شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 10 از 24

ہم کہتے ہیں یہ روایت غیر مقبول ہے اور نہ ہی عقل انسانی اس کو قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔ اگر قبائل عرب کی اتنی بڑی تعداد ایسی ہے جس کو اللہ کے دین سے کوئی سروکار نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پشت زمین پر کوئی شخص ایسا موجود نہیں ہے جس کا اللہ کے دین میں کوئی حصہ ہو۔

اس کے بعد ان لوگوں نے اس سنگین حکم کے ضمن میں قبائل عرب کا ذکر کیا ہے اور خاص طور سے عربوں کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اس سے ان کی عربوں سے تعصب اور دشمنی کی بو آ رہی ہے۔

(4) صحيفة ذؤابة السيف 

حضرت ابو بصیر رحمۃاللہ ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺ کی تلوار کے نیام میں ایک چھوٹا سا صحیفہ تھا۔ اس میں چند حروف تھے اور ان حروف میں سے ہر حرف ہزار حرف پر مشتمل تھا۔

ابو بصیر کہتا ہے کہ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے کہ ان حروفوں میں سے اب تک صرف دو حرف معرض وجود میں آ سکے ہیں (نفس المصدر: جلد 26 صفحہ 56)

ہمارا سوال ہے کہ ان دو حرفوں کے علاوہ بقیہ حروف کہاں ہیں! ان بقیہ حروف کا ظہور کیوں نہیں تاکہ شیعہ اہل بیت سے تو مستفید ہو جائیں؟ یا یہ سارے کے سارے حروف اس وقت تک پردۂ خفا میں ہی رہیں جب تک کہ القائم کا ظہور نہیں ہو جاتا خواہ نسلوں کی نسلیں آتی رہیں مگر دین غار میں مخفی رہے گا۔

(5) صحيفة على:

 ایک دوسرا صحیفہ ہے جو تلوار کے لٹکانے والے حلقے میں پایا گیا ہے اس ابوعبداللہ علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کی تلوار کے لٹکانے والے حلقے میں ایک صحیفہ پایا گیا ہے جس میں لکھا ہوا ہے بسم الله الرحمن الرحيم، قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش اور باغی وہ شخص شمار کیا جائے گا جو کسی کو ناحق قتل کرے یا کسی کو بلاوجہ مارے اور غیر مستحق کو منصب امامت پر فائز کرے۔ ایسا شخص اس شریعت کا منکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ پر نازل کی ہے اور جس شخص نے دین میں کسی نئی چیز کو ایجاد کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے کوئی عذر یا فدیہ قبول نہیں فرمائے گا۔ (بحار الانوار: جلد 27 صفحہ 65)

(6) صحيفة الجفر 

اس کی دو قسمیں ہیں: ( الف: جفرا بیض۔ (ب: جفر احمر ابوالعلاء سے مروی ہے کہ میں نے ابوعبد الله علیہ السلام کو سنا ہے کہ میرے پاس الجفر الابیض“ ہے۔ راوی کہتا ہے میں نے عرض کیا اس میں کیا لکھا ہے؟ ابوعبد اللہ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ”اس میں حضرت داؤد علیہ السلام کی زبور، موسیٰ علیہ السلام کی توراة، عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل، ابراہیم علیہ السلام کے صحف، اور حلال وحرام کی تفصیل۔ اس کے علاوہ میرے پاس ”الجفر الاحمر“ بھی ہے۔

میں نے دریافت کیا کہ جفر احمر میں کیا ہے؟ 

انہوں نے جواب دیا "اوزار اور ہتھیار ہیں۔ اسے صرف خوں بہا یا قصاص کے وقت کھولا جاتا ہے۔ ان سے عبداللہ بن ابی یعفور نے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ تمہارا بھلا کرے کیا اس کو حسن علیہ السلام کے بیٹے جانتے ہیں؟

ابوعبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم! وہ لوگ اس کا ٹھیک ٹھیک اس طرح علم رکھتے ہیں جس طرح انہیں رات دن کا علم ہے لیکن بر بنائے حسد وہ اس سے اغماض کرتے ہیں اگر وہ حق کو حق جانتے ہوئے اس کے حصول کی کوشش کریں تو یہ ان کے لئے بہتر ثابت ہو (اصول الکافی: جلد 1 صفحہ 24)

ہمارا کہنا ہے کہ ذرا اس عبارت پر غور کرو کہ زبور داؤد، توراة موسیٰ، انجیل عیسیٰ، صحف ابراہیم علیہ السلام) اور حلال و حرام ساری کی ساری چیزیں صحیفہ جفر میں موجود ہیں۔ ہمارا سوال ہے کہ تم نے اتنی بیش بہا نعمت کو چھپا کیوں رکھا ہے اور اس کو ظاہر کیوں نہیں کرتے؟

(7) مصحف فاطمه: 

1: علی بن سعید ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ: 

بخدا ہمارے پاس مصحف فاطمہؓ ہے۔ اس میں کتاب اللہ کی آیات میں سے ایک آیت بھی نہیں ہے بلاشبہ وہ رسول اللہﷺ کا املاء کروایا ہوا اور حضرت علیؓ کے دست مبارک کی تحریر ہے (بحار الانوار: جلد 26 صفحہ 41)

2: محمد بن مسلم سے مروی ہے کہ: حضرت فاطمہؓ نے ایک مصحف چھوڑا ہے وہ قرآن نہیں ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے ہے۔ حضرت فاطمہؓ پر نازل ہوا ہے۔ وہ رسول اللہﷺ سے املاء شدہ ہے اور حضرت علی المرتضیٰؓ کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے۔ (بحار الانوار: جلد 26 صفحہ 41) 

3: علی بن ابی حمزہ سے مروی ہے انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے ان کا فرمان نقل کیا ہے:

"ہمارے پاس مصحف فاطمہؓ ہے، اللہ کی قسم اس میں قرآن کریم کے حرفوں میں سے ایک حرف بھی نہیں ہے لیکن وہ رسول اللہﷺ کا املاء شدہ کلام ہے اور حضرت علیؓ کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے (بحار الانوار: جلد 26 صفحہ 41)

اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ تم لوگ کہہ رہے ہو کہ یہ کتاب رسول اللہﷺ کی املاء شدہ اور حضرت علیؓ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے تو اس کو امت مسلمہ سے چھپا کر کیوں رکھا گیا؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کوحکم دیا ہے کہ آپ کی طرف جو کچھ نازل کیا گیا ہے اسے امت تک پہنچا دیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ (سورۃالمائده: آیت 67) 

"اے رسول! جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے آپ اسے پہنچا دیجئے اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔"

اس فرمان کے مطابق رسول اللہﷺ کے لئے کیسے ممکن ہے کہ ساری امت مسلمہ سے (مصحف فاطمہؓ) نامی قرآن کا کتمان کریں۔ حضرت علیؓ اور ائمہ کرام کس بنیاد پر اس کو اپنے شیعہ پیروکاروں سے پردۂ خفاء میں رکھیں گے یہ ناممکن بات ہے۔ 

کیا یہ امانت میں خیانت نہیں ہے؟ اور کیا مذکورہ مقدس لوگوں سے خیانت کی توقع ہے؟

تورات اور انجیل و زبور: 

ابو عبداللہ علیہ السلام سے مروی ہے کہ وہ انجیل، تورات اور زبور سریانی زبان میں پڑھا کرتے تھے ۔

ہم یہاں یہ بات کہنا چاہیں گے کہ امیر المؤمنینؓ اور انکے بعد ائمہ علیہ السلام کو زبور، تورات اور انجیل سے کیا سروکار تھا؟ یہ کتب سابقہ انکے درمیان کیوں متداول تھیں اور وہ ان کتابوں کو چوری چھپے کیوں پڑھا کرتے تھے؟

صفحہ 10 از 24