملاں و ذاکر زنجیر زنی کیوں نہیں کرتے ہیں؟؟
سوال: 12 شیعوں کے دعویٰ کے مطابق غدیر خم کے دن ہزاروں صحابہ کرامؓ وہاں موجود تھے جنہوں نے رسول اللہﷺ کے بعد حضرت علیؓ کی خلافت کی وصیت براہ راست سنی تھی، تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان ہزاروں صحابہ کرامؓ میں سے ایک صحابی بھی حضرت علیؓ کی طرفداری کے لیے کیوں نہیں کھڑا ہوا؟؟ حتیٰ کہ عمار بن یاسر، مقداد بن عمرو اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم بھی خلیفۂ وقت حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں استغاثہ لے کر کیوں نہیں آئے کہ آپ نے حضرت علیؓ کی خلافت کا حق کیوں غصب کیا؟ جبکہ آپ کو پتہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے غدیر خم کے دن کیا وصیت فرمائی تھی یا کیا تحریر لکھوائی تھی۔ علیؓ تو بڑے بے باک صحابی تھے جنہیں اللہ کے علاوہ کسی اور کا خوف نہ تھا اور نہ ہی وہ کسی سے دب کر بات کرنے کے عادی تھے اور انہیں پتہ تھا کہ حق بات پر سکوت اختیار کرنے والا گونگا شیطان کہلاتا ہے۔
سوال: 13 عالم شیعہ کی مذہبی کتاب الکافی کی اکثر و بیشتر روایات ضعیف ہیں؟ اس کے باوجود یہ لوگ کس بنیاد پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کریم کی تفسیر ایک کتاب میں مدون ہے، جس کی اکثر و بیشتر روایات ان کے اعتراف کے مطابق ضعیف اور مردود ہیں، کیا یہ دورغ گوئی اور بہتان تراشی نہیں ہے؟
سوال: 14 عبودیت صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے خاص ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{بَلِ اللَّـهَ فَاعْبُدْ۔۔ سورۃ الزمر}
بلکہ تو اللہ ہی کی عبادت کرو۔
شیعہ حضرات اپنی برادری کے لوگوں کو عبدالحسین، عبد علی، عبدالزھراء اور عبدالامام وغیرہ ناموں سے موسوم کرتے ہیں؟ لیکن ائمہ اپنے بچوں کے نام عبد علی اور عبدالزھراء وغیرہ نہیں رکھتے تھے۔
سوال: 15 اگر علیؓ کو اس بات کا علم تھا کہ وہ نص قطعی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خلیفہ متعین ہیں تو انہوں نے ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین کے ہاتھوں پر بیعت خلافت کیوں کی؟
اگر تم یہ کہو کہ وہ مجبور تھے، تو عاجز اور مجبور شخص خلافت کے لیے کیونکر موزوں ہوسکتا ہے؟ کیونکہ خلافت اسی کے لائق ہے جو خلافت کے بوجھ اور ذمہ داریوں کو اپنے کاندھوں پر اٹھا سکتا ہے اور اگر تم یہ کہو کہ وہ خلافت کے بوجھ تمہارا اٹھانے کی استطاعت رکھتے تھے لیکن انہوں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تو یہ قول خیانت ہے اور خائن کو امامت کے منصب پر فائز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی رعایا کے بارے میں اس پر اعتماد اور بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔
جب کہ ہمارا ایمان ہے کہ علیؓ کی ذات ان تمام عیوب سے منزہ اور مبرا ہے۔
تمہارا جواب کیا ہے؟
سوال: 16 سیدنا علیؓ نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد اپنے پیش رو خلفائے راشدینؓ ہی کا راستہ اختیار کیا بلکہ آپؓ منبر خلافت سے برابر یہی کلمات دہراتے "خیر ھذہ الامۃ بعد نبیھا ابوبکرؓ و عمرؓ"
"اس اُمت میں نبی کریمﷺ کے بعد افضل ترین ابوبکرؓ اور عمرؓ ہیں"
لطف کی بات یہ ہے کہ علیؓ نے حج تمتع نہیں فرمایا، اور فدک کا مال بھی نہیں حاصل کیا ایام حج میں لوگوں پر متعہ واجب نہیں کیا اور نہ ہی اذان میں "حی علی خیر العمل" کے کلمہ کو رواج دیا اور نہ اذان سے "الصلاۃ خیر من النوم" کا جملہ حذف کیا۔
اگر شیخینؓ کافر ہوتے اور انہوں نے سیدنا علیؓ سے خلافت زبردستی غصب کی ہوتی تو اس چیز کو علیؓ نے کھول کر بیان کیوں نہیں کیا؟ جبکہ حکومت کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں تھی۔ بلکہ ہم کو تو سیدنا علیؓ کا ذاتی عمل اس کے برعکس نظر آتا ہے کہ انہوں نے شیخینؓ {ابوبکرؓ و عمرؓ} کی تعریف کی ہے اور دل کھول کر ان کی مدح سرائی کی ہے۔
تم کو اسی قدر پر اکتفا کرنا چاہیے جس پر امیر المؤمنینؓ نے اکتفا کیا یا تم پر یہ بات لازم آتی ہے کہ تم یہ کہو امیر المؤمنین علیؓ نے امت اسلامیہ کے ساتھ خیانت سے کام لیتے ہوئے ان کے سامنے حقیقت بیانی سے کام نہیں لیا ہے حالانکہ آپؓ اس سے پاک اور مبرا ہیں۔
سوال: 17 شیعوں کا خیال ہے کہ خلفائے راشدینؓ کافر تھے ان کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ نے اسلامی فتوحات کا دروازہ کھول کر اسلام اور مسلمانوں کو عزت و سربلندی عطا فرمائی تھی اور مسلمانوں کو تاریخ میں ایسا دور مشاہدہ کرنے کو نہیں ملا۔
کیا یہ بات اللہ تعالیٰ کے اس دوٹوک فیصلے کے موافق ہے جس کی رو سے اللہ تعالیٰ نے کفار اور منافقین کو ذلیل و رسوا کیا ہے؟
اس کے بالمقابل ہم دیکھتے ہیں کہ امام معصوم کی خلافت میں جن کی ولایت کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے رحمت بنایا ہے امت اسلامیہ کا شیرازہ منتشر ہو گیا اور خانہ جنگی کی آگ بھڑک اٹھی یہاں تک اعدائے اسلام، اسلام اور مسلمان کے خلاف کمربستہ ہو گئے۔ کیا امام معصوم کے دور کو اس طرح کی صورتحال کے تناظر میں رحمت سے تعبیر کیا جائے گا؟ آخر یہ کون سی رحمت ہے جس کا امام معصوم کی خلافت کے دوران وجود پذیر ہونے کا شیعہ حضرات دعویٰ کر رہے ہیں؟ کیا اس قسم کی کوئی باعث رحمت صورت حال ائمہ معصوم کے دور میں پیش آئی، اگر نہیں اور بالکل نہیں، تو پھر یہ شیعہ حضرات کس رحمت کے متقاضی ہیں؟
سوال: 18 شیعہ کا دعویٰ ہے کہ امیر معاویہؓ کافر تھے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ حضرت حسنؓ بن علیؓ نے ان کے حق میں خلافت سے دست برداری کا اعلان کیا، حالانکہ حضرت حسنؓ امام معصوم ہیں لہٰذا یہاں پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے ایک کافر کے لیے خلافت سے دستبرداری کا اعلان کیا حالانکہ یہ چیز حسنؓ کی عصمت کے خلاف ہے یا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امیر معاویہؓ مسلمان ہیں، ان دو صورتوں میں ایک صورت کو بہرحال تسلیم کرنا ہے۔
سوال: 19 کیا نبی کریم ﷺ نے تربت حسینیؓ پر سجدہ کیا ہے؟ جس پر شیعہ حضرات سجدہ کرتے ہیں؟
اگر شیعہ حضرات ہاں میں جواب دیتے ہیں تو ہمارا دو ٹوک جواب یہ ہے کہ اللہ کی قسم یہ جھوٹ ہے۔
اور اگر وہ نفی میں جواب دیتے ہیں تو ہم ان سے یہ کہنے کے مجاز ہیں کہ کیا تم رسول اللہﷺ سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔
ہم یہاں اس بات کی طرف بھی اشارہ کر دیں کہ شیعہ کی روایات بتاتی ہیں کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہﷺ کی خدمت میں کربلا کی مٹی لائے تھے۔
سوال: 20 شیعوں کا دعویٰ ہے کہ صحابہ کرامؓ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور وہ پہلی کیفیت پر آ گئے تھے۔
ہمارا شیعہ حضرات سے سوال ہے کہ کیا اصحابِ رسولﷺ نبی کریمﷺ کی وفات سے قبل شیعہ اثناء عشریہ تھے، آپﷺ کی وفات کے بعد اہل سنت والجماعت ہو گئے تھے۔ یا لوگ نبی کریمﷺ کی وفات سے قبل اہل سنت والجماعت تھے اور بعد از وفات شیعہ اثنا عشریہ ہو گئے؟
کیونکہ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونے کو ہی انقلاب، تغیر اور تبدل کہا جاتا ہے۔
سوال: 21 یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حضرت حسنؓ حضرت علیؓ کے فرزند اکبر تھے۔ ان کی والدہ حضرت فاطمہؓ ہیں، شیعوں کے نزدیک حضرت حسنؓ ان افراد میں سے ایک ہیں جن کو اہل کساء ہونے کا شرف حاصل ہے .
(حدیث کساء کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریمﷺ ایک مرتبہ باہر تشریف لائے اور آپﷺ کے جسم پر کالی کملی کالے اون سے بنی ہوئی تھی، آپﷺ کے باہر آتے ہی حضرت حسنؓ تشریف لے آئے تو آپﷺ نے ان کو اپنی کملی میں داخل فرما لیا، اس کے بعد حضرت حسینؓ تشریف لے آئے تو آپﷺ نے ان کو بھی اپنی کملی میں داخل فرما لیا۔ اس کے بعد حضرت فاطمؓہ تشریف لے آئیں تو آپﷺ نے ان کو بھی اپنی کملی میں داخل فرما لیا، اس کے بعد حضرت علیؓ تشریف لائے تو آپﷺ نے ان کو بھی اپنی کملی میں داخل فرما لیا، پھر یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ (سورۃ الاحزاب: آیت 33)
"ترجمہ: اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے گھر والو! تم سے وہ ہر قسم کی لغو بات کو دور کر دے اور تمھیں خوب صاف کر دے۔"
(اخرجه مسلم في فضائل الصحابةؓ)
ائمۂ معصومین میں بھی ان کا شمار ہوتا ہے۔ مذکورہ اعزازات میں حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ ہم مرتبہ ہوئے۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ حضرت حسنؓ کی اولاد سے امامت کیوں ختم ہو گئی؟ جبکہ حضرت حسینؓ کی اولاد سے امامت کا سلسلہ جاری ہے۔ حالانکہ دونوں کی ماں ایک ہے۔ دونوں کا باپ ایک ہے اور دونوں نواسۂ رسولﷺ ہیں۔ حضرت حسنؓ کو حضرت حسینؓ پر ایک اعتبار سے فوقیت بھی حاصل ہے کہ آپؓ اپنے بھائی حضرت حسینؓ سے عمر میں بڑے ہیں اور امامت کے ان سے پہلے مستحق ہیں کیونکہ بڑے بیٹے کو فوقیت اور اولیت حاصل ہوتی ہے۔ کیا شیعہ حضرات کے پاس کوئی معقول اور تشفی بخش جواب ہے؟
سوال: 22 سوال یہ ہے کہ حضرت علیؓ بن ابی طالب نے نبی کریمﷺ کے مرض الموت کے ایام میں کسی ایک بھی نماز میں عامۃ المسلمین کی امامت کا فریضہ انجام کیوں نہیں دیا؟ حالانکہ حضرت علیؓ آپﷺ کے بعد امام برحق ہیں؟ ایک باطل اعتقاد ہے کیونکہ لوگوں کی نماز میں امامت کرنا امامت صغریٰ کہلاتی ہے جو پیش خیمہ ہوتی ہے امامت کبریٰ، یعنی منصب خلافت کا۔
سوال: 23 شیعہ حضرات کا کہنا ہے کہ ان کے بارہویں امام کی غار میں روپوشی کا سبب ظالموں کے ظلم سے خوف و دہشت ہے تو یہ بتایا جائے یہ روپوشی ابھی تک کیوں قائم ہے۔ حالانکہ وہ خطرہ، جس کے تحت آپ کے امام روپوش ہوئے تھے، تاریخ کے مختلف ادوار میں بعض شیعی حکومتوں کے قیام کی وجہ سے ٹل چکا ہے۔ مثال کے طور پر عبیدیوں، بویہیوں اور صفویوں کی حکومتیں آئیں اور اب دور حاضر میں ایرانیوں کی شیعی حکومت قائم ہے۔
آپ کے بارہویں امام نکل کر منظر عام پر جلوہ افروز کیوں نہیں ہوتے؟ اس وقت شیعہ حضرات اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنی حکومت کی چھتری تلے ان کی بھرپور نصرت و حمایت کر سکتے ہیں کیونکہ اس وقت شیعہ حضرات کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں اور صبح و شام امام غائب پر اپنی روحوں کو قربان کرتے رہتے ہیں۔
سوال: 24 نبی کریمﷺ نے اپنی ہجرت کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اپنی مصاحبت کے لئے پسند فرمایا اور انہیں زندہ رہنے کے لیے باقی رکھا اور حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر موت اور ہلاکت کے سامنے پیش کر دیا۔
سوال یہ ہے کہ اگر حضرت علیؓ امام وقت، وصی زمانہ اور خلیفہ متعین ہوتے تو کیا رسول اللہﷺ ان کو اس پر خطر موقع اپنے بستر پر چھوڑ کر مدینہ ہجرت فرماتے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کو محفوظ و مامون اپنے ساتھ ہجرت کے لئے منتخب فرماتے؟ اور اگر ایسا ہی ہوتا جیسا کہ شیعہ حضرات کا اعتقاد ہے تو آپﷺ حضرت علیؓ کے لیے یہ خطرہ مول نہ لیتے کیونکہ یہ ایک پرخطر مؤقف تھا۔ اگر خدانخواستہ حضرت علیؓ اس خطرے کی نذر ہو جاتے تو چونکہ وہ بقول شیعہ امام اور وصی اور اللہ کے مقرر کردہ خلیفہ اللہ فی الارض ہیں تو ان کے بدلے کون امامت کا حقدار قرار پاتا؟ اور اگر حضرت ابوبکرؓ اس خطرے کی نذر ہو جاتے تو امامت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور ان کی موت کے بعد سلسلہ امامت منقطع نہیں ہوتا۔ نبی کریمﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو اپنی مصاحبت کے لئے اختیار فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ شیعہ حضرات کا حضرت علیؓ کو امام حقیقی اور وصی اور اللہ کا مقرر کردہ خلیفہ کہنا سراسر بےبنیاد ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں میں اولیت کس کو حاصل ہے؟ اس شخص کو جس کو زندہ رکھنا مقصود ہے کہ اسے ایک کانٹا تک نہ چھبنے پائے یا اس کو جسے فراش موت پرخطروں اور موت کے لئے چھوڑ دیا جائے؟ اگر پھر بھی تم اس بات پر مصر ہو کہ حضرت علیؓ علم غیب جانتے تھے تو بستر پر رات گزارنے میں آپ کی کون سی افضلیت ہے؟
سوال: 25 تقیہ صرف اور صرف خوف و ہراس کے سب کیا جاتا ہے۔ اور آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ خوف کی دوقسمیں ہیں:
اولاً: اپنی جان کا خوف جس سے مراد یہ ہے ایسا نازک مسئلہ در پیش ہو کہ اس میں جان جانے کا خطرہ ہو۔
اس قسم کا خوف ائمہ کرام کے حق میں دو وجوہات کی بنیاد پر مردود تھا۔
پہلی وجہ: تو ہے کہ ائمہ اثنا عشریہ کی موت تمھارے دعوے کے مطابق ان کے اختیار میں ہوتی ہے۔
دوسری وجہ: یہ ہے کہ بزعم شیعہ، ائمہ کرام کو جو ہونے والا ہے اور جو ہو چکا ہے، اس کا علم ہوتا ہے وہ اپنی موت سے باخبر ہوتے ہیں بالخصوص انہیں اپنی موت کی کیفیات اور اوقات کا بھی علم ہوتا ہے۔
جب ان کو اپنی موت کا علم ہے اور یہ بھی پتہ ہے کہ ان کو کب اور کس کیفیت میں موت آئے گی۔ موت سے قبل ڈرنے اور خوف کھانے کی کیا ضرورت ہے اور نہ ہی ان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ اپنے دین میں منافقانہ رویہ اختیار کریں یا عوام کو دھوکہ دیں۔
مصائب و آرام میں صبر سے کام لینا علماء کرام کا شیوہ ہونا چاہیے کیونکہ اہل بیت پر اپنے جدِ امجد نبی کریمﷺ کے دین کی نصرت و حمایت کی خاطر پر تحمل و صبر سے کام لینے کی پوری ذمہ داری کہیں زیادہ عائد ہوتی ہے۔
مذکورہ دونوں صورتوں میں تقیہ کی ضرورت کس لیے ہے؟
سوال: 26 شیعہ حضرات کا اہم ترین عقیدہ ہے کہ امام معصوم کو منصب خلافت پر فائز کرنا واجب ہے تاکہ وہ تمام شہروں اور دیہاتوں سے عدل و انصاف کا رویہ رکھے اور ظلم و استبداد کا قلع قمع کر دے۔
سوال یہ ہے کہ کیا تمہارا کہنا یہ ہے کہ دنیا کے ہر ہر شہر اور ہر ہر گاؤں میں، ایک معصوم کا وجود لازم ہے جو لوگوں سے ظلم و زیادتی کو دور کرتا ہے۔
اس صورت میں تمہیں جواب دیا جائے گا کہ یہ سراسر ایک سینہ زوری ہے۔ کیا بلاد کفر مشرکین اور نصاریٰ میں بھی امام معصوم رہے ہیں؟
پھر تمھیں کہا جائے گا کہ کیا اس کے نائبین تمام شہروں میں موجود ہیں یا بعض شہروں میں ہیں۔
اگر تم کہو کہ وہ عالم رنگ و بو کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں پھیلے ہوئے ہیں تو پھر بھی تمھیں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بھی پہلی سینہ زوری ہے اس میں اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔
اگر تم یہ کہو کہ اس کے نائبین بعض شہروں اور بعض دیہاتوں میں ہیں۔ اس پر تم سے جواباً یہ کہا جائے گا کہ ان تمام شہروں اور دیہاتوں میں امام معصوم کی ضرورت ہے۔
سوال: 27 شیعوں کے امام کلینی نے اپنی کتاب (الکافی) میں ایک باب باندھا ہے جس کا عنوان رکھا ہے:
"إِنَّ النِّسَاءَ لَا يَرِثن مِنَ الْعِقَارِ شَيْئًا "
" بے شک عورتیں زمین و جائیداد میں سے کسی چیز کی وارث نہیں ہیں"
اس میں امام جعفر رحمۃاللہ کا فرمان روایت کیا ہے کہ عورتیں، زمین و جائیداد اور غیر منقولہ اشیاء میں سے کسی چیز میں بھی وراثت کا حق نہیں رکھتیں۔
(فروع الكافي، للكلينی جلد 7 صفحہ127)
طوسی نے"التهذيب (نفس المصدر جلد 9 صفحہ 254)
میں شیخ میسر کا قول نقل کیا ہے کہ میں نے ابو عبداللہ سے عورتوں کے بارے میں سوال کیا کہ ان کو میراث میں کیا استحقاق حاصل ہے؟ انہوں نے جواب دیا ان کے لئے میراث میں اینٹ، لکڑی، عمارت، بانس اور سرکنڈے کی قیمت میں سے حصہ کا استحقاق ہے جہاں تک زمین اور غیر منقولہ جائیداد کا تعلق ہے تو اس میں انہیں بطور میراث کچھ نہیں ملے گا۔
حضرت ابوجعفر رحمۃاللہ سے روایت فرماتے ہیں کہ عورتیں زمین اور جائیداد میں میراث کا حق نہیں رکھتی ہیں۔ حضرت عبدالملک بن اعین سے مروی ہے عورتوں کے لئے عمارت اور غیر منقولہ جائیداد میں بطور وراثت کوئی حصہ نہیں ہے۔
لہٰذا حضرت فاطمہؓ کا کوئی حق نہیں رہتا کہ وہ رسول اللہﷺ کی میراث سے اپنے حق کا بھی مطالبہ کریں ان روایات کے مطابق شیعہ کے بقول جو کچھ رسول اللہﷺ کی ملکیت میں تھا وہ امام کے لیے ہے چنانچہ محمد بن یحییٰ، امام ابو جعفر سے نقل کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو پیدا کیا اور زمین کی جاگیر ان کو دی تو رسول اللہﷺ اس کے وارث ہیں اور جو حصہ نبی کریمﷺ کا وہ آل محمدﷺ کے ائمہ کے لیے ہے۔
( اصول الكافى للكلینى كتاب الحجة باب ان الأرض كلها لإمام عليه السلام: جلد 1 صفحہ476)
رسول اللہﷺ کے بعد امام اول شیعوں کے عقیدہ کے اعتبار سے حضرت علیؓ ہیں۔
لہٰذا فدک کی زمین کے مطالبہ کا حق حضرت علیؓ کو پہنچتا ہے نہ کہ حضرت فاطمہؓ کو۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ حضرت علیؓ نے کبھی بھی اس کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ وہ تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اگر چاہوں تو میں تم کو اس شہد کے صاف ہونے کی جگہ بتلا دوں گیہوں کے اسٹور کا دروازه بتلا دوں۔ اس ریشم کے ملبوسات کے کارخانہ کا ٹھکانہ دکھلا دوں۔ لیکن دوری ہو کہیں مجھ پر میری ہوائے نفس غالب نہ آ جائے اور مجھے میری لالچ بہترین کھانوں کی طرف کھینچ نہ لے جائے۔ شاید حجاز و یمامہ میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں آٹے کا ایک پیڑا تک نصیب نہیں ہے اور زمانہ گذر گیا ہے کہ انہیں پیٹ بھر روٹی تک نصیب نہ ہوسکی ہے۔ (نهج البلاغة: جلد 1 صفحہ 211)
سوال: 28 حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مرتدین سے کیوں قتال کیا تھا؟ آپؓ نے فرمایا تھا کہ اگر لوگوں نے رسی کے اس ٹکڑے کو مجھے دینے میں پس وپیش سے کام لیا جسے وہ نبی کریمﷺ کو زکوۃ میں ادا کیا کرتے تھے، تو میں ان سے قتال کروں گا۔ شیعہ حضرات، حضرت علیؓ کا وہ مصحف، جس کو انہوں نے رسول اللہﷺ سے املاء کیا تھا اس خوف سے منظر عام پر نہیں لائے کہ کہیں لوگ مرتد نہ ہو جائیں۔ جب کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا حال یہ ہے کہ وہ اونٹ کی ایک رسی پر مرتدوں سے قتال کا اعلان کر دیتے ہیں۔
سوال: 29 اہل سنت والجماعت اور شیعہ کے تمام فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت علیؓ بن ابی طالب بہادر اور دلیر تھے اور حضرت علیؓ اللہ کی خاطر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ بھی نہیں کرتے تھے۔ آپؓ کی بہادری ایک لمحہ کے لیے بھی منقطع نہیں ہوئی بلکہ یہ زندگی کی ابتداء سے لے کر اس وقت تک قائم رہی حتیٰ کہ ابنِ ملجم کے ہاتھوں آپؓ کی شہادت ہوئی۔ شیعہ حضرات اس بات کا ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے بعد منصب خلافت کے آپؓ ہی حق دار ہیں۔
شیعہ حضرات سے سوال ہے کہ نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد ان کی جرأت و بہادری کہاں چلی گئی؟ کیا اس میں جمود و تعطل آ گیا؟ جس کی بنیاد پر انہوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر بیعت خلافت کی؟حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات کے بعد فوراً حضرت عمر فاروقؓ کی خلافت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے ہاتھوں پر بیعت خلافت بھی کی؟
حضرت عمر فاروقؓ کے بعد فوراً حضرت عثمان ذوالنورینؓ کی خلافت کو قبول کیا اور برضا و رغبت بیعت خلافت کی؟
کیا حضرت علیؓ بے بس اور عاجز تھے آپؓ منبر رسولﷺ پر جا کر کھڑے ہوتے اور برملا اعلان کرتے کہ خلافت ان کا حق ہے جو ان سے زبردستی چھینا جارہا، کم از کم تینوں خلفاء کے دور میں ایک مرتبہ ہی ایسا کر کے اس حقیقت کا انکشاف کر دیتے؟
حضرت علی المرتضیٰؓ نے اپنے حق خلافت کا مطالبہ کیوں نہیں کیا؟ آپؓ باجماع امت بہادر اور شجاع تھے اور آپؓ کو جمہور مسلمانوں کی تائید بھی حاصل تھی اور آپؓ کے مؤیدین و ناصرین بھی تھے۔
سوال نمبر: 30 رسول اللہﷺ نے اپنی رائے مبارک کو اہل خانہ کے چار اشخاص پر ڈال دیا تھا اور ان کی عصمت کا اعلان فرمایا تھا۔ ہمارا شیعہ حضرات سے سوال ہے کہ باقی ائمہ کی عصمت کے تمہارے پاس کیا دلائل ہیں (وہ چار اشخاص حضرت علیؓ٫حضرت فاطمۃ الزہراؓء،حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ ہیں)
سوال: 31 شیعہ حضرات کے امام جعفر صادق رحمۃاللہ، مذہب جعفریہ کے بانی ہیں ان کا فرمانا ہے کہ (ملاحظہ ہو:كشف الغمة،لاربلى جلد 2 صفحہ 373)
ابوبکر صدیقؓ نے مجھے دو بار جنم دیا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا نسب دو طریقوں سے حضرت ابوبکر صدیقؓ تک پہنچتا ہے۔
1: ان کی والدہ فاطمہ بنت قاسم بن ابی بکر ۔
2: ان کی نانی اسماء بنت عبد الرحمٰن بن ابی بکر کی طرف سے ہیں جو فاطمہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر کی ماں ہیں۔
اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ حضرات جعفر صادق رحمۃاللہ سے ان کے نانا محترم ابوبکر کی مذمت اور برائی میں جھوٹی اور من گھڑت روایات بیان کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ امام جعفر صادق رحمۃاللہ کا اپنے نانا کے شجرہ نسبت پر فخر کرنا چہ معنیٰ دارد؟ اور اسی نانا محترم کی شخصیت پر لعن و طعن بھی ناممکن ہے کیونکہ ایسا کوئی جاہل شخص ہی کر سکتا ہے۔ یہ بات اس امام سے تو بعید ہے جسے شیعہ فن فقہ میں امام گردانتے ہوں اور جسے اپنے زمانے میں زہد و ورع، تقویٰ طہارت میں اوج کمال پر فائز تصور کرتے ہوں کہ آپ ان کے بارے میں ملامت یا ذم کا اظہار کریں؟
سوال: 32 حضرت عمر فاروقؓ کے عہد زریں میں مسجد اقصیٰ فتح ہوئی۔ اس کے بعد خالص سنی الاصل قائد اور بےباک اسلامی رہنما صلاح الدین ایوبیؒ کے دور میں دوبارہ مسجد اقصیٰ کی آزادی ہوئی۔ تاریخ اسلامی کے اس طویل عرصے میں شیعہ حضرات نے کیا کیا کارہائے خیر سر انجام دیے؟ انہوں نے اس طویل زمانے میں ایک بالشت زمین تک بھی فتح کی یا اسلام اور مسلمانوں کے کسی دشمن کی سرکوبی تک کی ہے؟
سوال: 33 شیعہ حضرات دعویٰ کرتے ہیں حضرت عمر فاروقؓ حضرت علی المرتضیٰؓ سے بغض و عداوت رکھتے تھے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے حضرت عمر فاروقؓ بیت المقدس کی چابیاں لینے فلسطین گئے تھے تو حضرت علی المرتضیٰؓ کو مدینہ منورہ کا والی بنا گئے تا کہ خدانخواستہ عمر فاروقؓ کو اگر کوئی ناگہانی حالت پیش آ جائے تو وہ مسلمانوں کی خلافت کی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔
یہ کون سا بغض و عداوت ہے۔ کیا کوئی شخص اپنے دشمن کو اپنی نیابت کے منصب پر فائز کر سکتا ہے؟
سوال: 34 علماء شیعہ خیال کرتے ہیں کہ نماز ادا کرتے وقت سجدہ کا دار ومدار 5 اعضاء پر 1: پیشانی 2: ناک 3: دونوں ہتھیلیاں 4: دونوں گھٹنے 5: دونوں پاؤں
سجدہ کی حالت میں ان تمام اعضاء کا زمین سے مس ہونا ضروری ہے
(وسائل الشیعہ: للحر العاملی: جلد 3 صفحہ 598)
پھر شیعہ حضرات کا کہنا ہے کہ سجدہ ایسی چیز پر کیا جائے جو نہ تو ماکولات کی قبیل سے ہو اور نہ ہی ملبوسات کی قبیل سے۔ یہی وجہ ہے کہ حالت سجود میں وہ اپنی پیشانی مٹی کے ٹھیکرے پر رکھتے ہیں۔
(الجامع للشرائع: للحلی: صفحہ 70)
سوال یہ ہے کہ شیعہ اپنے اعضائے سجود میں سے ہر عضو کے نیچے مٹی کا ٹھیکرا کیوں نہیں رکھتے؟
سوال: 35 شیعہ حضرات کا اعتقاد ہے کہ ان کے مہدی منتظر کا جب بھی ظہور ہو گا تو وہ آل داؤد کا طرز حکومت اپنائیں گے اور انہیں کی شریعت نافذ کریں گے!
ذرا بتایا جائے کہ اس وقت شریعت محمدیﷺ کہاں چلی جائے گی جو اپنے سے پہلی تمام شریعتوں کے لئے ناسخ ہے؟
سوال: 36 جب شیعوں کے امام مہدی آئیں گے تو سوال یہ ہے کہ آتے ہی یہود و نصارٰی سے مصالحت کیوں کریں گے اور عربوں اور قریشیوں کو تہہ تیغ کیوں کریں گے؟
کیا محمدﷺ قریش اور عرب میں سے نہیں ہیں؟اور تمہارے ائمہ بھی تمہارے کہنے کے مطابق عرب ہی ہیں۔
سوال: 37 شیعہ حضرات اعتقاد رکھتے ہیں کہ ائمہ کرام کی ماؤں نے ان کا حمل اپنے پہلوؤں میں رکھا ہے اور رحم مادر میں ان کی تکوین نہیں ہوئی بلکہ ان کی ولادت داہنی ران سے ہوئی ہے۔(اثبات الوصية المسعودى: صفحہ 196)
کیا محمدﷺ نبیوں میں افضل ترین نبی اور پوری انسانیت میں معزز و مکرم نہیں ہیں؟ ان کا حمل تو رحم مادر میں ٹھہرا اور ان کی ولادت بھی عمومی طبعی طریقہ پر ہوئی تھی۔ آخر شیعہ کے ائمہ کی ولادت پہلوئے مادر سے کیوں ہوتی ہے؟
سوال: 38 شیعہ حضرات ابو عبداللہ جعفر صادق رحمۃاللہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اس شریعت کا حامل ایسا شخص ہے جس کے نام پر اگر کوئی شخص نام رکھتا ہے تو وہ کافر ہے۔
(الانوار النعمانية: جلد 2 صفحہ 53)
خود شیعہ حضرات ہی ابو محمد عسکری سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے امام مہدی کی ماں کو بشارت دیتے ہوئے کہا:
"عنقریب تو ایک لڑکے سے حاملہ ہو گی جس کا نام محمد ہو گا اور وہی میرے بعد منصب خلافت پر فائز ہو گا۔
(الانوار النعمانيه: جلد 2 صفحہ 55)
کیا مذکورہ دونوں روایتوں میں تضاد اور تناقض نہیں ہے؟ ایک مرتبہ تو تم کہتے ہو کہ جو شخص اس شریعت کے حامل شخص کے نام پر نام رکھے گا وہ کافر ہو گا اور ایک مرتبہ تم کہتے ہو کہ خود حسن عسکری نے امام مہدی کا نام محمد رکھا ہے یہ کیسا تضاد ہے؟
سوال: 39 عبد اللہ بن جعفر صادق، اسماعیل بن جعفر صادق کے حقیقی بھائی تھے۔ ان دونوں کی ماں ایک ہی تھیں جن کا نام فاطمہ بنت حسین بن علی بن حسینؓ بن علیؓ بن ابی طالب تھا۔
دونوں بھائی تمہارے مطابق سید ہیں، حسینی ہیں، بلکہ نجیب الطرفین ہیں، یعنی ان کا نسب باپ اور ماں دونوں کی طرف سے آل بیت رسول اکرمﷺ سے جا ملتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ سید عبداللہ بن جعفر کو اپنے حقیقی بھائی اسماعیل بن جعفر کی موت کے بعد منصب امامت سے کیوں محروم رکھا گیا؟
جو اپنے والد کی زندگی میں ہی انتقال کر گیا تھا۔
سوال: 40 کلینی نے اپنی کتاب الکافی میں احمد بن محمد رفعہ کے واسطہ سے ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت بیان کی ہے کہ تین چیزوں کے علاوہ کالے رنگ کو مکروہ قرار دیا گیا ہے
1: موزے 2: عمامہ 3: کملی
ان تینوں چیزوں میں کالے رنگ کے استعمال کی گنجائش ہے اس کے علاوہ اور چیزوں میں کالے رنگ کا استعمال مکروہ ہے
(کتاب الوسائل: جلد 3 صفحہ 278، فروع الکافی، للکلینی: جلد 6 صفحہ 449)
ابو عبد اللہ علیہ السلام ہی سے مروی ہے رسول اللہﷺ تین چیزوں کے علاوہ کسی اور چیز میں کالے رنگ کا استعمال ناپسند فرماتے تھے
1: موزوں میں 2: چادر یا شال میں 3: عمامہ میں
(کتاب الکافی طبع طہران سنہ: 131 جلد 2 صفحہ 205)
میں باب لبس السواد کے تحت نقل کیا ہے ناپسند رکھتے تھے تین چیزوں کے۔ البتہ اس میں چادر کا ذکر پگڑی پر مقدم ہے کہ
"إِنَّ النِّسَاءَ لَا يَرِثن مِنَ الْعِقَارِ شَيْئًا "
الحر العاملی نے اپنی کتاب الوسائل میں الصدوق کے ذریعہ محمد بن سلیمان کے واسطہ سے مرسلا ابو عبداللہ علیہ السلام سے یہ روایت نقل کی ہے کہ آپ علیہ السلام سے میں نے پوچھا کیا میں کالی ٹوپی پہن کر نماز ادا کر سکتا ہوں؟
آپ علیہ السلام نے جواب دیا کالی ٹوپی پہن کر نماز مت پڑھو کیونکہ یہ جہنمیوں کا لباس ہے۔
(وسائل الشیعہ: جلد 3 صفحہ 281۔ الفقیہ جلد 2 صفحہ 232)
شیخ صدوق سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا:
"کالا رنگ مت پہنا کرو کیونکہ یہ فرعون کا لباس ہے"
اپنی سند کے ساتھ الوسائل میں حضرت حذیفہ بن منصور سے نقل کیا ہے کہ میں ابو عبداللہ علیہ السلام کے پاس "حیرة" میں موجود تھا۔
خلیفہ وقت کا قاصد ابو العباس پہنچا جو آپ کو بلانے آیا تھا، ابو عبداللہ علیہ السلام نے برساتی پہن رکھی تھی جو اون سے بنی ہوئی ہوتی ہے جسے بارش سے بچاؤ کے لئے پہنا جاتا ہے
(الکافی: جلد 2 صفحہ 205۔ الوسائل: جلد 3 صفحہ 279)
بلکہ شیعوں کی بعض روایات میں یہاں تک وارد ہوا ہے کہ کالا لباس بنو عباس کا لباس ہے جو ان کے اعداء میں سے تھے۔
صدوق کی کتاب ”فقیہ" میں ہے، کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریمﷺ کے پاس تشریف لائے اور وہ کالا چوغہ پہنے ہوئے اور سر پر ایک پٹکا باندھے ہوئے تھے۔ اس میں خنجر بھی لٹکا ہوا تھا۔ نبی کریمﷺ نے حضرت جبریل علیہ السلام سے پوچھا:"اے جبریل! یہ کیسا لباس ہے؟ جبریل علیہ السلام نے جواب دیا، آپﷺ کے چچا عباس کے صاحبزادے کا لباس ہے۔ چنانچہ آپﷺ اسی وقت حضرت عباس کے پاس تشریف لائے اور ان کو مخاطب کر کے ارشاد فر مایا ”میرے چچا جان! آپ کی اولاد میں میرے بچوں کے لیے ہلاکت ہے۔"
انہوں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ! کیا میں اپنے اوپر غالب آ سکتا ہوں؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "قلم تقدیر چل چکا ہے۔ “بظاہر اس سے مراد اہل جہنم ہیں جیسا کہ بعض آثار میں وارد ہوا ہے کہ یہی وہ لوگ ہوں گے جو ہمیشہ ہمیشہ عذاب سے دو چار رہیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو فرعون اور ان جیسے لوگوں کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں گے اور جو بھی ان کی مشابہت اختیار کرے گا وہ سرکش اور باغی قسم کے گمراہوں میں شامل ہے جیسے کہ بنو عباس کے خلفاء وغیرہ ہیں، وہ اس امت مرحومہ اور امم سابقہ کے کفار و مشرکین کی قبیل سے ہوں گے جنہوں نے کالے لباس کو اپنا شعار بنایا ہو گا۔
(الفقیہ: جلد 2 صفحہ 252)
انہی روایات میں سے ایک وہ روایت بھی ہے جس کو شیخ صدوق نے (الفقیہ) میں اپنی سند کے ساتھ اسماعیل بن مسلم کے واسطہ سے حضرت جعفر صادق علیہ السلام) سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نبی کی طرف وحی نازل فرمائی اور اس میں اپنے نبی کریمﷺ کو حکم دیا کہ مؤمنین کو اس بات سے آگاہ کر دیں کہ وہ میرے دشمنوں کا لباس زیب تن نہ کیا کریں اور میرے اعداء کا کھانا نہ کھایا کریں۔ مجھ سے عداوت رکھنے والوں کی راہوں پر نہ چلا کریں۔ ورنہ تم بھی میرے ویسے ہی دشمن ہو جاؤ گے جسے وہ میرے دشمن ہیں۔
(وسائل الشیعہ: جلد 4 صفحہ 384۔ بحار الانوار: جلد 20 صفحہ 291، 28، 48)
کتاب عیون الاخبار میں حدائق میں موجود روایت کے موجب دوسری سند سے خبر نقل کرنے کے بعد حضرت علی بن ابی طالب کے واسطہ سے رسول اللہﷺ سے یہ فرمایا ہے ”میرے دشمنوں کا لباس کالا لباس ہے! دشمنوں کا کھانا نبیذ، نشہ آور چیزیں، جو کی شراب، گارا، جری نامی مچھلی، سانپ، زمیر نامی مچھلی اور وہ مچھلی جو مرنے کے بعد پانی کی سطح پر تیرنے لگے فرماتے ہیں کہ دشمنوں کا راستہ اختیار کرنا اپنی ذات کو متہم کرنے کا پیش خیمہ ہے۔ اسی طرح جام و مینا اور رقص و سرور کی محفلیں اور وہ مجالس جن میں ائمہ کرام علیہ السلام اور مؤمنین پر طعنہ زنی اور تہمت طرازی کی جاتی ہے اور فساق و فجار، مفسدین و ظالمین کی مجالس میں شرکت اپنی عزت و آبرو کو داغدار کرنے کا وسیلہ ہے۔
(عیون الاخبار: جلد 1 صفحہ 26)
یہ بحث کالا لباس پہننے کی مذمت میں ائمہ کرام کے اقوال پر مشتمل ہے اور جس سے عیاں ہے کہ کالا لباس شیعوں کے دشمنوں کا لباس ہے۔ لیکن اس کے باوجود شیعہ حضرات کالا لباس پہنتے ہیں۔ اس کو عزت واحترام کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔اس کو سادات کا نشان گردانتے ہیں بلکہ انہوں نے تو کالے لباس کو اپنے مذہب کا شعار بنا رکھا ہے، آخر ایسا کیوں ہے؟
سوال: 41 اگر کوئی شخص شیعہ بننا چاہے تو وہ شیعوں کے مختلف اور بے شمار فرقوں میں سے کس فرقہ کو اختیار کرے گا ؟ ان تمام فرقوں میں سے ہر فرقہ آل بیت رسولﷺ کی طرف اپنا انتساب کرتا اور امامت کا اقرار کرتا ہے۔ صحابہ کرامؓ سے بغض و عداوت کا اظہار کرتا ہے۔ ہر فرقہ حضرت علیؓ بن ابی طالب کی امامت کا اس طرح اقرار کرتا ہے۔ گویا یہ ان کے ایمان کا رکن عظیم ہے، ان میں سے ہر فرقہ یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ حضرت علیؓ کے پاس ہی اصل دین ہے۔
سوال: 42 شیعہ حضرات جب بارہ ائمہ کی امامت کا اثبات کرتے ہیں تو ردائے مصطفیٰ حدیث سے کیسے استدلال کرتے ہیں؟
سوال ہے کہ (حضرت سیدہ فاطمہؓ) کا نام رداء حدیث میں صراحت کے ساتھ موجود ہے اس کے باوجود شیعہ ان کو اماموں کے زمرے سے خارج سمجھتے ہیں اور ان کو ائمہ کی فہرست میں ذکر کیوں نہیں کرتے؟
سوال: 43 شیعہ حضرات دعویٰ کرتے ہیں کہ امامت کی شروط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ امام مکلف شرعی ہو یعنی بالغ اور عاقل ہو، اور یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ ان کے امام غائب کو محمد العسکری کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، کی امامت کا اثبات اس وقت ہی کر لیا گیا تھا جب وہ صرف پانچ سال یا تین سال کے تھے۔ یہ ان کے دستخط کردہ خطوط سے واضح ہوتا ہے۔ یہاں اس شرط کو کالعدم قرار دے کر ان کی امامت کو کیوں تسلیم کیا گیا ہے؟
سوال: 44 کیا رسول اللہﷺ پر قرآن کریم کے علاوہ دوسری کتابوں کا بھی نزول ہوا ہے؟ جن کتابوں کو رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ کے لیے خاص کر دیا تھا؟
اگر تم کہتے ہو ایسا نہیں ہے تو تم مندرجہ ذیل اپنی روایات کا کیا جواب دینا پسند کرو گے:
(1) الجامعة:
حضرت ابوبصیر ابوعبداللہ علیہ السلام کے واسطے سے نقل کرتے ہیں کہ ابوعبداللہ علیہ السلام نے فرمایا میں محمد ہوں اور ہمارے پاس "الجامعہ" ہے اور تمہیں کیا پتہ کہ یہ الجامعہ کیا ہے؟ ابوبصیر کہتے ہیں میں نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے دریافت کیا: "میں آپ پر قربان جاؤں یہ بتلائیے کہ الجامعہ کیا ہے؟ ابو عبداللہ علیہ السلام نے جواب دیا وہ ایک صحیفہ ہے جس کی لمبائی رسول اللہﷺ کے ستر ہاتھ ہے جس کو آپﷺ نے اپنی زبان سے املا کرا دیا ہے اور حضرت علیؓ نے اسے اپنے داہنے ہاتھ سے لکھا ہے۔ اس میں حلال و حرام موجود ہے۔ اس میں ہر وہ بات موجود ہے جس کی لوگوں کو ضرورت در پیش ہو سکتی ہے یہاں تک کہ خراش کی دیت کا مسئلہ بھی (الکافی: جلد 1 صفحہ 239) ذرا اس جملہ پر غور وفکر کیجیے کہ اس صحیفہ میں ہر وہ بات موجود ہے جس کی لوگوں کو حاجت در پیش آسکتی؟
آخر صحیفہ کو پوشیدہ کیوں رکھا گیا ہے ہم کو اس صحیفے کی تعلیمات سے کیوں محروم رکھا گیا ہے؟ کیا یہ کتمان علم کے زمرے میں نہیں آتا؟
(2) صحيفة الناموس
امام مہدی کی علامات میں یہ صراحت منقول ہے:
"ان کے پاس ایک صحیفہ ہو گا۔ جس میں قیامت تک کے جتنے بھی شیعہ ہوں گے ان کے اسماء درج ہوں گے اور ایک دوسرا صحیفہ ہو گا جس میں قیامت تک کے جو بھی ان کے اعداء ہوں گے ان کے نام درج ہوں گے (بحار الانوار: جلد 25 صفحہ 117)۔
ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ یہ کون سا صحیفہ ہے جو اتنی ضخامت کا حامل ہو گا۔ جس میں قیامت تک کے شیعوں کے نام درج ہوں گے؟
اگر اس میں عصر حاضر کے صرف ایرانی شیعوں کے نام لکھے جائیں تو اس کے لئے کم از کم ایک سو جلدیں درکار ہوں گی۔ چہ جائیکہ پوری دنیا میں آنے والے شیعوں کی فہرست لکھی جائے یہ ایک ناممکن بات ہے ۔ عقل سلیم اس کو تسلیم کرنے کے لئے ہرگز ہرگز تیار نہیں ہے!!
(3) صحيفة العبيطة
امیرالمؤمنینؓ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم! میرے پاس ایسے بہت سے صحیفے ہیں۔ جن میں رسول اللہﷺ اور اہل بیت رسولﷺ کی جاگیریں، عطیات، صلہ رحمی اور قطع تعلقی کے واقعات ہیں۔ اس صحیفہ میں ایک ایسا صحیفہ ہے جس کو (العبيطة) کہا جاتا ہے۔ عربوں کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی چیز باعث مصیبت نہیں ہے۔ اس میں ایسے ساٹھ عرب قبائل کا ذکر ہے جنہوں نے ناحق خون خرابہ کیا ہے ان کا اللہ کے دین سے کوئی تعلق نہیں ہے
(بحار الانوار: جلد 26 صفحہ 37)
ہم کہتے ہیں یہ روایت غیر مقبول ہے اور نہ ہی عقل انسانی اس کو قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔ اگر قبائل عرب کی اتنی بڑی تعداد ایسی ہے جس کو اللہ کے دین سے کوئی سروکار نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پشت زمین پر کوئی شخص ایسا موجود نہیں ہے جس کا اللہ کے دین میں کوئی حصہ ہو۔
اس کے بعد ان لوگوں نے اس سنگین حکم کے ضمن میں قبائل عرب کا ذکر کیا ہے اور خاص طور سے عربوں کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اس سے ان کی عربوں سے تعصب اور دشمنی کی بو آ رہی ہے۔
(4) صحيفة ذؤابة السيف
حضرت ابو بصیر رحمۃاللہ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺ کی تلوار کے نیام میں ایک چھوٹا سا صحیفہ تھا۔ اس میں چند حروف تھے اور ان حروف میں سے ہر حرف ہزار حرف پر مشتمل تھا۔
ابو بصیر کہتا ہے کہ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے کہ ان حروفوں میں سے اب تک صرف دو حرف معرض وجود میں آ سکے ہیں (نفس المصدر: جلد 26 صفحہ 56)
ہمارا سوال ہے کہ ان دو حرفوں کے علاوہ بقیہ حروف کہاں ہیں! ان بقیہ حروف کا ظہور کیوں نہیں تاکہ شیعہ اہل بیت سے تو مستفید ہو جائیں؟ یا یہ سارے کے سارے حروف اس وقت تک پردۂ خفا میں ہی رہیں جب تک کہ القائم کا ظہور نہیں ہو جاتا خواہ نسلوں کی نسلیں آتی رہیں مگر دین غار میں مخفی رہے گا۔
(5) صحيفة على:
ایک دوسرا صحیفہ ہے جو تلوار کے لٹکانے والے حلقے میں پایا گیا ہے اس ابوعبداللہ علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کی تلوار کے لٹکانے والے حلقے میں ایک صحیفہ پایا گیا ہے جس میں لکھا ہوا ہے بسم الله الرحمن الرحيم، قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش اور باغی وہ شخص شمار کیا جائے گا جو کسی کو ناحق قتل کرے یا کسی کو بلاوجہ مارے اور غیر مستحق کو منصب امامت پر فائز کرے۔ ایسا شخص اس شریعت کا منکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ پر نازل کی ہے اور جس شخص نے دین میں کسی نئی چیز کو ایجاد کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے کوئی عذر یا فدیہ قبول نہیں فرمائے گا۔ (بحار الانوار: جلد 27 صفحہ 65)
(6) صحيفة الجفر
اس کی دو قسمیں ہیں: ( الف: جفرا بیض۔ (ب: جفر احمر ابوالعلاء سے مروی ہے کہ میں نے ابوعبد الله علیہ السلام کو سنا ہے کہ میرے پاس الجفر الابیض“ ہے۔ راوی کہتا ہے میں نے عرض کیا اس میں کیا لکھا ہے؟ ابوعبد اللہ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ”اس میں حضرت داؤد علیہ السلام کی زبور، موسیٰ علیہ السلام کی توراة، عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل، ابراہیم علیہ السلام کے صحف، اور حلال وحرام کی تفصیل۔ اس کے علاوہ میرے پاس ”الجفر الاحمر“ بھی ہے۔
میں نے دریافت کیا کہ جفر احمر میں کیا ہے؟
انہوں نے جواب دیا "اوزار اور ہتھیار ہیں۔ اسے صرف خوں بہا یا قصاص کے وقت کھولا جاتا ہے۔ ان سے عبداللہ بن ابی یعفور نے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ تمہارا بھلا کرے کیا اس کو حسن علیہ السلام کے بیٹے جانتے ہیں؟
ابوعبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم! وہ لوگ اس کا ٹھیک ٹھیک اس طرح علم رکھتے ہیں جس طرح انہیں رات دن کا علم ہے لیکن بر بنائے حسد وہ اس سے اغماض کرتے ہیں اگر وہ حق کو حق جانتے ہوئے اس کے حصول کی کوشش کریں تو یہ ان کے لئے بہتر ثابت ہو (اصول الکافی: جلد 1 صفحہ 24)
ہمارا کہنا ہے کہ ذرا اس عبارت پر غور کرو کہ زبور داؤد، توراة موسیٰ، انجیل عیسیٰ، صحف ابراہیم علیہ السلام) اور حلال و حرام ساری کی ساری چیزیں صحیفہ جفر میں موجود ہیں۔ ہمارا سوال ہے کہ تم نے اتنی بیش بہا نعمت کو چھپا کیوں رکھا ہے اور اس کو ظاہر کیوں نہیں کرتے؟
(7) مصحف فاطمه:
1: علی بن سعید ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ:
بخدا ہمارے پاس مصحف فاطمہؓ ہے۔ اس میں کتاب اللہ کی آیات میں سے ایک آیت بھی نہیں ہے بلاشبہ وہ رسول اللہﷺ کا املاء کروایا ہوا اور حضرت علیؓ کے دست مبارک کی تحریر ہے (بحار الانوار: جلد 26 صفحہ 41)
2: محمد بن مسلم سے مروی ہے کہ: حضرت فاطمہؓ نے ایک مصحف چھوڑا ہے وہ قرآن نہیں ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے ہے۔ حضرت فاطمہؓ پر نازل ہوا ہے۔ وہ رسول اللہﷺ سے املاء شدہ ہے اور حضرت علی المرتضیٰؓ کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے۔ (بحار الانوار: جلد 26 صفحہ 41)
3: علی بن ابی حمزہ سے مروی ہے انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے ان کا فرمان نقل کیا ہے:
"ہمارے پاس مصحف فاطمہؓ ہے، اللہ کی قسم اس میں قرآن کریم کے حرفوں میں سے ایک حرف بھی نہیں ہے لیکن وہ رسول اللہﷺ کا املاء شدہ کلام ہے اور حضرت علیؓ کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے (بحار الانوار: جلد 26 صفحہ 41)
اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ تم لوگ کہہ رہے ہو کہ یہ کتاب رسول اللہﷺ کی املاء شدہ اور حضرت علیؓ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے تو اس کو امت مسلمہ سے چھپا کر کیوں رکھا گیا؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کوحکم دیا ہے کہ آپ کی طرف جو کچھ نازل کیا گیا ہے اسے امت تک پہنچا دیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ (سورۃالمائده: آیت 67)
"اے رسول! جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے آپ اسے پہنچا دیجئے اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔"
اس فرمان کے مطابق رسول اللہﷺ کے لئے کیسے ممکن ہے کہ ساری امت مسلمہ سے (مصحف فاطمہؓ) نامی قرآن کا کتمان کریں۔ حضرت علیؓ اور ائمہ کرام کس بنیاد پر اس کو اپنے شیعہ پیروکاروں سے پردۂ خفاء میں رکھیں گے یہ ناممکن بات ہے۔
کیا یہ امانت میں خیانت نہیں ہے؟ اور کیا مذکورہ مقدس لوگوں سے خیانت کی توقع ہے؟
تورات اور انجیل و زبور:
ابو عبداللہ علیہ السلام سے مروی ہے کہ وہ انجیل، تورات اور زبور سریانی زبان میں پڑھا کرتے تھے ۔
ہم یہاں یہ بات کہنا چاہیں گے کہ امیر المؤمنینؓ اور انکے بعد ائمہ علیہ السلام کو زبور، تورات اور انجیل سے کیا سروکار تھا؟ یہ کتب سابقہ انکے درمیان کیوں متداول تھیں اور وہ ان کتابوں کو چوری چھپے کیوں پڑھا کرتے تھے؟
نصوص شیعی سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ کے پاس پورا قرآن موجود تھا اور مذکورہ تمام کتب اور دوسرے چھوٹے بڑے صحیفے بھی تمہارے دعویٰ کے مطابق موجود تھے۔ انکو زبور، تورات اور انجیل کی کیا ضرورت پڑ گئی؟ خصوصاً جبکہ ہمارے علم میں ہے کہ یہ ساری کی ساری کتب سابقہ نزول قرآن کی وجہ سے منسوخ ہو گئیں ہیں۔
ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس وقت صرف اور صرف قرآن کریم ہی دستور حیات کی حیثیت سے مسلمانوں کے پاس موجود ہے۔ اسلام میں اگر کسی کتاب کی مسلمہ حیثیت ہے تو وہ قرآن کریم ہے ۔جہاں تک متعدد کتابوں کا معاملہ ہے تو یہ یہود و نصارٰی کے خواص میں سے ہے جیسا کہ متعدد کتابوں سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے۔
سوال: 45 نبی کریمﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی وفات کے اظہار غم میں اپنے چہرے پر تھپڑ کیوں نہیں مارے تھے؟ حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ کی وفات پر ماتم کرتے ہوئے اپنے گالوں پر تھپڑ کیوں نہیں لگائے؟
سوال: 46 علماء شیعہ کی کثیر تعداد خصوصاً ایرانی شیعہ عربی زبان سے نابلد ہوتے ہیں۔ وہ زبان کے اعتبار سے فارسی داں ہوتے ہیں گویا وہ حقیقت میں عجمی ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ لوگ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ سے کس بنیاد پر احکامات کا استنباط کرتے ہیں؟ جبکہ یہ بات مسلم ہے کہ ایک عالم دین کے لئے قرآن و سنّت سے احکامات اور انکے استنباط کے لیے عربی زبان سے واقفیت ازحد ضروری ہے۔
سوال: 47 شیعوں کا اعتقاد ہے کہ اکثر و بیشتر صحابۂ کرامؓ کا شمار ماسوائے ایک محدود تعداد کے منافقین اور کفار کی صفوں میں ہوتا تھا۔ چند صحابۂ کرامؓ کا تمام کافروں نے کام تمام کیوں نہ کر دیا تھا۔
سوال: 48 کیا یہ بات عقل و خرد باور کرنے کیلئے تیار ہے کہ شیعہ نبی کریمﷺ کے انتخاب میں ناکام رہیں۔
سوال: 49 محمد بن حسن طوسی اپنی کتاب تہذیب الاحکام کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں: (تھذیب الاحکام: جلد 1 صفحہ 45)
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو حق کا سر پرست اور اس کا مستحق ہے، خوب درود وسلام ہو اس کی مخلوق میں سے افضل ترین اور بہترین ذات محمدﷺ پر۔
بعض ان ساتھیوں نے اللہ تعالیٰ انہیں نیکی و صلاح کی توفیق عطا فرمائے، جن کے مجھ پر بعض حقوق عائد ہوتے ہیں، مجھے ہمارے شیعہ کی احادیث یاد کروا دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی تائید سے بہرہ ور فرمائے اور ان کے اسلاف پر رحم و کرم فرمائے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ ہمارے یہاں احادیث میں بڑا تضاد ہے حتیٰ کہ ہمارے یہاں کوئی متفق علیہ روایت بھی نہیں ہے اگر کوئی ایک اتفاق کی صورت پیدا ہوتی ہے تو فوراً اس کی مخالفت میں احادیث موجود ہوتی ہیں۔ ہمارے یہاں احادیث کے ذخیرے میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہے، جس کو متفق علیہ کہا جائے کیونکہ ہر حدیث کے مقابلے میں کوئی نہ کوئی حدیث ضرور موجود ہے۔ اسی چیز نے ہمارے مخالفین کو ہمارے مذہب شیعی پر اعتراضات کرنے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔
اثناعشری شیعی سید دلدار علی لکھنوی اپنی کتاب ”اساس الاصول" میں رقمطراز ہے (اساس الاصول: صفحہ 51 طبع لکھنؤ الھند)
"ائمۂ کرام سے ماثور و منقول احادیث بہت زیادہ اختلافات کا شکار ہیں اور کوئی ایسی روایت موجود نہیں ہے جس کے مقابلہ میں اس کی کاٹ کے لئے کوئی روایت موجود نہ ہو۔“ یہی وہ صورت حال ہے جو بعض ناقص عقلوں کے لئے شیعہ مذہب سے نکلنے کا سبب بن رہی ہے۔
شیعوں کے عالم محقق، حکیم شیخ حسین بن شہاب الدین کرکی اپنی کتاب هداية الابرار الى طريق الائمة الاطهار، میں تحریر کرتے ہیں: ھدایة الابرار، صفحہ 164)
اس کتاب کے لکھنے کی غرض وغایت بھی وہ ہے جس کو (التھذیب) کے مقدمہ میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اس کتاب کی تالیف ہماری روایات کے درمیان تعارض اور تناقض کو دور کرنے کی غرض سے کی تھی کیونکہ ان کو یہ شکایت تھی کہ بعض شیعہ حضرات اسی بنیاد پر مذہب شیعہ سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔
ہم یہاں کہنا چاہیں گے کہ شیعہ علماء نے اپنے مذہب میں تناقض کا بذات خود (اصول المذہب الشیعہ الطبعۃ الاولی عشریۃ للقفاری: جلد 1 صفحہ 418) اعتراف کیا ہے اللہ تعالیٰ باطل کر کے فرما رہے ہیں
وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا ۞ (سورۃ النساء: آیت 82)
"اگر یہ (قرآن) اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں وہ لوگ بہت کچھ اختلاف پاتے."
سوال: 50 شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ حضرت حسینؓ کی یاد میں رونا دھونا مستحب ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ استحباب بر بنائے دلیل ہے یا صرف ہوائے نفسانی کی بنا پر؟ اگر یہ مبنی بر دلیل ہے تو وہ دلیل کیا ہے؟
اگر ایسا ہی ہے تو ائمہ اہل بیت نے اس کام کو کیوں نہیں کیا جن کی اتباع اور پیروی کرنے کے تم دعویدار ہو؟
سوال: 51 شیعہ کا اعتقاد ہے کہ سیدنا علیؓ بن ابی طالب اپنے بیٹے حضرت حسینؓ سے افضل ہیں۔ تم نے حضرت علیؓ کی شہادت کی یاد میں رونا دھونا کیوں نہیں کیا؟ نبی کریمﷺ ان مذکورہ دونوں شخصیتوں سے افضل و اکرم نہیں ہیں؟ تم نبی کریمﷺ پر اپنے سابقہ رونے سے بڑھ کر کیوں نہیں روتے؟
سوال: 52 شیعہ حضرات کے مطابق حضرت علیؓ بن ابی طالب ولایت و امامت اور ان کے بعد ان کی اولاد کی ولایت و امامت پر ایمان رکھنا ایک رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا اور اگر کوئی شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ کافر ہے اور جہنمی ہے۔ خواہ وہ "لا الہ الا للہ محمد رسول اللہ" کا اقرار ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ نماز پڑھتا ہو اور زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور رمضان کے روزے بھی رکھتا ہو اور اس نے بیت اللہ کا حج بھی کیا ہو مگر وہ اسلام کے دائرے سے خارج ہے۔ شیعہ حضرات یہ عقیدہ رکھتے ہیں لیکن ہم قرآن کریم میں اس عظیم رکن کی صراحت کیوں نہیں پاتے۔ ہم قرآن کریم کو پاتے ہیں کہ اس نے اس رکن اعظم کے علاوہ دوسرے ارکان کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے، جیسے نماز، روزے، حج، زکوٰۃ، بلکہ قرآن کریم نے بعض مباحات تک کا بھی صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے جیسے کہ شکار وغیرہ! ہمارا سوال ہے کہ قرآن کریم میں تمہارا وہ رکن اعظم کہاں گیا جس کا رات دن تم تذکرہ کرتے رہتے ہو؟
سوال: 53 اگر صحابہ کرامؓ کا معاشرہ آپس میں بغض و عناد اور حسد و بغاوت والا معاشرہ تھا، جس کے افراد میں سے ہر شخص منصب خلافت کو پانے کے لیے کوشاں تھا۔ بقول شیعہ حضرات صحابہ کرامؓ کا ماحول ایسا بن گیا تھا جس میں معدودے چند کے علاوہ کوئی ایمان پر باقی نہیں بچا تھا۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ ہی کے زریں دور میں فتوحات پر فتوحات ہوتی چلی گئیں اور اسلام کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ تاریخ شاہد ہے اسلام اور مسلمانوں کو جتنا فروغ صحابہ کرامؓ کے عہد زریں میں ملا اتنا کسی دور میں نہیں ملا اور اس عہد زریں کی یہ بھی خوبی ہے کہ اس میں ہزاروں افراد نے اسلام قبول کیا۔
سوال: 54 شیعہ حضرات نماز جمعہ کو کیوں چھوڑتے ہیں جبکہ نماز جمعہ کے قیام اور اس کی ادائیگی کا صراحت کے ساتھ سورۂ جمعہ میں حکم وارد ہوا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
یاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورۃ الجُمعۃ آیت 9)
ترجمہ: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو۔"
اگر شیعہ حضرات یہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کی نماز کو اس وقت تک معطل قرار دیے رکھیں گے جب تک کہ امام مہدی کا خروج نہیں ہوتا۔
تو ہم کہیں گے کہ کیا یہ انتظار اس عظیم فریضہ کے معطل رکھنے کا جواز فراہم کرتا ہے؟ اس شیطانی عذر کی وجہ سے ان لاکھوں بندگان خدا کا کیا ہو گا جو انتظار کرتے کرتے مر چکے ہیں اور ان کو اسلام کے اس عظیم الشان فریضہ کو ادا کرنے کا موقع تک نہ مل سکا؟
سوال: 55 شیعہ حضرات عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں سے کچھ آیات کو حذف کر دیا گیا ہے اور یہ کام حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی طرف سے کیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ شیعہ حضرات ابوجعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ امام صاحب سے سوال کیا گیا کہ حضرت علیؓ کو امیر المؤمنینؓ کے خطاب سے کیوں نوازا گیا؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ خطاب عطا کیا ہے اور کتاب میں بھی اسی طرح ہی نازل فرمایا ہے:
وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّكَ مِنۡۢ بَنِىۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَ اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ وَأنْ مُحَمَّدًا رَّسُولِي وَإنْ عَليًّا امِيرُ الْمُؤْمِنِينَ۔
"اور جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ محمدﷺ میرے رسول ہیں اور علی امیر المؤمنین ہیں۔“ (اصول الكافي: جلد 1 صفحہ 412)
کلینی نے تغیر قرآن میں لکھا یہاں پر جبت اور طاغوت سے فلاں فلاں مراد ہیں۔“(المصدر السابق: جلد 1 صفحہ 429)
مجلسی تحریر کرتا ہے کہ: فلاں اور فلاں سے مراد ابوبکرؓ اور عمرؓ ہیں (بحار الانوار: جلد 23 صفحہ 306)۔
یہی وجہ ہے کہ شیعہ حضرات شیخینؓ کو العیاذ باللہ شیطان تصور کرتے ہیں۔ شیعوں کے یہاں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (لا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ (سورۃ النور: آیت 21) اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کی تفسیر میں پورے وثوق اور جزم کے ساتھ فلاں لکھا ہے کہ فلاں کی ولایت مراد ہے بلکہ قسم کھا کر اس بات کی تاکید بھی کی ہے۔
ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ہے (وَمَنْ يُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فِي وِلَايَةِ الأَئِمَّة مِنْ بَعْدِهِ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظیما)
"جو کوئی الله اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا علیؓ کی ولایت میں اور اس کے بعد ائمہ کی ولایت میں تو یقیناً وہ بہت بڑی کامیابی سے ہم کنار ہوا" ابوعبداللہ اس آیت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ یہ آیت من و عن اسی طرح نازل ہوئی ہے (اصول الکافی: جلد 1 صفحہ 41، 441)
ابو جعفر سے مروی ہیں: جبرئیل علیہ السلام یہ آیت لے کر محمدﷺ کے پاس نازل ہوئے تھے۔
بِئْسَمَا اشْتَرُوا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَن يَكْفُرُوا بِمَا أَنزَلَ اللهُ فِي عَلِي بَغْيا
ترجمہ: ”اور بہت بری ہے وہ چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا۔ وہ ان چیزوں کا کفر کرتے ہیں جو سیدنا علیؓ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہیں۔(ایضاً: جلد 1 صفحہ 427)
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام محمدﷺ کے پاس من و عن یہ آیت لے کر تشریف لائے۔
وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فی علی فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ (شرح اصول الکافی: جلد 7 صفحہ 66)
اور اگر تم شک میں ہو اس چیز کی بارے میں جو ہم نے نازل کی اپنے بندے پر پس تم لے آؤ ایک سورت اس جیسی دیے گئے ہو! تم ایمان لاؤ اس روشن نور پر جو ہم نے علیؓ کے متعلق نازل کیا ہے۔“
ابو عبد اللہ علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام محمدﷺ کے پاس یہ آیت لے کر تشریف لائے ﴿يَايُّهَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ امِنُو بِمَا نَزلْنَا فِي علَي نُورًا مبینا (ایضاً)
محمد بن سنان رضا علیہ السلام سے روایت فرماتے ہیں:
كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِيْنَ بِوِلَايَةِ عَلِي ما تدعُوهُمْ إِلَيْهِ يَا مُحَمَّدُ مِنْ وَلايَة عَلِيِّ۔
یہ من و عن اسی طرح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔(ایضاً: جلد 5 صفحہ 301)
ابو عبد اللہ علیہ السلام نے کہا ہے:
﴿ سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابِ وَاقِعِ لِلْكَافِرِينَ بوَلَايَةِ عَلَي ليس له دافع﴾ "سوال کیا ایک سوال کرنے والے نے اس اس کے بارے میں جو واقعے ہونے والا ہے علیؓ کی ولادیت کا۔ جسے کوئی بھی روکنے والا نہیں ہوا گا۔“ اور فرماتے ہیں واللہ حضرت جبرئیل علیہ السلام اسی طرح اس آیت کو لے کر محمدﷺ پر نازل ہوئے تھے۔ (اصول الکافی: جلد 1 صفحہ 422)
ابو جعفر علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام محمدﷺ پر یہ آیت اسی طرح لے کر نازل ہوئے تھے :
فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا الَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمُ قوْلاً غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا الَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمْ رِجْزًا مَنْ السَّمَاءِ بِمَاكَانُوا يَفْسُقُونَ۔(ایضاً جلد 1 صفحہ 432)
پس بدل ڈالا ان ظالموں نے جنہوں نے آل محمد پر ان کے حق میں ظلم کیا سوائے اس بات کے جو ان سے کہی گئی تھی۔ تو ہم نے ان لوگوں پر ،جنہوں نے آل محمد پر ان کے حق کے معاملے میں ظلم کیا ،آسمان سے عذاب نازل کیا بوجہ اس کے جو وہ نافرمانی کرتے تھے ۔“
ابو جعفر علیہ السلام سے ہی مروی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ جو من ومن یہ ہے:
إِنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا الَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمْ لَمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقاً إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ ... يَايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِ مِنْ رَّبِّكُمْ فِي وَلَايَةِ عَلَيّ فَامِنُوا خَيْرًا لَّكُمْ وَإِنْ تَكْفُرُوْا بِوَلَايَةِ عَلِي فَانَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ (ایضاً: جلد صفحہ 424)
”اے لوگو! تمھارے پاس رسول۔ علیؓ کی ولایت کے بارے میں تمہارے رب کی طرف سے حق لایا ہے، لہذا تم ایمان لاؤ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر تم علیؓ کی ولایت کا انکار کرو گے تو بلاشبہ اللہ ہی کی ملک ہے چاہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔“
یہ ہیں وہ آیات جن کے متعلق شیعہ حضرات کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ تمام آیات صراحت کے ساتھ حضرت علیؓ کی امامت و خلافت پر دلالت کرتی ہیں لیکن حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ نے ان میں تغیر و تبدل کر دیا۔
مذکورہ صورتحال میں خود بخود دو سوالات پیدا ہوتے ہیں اور وہ دونوں ہی شیعہ حضرات کے لئے باعث عار ہیں۔
پہلا سوال یہ ہے کہ بزعم شیعہ اگر حضرت ابو بکرؓ وعمرؓ بنی انہوں نے ان مذکورہ آیات میں تحریف کی ہے تو حضرت علیؓ نے منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد اس کی وضاحت کیوں نہیں کی؟
یا کم از کم محرف شدہ آیات کو ان کی اصلی ہیئت میں لکھوا کیوں نہیں دیا جیسا کہ وہ نازل ہوئی تھیں۔ ہم دیکھتے ہیں، تاریخ شاہد ہے کہ حضرت علیؓ نے ایسا نہیں کیا بلکہ قرآن کریم کو اپنے عہد میں اسی شکل میں باقی رکھا جس شکل میں اس سے قبل خلفاء راشدینؓ کے دور میں تھا اور جیسے کہ نبی کریمﷺ کے دورِ نبوت میں تھا کیونکہ حفاظت الہٰی کی بدولت محفوظ و مامون ہے۔ اس میں نہ تحریف ہو۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ۞ (سورۃ الحجر آیت 9)
ترجمہ: ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی نگہبانی کرنے والے ہیں۔
مگر شیعہ حضرات کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ عقل و خرد سے کام نہیں لیتے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا بعض آیات جن میں شیعوں نے تحریف و تبدیل سے کام لیا ہے تا کہ علی کی ولایت و امامت اور خلافت کو ثابت کریں یہ آیات پوری راسخ سے ہمارے سامنے یہ بات بیان کر رہی ہے کہ اس کا شائبہ تک نہیں ہوسکتا۔
ذرا اس آیت کے بارے میں غور و خوض کریں، جس کو شیعوں نے تحریف کا نشانہ بنایا ہے یہ آیت تو یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب کہ انہوں نے اسے مسلمانوں کی طرف منسوب کر دیا۔
فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا آلَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمْ قَوْلاً غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا الَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمُ رِجْرًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ(سورۃ البقرہ آیت 59)
ترجمہ: پھر جنہوں نے آلِ محمد کے حق میں ظلم کیا انہوں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی بدل ڈالا تو ہم نے بھی ان ظالموں پر ان کے فسق و نافرمانی کی وجہ سے آسمانی عذاب نازل کیا ۔"
بر بنائے آیت محرفہ یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ آیت اس معاملہ کی نشاندہی کر رہی ہے جو مستقبل میں رونما ہو گا اور حضرت علیؓ اس کو جانتے بھی تھے۔
حضرت علیؓ اور آل بیت اپنے کس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ان سے زبردستی چھین لیا گیا ہے۔ جب کہ قرآن کہہ رہا ہے کہ یہ مستقبل میں ہو گا؟ اور اس تحریف سے اس بات کی بھی نشاندہی ہو رہی ہے کہ مسلمان سیدنا علیؓ کی ولایت اور ان کے بارے میں وصیت کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی سیدنا علیؓ رسول اللہﷺ کے بعد خلیفہ بنیں گے۔ اس کے بعد ہمیں ذرا یہ بھی بتلایا جائے کہ یہ کون سا آسمانی عذاب۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جنہوں نے آل محمد کے حق خلافت کے معاملے میں ظلم و زیادتی کب نازل کیا۔
یہ سب جانتے ہیں کہ اب تک ایسا کوئی عذاب واقع نہیں ہوا ہے کیونکہ یہ کھلم کھلا تحریف ہے اور کچھ بھی نہیں۔
سوال: 56 شیعہ حضرات ابوالحسن سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں روایت کرتے ہیں
يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّطۡفِـئُــوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَ فۡوَاهِهِمۡ (سورۃ التوبة آیت 32)
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنے مونہوں سے اللہ کے نور کو بجھائیں " یعنی یہ لوگ امیر المؤمنین کی ولایت و امارت کو بجھا دینا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے:
فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَالنُّوۡرِ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلۡنَا۞ (سورۃ التغابن آیت 8)
ترجمہ: لہٰذا اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس روشنی پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کی ہے،
شیعہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! نور سے آل محمد کے قیامت تک آنے والے ائمہ مراد ہیں۔(الکافی: 1491)
سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اسلام چار دانگ عالم میں پھیلا کر اپنے نور کو مکمل کیا ہے یا اہل بیت کو ولایت اور وصيت و خلافت عطاء فرما کر اس کی تکمیل کی ہے۔
سوال: 57 ایک سوال ہے کہ آپ کے شرعی مفہوم کی بنیاد پر ہم پاتے ہیں کہ ائمہ آل بیت میں سے صرف چند اشخاص ایسے ہیں جو منصب خلافت پر فائز ہو پائے ہیں۔ ایک حضرت علیؓ اور دوسرے حضرت حسنؓ جب کہ آپ لوگوں کے یہاں تو باره امام ہیں۔ باقی ماندہ دس ائمہ کی عدم خلافت کے باعث تمام نور کہاں گیا؟
سوال : 58 شیعوں کی بعض مذہبی کتابوں میں جعفر الصادق کی طرف یہ روایت منسوب ہے کہ ایک عورت نے آپ سے حضرت ابوبکر و عمر کے بارے میں سوال کیا: میں ان دونوں کی ولایت کو تسلیم کروں؟ آپ نے کہا۔ ہاں ان کی ولایت کو تسلیم کرو۔ اس عورت نے برجستہ آپؐ کے سامنے اس وقت کہا تھا کہ جب میں اپنے رب کے روبرو حاضر ہوں گی تو میں رب کریم سے یہ کہوں گی کہ شیخین کی ولایت کو تسلیم کرنے کا آپ نے مجھے حکم دیا ہے تو حضرت صادق رحمۃاللہ نے اس عورت سے کہا ہاں! جاؤ تم رب کریم کے روبرو یہی کہنا۔ (روضة الكافي: جلد 8 صفحہ 101)
باقر کے اصحاب میں سے ایک شخص نے اس وقت بڑے تعجب کا اظہار کیا ؟ جب اس نے ان کی زبانی حضرت ابوبکر صدیقؓ کی شخصیت کو صدیق کے لقب سے یاد کرتے ہوئے سنا اس شخص نے دریافت کیا: آپ بھی اس کو صدیق کے لقب سے موصوف کرتے ہیں؟ امام باقر نے جواب دیا۔ جی ہاں آپ واقعی صدیق ہیں جو شخص دنیا میں آپ کو صدیق کہنا گوارا نہیں کرتا اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کی بات کی تصدیق نہ کرے گا؟ (مقاتل الطالبین: صفحہ 88, 142, 188)
اس کے باوجود شیعہ کی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بارے میں کیا رائے ہے؟
سوال: 59 ابوالفرج الاصفہانی نے "مقاتل الطالبين كشف الغمة، جلد 2، صفحہ 66) میں اور الاربلی نے کشف الغمة " الغمة صفحہ 360 میں اور مجلسی نے (جلاء العیون صفحہ 582 میں یہ بات ذکر کی ہے کہ ابوبكر بن على بن ابی طالب نے کربلا میں اپنے بھائی حضرت حسینؓ کے ساتھ جام شہادت نوش فرمایا ہے ان کے ساتھ حضرت حسینؓ کے صاحبزادے ابوبکر نے بھی اس معرکہ میں شہادت پائی تھی۔
محمد الاصغر کو ابوبکر کی کنیت سے پکارا جاتا تھا۔
شیعہ حضرات ان حقائق کو کیوں چھپاتے ہیں؟ اور ساری توجہ حضرت حسینؓ کی شہادت پر ہی کیوں مرکوز رکھتے ہیں۔ اس کے پس پردہ یہ سبب پنہاں ہے کہ حضرت حسینؓ کے بھائی اور صاحبزادے کا نام ابوبکر تھا۔
شیعہ نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کو اس حقیقت کا علم ہو جائے اور نہ ہی ان کے سیدھے سادے پیروکاروں کو اس حقیقت کا علم ہو جائے کہیں آل بیت اور اکابر صحابہ کرامؓ اور ان میں بھی خصوصاً ان دعوؤں کی قلعی نہ کھل جائے اگر آپ کافر اور مرتد ہوتے اور منصبِ خلافت پر فائز ہو کر آپ نے حضرت علیؓ اور آپ کی آل کی حق تلفی کی ہوتی تو ہم آل بیت کو آپ کے اس نام پر نام رکھتے ہوئے نہ دیکھتے۔
یہ بھی بتایا جائے کہ شیعہ حضرات حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ کی اقتداء میں اپنے بیٹوں کا نام ابوبکر کے نام پر کیوں نہیں رکھتے؟
سوال: 60 رسول اللہﷺ کو خاتم الانبياء تسلیم کرنے سے امامت کا مقصود حاصل ہو جاتا ہے اور یہ مقصود رسول اللہﷺ کی زندگی میں اور آپ کی موت کے بعد دونوں صورتوں میں حاصل ہو جاتا ہے کیونکہ یہ شخص اس بات کا عقیدہ رکھتا ہے کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور ان کی اطاعت واجب ہے وہ رسول اللہﷺ کی اطاعت و پیروی کی کوشش بھی کرتا ہے تو اس کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ جنت میں داخل ہوگا تو اس اعتقاد کی بنیاد پر مسئلہ امامت و ولایت پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں رہے گی اور اس کے ذمہ رسول اللہﷺ کی اتباع کے علاوہ کسی اور کی اتباع لازم نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جنت میں داخلہ اس وقت تک کہ ناممکن ہوگا جب تک وہ امام کی اتباع اور پیروی نہ کرے گا تو یہ اعتقاد نصوص قرآنیہ کے سراسر خلاف ہے کیونکہ نصوص قرآنیہ میں بارہا اس شخص کے لیے جنت واجب قرار دے دی گئی ہے جو صرف اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرے گا۔
قرآن کریم کی کسی نص میں بھی اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے دخول کو امام کی امامت پر ایمان لانے کے ساتھ مربوط کیا ہو
ارشاد باری تعالیٰ ہے
وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا۞ (سورۃ النساء آیت 69)
ترجمہ: اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا ؕ وَذٰ لِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ۞(سورۃ النساء آیت 13)
ترجمہ: اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ایسے لوگ ہمیشہ ان (باغات) میں رہیں گے، اور یہ زبردست کامیابی ہے۔
اگر ایمان اور کفر کے درمیان امامت ہی حد فاصل ہوتی یا دین میں اس رکن اعظم کی کوئی حیثیت ہوتی کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ بندے کا عمل قبول نہیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی ان آیات میں اس کا ضرور ذکر کرتا اور اس کی تاکید فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ اس مسئلہ میں بعد میں اختلافات رونما ہوں گے۔
شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو گا جو کہتا ہو کہ آیات مذکورہ میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ضمن میں امامت کا مسئلہ بھی مضمر ہے کیونکہ یہ بات کہنا تفسیر قرآن کے ساتھ ظلم ہے۔ اس دعویٰ کے بطلان کے لئے یہ کہنا کافی ہے کہ رسول اللہﷺ کی اطاعت ہی گویا کہ اس رب کریم کی اطاعت ہے جس نے ان کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کو تن تنہا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ اپنے رسولﷺ کی اطاعت کو بھی ذکر کیا ہے۔ رسول اللہﷺ کی اطاعت کو الگ طور پر اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ عقیدۂ اسلام کے دو اہم ترین ارکان کو واضح کیا جائے جو کہ اللہ کی اطاعت اور رسول اللہﷺ کی اطاعت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ضروری سمجھا گیا کہ اللہ کی اطاعت کے بعد جنت میں دخول کے لئے بطورِ شرط اللہ کے رسول کی اطاعت کا ذکر کیا جائے ، کیونکہ رسول اللہﷺ کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے مبلغ کی ہے اور نبی کی اطاعت گویا کہ اس ذات کی اطاعت ہے جس نے اُسے رسول بنا کر بھیجا ہے اور چونکہ رسول اللہﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے بلا شرکت غیر کے کامیابی و کامرانی اور جنت کے حصول کو اپنے رسول کی اطاعت اور اس کے حکم کو لازم پکڑنے میں پنہاں رکھا ہے۔سوال: 61 نبی کریمﷺ کے عہد میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو صرف ایک مرتبہ آپﷺ کے دیدار سے مشرف ہونے کے بعد اپنے آبائی وطن واپس چلے گئے تھے۔ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ انہوں نے زبان رسالت سے حضرت علیؓ ان کے سب بیٹوں اور پوتوں کی ولایت اور امامت کے سلسلہ میں کچھ نہیں سنا تھا۔ کیا ان کا اسلام ناقص کہلائے گا؟ اگر تم لوگ ہاں میں جواب دیتے ہو تو ہم یہ کہیں گے کہ اگر اس کی اتنی ہی اہمیت تھی تو نبی کریم اس بات کے بدرجہ اولی حقدار تھے ان لوگوں کے اسلام کی تصحیح کرتے اور انہیں امامت کے مسئلہ سے آگاہ کرتے مگر تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک مرتبہ بھی ایسا نہیں کیا کہ انہیں جمع کیا ہو اور عامۃ الناس کے سامنے امامت ولایت یا خلافت کا مسئلہ رکھا ہو۔
سوال: 62 شیعوں کے نزدک مقدس ترین کتاب نہج البلاغہ ہے جس کو شیعہ حضرات احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس میں مندرجہ ذیل عبارت موجود ہے۔
امام علی کا نامہ بنام امیر معاویہ۔
"بلا شبہ ان لوگوں نے مجھ سے بیعت خلافت کر لی ہے جنہوں نے حضرت ابوبکر و حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھم سے بیعت کی تھی اور من و عن انہی شروط پر بیعت کی ہے جن پر حضرات خلفاء راشدینؓ سے کی تھی ، لہٰذا جو شخص موجود ہے اسے اختیار کا حق نیں اور جو غائب ہے اسے روگردانی کا حق نہیں۔ جہاں تک مجلس شوریٰ کا تعلق ہے وہ مہاجرین و انصار دونوں پر مشتمل ہے اگر مہاجرین و انصار کسی ایک شخص پر اجماع کر کے اسے اپنا امام نامزد کر دیں تو اللہ کے لئے اس کی رضامندی کی دلیل ہے اگر کوئی شخص ان کی ذات پر لعن و طعن کرتے ہوئے یا بدعت کی راہ ایجاد کرتے ہوئے بغاوت کرتا ہے تو انصار و مہاجرین کو حق پہنچتا ہے کہ اسے راہ استقامت یا جاده حق پر واپسی کے لیے دعوت دیں اگر وہ اسے قبول کرتا ہے تو ٹھیک وگرنہ مؤمنین کے راستہ سے بغاوت کرنے کی وجہ سے اس سے اعلان جنگ کر دیں اور اے معاویہ اگر تم عقل و خرد سے کام لیتے ہوئے ہوائے نفس کو پس پشت ڈالتے ہوئے سوچو تو تم مجھے حضرت عثمان غنیؓ کے خون سے تمام لوگوں سے بڑھ کر بری پاؤ گے اور تمہیں یقینی طور پر اس بات کا علم ہو جائے گا کہ میں ان سے الگ تھلگ ہوں البتہ اگر تم مجھ پر ظلم وزیادتی کے درپے ہو جاؤ تو یہ اور بات ہے تمہیں جو سمجھ میں آئے وہ کرو! والسلام" (نهج البلاغہ: صفحہ 593)
مذکورہ عبارت میں ان باتوں کی دلیل ہے۔
1: امام کا انتخاب مہاجرین و انصار کی رائے شماری اور اجماع پر ہوا کرتا تھا اس کا شیعوں کے والے رکن اعظم کے دور کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
2: حضرت علیؓ کی اسی طریقہ پر بیعت خلافت ہوئی جس طریقہ پر حضرات خلفاء راشدینؓ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کی بیعت ہوئی تھی۔
3: مذکوره عبارت اس بات کی شہادت ہے کہ مجلس شوریٰ حضرات مهاجرین وانصار ہی سے عبارت تھی، یہی ان کی فضلیت ان کی علو مرتبت اور اللہ کے نزدیک مقرب ترین ہونے کی دلیل ہے۔
4: کسی امام پر مہاجرین وانصار کا اتفاق اللہ کی رضامندی اور خوشنودی پر تو ہے لہٰذا یہاں کسی کی حق تلفی یا بےجا دخل اندازی کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا جیسا کہ شیعہ حضرات کا دعویٰ ہے وگرنہ اللہ تعالیٰ اس پر کس طرح راضی ہو سکتا ہے؟
5: شیعہ حضرات امیر معاویہؓ پر لعن و طعن کرتے ہیں اور انہیں برا بھلا کہتے ہیں مگر ہم تو حضرت علیؓ کے ان خطوط تک میں سے کسی خط میں سیدنا امیر معاویہؓ کو لعن طعن کا اشارہ تک نہیں پاتے۔ اللہ تعالىٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ان سب سے راضی ہے اور اس نے ان کے دلوں میں موجود خلوص ایمان اور محبت رسول وغیرہ کو بھی جان لیا ہے اب شیعہ کے لیے یہ بات کس طرح لائق ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر سے کفر و انکار کریں اور اللہ تعالیٰ کے برخلاف دعویٰ کریں؟ گویا یہ کہہ رہے ہیں: اے پروردگار! ان کے بارے میں جو ہم جانتے ہیں وہ تو نہیں جانتا۔ العیاذ باللہ!
سوال: 63 ہم شیعہ حضرات کو دیکھتے ہیں کہ وہ کبار صحابہ کرامؓ کو گالی گلوچ کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی سعی کرتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں ہم ایک بھی اہل سنت کو نہیں دیکھتے ہیں کہ آل بیت میں سے کسی ایک کو بھی سب وشتم کرتا ہو؟ بلکہ وہ تو ان کی محبت کے باعث اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا شیعہ حضرات انكلين كيسک خواهم دروغ گوئی انکار نہیں کر سکتے خواہ وہ دروغ گوئی کی بھی کوشش کریں۔
سوال: 64 شیعہ کتب کے مطابق اللہ نے شہادتِ حسینؓ کے متعلق فرمایا ہے
لَـقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا ۞ (سورة الفتح آيت 18)
ترجمہ: یقیناً اللہ ان مومنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا۔ اس لیے اس نے ان پر سکینت اتار دی اور ان کو انعام میں ایک قریبی فتح عطا فرما دی۔ "
سوال: 65 شیعہ حضرات اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنھم نے نبی کریم ﷺ سے درخت کے نیچے بیعت کی جس کو بیعت رضوان کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اپنی رضا و خوشنودی کا اعلان فرما دیا اور ان کے دلوں میں صدق و صفا کے جو جذبات تھے اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی اپنی واقفیت کا اظہار کر ديا (الفتح: 18)
ہمارا سوال ہے کہ شیعہ حضرات کس بنیاد پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ بھیجی ہوئے اس حقیقت کا انکار کرتے ہیں اور بزعم خود اس حقیقت کے خلاف اعتقاد رکھتے ہیں؟ گویا زبان حال سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اے رب کریم اس حقیقت سے تو واقف نہیں ہے جسے ہم جانتے ہیں العیاذ باللہ!
سوال: 66 شیعہ حضرات کی مقدس کتابیں اس بات کی شہادت دینے کے لئے کافی ہیں کہ وہ اپنے اعتقاد کے مطابق صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہہ کر اللہ سے تقرب اور اس کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں صحابہ کرامؓ میں سے خلفاء ثلاثہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنھم کو وہ لوگ لعن و طعن کا نشانہ بناتے ہیں سنیوں میں سے کسی ایک سنی کے بارے میں بھی یہ بات ہمارے گوشہ ذہن میں نہ ہوگی کہ وہ آل بیت رسولﷺ کو گالی گلوچ کرنے کی جرأت کرے گا واللہ یہ بڑی جرأت کی بات ہے بلکہ اہل سنت والجماعت کا ہر ہر فرد اہل بیت سے محبت و موالاۃ کا اظہار کر کے عند اللہ تقرب کا خواہاں ہوتا ہے۔ اس حقیت کا شیعہ حضرات انکار نہیں کر سکتے اور تقیہ میں بھی اس بات کو وہ جھٹلا نہیں سکتے کیوں کہ یہ بات اظهر من الشمس ہے۔
سوال: 67 شیعہ حضرات اپنی کتابوں میں حضرت حسینؓ کے شہادت کے بارے میں بارہا یہ بات دہراتے ہیں کہ حضرت حسینؓ معرکہ کربلا میں پانی کے ایک ایک قطرے کو ترس گئے اور اسی پیاس کی حالت میں جام شہادت نوش فرمایا۔ اسی لئے ہم جگہ جگہ شیعوں کی وقف کرده سبیل میاہ پر یہ عبارت لکھی ہوئی دیکھتے ہیں کہ پانی سیر ہو کر پیو اور حضرت حسینؓ کی پیاس کو ذہن نشیں رکھو۔
ہمارا سوال ہے کہ شیعوں کے اعتقاد کی بنیاد پر اگر ائمہ کرام علم غیب سے بہرہ ور تھے تو کیا حضرت حسینؓ معرکہ کربلاء کے درمیان پانی کی ضرورت کو اس سے قبل نہ جان سکے؟ اور ان کو اس بارے میں علم نہ ہو سکا کہ وہ پانی کے ایک ایک قطرہ کو ترس جائیں گے اور اس کی وجہ سے انہیں جامِ شہادت نوش کرنا پڑے گا، لہٰذا اس بحران کے تدارک کے لئے پانی اتنی مقدار میں جمع کر لیتے کہ دوران معرکہ وہ ان کی ضروریات کے لئے کافی ہوتا۔
دورانِ جنگ پانی مہیا کرنا بھی جنگ کے لئے اسباب اختیار کرنے کی قبیل سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمۡ۞ (سورۃ الانفال: آیت 60)
ترجمہ: تم ان سے مقابلہ کے لئے اپنی استطاعت بھر قوت تیار کر لو اور گھوڑوں کو تیار کرو تاکہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو خوف زدہ کر سکو۔
تو کیا جنگ کے دوران پانی کا انتظام کرنا جنگی حکمتِ عملی میں سے نہیں ہے اور کیا جنگ کے اسباب اختیار کرنے کے ضمن میں اس کا شمار نہیں ہوتا؟
سوال: 68 رسول اللہﷺ کے عہد میں دین اسلام کی تکمیل ہو گئی تھی۔ ارشاد باری تعالی ہے: اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (سورۃ المائدة: آیت 3)
آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا۔"
سوال: 69 شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم کا مقصود ہی ریاست اور ملک پر قبضہ کرنا تھا جس کے حصول میں انہوں نے دوسروں پر ظلم کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان خلفاء نے کسی مسلمان سے قتال کیا ہے؟ ان کی تو تمام جنگیں کفر کے خلاف تھیں۔ انہوں نے قیصر کے غرور کو خاک میں ملایا تھا کسریٰ کے شہروں کو زیرنگین بنایا تھا۔ اسلام کو مستحکم کیا تھا، اہل ایمان کو سر بلند بنایا تھا جب کہ ان کے مقابلے میں کفر اور اہل کفر ذلیل و رسوا ہوا تھا۔
حضرت عثمانؓ اس معاملے میں حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما سے پیچھے رہے ہیں کیونکہ ان کے دورِ خلافت میں بلوائیوں نے انہیں قتل کرنا چاہا لیکن اس کے باوجود انہوں نے مسلمانوں سے لڑائی کی اور نہ ہی اپنی خلافت و ریاست کو بچانے کے لیے کسی مسلمان کو قتل کیا۔ جب اس خلافت کو بھی ظلم سے تعبیر کیا جائے گا تو لازم ہے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت پر یہ الزام لگایا جائے کیونکہ اس دور میں بہر حال مسلمانوں کی آپس میں جنگیں ہوئی تھیں۔
سوال: 70 قادیانیوں نے اپنے نائب کے لیے نبوت کا دعویٰ کر کے کفر کا ارتقاب کیا ہے۔
لہٰذا سوال یہ ہے کہ ان قادیانیوں کے درمیان اور ان شیعہ کے درمیان کیا فرق ہے جو اپنے ائمہ کے لیے انبیاء کا بلکہ ان سے بھی زیادہ کا دعویٰ کرتے ہیں! کیا یہ کفریہ دعویٰ نہیں ہے؟ کیا وہ ہمارے سامنے اپنے ائمہ اور رسول کے درمیان چند جوہری فرق بیان کرنا پسند کریں گے؟ کیا رسول اللہﷺ دنیا میں اس لیے تشریف لائے تھے کہ آپﷺ ان ائمہ کی بشارت سنائیں جن کے اقوال آپﷺ کے اقوال کی مانند ہوں گے اور ان کے افعال آپﷺ کے مثل ہوں گے اور وہ آپﷺ ہی کی طرح معلوم ہوں گے؟
سوال: 71 رسول اللہﷺ کو کیونکر حجرہ عائشہؓ میں دفن کیا گیا؟ حالانکہ تم انہیں العیاذ باللہ کفر فسق اور نفاق سے متہم کرتے ہو؟ کیا یہی رسول اللہﷺ کی ان کے ساتھ محبت اور رضامندی کی واضح دلیل نہیں ہے؟
سوال: 72 ایک بات یہ بھی ہے کہ رسول اللہﷺ کو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کے درمیان کس طرح دفن کر دیا گیا حالانکہ وہ دونوں تمھاری نظر میں کافر ہیں؟ اور مسلمان کو کافروں کے درمیان دفن نہیں کیا جاتا، علاوہ ازیں نبی اکرمﷺ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی وفات کے بعد بھی تمھارے دعوے کے مطابق آپﷺ کی کافروں کی ہمسائیگی سے حفاظت نہیں فرمائی۔
سوال: 73 ہم سب کو بخوبی علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قصۂ افک کے بارے میں سیدہ عائشہؓ کی برأت کا حکم اپنی کتاب قرآن کریم میں نازل فرمایا ہے انہیں تہمت سے مبرا قرار دے کر رہتی دنیا تک آپ کی عزت و ناموس کو دوام بخش دیا ہے۔ اس کے باوجود بعض غالى قسم کے شیعہ اب بھی سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو اس تہمت سے متہم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں انہیں مبرا قرار دیا ہے اور ان کو شیعہ خیانت سے متصف کرتے ہیں۔ تفسیر قمی جلد 2 صفحہ 377 البرهان للبحراني جلد 4 صفحہ 358) سیدہ عائشہؓ پر بہتان باندهنا دراصل رسول اللہﷺ کی ناموس پر حملہ ہے بلکہ اس جرأت سے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی زد پڑتی ہے۔ کیا وہ اپنے نبیﷺ کو اس بات کی خبر نہ دیتا کہ ان کی شریک حیات نعوذ باللہ خائنہ ہے؟ حاشا وکلا ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ نبی کریمﷺ کی بیوی خائنہ ہو یہ شیعوں کا اسلام اور مسلمانوں کو داغدار کرنے کا محض پروپیگنڈہ ہے۔ کیسا ہی بدترین مذہب ہے جو زوجات رسول اللہﷺ کی عزت و عصمت کو داغدار کرنے کی پلاننگ کرتا ہے اور امهات المؤمنینؓ کی ناموس کو اپنے ناپاک اغراض و مقاصد کی خاطر آلودہ کرنے کی تگ و دو کرتا ہو۔
شیعہ حضرات کا اعتقاد ہے کہ سیدنا علیؓ اور ان کے دونوں صاحبزادی مشکل کشا ہیں جو مصائب و آلام کے وقت ان کے کام آتے ہیں۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر وہ مشکل کشا ہیں تو اپنی زندگی میں جب ان لوگوں کو مصائب اور مشکلات کا سامنا پڑا تھا اس وقت ان لوگوں نے خود اپنی مشکل کشائی کیوں نہیں کی؟ تاریخ گواہ ہے کہ سیدنا علیؓ کے دور خلافت میں امن وامان نہ ہو سکا اور ان کا عہد خلافت خانہ جنگی کی نذر ہو گیا۔ اسکے نتیجہ میں آپ کو جام شہادت بھی نوش فرمانا پڑا۔ حضرت حسنؓ کو بھی سیدنا امیر معاویہؓ کیلئے خلافت سے مجبوراً دستبردار ہونا پڑا۔ بلکہ حضرت حسینؓ کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کے نتیجے میں آپ کی شہادت کا جانکا واقعہ پیش آیا، اسکے باوجود انکا مشن پورا نہیں ہو سکا۔ حتیٰ کہ انکے بعد بھی خانہ جنگی کا تسلسل قائم رہا ۔
ہمارا یہ سوال ہے کہ مذکورہ مشکلات اور مصائب کے وقت ان اصحاب کے خارق عادت کارنامے کہاں گئے؟ اور انہوں نے اس پر مصائب مواقع پر اپنی خارق عادت چیزوں کو خود اپنی مشکل کشائی کیلئے پیش کیوں نہیں کیا؟
سوال: 74 شیعہ حضرات کا خیال ہےکہ حضرت علیؓ کے فضائل شیعوں کی روایت کے مطابق حد تواتر کو پہنچے ہوئے ہیں اور ان کی خلافت اور امامت کی نص بھی متواتر ہے۔ یہاں یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ وہ شیعہ رواۃ جو صحابہ کرامؓ کے دور کے نہیں ہیں اور انہوں نے نہ نبی کریمﷺ کا دیدار ہی کیا ہے اور نہ ہی نبی کریمﷺ سے براہ راست سماعت کی ہے آپ سے ان کا حدیث بیان کرنا مرسل کے حکم میں ہے اور اگر انہوں نے صحابی کی طرف نسبت کے بغیر اس حدیث کی روایت کی ہے تو وہ حدیث منقطع ہے۔ اس حدیث کو حدیث صحیح نہیں کہا جا سکتا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صحابہ کرامؓ سے راہ و رسم رکھنے والے شیعہ رواۃ کی تعداد دس سے زیادہ نہیں۔ علاوہ ازیں ان دس کے دس شیعہ کا صحابہ کرامؓ سے تواتر کے ساتھ روایت کرنا ثابت بھی نہیں ہے! تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ جمہور صحابہ کرامؓ جن سے شیعہ حضرات نے سیدنا علیؓ کے فضائل نقل کئے ہیں، ان پر شیعہ حضرات قدغن لگاتے ہیں اور ان کو کافر قرار دیتے ہیں۔
شیعہ حضرات ان جمہور صحابہ کرامؓ کے بارے میں، جن کی قرآن کریم نے مدح سرائی کی ہے، حد سے زیادہ تجاوز کرنے اور ان پر بہتان بازی اور الزام تراشی کرنے، ان کو کتمان حق کے کا مجرم قرار دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ لہٰذا شیعہ رواۃ کے اس قلیل گروہ جس پر جھوٹ کا الزام لگانا زیادہ آسان اور زیادہ مناسب ہے۔
سوال: 75 شیعہ حضرات کا دعویٰ ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنھم کا مقصد حصول تخت و تاج کے لیے تھا ان لوگوں نے دوسروں پر ظلم وزیادتی کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان لوگوں نے کبھی بھی حکومت اور ولایت کے لئے کسی مسلمان سے جنگ وجدال نہیں کیا بلکہ جن سے جنگ و جدال کیا وہ یا تو مرتدین تھے یا کفار و مشركين!
سوال: 76 شیعوں کا دعویٰ ہے کہ سیدنا علیؓ کی امامت منصوص علیہ ہے اور ان کے منصب خلافت کے استحقاق کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے لیکن صحابہ کرامؓ نے اس پر پردہ ڈال کر اسے چھپا دیا۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ دعوی سراسر باطل ہے کیونکہ صحابہ کرامؓ نے ان احادیث تک کا کتمان نہیں کیا ہے جن سے شیعہ حضرات سیدنا علیؓ کی امامت انتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسى کہ تمہاری حیثیت میرے نزدیک ایسی ہے جیسے حضرت ہارون کی موسیٰ کے نزدیک اس کے علاوہ اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں ہمارا سوال ہے کہ جب صحابہ کرامؓ نے اس قسم کی احادیث کا کتمان نہیں کیا تو یہ بات کیسے باور کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے قرآن کریم میں اس قسم کی آیات کا کتمان کیا ہے؟
سوال: 77 رسول اللہﷺ کے بعد سیدنا اصدیق اکبرؓ خلیفۂ حق ہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ نے بالا تفاق آپؓ کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے، آپ کے حکم کو بجالانے اور آپ کی مخالفت سے اجتناب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اگر سیدنا ابوبکر صدیقؓ خلافت کے مستحق نہ ہوتے تو یہ لوگ آپ کو قطعاً خلافت کے منصب پر فائز نہ کرتے اور ایک لمحہ کے لئے بھی آپ کو خلافت کرنے نہ دیتے اور نہ ہی آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے کیونکہ یہ لوگ تقوی و پرہیز گاری زہد و ورع دین و ایمان میں اپنی مثال آپ تھے ان کو اللہ کے بارے میں لعنت ملامت کرنے والے کی کچھ بھی پرواہ نہیں تھی لہٰذا ان لوگوں کا بالاجماع حضرت ابوبکر صدیقؓ کو خلیفہ منتخب کرنا اس بات کی بین دلیل ہے کہ آپ برحق خلیفہ ہیں۔
2: حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے دوران خلافت نہ تو ان کی مخالفت کی نہ ہی ان سے جنگ و جدال کیا اور نہ ہی ان کے خلاف صف آرائی کے لئے کبھی کمربستہ ہونے کی کوشش کی حضرت علیؓ کے اس مؤقف سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یا آپ نے حضرت ابوبکرؓ سے جنگ و جدال کا معاملہ محض فتنہ و فساد کے ڈر سے ترک کر دیا۔
یا آپ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سامنے بے بس ولا چار تھے۔
یا آپ کو علم تھا کہ حق حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ ہے۔
یہ بات تو ناممکن ہے کہ سیدنا علیؓ نے ان کی مخالفت محض اس لئے ترک کی کہ انہیں فتنہ وفساد اور خانہ جنگی کا خطرہ تھا کیونکہ جب ان کی امیر معاویہ سے جنگ ہوئی تو صحابہ کرامؓ کی ایک بہت بڑی تعداد اس جنگ کی نذر ہو گئی، یہ حضرت علیؓ ہی تھے جنہوں نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنھما سے جنگ کی حتیٰ کہ حضرت عائشہؓ سے بھی اس بنیاد پر جنگ ہوئی کہ آپ کو یقین تھا میں حق پر ہوں۔ یہ بات بھی ناممکن ہے کہ آپ حضرت ابوبکر کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے اور عاجز محض تھے کیونکہ جن لوگوں نے امیر معاویہؓ کے زمانے میں آپ کی مدد کی تھی وہ تمام کے تمام سقیفہ کے موقع پر حضرت ابوبکر کو خلیفہ منتخب کرنے کے دن اور شوریٰ کی مجلس کے دن سب کے سب حالتِ ایمان پر قائم تھے اگر ان کو اس بات کا علم ہوتا کہ حضرت علىؓ حق پر ہیں تو وہ سارے کے سارے صحابہؓ حضرت ابوبکرؓ کے خلاف حضرت علیؓ کی مدد کرتے کیونکہ سیدنا امیر معاویہؓ کے مقابلہ میں حضرت ابوبکرؓ سے جنگ وجدال کرنا آسان تھا۔ یہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت علیؓ کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ حق حضرت ابوبکرؓ ہی کے ساتھ ہے اور حضرت ابوبکرؓ کی موجودگی میں خلافت و امامت کا کسی کو حق نہیں پہنچتا۔
سوال: 78 شیعوں کا دعویٰ ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ کافر اور مرتد تھے۔ اس دعویٰ کی بنیاد پر حضرت علیؓ اور ان کے صاحبزادے حضرت حسنؓ کی ذات بھی اس دعویٰ کی زد میں آتی ہے۔ کیونکہ شیعوں کے اس دعویٰ کی بنیاد پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ بھی مرتدین سے مغلوب ہو گئے تھے اور حضرت حسنؓ نے مرتدین سے عاجز آ کر زمام حکومت انہیں کو سونپ دی تھی۔
جبکہ تاریخی صفحات شاہد ہیں کہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے عہد خلافت میں مرتدین سے باقاعدہ جنگ لڑی اور ان کی سرکوبی کر کے انہیں حق کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ کفار کے مقابلہ میں حضرت خالدؓ کے لئے اللہ کی جو مدد آئی، اس میں حضرت خالدؓ، حضرت علیؓ سے زیادہ خوش نصیب محسوس نہیں ہوتے ہیں؟ کیونکہ انہیں مرتدوں پر فتح نصیب ہوئی تھی شیعہ کے مطابق حضرت علیؓ کی مرتدین مراد حضرت امیر معاویہؓ سے جو جنگ ہوئی اس میں حضرت علیؓ عاجز اور بے بس نظر آئے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف سے کام لینے والا ہے اور اس نے حضرت خالدؓ اور حضرت علی میں سے کسی پر بھی ظلم نہیں کیا ہے۔ لہذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت خالدؓ کیوں کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حضرت علیؓ سے افضل قرار پاتے ہیں؟ بلکہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ بنی امیہ کی فوجوں نے کفار کے لشکروں کے لشکر کاٹ ڈالے اور ان کو فتح و نصرت حاصل ہوئی جب کہ حضرت علیؓ اپنے مد مقابل مرتدین کے مقابلے میں عاجز و بے بس رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَلَا تَهِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 39)
ترجمہ: (مسلمانو) تم نہ تو کمزور پڑو، اور نہ غمگین رہو، اگر تم واقعی مومن رہو تو تم ہی سربلند ہو گے۔
دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَلَا تَهِنُوۡا وَتَدۡعُوۡۤا اِلَى السَّلۡمِ وَاَنۡـتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ وَاللّٰهُ مَعَكُمۡ وَلَنۡ يَّتِـرَكُمۡ اَعۡمَالَـكُمۡ ۞ (سورۃ محمد آیت 35)
ترجمہ: لہٰذا (اے مسلمانو) تم کمزور پڑ کر صلح کی دعوت نہ دو۔ تم ہی سربلند رہو گے، اللہ تمہارے ساتھ ہے، اور وہ تمہارے اعمال کو ہرگز برباد نہیں کرے گا۔
بالآخر جب حضرت علیؓ، حضرت امیر معاویہؓ کو ان کے ارادے سے باز رکھنے یا اپنے ملک سے باہر نکال بھگانے میں ناکامی اور بے بسی کا شکار ہو گئے تو انہوں نے ان سے صلح کی پیش کش کی اور ان سے اس بات کا مطالبہ کیا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہے گا اور اپنے دائرے میں کام کرتا رہے گا۔ یہاں اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیعہ حضرات کے مطابق اگر حضرت علیؓ کے رفقاء مؤمن تھے اور امیر معاویہؓ کے ساتھی مرتد تھے تو اس کا حتمی نتیجہ یہ نکلتا ہے حضرت علیؓ کے اصحاب ہی غالب اور فتح یاب ہوئے ہوں اور ان کے مدمقابل لوگ ناکام و نامراد ہوئے ہوں جبکہ ایسا نہیں ہے۔
سوال: 79 اگر ہم تعصب کی عینک اتار کر حقیقت کے آئینہ میں شیعہ حضرات کے عقائد کا مطالعہ کریں تو ہمیں اس بات کا بخوبی علم ہو جائے گا کہ شیعہ حضرات کے بس کی بات نہیں کہ وہ حضرت علیؓ کے ایمان و عدل کو ثابت کر سکیں جب ان کو خوارج وغیرہ کہتے ہیں کہ علی مؤمن نہیں بلکہ کافر اور ظالم تھے اس وقت تشیع کو اہل سنت بننا پڑتا ہے کیونکہ جو روایات سیدنا علیؓ کے ایمان پر شاہد ہیں انہی سے سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما کا ایمان ثابت ہوتا ہے۔ اگر شیعہ ان احادیث سے استدلال کریں جو حضرت علیؓ کے اسلام، ہجرت اور جہاد کے بارے میں حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں تو بالکل وہی احادیث خلفاء ثلاثہؓ کے ایمان ہجرت اور جہاد پر تواتر کے ساتھ دلالت کرتی ہیں بلکہ حضرت امیر معاویہؓ اور بنی امیه و بنی عباس کے خلفاء اسلام نماز روزے اور جہاد پر دلالت کرتی ہیں۔ اگر شیعہ خلفاء ثلاثہؓ میں سے کسی ایک کے بارے میں منافق ہونے کا دعویٰ کریں تو خارجی شخص کے لئے بھی اس بات کا پورا امکان ہے کہ وہ حضرت علیؓ کو منافقین کی صف میں شمار کرے۔ اس وقت اے شیعہ حضرات! تمہارا کیا جواب ہو گا تم کہاں سے اپنے عقیدہ کی صفائی پیش کرو گے؟ اور اگر شیعہ حضرات خلفاء ثلاثہؓ کے بارے میں کوئی شبہ یا شوشہ چھوڑتے ہیں تو خوارج کے پاس بھی بے شمار ایسے شبہات ہیں جو شیعہ حضرات کے شبہات سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہیں؟ اور اگر شیعہ حضرات اس دروغ کا سہارا لیں کہ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ دونوں ہی منافق اور نبی کریمﷺ کے دشمن تھے، اور ان دونوں نے نبی کریمﷺ کے دین کو حسب امکان بگاڑ ڈالا ہے تو خارجی کے لئے بھی اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ بھی حضرت علیؓ کے بارے میں یہی بات کہے کہ حضرت علیؓ اپنے چچازاد بھائی سے عداوت اور حسد رکھتے تھے کیونکہ زیادہ تر خاندانی لوگوں سے ہی عداوت اور حسد ہوا کرتا ہے گویا حضرت علیؓ دین اسلام کا قلع قمع کر دینا چاہتے تھے مگر نبی کریمﷺ کی زندگی میں ان کی ایک نہ چل پائی اور خلفائے ثلاثہؓ کے دور میں بھی ان کا بس نہ چل سکا اور جب وہ مجبور ہو گئے تو انہوں نے خلیفہ ثالث کے قتل کی سازش کی اور ان کو قتل کر کے فتنہ و فساد کی آگ بھڑ کا دی، گویا انہوں نے نبی کریمﷺ کے صحابہ اور امت محمدیہﷺ کی ایک بہت بڑی تعداد میں محض اپنے بغض و عدوات کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے قتل و غارت گری کے بازار کو گرم کر دیا۔ حضرت علیؓ منافقین کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے جو آپ کے بارے میں الوبيت اور نبوت کے دعوے رکھتے تھے اور آپ کے دل میں کچھ اور ہوتا تھا اور اظہار کچھ اور کرتے تھے گویا کہ آپ تقیہ پر عمل کرتے تھے اسی لئے باطنی لوگ آپ کے متبع اور پیروکار ہیں اور آپ کے محرم راز ہیں جو آپ سے باطنی قصے اور کہانیاں گھڑتے ہیں آپ کی طرف نسبت رکھنے کے جھوٹے دعویدار ہیں۔ اگر شیعہ حضرات حضرت علیؓ کے ایمان اور ان کی عدالت کو نص قرآنی سے ثابت کرنا چاہیں تو ان سے کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کا خطاب عام ہے اگر وہ حضرت علیؓ کو شامل ہو تو وہ ان کے علاوہ دوسروں کو آپ سے بڑھ کر شامل ہوتا ہے اور اگر حضرت علیؓ کے ایمان اور ان کی عدالت کا اس سے ثبوت فراہم ہوتا ہے تو اس سے کہیں زیادہ دوسرے لوگوں کے ایمان اور عدالت کے ثبوت اس میں موجود ہیں۔ قرآن کریم کی کسی بھی آیت کے شیعہ حضرات اکثر حضرت علیؓ کے ساتھ مخصوص ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس بات کا بھی پورا امکان موجود ہے کہ اسی آیت کو حضرات صحابہ کرامؓ یا اس جیسی دوسری آیت کو شیخین کے ساتھ مخصوص ہونے کا دعویٰ کیا جائے اور حضرات شیخین باری میں دعویٰ کسی تیسرے کے مقابلے میں زیادہ ممکن ہے۔ لہٰذا شیعوں کا دعوی ہی بے بنیاد ہے اور حضرات شیخین کے بارے میں اگر یہی دعویٰ کیا جائے تو قرین قیاس ہے اور اس کا امکان قوی ہے۔ اگر شیعہ حضرات یہ کہیں کہ اس کا ثبوت نقل روایت سے فراہم ہوتا ہے۔ ہمارا جواب یہ ہے کہ عقلی و نقلی روایات و آثار ان حضرات ثلاثہ کے بارے میں کہیں زیادہ بھی ہیں اور مشہور و معروف بھی ہیں اور اگر شیعہ اس بات کا دعویٰ کریں کہ یہ تواتر کے ساتھ منقول ہے تو ہم کہیں گے کہ حضرات ثلاثہ کے بارے میں تواتر مستند اور صحیح ترین روایات سے منقول ہے اور اگر شیعہ حضرات آثار صحابہ کرامؓ کو بنیاد بناتے ہیں تو حضرات ثلاثہ کے مناقب و فضائل کے بارے میں آثار صحابہ کی بہتات ہے جن کا شمار کرنا مشکل ہے۔
سوال: 80 شیعہ کا خیال ہے کہ حضرت علیؓ ہی سب سے زیادہ امامت کے حق دار تھے کیونکہ حضرت علیؓ کے فضائل اور مناقب باقی صحابہ کرامؓ سے کہیں زیادہ ہیں۔ تب ہم یہ کہیں گے کہ حضرت علیؓ کے مناقب و فضائل معلوم ہیں مثلاً اسلام میں سبقت لے جانا اور رسول اللہﷺ کے ساتھ جہاد کرنا اور علم وفضل اور زہد ورع ساتھ ہی ان کے علاوہ حسن و حسين، سعد بن ابی وقاص، عبد الرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن عمر اور ان کے علاوہ دوسرے مہاجرین و انصار کے فضائل بھی موجود ہیں۔
شیعہ نے علی الاعلان دروغ گوئی کے ذریعہ حضرت علیؓ کی خلافت ثابت کرنے کو درست سمجھا ہے تو ان لوگوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ حضرت امیر معاویہؓ کے لئے خلافت کی افضلیت کا ثبوت پیش کریں خواہ وہ دروغ گوئی اور تہمت ترازی کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو؟ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا ۞ (سورۃ الاسراء: آیت 33)
ترجمہ: اور جو شخص مظلومانہ طور پر قتل ہو جائے تو ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔ چنانچہ اس پر لازم ہے کہ وہ قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یقیناً وہ اس لائق ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔
اس آیت کی رو سے حضرت امیر معاویہؓ کے ساتھی یہ کہیں گے کہ حضرت عثمان بن عفانؓ مظلومِ زمانہ ہیں اور حضرت عثمان غنیؓ کا خون بہا لینے میں اللہ تعالیٰ نے امیر معاویہؓ کی نصرت و مدد کی ہے۔
سوال: 171 شیعوں کے مشہور عقائد میں سے عقیدہ طینة ہوچکا ہے! اس عقیدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شیعہ کو خاص مٹی سے پیدا کیا ہے اور اہل سنت والجماعت کو دوسری خاص مٹی سے پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص انداز سے دونوں مٹیوں کو ملا کر خلط ملط کردیا، لہٰذا اگر شیعوں میں کسی قسم کے معاصی و جرائم ہیں تو یہ سنی کی مٹی سے متاثر ہونے کی وجہ سے ہیں اور اہل سنت والجماعت میں جو بھی نیکی اور امانت داری ہے تو وہ شیعہ کی مٹی سے متاثر ہونے کی وجہ سے ہے، چنانچہ قیامت کے دن شیعوں کی نافرمانیاں اور ان کے کبائر و صغائر ذنوب اکٹھے کیے جائیں گے اور ان کو سنیوں کے اوپر لاد دیا جائے گا اور اہل سنت والجماعت کی نیکیاں اور ان کے اچھے اعمال جمع کئے جائیں گے اور وہ شیعہ کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے۔
شیعوں کے ذہن سے یہ بات محو ہو گئی کہ ان کے اس ایجاد کردہ عقیدہ کا ری ایکشن یہ ہے کہ یہ عقیدہ قضاء و قدر اور افعال عباد کے بارے میں ان کے مذہب کے عین منافی ہے کیونکہ اس عقیدہ کا تقاضہ یہ ہے کہ بندہ اپنے افعال کے اعتبار سے مجبور محض ہے اس کو کسی چیز کا اختیار نہیں ہے کیونکہ اس کے افعال کا تعلق اس مٹی سے ہے جس سے اس کی تخلیق ہوئی ہے جبکہ شیعوں کا مذہبی عقیدہ یہ ہے کہ بندہ اپنے فعل کا بذات خود خالق ہے جیسا کہ معتزلہ کا مذہب ہے۔
سوال: 172 علمائے شیعہ اثناء عشریہ اکثر وبیشتر حضرت علیؓ بن ابی طالب سے انصارِ صحابہؓ کی محبت اور تعلق قلبی کا بڑے جوش وخروش کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ وہ جنگ صفین کے موقع پر آپؓ (حضرت علیؓ) کی فوج میں شامل تھے مگر سوال یہ ہے کہ انصار نے حضرت علیؓ کو پہلا خلیفہ منتخب کیوں نہیں کیا اور خلافت حضرت ابوبکرؓ کے بجائے حضرت علیؓ کے ہاتھ میں کیوں نہ دی؟ آپ اس کا شافی و کافی اور تسلی بخش جواب ان کے پاس ہرگز نہ پائیں گے۔
جب ہم شیعوں کی ان کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہیں جو انصار صحابہ کرامؓ کی تعریف اور مدح سرائی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں جنہوں نے حضرت علیؓ کے شانہ بشانہ موقعہ صفین میں ساتھ دیا تھا بالکل یہی کتابیں حادثہ سقیفہ بنی ساعدہ کے بعد انہی صحابہ کرامؓ کو ارتداد اور انقلاب علی الاعقاب سے متصف کرتی دکھائی دیتی ہیں!
شیعوں کے نزدیک اصحابِ رسولﷺ کے لیے میزان نقد عجیب و غریب ہے۔ اگر صحابہ کرامؓ حضرت علیؓ کے مؤقف کی حمایت میں ہیں تو خیر الناس ہیں اور اگر کہیں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو حضرت علیؓ کے مؤقف کے خلاف ہیں یا انہوں نے اس نظریہ کے خلاف اپنی رائے پیش کی جو حضرت علیؓ کا نقطۂ نظر تھا۔ وہ بزعم شیعہ مرتد، مطلب پرست اور دو رخے ہیں۔
اگر شیعہ یہ کہیں کہ ہم نے اس گروپ کے صحابہ کرامؓ پر اس لئے ارتداد اور اسلام سے روگردانی کا حکم لگایا ہے کہ انہوں نے اس نص صریح کا انکار کیا ہے جو حضرت علیؓ کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہے، تب اس قسم کے خیال والوں سے میرا کہنا یہ ہے کہ کیا شیعہ اثناء عشریہ اس بات کا اقرار اور اعتراف نہیں کرتے کہ حدیث غدیر خم متواتر ہے اور سینکڑوں صحابہ کرامؓ نے اس حدیث کی روایت کی ہے؟ کہاں ہے وہ انکار جس کا تم دعویٰ کر رہے ہو تو میں حضرت علیؓ کی شان میں وارد نص کا انکاری کیسے ہوا۔
اگر یہ کہا جائے کہ صحابہ کرامؓ کے اس گروپ نے اس نص کے معنیٰ کا انکار کیا ہے تو ان کے جواب میں کہا جائے گا کہ کون سی ایسی شخصیت ہے جس نے اس بات کا تمہارے لئے تزکیہ پیش کیا ہے کہ تم نے حضرت علیؓ کے بارے میں وارد حدیث میں جو رائے اختیار کی ہے وہی مبنی برحق ہے؟ کیا تم اصحابؓ رسولﷺ سے زیادہ حدیث کی غرض وغایت اور اس کے مفہوم و مدعا کا ادراک رکھنے والے ہو۔ وہ اس روحانی اور نورانی مال کے پروردہ ہیں جس میں انہوں نے بنفس نفیس درس حدیث کو اپنے کانوں سے سنا ہے۔ کیا تم صحابہ کرامؓ سے زیادہ عربی زبان میں دسترس اور عبور رکھنے والے ہو۔ جس کی بنیاد پر تم فہم و ادراک کے اس مقام پر پہنچ گئے ہو جہاں تک (العیاذ باللہ) صحابہ کرامؓ کی بھی رسائی نہ ہوسکی۔
(ثم ابصرت الحقیقة، محمد سالم الخضر: صفحہ 291، 292)
سوال: 173 ہمارے سامنے دو فریق ہیں ایک فریق تو وہ ہے جو کتاب اللہ میں تحریف و تبدیلی کے وقوع پذیر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، ان میں سرفہرست نوری طبرسی کا نام آتا ہے جو کتاب المستدرک کا مؤلف ہے اس کتاب کو شیعوں کے نزدیک حدیث کی آٹھ اصولی کتابوں میں سے ایک گردانا جاتا ہے نوری طبرسی نے اس سلسلہ میں فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب کے نام سے کتاب تصنیف کی ہے اس میں قرآن اور اس میں تحریف کے واقع ہونے کے بارے میں بیان کرتا ہے اس کی عبارت یہ ہے!
"قرآن کریم کے اندر تحریف کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ قرآن کریم کے بعض فقرات میں تو فصاحت و بلاغت اپنی اوج کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور بعض میں انتہائی گھٹیا پن ہے!"
سید عدنان بحرانی کہہ رہا ہے کہ قرآن کے بارے میں اخبار و نقول کی اتنی کثرت ہے جس کا بیان نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کی تعداد تواتر سے بھی آگے پہنچ چکی ہے اور اس کے نقل کرنے میں نہ ہی کوئی خاطر خواہ فائدہ ہے کیونکہ تحریف و تغییر کے بارے میں فریقین کی بیان بازی عام ہو چکی ہے اور صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ کے نزدیک مسلمہ حقیقت ہے اور فرقہ محققہ کا اس پر اجماع بھی ہے اور چونکہ یہ ان کے مذہب کی ضروریات میں سے ہے لہذا اس کے بارے میں ان کی اخبار وآراء کی بھرمار ہے۔
(مشارق الشموس الدریۃ: صفحہ 126)
یوسف البحرانی یہ کہہ رہا ہے کہ اخبار وآثار میں جو دلالت صریحہ اور واضح ہے اسی کو ہم نے بطور دلیل اختیار کیا ہے وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہے یہ چیز ہر اس شخص پر واضح ہے جو ہمارے اختیار کو دیکھے گا تو اسے شفاف دین کی جھلک نمایاں ملے گی، اگر ان مشہور ومعروف اور کثیر تعداد منتشر اخبار کو ہدف طعن بنایا گیا تو پھر شریعت کے تمام اصول و قواعد کو ہدف طعن بنانا ممکن ہوگا، کیونکہ اصول سارے کے سارے ایک ہی ہوا کرتے ہیں یعنی طرق روایات اور مشائخ رواة ایک ہی ہیں اور میری عمر کی قسم قرآن میں عدم تغییر و تبدیل کے قول سے ائمہ کے بارے حسن ظن کو ٹھیس نہیں پہنچتی اور یہ بات بھی اپنی جگہ پر ثابت ہو جاتی ہے کہ دوسری ضمنی قسم کی امانتوں میں خیانتوں کے ظہور کے باوجود جو کہ دین اسلام کے لئے بہت ہی ضرر رساں ہیں، انہوں نے امامت کبریٰ میں کسی طریقہ کی خیانت نہیں کی ہے۔
(الدرالنجفيه: ليوسف البحراني: مؤسسة آل البيت لاحياء التراث: صفحہ 298)
اس فریق کا قرآن کریم میں طعن کا واضح ہدف یہی ہے کہ اس قرآن کریم میں تحریف کو زور وشور سے ثابت کر دیا جائے۔
دوسرا فریق شیعہ اثناء عشریہ کا ہے یہ لوگ صحابہؓ کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ انہوں نے حضرت علیؓ کے بجائے خلافت حضرت ابوبکرؓ کو سونپ دی تھی۔
پہلا گروپ جس نے کتاب اللہ پر طعن بازی کی ہے ان کی طرف سے علماء شیعہ اثناء عشریہ معذرت کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ اتنا کہتے ہیں کہ ان سے لغزش سرزد ہو گئی ہے گویا ان لوگوں نے اجتہاد کیا اور تاویل کرنے کی کوشش کی اور ضروری نہیں کہ ہم ان کے اجتہاد ورائے سے اتفاق کریں۔ ہم اہل سنت والجماعت کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کتاب اللہ کی حفاظت اور اسکی تحریف کا مسئلہ میدان اجتہاد کیسے بن گیا؟ اس مجرم کے قول میں کون سا اجتہادی نکتہ ہے؟ جس کا بیان ہے کہ قرآن کریم گھٹیا اور اس میں کم وزن آیات ہیں: اللہ کی قسم! یہ تو قیامت کبریٰ کے مترادف مصیبت ہے۔
تحریف کے قائلین علمائے شیعہ اثناء عشریہ کے نظریات ملاحظہ کریں:
سید علی میلانی اپنی کتاب عدم تحریف القرآن کے صفحہ 34 پر مرزا نوری طبرسی کی مدافعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ مرزا نوری طبرسی کا کبار محدثین میں شمار ہوتا ہے اور ہم ان کا احترام کرتے ہیں کیوں کہ وہ ہمارے اکابر علماء میں سے ایک ہیں ہم ذرہ برابر ان کے بارے میں گستاخی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس کا ہمارے لئے کسی صورت میں جواز پیدا ہوتا ہے مگر ان کا یہ مؤقف سراسر حرام ہے۔ بلاشبہ وہ ہمارے اکابر علماء میں محدث کبیر کہلاتے ہیں ذرا آپ شیعوں کی عبارت کے تضاد کو ملاحظہ فرمائیے۔ (ثم ابصرت الحقیقة: صفحہ 294)
ارشاد باری تعالی ہے:
اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِیَآءَ (سورۃ الاعراف: آیت 3)
ترجمہ: تم اس چیز کی اتباع کرو جو تمہارے رب کی جانب سے تمھاری طرف نازل کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سرپرستوں کی اتباع مت کرو۔
یہ آیت اللہ کے رسولﷺ کے سوا کسی دوسرے کی اتباع کے بطلان کے بارے میں نص صریح ہے لیکن شیعوں کے نزدیک امامت کا فرض ہونا ضروری امر ہے تاکہ امام اللہ تعالیٰ کی طرف سے وارد عہد و میثاق کے بندوں پر تنفیذ کا فریضہ انجام دیں۔ امام کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو دین کی ان چیزوں کی معرفت کروائیں جسے وہ چاہتے نہیں ہیں، جس دین کو نبی کریمﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علیؓ کو جب قرآن کریم کے ذریعہ فیصلہ کرنے کو کہا گیا اور انہیں اس بات کی خبر دی گئی کہ قرآن کریم حق ہے اگر علیؓ کا مؤقف درست ہے تو یہی ہمارا قول ہے اور اگر انہوں نے باطل کو قبول کیا ہے تو یہ آپ کی خوبی نہیں ہے۔ اگر قرآن کی تحکیم امام کی موجودگی میں جائز نہ ہوتی تو سیدنا علیؓ نے اسی وقت تردید کرتے ہوئے کہہ دیا ہوتا کہ تم قرآن کریم سے فیصلے کا کیسے مطالبہ کر رہے ہو جب کہ میں تو اللہ کے رسولﷺ کی طرف سے تبلیغ کی مہم جوئی کرنے والا امام موجود ہوں۔
اگر شیعہ یہ کہیں کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد ایک ایسے امام کی موجودگی ضروری ہے جو تبلیغ دین کا فریضہ انجام دے۔
اس کا جواب یہ ہو گا یہ قول باطل ہے اور یہ دعویٰ بلا دلیل ہے اور اس کی صحت کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ رسول اللہﷺ کا کلام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی ہے اور تمام اہل زمین تک پہنچایا جاچکا ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ وہ غیر مکلّف ہے اور اس کو پیغام رسالت نہیں پہنچ سکا ہے۔
اگر شیعہ حضرات یہ کہیں کہ جب تک یہ دنیا ہے اس وقت تک ہر زمانے میں ایک امام کی موجودگی ضروری ہے۔ تو یہ دعویٰ خود انکی زبانی باطل ہے کیونکہ دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو دور دراز علاقہ میں پائے جاتے ہیں اور زمین کے دوسرے کونے پر رہتے ہیں۔ ان کو امام کی بھنک تک نہیں لگی ہے وہ کیسے امام کی تعلیمات صادرہ سے مستفید ہوسکتے ہیں؟ کیونکہ اس کرۂ ارض پر باسی مشرق کے ہوں یا مغرب کے، فقیر ہوں یا ضعیف، عورت ہو یا مرد، مریض ہوں یا تندرست ان تمام کے تمام لوگوں کے لیے امام کا مشاہدہ کرنا ناممکن ہے! لہٰذا ان تک پیغامِ رسالت کی تبلیغ کی ضرورت ہے۔
یہاں یہ بات ثابت ہو گئی کہ امام کی جانب سے بھی تبلیغ ضروری ہے اور رسول اللہﷺ کی طرف سے تبلیغ کسی اور کی تبلیغ سے کہیں زیادہ موزوں اور افضل ہے یہ وہ جواب ہے جس سے وہ اپنا دامن کبھی بھی چھڑا نہیں سکتے۔ (الفصل فی الملل والنحل:جلد4،صفحہ 159 ،160)
سوال: 174 خود شیعہ حضرات کے نزدیک بعض ایسی صحیح اور مستند روایات ہیں جو ان راویوں کی مذمت کرتی ہیں جنہوں نے اس قسم کی بے سروپا روایات گھڑی ہیں، جنہیں ان کا نام لے کر انہیں بُرا بھلا کہا گیا ہے مگر شیعوں کے مشائخ نے ان راویوں کے بارے میں مذمت کو قبول نہیں کیا ہے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ انہوں نے ان کے بارے میں وارد مذمت کو اگر قبول کر لیا تو وہ اہل سنت کے زمرے میں شمار ہونے لگیں گے اور اپنے شذوذ سے دست بردار قرار پا جائیں گے لہٰذا شیعوں کے مشائخ نے اس مذمت کا سامنا کرنے کے لیے تقیہ کا سہارا لیا ہے مگر یہ اس اشکال کا کوئی جواب نہیں ہے نہ ہی ان روایات کی توجیہ ہے بس یہ تو امام کے قول کے رد کرنے کا ایک چور دروازہ ہے مذہب شیعہ میں امام کی نص کا منکر کافر ہے۔
مذمت کے بارے میں نقاب کشائی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ان کے بارے میں بہت سی قابل عیب باتیں منقول ہیں، جیسے کہ ان کے علاوہ بہت سے جلیل القدر انصار اہل بیت اور ان کے ثقہ اصحاب کے بارے میں قابل مذمت بیانات موجود ہیں اور اس مذمت کا عمومی جواب یہ ہے کہ اس کے لئے تقیہ کو بطور علت استعمال کرنے کا عام رواج ہے۔
(الامام الصادق تالیف: محمد الحسین المظفر، صفحہ:178)
مصنف لکھتا ہے کہ ان جیسے باعظمت لوگوں کو کیسے ہدف تنقید بنایا جاسکتا ہے کیوں کہ دین حق کا قیام اور اہلبیت کا مشن ان ہی کی دلائل سے غالب ہوا ہے، لہٰذا ان لوگوں کو کس بنیاد پر ہدف جرح وتعدیل بنایا جاسکتا ہے؟(نفس الموضع من المصدر السابق۔)
آپ ذرا اندازہ لگائیے کہ تقلید اہل تعصب کو کیسا اندھا بنا دیتا ہے؟ یہ لوگ ایک طرف لوگوں کی مدافعت کرتے ہیں جن کی ائمہ اہل بیت کی زبان سے مذمت صادر ہوئی ہے اور دوسری طرف یہ ان نصوص کی تردید بھی کرتے ہیں جو علمائے اہل بیت کی طرف سے ان پر طعن کی غرض سے ان سے ہوشیار رہنے کے بارے میں صادر ہوئی ہیں جن نصوص اور بیانات کو بذات خود کتب شیعہ نقل کرتی ہیں گویا وہ اپنے اس انداز سے اہل بیت کی تکذیب کرتی ہیں بلکہ ان عیاروں، مکاروں اور جھوٹوں نے جو کہا ہے اس کی تصدیق بھی کر رہے ہیں، یعنی ائمہ سے وارد ان کی مذمتوں اور برائیوں کو تقیہ پر محمول کرتے ہیں اور وہ اہل بیت کے ان اقوال کی اتباع نہیں کرتے ہیں جو اقوال امت کے علماء کے اقوال سے متفق ہوں بلکہ جو امت مسلمہ کے اعداء کے شانہ بشانہ چلنے اور ان کے اقوال و افعال کی پیروی میں ہوں، ان کو قبول کرتے ہیں جبکہ ائمہ کرام کے اقوال رد کرنے کے سلسلے میں تقیہ کا سہارا لیتے ہیں۔
سوال: 175 تواتر کے ساتھ ثابت ہے اور عوام وخواص میں سے کسی پر مخفی نہیں ہے کہ حضرت ابوبکرؓ و عمؓر و عثمانؓ کا نبی کریمﷺ سے بڑا عظیم اور خاص تعلق تھا اور تمام صحابہ کرامؓ میں سب سے زیادہ یہ لوگ نبی کریمﷺ کی صحبت اور قرب سے بہرور تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کا نبی کریمﷺ سے سسرالی رشتہ بھی تھا اور نبی کریمﷺ ان لوگوں سے بے پناہ محبت کرتے اور ان کی تعریف بھی کیا کرتے تھے۔ مذکورہ پیرایہ بیان سے دو ہی شکلیں اخذ کی جاسکتی ہیں: یا تو یہ لوگ نبی کریمﷺ کی زندگی اور آپﷺ کی موت کے بعد ظاہری اور باطنی طور پر راہ استقامت پر گامزن تھے یا یہ لوگ نبی کریمﷺ کی زندگی میں یا آپ کی موت کے بعد مذکورہ صورتحال کے برعکس راہ پرگامزن تھے۔ اگر یہ نبی کریمﷺ سے اتنا قریب ہونے کے باوجود استقامت کے علاوہ کسی صورتحال سے دو چار تھے، تب بھی دو صورتیں لازم آتی ہیں یا تو نبی کریمﷺ کو ان کے ذاتی حالات کا علم نہ تھا یا نبی کریمﷺ نے چشم پوشی اختیار کر رکھی تھی۔ ان دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو ان میں ہر ایک نبی کریمﷺ کی ذات کے لئے بڑی عظیم طعنہ زنی اور ہجو گوئی ہے کسی عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
فَاِنْ کُنْتَ لَا تَدْرِی فَتِلْكَ مُصِیْبَةٌ
وَاِنْ کُنْتَ تَدْرِی فَالْمُصِیْبَةُ اَعْظَمُ
"اگر تم صورتحال سے ناآشنا ہو تو یہ مصیبت ہے اور اگر آشنا ہو تو یہ مصیبت سے بڑھ کر مصیبت ہے۔"
اگر صحابہ کرامؓ استقامت کی راہ پر گامزن ہونے کے بعد انحراف کا شکار ہو گئے آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ دین کے منتخب اور چنیدہ لوگ مرتد ہو جائیں؟ ان الزامات کے ذریعہ شیعہ حضرات رسول اللہﷺ کی ذات کو داغ دار اور مجروح کرتے ہیں جیسا کہ امام ابو زرعہ الرازیؒ فرماتے ہیں:
اس طریقہ سے ان لوگوں نے نبی کریمﷺ کی ذات پر طعنہ زنی کی کوشش کی ہے تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ آپﷺ کی ذات بڑی بری تھی لہٰذا آپﷺ کے اصحابؓ برے تھے اگر آپﷺ نیک وصالح ہوتے تو آپﷺ کے صحابہ کرامؓ بھی نیک وصالح ہوتے(نعوذ باللہ من ھذا البھتان العظیم)۔
سوال: 176 سیدنا علیؓ کی بھی تکفیر و تفسیق بھی لازم آتی ہے، کیونکہ انہوں نے اللہ کے حکم آوری میں کوتاہی سے کام لیا ہے جس کی وجہ سے شریعت اسلامیہ کی بالادستی میں حرج پیدا ہوا اور ایک مدت تک شریعت اسلامیہ کا اسقاط لازم آیا بلکہ اس شریعت کو اس وقت تک باطل ٹھہرانا بھی لازم آتا ہے جب تک مرتد لوگ اس کو نقل کرتے رہے ہیں اور شیعوں کے اس الزام سے قرآن کے تقدس پر قدغن عائد ہوتی ہے کیونکہ قرآن کریم بھی تو ہم تک حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ وعثمانؓ اور ان جیسے جلیل القدر صحابہ کرامؓ کے واسطہ ہی سے پہنچا ہے یہی وہ خواب ہے جس کو شیعہ حضرات اپنے اس مقولہ سے شرمندہ تعبیر کرنے کے خواہش مند ہیں۔
سوال نمبر: 177 شیعوں کا کہنا ہے کہ امامت واجب اور ضروری امر ہے کیونکہ امام شرع اسلامی کی حفاظت و نگہداشت کرنے، مسلمانوں کو سیدھی راہ پر گامزن رکھنے اور احکامات اسلامیہ کمی وزیادتی سے حفاظت کے سلسلے میں نبی کریمﷺ کا نائب ہوتا ہے
(الشیعة فی التاریخ: صفحہ 44،45)
شیعوں کا کہنا ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے متعین امام کی تخت نشینی ضروری ہے کیونکہ اس عالم رنگ و بو کی ضرورت کا تقاضہ ہی یہی ہے کہ اس میں کسی قسم کا بگاڑ وفساد نہیں ہے لہٰذا امام کی تاج پوشی ضروری امر ہے۔(منھاج الکرامة : صفحہ73،72)
شیعوں کا یہ بھی کہنا ہے امامت کو اس لئے واجب قرار دیا گیا ہے کیونکہ لطف و عنایت کا مقام ہے اور واقعی یہ لطف و عنایت ہے کیونکہ اگر لوگوں کا کوئی قابلِ اطاعت ناصح و مربی قائد ہو گا تو وہ ظالم کو اس کے ظلم و زیادتی کے رویہ سے باز رکھنے کی کوشش کرے گا اور ان کو خیر کے کاموں کی رہنمائی کرے گا اور برائی و معصیت سے دور رہنے کی تلقین کرے گا لوگ نیکی اور اچھائی کے گرویدہ ہونے لگیں گے اور فتنہ و فساد سے دور تر ہوتے چلے جائیں گے تو یہی لطف و عنایت ہو گا۔(اعیان الشیعة جلد 1، 2 صفحہ 6)
شیعہ حضرات سے یہ کہا جائے گا کہ سیدنا علیؓ کے علاوہ تمہارے بارہ کے بارہ اماموں میں سے کسی کی بھی کسی منصب تک رسائی نہ ہوسکی، نہ تو ان کو دنیاوی امور میں کوئی سربراہی نصیب ہوئی اور نہ ہی دینی امور میں کسی کلیدی عہدے کی ذمہ داری ان کے ہاتھ آئی اور نہ ہی وہ ظالم کو اس کے ظلم سے روک سکے نہ ہی لوگوں کو خیر کے کاموں کی طرف موڑ سکے۔ آخر تم لوگ خوامخواہ کیوں خیالی دعوے کرتے ہو جو واقعاتی زندگی میں کبھی درپیش نہیں آئے اگر تم ذرا غور و خوض سے کام لو تو تمہاری سمجھ میں آ جائے کہ اس دعوے سے ائمہ کی امامت کا بطلان لازم آتا ہے اور مذکورہ قول ہی ان کی امامت کی نقیض ہے کیونکہ تمہارے قول کے مطابق انہیں اس مرتبے کا کبھی حصول نہ ہوسکا جس کا تم دعویٰ کرتے ہو۔
سوال: 178 نہج البلاغة میں ہے کہ: حضرت علیؓ اللہ کی بارگاہ میں اس دعا کے ذریعے مناجات کیا کرتے تھے:
اللّھُمَّ اغْفِرْلِی مَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّی فَاِنْ عُدْتُّ فَعُدْ عَلَیِّ الْمَغْفِرَةَ اللّھُمَّ اغْفِرْلِی مَا اَوَیْتُ مِنْ نَّفْسِی وَلَمْ تَجِد لَهُ وَفَاءً عِنْدِی اللّھُمَّ اغْفِرْلِی مَا تَقَرَّبْتُ بِهِ اِلَیْكَ بِهِ بِلِسَانِی ثُمَّ اَلَفَهُ فِی قَلْبِی، اللّھُمَّ اغْفِرْلِی رَمَزَاتِ الْاَلْحَاظِ وَسجقَطَاتِ الْاَلْفَاطِ، وَجَسَھَوَاتِ الْحِبَانِ وَھَفَوَاتِ اللِّسَانِ.
"اے میرے اللہ! میری مغفرت فرما جو کچھ تو میرے متعلق جانتا ہے اگر میں وہ گناہ دوبارہ کروں مغفرت کو مجھ پر دوبارہ فرما دے: اے میرے اللہ! میری مغفرت فرما اس چیز سے جس کا میں نے اپنے نفس سے وعدہ کیا تھا مگر میں ایفا نہ کر سکا، اے میرے اللہ! تو میری مغفرت فرما جس کے ذریعہ میں نے اپنی زبانی تیرا تقرب حاصل کیا تھا پھر وہ چیز میرے قلب میں جاگزیں ہو گئی اے میرے اللہ! میری نگاہوں کے اشاروں اور کنکھیوں کے کناروں اور الفاظ کی لغزشوں اور دل کی غلط خیالوں اور زبان کی غلطیوں کو معاف فرما۔"
(نھج البلاغة، شرح ابن ابی الحدید:جلد6،صفحہ 176)
مذکورہ الفاظ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ حضرت علیؓ اللہ کے حضور دست دعا دراز کر کے درخواست کر رہے ہیں کہ ان سے جانے اور ان جانے میں جو لغزشیں ہوگئی ہیں ان سے درگزر کا معاملہ فرمائے۔ اے شیعہ حضرات! حضرت علیؓ کی یہ دعا تمہارے اس دعوائے عصمت کے منافی ہے جس کا تم حضرت علیؓ کے لئے اثبات کرتے ہو۔
سوال: 179 شیعوں کا اعتقاد ہے کہ نبیوں میں سے کوئی ایسا نبی نہیں گزرا ہے جس نے سیدنا علیؓ کی ولایت کی دعا نہ کی ہو۔
(بحار الانوار: جلد 11 صفحہ 60 اور المعالم الزلغی: صفحہ 303)
اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے حضرت علیؓ کی ولایت کا عہد و پیمان لیا ہے،(المعالم الزلغی، صفحہ 303) بلکہ شیعہ حضرات حضرت علیؓ کے بارے میں مبالغہ آرائی اور غلو کاری کر گئے ہیں حتیٰ کہ ان کے مذہبی شیخ طہرانی نے حضرت علیؓ کی ولایت کے بارے میں یہاں تک کہہ دیا ہے: "ان کی ولایت کو ہر چیز پر پیش کیا گیا جس نے آپؓ کی ولایت کو قبول کیا وہ چیز اچھی ہو گئی اور جس چیز نے آپؓ کی ولایت کو قبول نہ کیا وہ چیز فاسد اور خراب ہو گئی۔
(ودائع النبوة للطھرانی: صفحہ 155)
شیعہ حضرات سے کہا جائیگا کہ انبیاء کرامؑ کی دعوت کا محور توحید خالص تھی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ کی خالص عبادت کی جائے نہ کہ انبیاءؑ کی دعوت کا مرکز ولایت علیؓ کا اقرار تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْ اِلَیْهِ اَنَّهُ لَا اِلهَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ۞(سورۃ الانبیاء آیت 25)
ترجمہ: اور ہم نے آپﷺ سے قبل جو رسول بھیجے ان کی طرف بھی یہی وحی نازل کی کہ صرف میری عبادت کی جائے۔"
اگر سیدنا علیؓ کی ولایت واجب ہوتی تو تمام انبیاء علیہم السلام کے صحیفوں میں لکھی ہوئی ہوتی تو صرف شیعہ حضرات انفرادی طور پر اسے نقل کرتے نظر نہ آتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ولایت علیؓ کو شیعوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا ہے۔ اس ولایت کو کم از کم اہل کتاب کیوں نہیں جانتے ہیں؟ ان میں سے بے شمار لوگوں نے اسلام قبول کیا مگر انہیں اس ولایت کا پتہ تک نہ تھا اور نہ انہوں نے زبان سے اس کا تذکرہ ہی کیا۔ اس سے بھی ایک قدم آگے جائیں اس ولایت کو قرآن کریم میں کیوں نہیں لکھا گیا حالانکہ قرآن کریم تو تمام کتابوں کا محافظ اور نگران ہے؟
سوال: 180 شیعہ حضرات کی خدمت میں سوال یہ ہے کہ کیا ائمہ کرام نے متعہ کیا تھا؟ ان کے عقد متعہ کے ذریعے پیدا شدہ صاحبزادے کون سے ہیں براہ کرام ان کے اسمائے مبارکہ سے ہمیں آگاہ فرما دیں؟
سوال: 181 شیعہ حضرات کا کہنا ہے کہ ائمہ ماضی، حال اور مستقبل کا علم رکھتے ہیں۔ وہ علم غیبیہ میں سے ایک ایک چیز کی خبر رکھتے ہیں ان پر کوئی چیز مخفی نہیں ہوتی ہے اور حضرت علیؓ تو باب العلم، یعنی علوم ومعارف کا مخزن یا اس کا دروازہ ہیں۔
تو حضرت علیؓ مذی کے احکام سے ناآشنا کیوں تھے؟ وہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں ایک شخص کو اس کے متعلقہ احکامات دریافت کرنے کیلئے کیوں بھیجتے وہ نبی کریمﷺ سے اس سے متعلق احکامات معلوم کر کے انہیں اس سے آگاہ کرے؟
سوال: 182 شیعوں کے نزدیک صحابہ کرامؓ کا سب بڑا جرم حضرت علیؓ کی ولایت و امامت سے ان کا انحراف اور گریز کرنا ہے اور ان کو خلافت کے منصب پر فائز نہ کرنا ہے شیعہ کے خیال میں اسی اقدام نے صحابہؓ سے عدالت کو ساقط کر دیا ہے لیکن اے شیعو! تم کو کیا ہو گیا ہے تم یہی حکم اور یہی رویہ شیعوں کے ان بعض فرقوں کے ساتھ روا کیوں نہیں رکھتے جو تمہارے بعض ائمہ کو ماننے سے انکار کرتے ہیں جیسے کہ فرقہ فطحیہ اور وافقہ وغیرہ سے تعلق رکھنے والے لوگ! بلکہ تم لوگ اس فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قابل حجت اور حامل ثقاہت و عدالت گردانتے ہو۔ (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو:
(رجال الکشی: صفحہ465،445،219،27)
(رجال النجاشی: صفحہ 139،95،86،76،53،28 اور جامع الرواة لارد بیلی: جلد 1، صفحہ 413)
یہ کیسا تضاد اور تناقض ہے؟
سوال: 183 شیعوں کے مصادر ومراجع ائمہ اور غیر ائمہ کے لئے تقیہ پر عمل کرنے کے بارے میں متفق ہیں۔ تقیہ سے مراد یہ ہے کہ امام دل کی بات چھپائے، یعنی اندر کچھ ہو اور ظاہر کچھ ہو اور کبھی کبھی غیر حق بات کا اظہار کرے ۔
سوال یہ ہے جو شخص تقیہ کو استعمال کرے کیا وہ معصوم ہو سکتا ہے یا اس کو معصوم تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کو لازمی طور پر جھوٹ بولنا پڑے گا اور جھوٹ بولنا معصیت و نافرمانی ہے اور نافرمان شخص کہاں سے معصوم ہو سکتا ہے؟
سوال: 184 شیعوں کا امام کلینی رقم طراز ہے سیدنا علیؓ کے بعض انصار و معاونین نے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ سابقہ خلفاء نے جو بگاڑ اور فساد پیدا کر دیا تھا وہ اس کی اصلاح فرما دیں سیدنا علیؓ نے ان کے مطالبہ کو یہ کہہ کر رد فرما دیا تھا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو خطرہ ہے کہ ان کی فوج میں بغاوت ہو جائے گی (الروضة للکلینی صفحہ 29)
مزید فرماتے ہیں: آپ کو معلوم ہے جو چیزیں ان لوگوں نے اسلاف خلفاء راشدینؓ سے منسوب کی تھیں ساری کی ساری قرآن و سنت سے مخالفت رکھتی تھیں۔ کیا سیدنا علیؓ نے اپنے اسلاف کے اختلافات کو من وعن رہنے دیا وہ عصمت سے مناسبت رکھتی ہوں جس کا شیعہ حضرات ائمہ کے لئے دعویٰ کرتے ہیں؟
سوال: 185 حضرت عمرؓ نے چھ اشخاص پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جسے سیدنا عمر فاروقؓ کی وفات کے بعد باہم مشورے سے خلیفہ کا چناؤ کرنا تھا۔ ان میں سے تین دست بردار ہو گئے، بعد میں حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ دست کش ہو گئے، آخر میں حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ باقی رہ گئے اس موقع پر حضرت علیؓ نے ابتداء ہی میں یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ بلاشبہ میں خلافت کے معاملے میں مصداق وحی ہوں۔
کیا وہ حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد کسی سے خوفزدہ تھے؟