شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 12 از 24

 سوال: 53 اگر صحابہ کرامؓ کا معاشرہ آپس میں بغض و عناد اور حسد و بغاوت والا معاشرہ تھا، جس کے افراد میں سے ہر شخص منصب خلافت کو پانے کے لیے کوشاں تھا۔ بقول شیعہ حضرات صحابہ کرامؓ کا ماحول ایسا بن گیا تھا جس میں معدودے چند کے علاوہ کوئی ایمان پر باقی نہیں بچا تھا۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ ہی کے زریں دور میں فتوحات پر فتوحات ہوتی چلی گئیں اور اسلام کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ تاریخ شاہد ہے اسلام اور مسلمانوں کو جتنا فروغ صحابہ کرامؓ کے عہد زریں میں ملا اتنا کسی دور میں نہیں ملا اور اس عہد زریں کی یہ بھی خوبی ہے کہ اس میں ہزاروں افراد نے اسلام قبول کیا۔ 

سوال: 54 شیعہ حضرات نماز جمعہ کو کیوں چھوڑتے ہیں جبکہ نماز جمعہ کے قیام اور اس کی ادائیگی کا صراحت کے ساتھ سورۂ جمعہ میں حکم وارد ہوا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ 

یاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورۃ الجُمعۃ آیت 9)

ترجمہ: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو۔"

اگر شیعہ حضرات یہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کی نماز کو اس وقت تک معطل قرار دیے رکھیں گے جب تک کہ امام مہدی کا خروج نہیں ہوتا۔

تو ہم کہیں گے کہ کیا یہ انتظار اس عظیم فریضہ کے معطل رکھنے کا جواز فراہم کرتا ہے؟ اس شیطانی عذر کی وجہ سے ان لاکھوں بندگان خدا کا کیا ہو گا جو انتظار کرتے کرتے مر چکے ہیں اور ان کو اسلام کے اس عظیم الشان فریضہ کو ادا کرنے کا موقع تک نہ مل سکا؟ 

سوال: 55 شیعہ حضرات عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں سے کچھ آیات کو حذف کر دیا گیا ہے اور یہ کام حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی طرف سے کیا گیا۔

 یہی وجہ ہے کہ شیعہ حضرات ابوجعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ امام صاحب سے سوال کیا گیا کہ حضرت علیؓ کو امیر المؤمنینؓ کے خطاب سے کیوں نوازا گیا؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ خطاب عطا کیا ہے اور کتاب میں بھی اسی طرح ہی نازل فرمایا ہے:

وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّكَ مِنۡۢ بَنِىۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَ اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ‌  اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ‌ وَأنْ مُحَمَّدًا رَّسُولِي وَإنْ عَليًّا امِيرُ الْمُؤْمِنِينَ۔ 

"اور جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ محمدﷺ میرے رسول ہیں اور علی امیر المؤمنین ہیں۔“ (اصول الكافي: جلد 1 صفحہ 412)

کلینی نے تغیر قرآن میں لکھا یہاں پر جبت اور طاغوت سے فلاں فلاں مراد ہیں۔“(المصدر السابق: جلد 1 صفحہ 429) 

 مجلسی تحریر کرتا ہے کہ: فلاں اور فلاں سے مراد ابوبکرؓ اور عمرؓ ہیں (بحار الانوار: جلد 23 صفحہ 306)۔

یہی وجہ ہے کہ شیعہ حضرات شیخینؓ کو العیاذ باللہ شیطان تصور کرتے ہیں۔ شیعوں کے یہاں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (لا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ (سورۃ النور: آیت 21) اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کی تفسیر میں پورے وثوق اور جزم کے ساتھ فلاں لکھا ہے کہ فلاں کی ولایت مراد ہے بلکہ قسم کھا کر اس بات کی تاکید بھی کی ہے۔

 ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ہے (وَمَنْ يُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فِي وِلَايَةِ الأَئِمَّة مِنْ بَعْدِهِ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظیما

"جو کوئی الله اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا علیؓ کی ولایت میں اور اس کے بعد ائمہ کی ولایت میں تو یقیناً وہ بہت بڑی کامیابی سے ہم کنار ہوا" ابوعبداللہ اس آیت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ یہ آیت من و عن اسی طرح نازل ہوئی ہے (اصول الکافی: جلد 1 صفحہ 41، 441)

ابو جعفر سے مروی ہیں: جبرئیل علیہ السلام یہ آیت لے کر محمدﷺ کے پاس نازل ہوئے تھے۔

 بِئْسَمَا اشْتَرُوا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَن يَكْفُرُوا بِمَا أَنزَلَ اللهُ فِي عَلِي بَغْيا

 ترجمہ: ”اور بہت بری ہے وہ چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا۔ وہ ان چیزوں کا کفر کرتے ہیں جو سیدنا علیؓ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہیں۔(ایضاً: جلد 1 صفحہ 427)

حضرت جابرؓ فرماتے ہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام محمدﷺ کے پاس من و عن یہ آیت لے کر تشریف لائے۔ 

وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فی علی فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ (شرح اصول الکافی: جلد 7 صفحہ 66)

اور اگر تم شک میں ہو اس چیز کی بارے میں جو ہم نے نازل کی اپنے بندے پر پس تم لے آؤ ایک سورت اس جیسی دیے گئے ہو! تم ایمان لاؤ اس روشن نور پر جو ہم نے علیؓ کے متعلق نازل کیا ہے۔“

ابو عبد اللہ علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام محمدﷺ کے پاس یہ آیت لے کر تشریف لائے ﴿يَايُّهَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ امِنُو بِمَا نَزلْنَا فِي علَي نُورًا مبینا (ایضاً)

محمد بن سنان رضا علیہ السلام سے روایت فرماتے ہیں: 

كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِيْنَ بِوِلَايَةِ عَلِي ما تدعُوهُمْ إِلَيْهِ يَا مُحَمَّدُ مِنْ وَلايَة عَلِيِّ۔

 یہ من و عن اسی طرح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔(ایضاً: جلد 5 صفحہ 301)

ابو عبد اللہ علیہ السلام نے کہا ہے: 

﴿ سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابِ وَاقِعِ لِلْكَافِرِينَ بوَلَايَةِ عَلَي ليس له دافع﴾ "سوال کیا ایک سوال کرنے والے نے اس اس کے بارے میں جو واقعے ہونے والا ہے علیؓ کی ولادیت کا۔ جسے کوئی بھی روکنے والا نہیں ہوا گا۔“ اور فرماتے ہیں واللہ حضرت جبرئیل علیہ السلام اسی طرح اس آیت کو لے کر محمدﷺ پر نازل ہوئے تھے۔ (اصول الکافی: جلد 1 صفحہ 422)

ابو جعفر علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام محمدﷺ پر یہ آیت اسی طرح لے کر نازل ہوئے تھے :

صفحہ 12 از 24