شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 11 از 24

نصوص شیعی سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ کے پاس پورا قرآن موجود تھا اور مذکورہ تمام کتب اور دوسرے چھوٹے بڑے صحیفے بھی تمہارے دعویٰ کے مطابق موجود تھے۔ انکو زبور، تورات اور انجیل کی کیا ضرورت پڑ گئی؟ خصوصاً جبکہ ہمارے علم میں ہے کہ یہ ساری کی ساری کتب سابقہ نزول قرآن کی وجہ سے منسوخ ہو گئیں ہیں۔

ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس وقت صرف اور صرف قرآن کریم ہی دستور حیات کی حیثیت سے مسلمانوں کے پاس موجود ہے۔ اسلام میں اگر کسی کتاب کی مسلمہ حیثیت ہے تو وہ قرآن کریم ہے ۔جہاں تک متعدد کتابوں کا معاملہ ہے تو یہ یہود و نصارٰی کے خواص میں سے ہے جیسا کہ متعدد کتابوں سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے۔

 سوال: 45 نبی کریمﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی وفات کے اظہار غم میں اپنے چہرے پر تھپڑ کیوں نہیں مارے تھے؟ حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ کی وفات پر ماتم کرتے ہوئے اپنے گالوں پر تھپڑ کیوں نہیں لگائے؟

سوال: 46 علماء شیعہ کی کثیر تعداد خصوصاً ایرانی شیعہ عربی زبان سے نابلد ہوتے ہیں۔ وہ زبان کے اعتبار سے فارسی داں ہوتے ہیں گویا وہ حقیقت میں عجمی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ لوگ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ سے کس بنیاد پر احکامات کا استنباط کرتے ہیں؟ جبکہ یہ بات مسلم ہے کہ ایک عالم دین کے لئے قرآن و سنّت سے احکامات اور انکے استنباط کے لیے عربی زبان سے واقفیت ازحد ضروری ہے۔

 سوال: 47 شیعوں کا اعتقاد ہے کہ اکثر و بیشتر صحابۂ کرامؓ کا شمار ماسوائے ایک محدود تعداد کے منافقین اور کفار کی صفوں میں ہوتا تھا۔ چند صحابۂ کرامؓ کا تمام کافروں نے کام تمام کیوں نہ کر دیا تھا۔

 سوال: 48 کیا یہ بات عقل و خرد باور کرنے کیلئے تیار ہے کہ شیعہ نبی کریمﷺ کے انتخاب میں ناکام رہیں۔

 سوال: 49 محمد بن حسن طوسی اپنی کتاب تہذیب الاحکام کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں: (تھذیب الاحکام: جلد 1 صفحہ 45)

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو حق کا سر پرست اور اس کا مستحق ہے، خوب درود وسلام ہو اس کی مخلوق میں سے افضل ترین اور بہترین ذات محمدﷺ پر۔ 

بعض ان ساتھیوں نے اللہ تعالیٰ انہیں نیکی و صلاح کی توفیق عطا فرمائے، جن کے مجھ پر بعض حقوق عائد ہوتے ہیں، مجھے ہمارے شیعہ کی احادیث یاد کروا دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی تائید سے بہرہ ور فرمائے اور ان کے اسلاف پر رحم و کرم فرمائے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ ہمارے یہاں احادیث میں بڑا تضاد ہے حتیٰ کہ ہمارے یہاں کوئی متفق علیہ روایت بھی نہیں ہے اگر کوئی ایک اتفاق کی صورت پیدا ہوتی ہے تو فوراً اس کی مخالفت میں احادیث موجود ہوتی ہیں۔ ہمارے یہاں احادیث کے ذخیرے میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہے، جس کو متفق علیہ کہا جائے کیونکہ ہر حدیث کے مقابلے میں کوئی نہ کوئی حدیث ضرور موجود ہے۔ اسی چیز نے ہمارے مخالفین کو ہمارے مذہب شیعی پر اعتراضات کرنے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔

اثناعشری شیعی سید دلدار علی لکھنوی اپنی کتاب ”اساس الاصول" میں رقمطراز ہے (اساس الاصول: صفحہ 51 طبع لکھنؤ الھند)

"ائمۂ کرام سے ماثور و منقول احادیث بہت زیادہ اختلافات کا شکار ہیں اور کوئی ایسی روایت موجود نہیں ہے جس کے مقابلہ میں اس کی کاٹ کے لئے کوئی روایت موجود نہ ہو۔“ یہی وہ صورت حال ہے جو بعض ناقص عقلوں کے لئے شیعہ مذہب سے نکلنے کا سبب بن رہی ہے۔ 

شیعوں کے عالم محقق، حکیم شیخ حسین بن شہاب الدین کرکی اپنی کتاب هداية الابرار الى طريق الائمة الاطهار، میں تحریر کرتے ہیں: ھدایة الابرار، صفحہ 164)

اس کتاب کے لکھنے کی غرض وغایت بھی وہ ہے جس کو (التھذیب) کے مقدمہ میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اس کتاب کی تالیف ہماری روایات کے درمیان تعارض اور تناقض کو دور کرنے کی غرض سے کی تھی کیونکہ ان کو یہ شکایت تھی کہ بعض شیعہ حضرات اسی بنیاد پر مذہب شیعہ سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔

ہم یہاں کہنا چاہیں گے کہ شیعہ علماء نے اپنے مذہب میں تناقض کا بذات خود (اصول المذہب الشیعہ الطبعۃ الاولی عشریۃ للقفاری: جلد 1 صفحہ 418) اعتراف کیا ہے اللہ تعالیٰ باطل کر کے فرما رہے ہیں

 وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا ۞ (سورۃ النساء: آیت 82)

"اگر یہ (قرآن) اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں وہ لوگ بہت کچھ اختلاف پاتے."

سوال: 50 شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ حضرت حسینؓ کی یاد میں رونا دھونا مستحب ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ استحباب بر بنائے دلیل ہے یا صرف ہوائے نفسانی کی بنا پر؟ اگر یہ مبنی بر دلیل ہے تو وہ دلیل کیا ہے؟

 اگر ایسا ہی ہے تو ائمہ اہل بیت نے اس کام کو کیوں نہیں کیا جن کی اتباع اور پیروی کرنے کے تم دعویدار ہو؟

 سوال: 51 شیعہ کا اعتقاد ہے کہ سیدنا علیؓ بن ابی طالب اپنے بیٹے حضرت حسینؓ سے افضل ہیں۔ تم نے حضرت علیؓ کی شہادت کی یاد میں رونا دھونا کیوں نہیں کیا؟ نبی کریمﷺ ان مذکورہ دونوں شخصیتوں سے افضل و اکرم نہیں ہیں؟ تم نبی کریمﷺ پر اپنے سابقہ رونے سے بڑھ کر کیوں نہیں روتے؟

 سوال: 52 شیعہ حضرات کے مطابق حضرت علیؓ بن ابی طالب ولایت و امامت اور ان کے بعد ان کی اولاد کی ولایت و امامت پر ایمان رکھنا ایک رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا اور اگر کوئی شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ کافر ہے اور جہنمی ہے۔ خواہ وہ "لا الہ الا للہ محمد رسول اللہ" کا اقرار ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ نماز پڑھتا ہو اور زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور رمضان کے روزے بھی رکھتا ہو اور اس نے بیت اللہ کا حج بھی کیا ہو مگر وہ اسلام کے دائرے سے خارج ہے۔ شیعہ حضرات یہ عقیدہ رکھتے ہیں لیکن ہم قرآن کریم میں اس عظیم رکن کی صراحت کیوں نہیں پاتے۔ ہم قرآن کریم کو پاتے ہیں کہ اس نے اس رکن اعظم کے علاوہ دوسرے ارکان کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے، جیسے نماز، روزے، حج، زکوٰۃ، بلکہ قرآن کریم نے بعض مباحات تک کا بھی صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے جیسے کہ شکار وغیرہ! ہمارا سوال ہے کہ قرآن کریم میں تمہارا وہ رکن اعظم کہاں گیا جس کا رات دن تم تذکرہ کرتے رہتے ہو؟ 

صفحہ 11 از 24