شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 13 از 24

فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا الَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمُ قوْلاً غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا الَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمْ رِجْزًا مَنْ السَّمَاءِ بِمَاكَانُوا يَفْسُقُونَ۔(ایضاً جلد 1 صفحہ 432)

پس بدل ڈالا ان ظالموں نے جنہوں نے آل محمد پر ان کے حق میں ظلم کیا سوائے اس بات کے جو ان سے کہی گئی تھی۔ تو ہم نے ان لوگوں پر ،جنہوں نے آل محمد پر ان کے حق کے معاملے میں ظلم کیا ،آسمان سے عذاب نازل کیا بوجہ اس کے جو وہ نافرمانی کرتے تھے ۔“

ابو جعفر علیہ السلام سے ہی مروی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ جو من ومن یہ ہے:

إِنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا الَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمْ لَمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقاً إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ ... يَايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِ مِنْ رَّبِّكُمْ فِي وَلَايَةِ عَلَيّ فَامِنُوا خَيْرًا لَّكُمْ وَإِنْ تَكْفُرُوْا بِوَلَايَةِ عَلِي فَانَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ (ایضاً: جلد صفحہ 424)

 ”اے لوگو! تمھارے پاس رسول۔ علیؓ کی ولایت کے بارے میں تمہارے رب کی طرف سے حق لایا ہے، لہذا تم ایمان لاؤ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر تم علیؓ کی ولایت کا انکار کرو گے تو بلاشبہ اللہ ہی کی ملک ہے چاہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔“

یہ ہیں وہ آیات جن کے متعلق شیعہ حضرات کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ تمام آیات صراحت کے ساتھ حضرت علیؓ کی امامت و خلافت پر دلالت کرتی ہیں لیکن حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ نے ان میں تغیر و تبدل کر دیا۔ 

مذکورہ صورتحال میں خود بخود دو سوالات پیدا ہوتے ہیں اور وہ دونوں ہی شیعہ حضرات کے لئے باعث عار ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ بزعم شیعہ اگر حضرت ابو بکرؓ وعمرؓ بنی انہوں نے ان مذکورہ آیات میں تحریف کی ہے تو حضرت علیؓ نے منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد اس کی وضاحت کیوں نہیں کی؟

یا کم از کم محرف شدہ آیات کو ان کی اصلی ہیئت میں لکھوا کیوں نہیں دیا جیسا کہ وہ نازل ہوئی تھیں۔ ہم دیکھتے ہیں، تاریخ شاہد ہے کہ حضرت علیؓ نے ایسا نہیں کیا بلکہ قرآن کریم کو اپنے عہد میں اسی شکل میں باقی رکھا جس شکل میں اس سے قبل خلفاء راشدینؓ کے دور میں تھا اور جیسے کہ نبی کریمﷺ کے دورِ نبوت میں تھا کیونکہ حفاظت الہٰی کی بدولت محفوظ و مامون ہے۔ اس میں نہ تحریف ہو۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ۞ (سورۃ الحجر آیت 9)

ترجمہ: ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی نگہبانی کرنے والے ہیں۔

مگر شیعہ حضرات کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ عقل و خرد سے کام نہیں لیتے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا بعض آیات جن میں شیعوں نے تحریف و تبدیل سے کام لیا ہے تا کہ علی کی ولایت و امامت اور خلافت کو ثابت کریں یہ آیات پوری راسخ سے ہمارے سامنے یہ بات بیان کر رہی ہے کہ اس کا شائبہ تک نہیں ہوسکتا۔

ذرا اس آیت کے بارے میں غور و خوض کریں، جس کو شیعوں نے تحریف کا نشانہ بنایا ہے یہ آیت تو یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب کہ انہوں نے اسے مسلمانوں کی طرف منسوب کر دیا۔

فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا آلَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمْ قَوْلاً غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا الَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمُ رِجْرًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ(سورۃ البقرہ آیت 59)

ترجمہ: پھر جنہوں نے آلِ محمد کے حق میں ظلم کیا انہوں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی بدل ڈالا تو ہم نے بھی ان ظالموں پر ان کے فسق و نافرمانی کی وجہ سے آسمانی عذاب نازل کیا ۔"

بر بنائے آیت محرفہ یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ آیت اس معاملہ کی نشاندہی کر رہی ہے جو مستقبل میں رونما ہو گا اور حضرت علیؓ اس کو جانتے بھی تھے۔

حضرت علیؓ اور آل بیت اپنے کس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ان سے زبردستی چھین لیا گیا ہے۔ جب کہ قرآن کہہ رہا ہے کہ یہ مستقبل میں ہو گا؟ اور اس تحریف سے اس بات کی بھی نشاندہی ہو رہی ہے کہ مسلمان سیدنا علیؓ کی ولایت اور ان کے بارے میں وصیت کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی سیدنا علیؓ رسول اللہﷺ کے بعد خلیفہ بنیں گے۔ اس کے بعد ہمیں ذرا یہ بھی بتلایا جائے کہ یہ کون سا آسمانی عذاب۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جنہوں نے آل محمد کے حق خلافت کے معاملے میں ظلم و زیادتی کب نازل کیا۔

یہ سب جانتے ہیں کہ اب تک ایسا کوئی عذاب واقع نہیں ہوا ہے کیونکہ یہ کھلم کھلا تحریف ہے اور کچھ بھی نہیں۔

سوال: 56 شیعہ حضرات ابوالحسن سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں روایت کرتے ہیں

يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّطۡفِـئُــوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَ فۡوَاهِهِمۡ (سورۃ التوبة آیت 32)

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنے مونہوں سے اللہ کے نور کو بجھائیں " یعنی یہ لوگ امیر المؤمنین کی ولایت و امارت کو بجھا دینا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے:

فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَالنُّوۡرِ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلۡنَا‌۞ (سورۃ التغابن آیت 8)

ترجمہ: لہٰذا اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس روشنی پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کی ہے، 

شیعہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! نور سے آل محمد کے قیامت تک آنے والے ائمہ مراد ہیں۔(الکافی: 1491)

سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اسلام چار دانگ عالم میں پھیلا کر اپنے نور کو مکمل کیا ہے یا اہل بیت کو ولایت اور وصيت و خلافت عطاء فرما کر اس کی تکمیل کی ہے۔

سوال: 57 ایک سوال ہے کہ آپ کے شرعی مفہوم کی بنیاد پر ہم پاتے ہیں کہ ائمہ آل بیت میں سے صرف چند اشخاص ایسے ہیں جو منصب خلافت پر فائز ہو پائے ہیں۔ ایک حضرت علیؓ اور دوسرے حضرت حسنؓ جب کہ آپ لوگوں کے یہاں تو باره امام ہیں۔ باقی ماندہ دس ائمہ کی عدم خلافت کے باعث تمام نور کہاں گیا؟

صفحہ 13 از 24