شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 14 از 24

سوال : 58 شیعوں کی بعض مذہبی کتابوں میں جعفر الصادق کی طرف یہ روایت منسوب ہے کہ ایک عورت نے آپ سے حضرت ابوبکر و عمر کے بارے میں سوال کیا: میں ان دونوں کی ولایت کو تسلیم کروں؟ آپ نے کہا۔ ہاں ان کی ولایت کو تسلیم کرو۔ اس عورت نے برجستہ آپؐ کے سامنے اس وقت کہا تھا کہ جب میں اپنے رب کے روبرو حاضر ہوں گی تو میں رب کریم سے یہ کہوں گی کہ شیخین کی ولایت کو تسلیم کرنے کا آپ نے مجھے حکم دیا ہے تو حضرت صادق رحمۃاللہ نے اس عورت سے کہا ہاں! جاؤ تم رب کریم کے روبرو یہی کہنا۔ (روضة الكافي: جلد 8 صفحہ 101)

باقر کے اصحاب میں سے ایک شخص نے اس وقت بڑے تعجب کا اظہار کیا ؟ جب اس نے ان کی زبانی حضرت ابوبکر صدیقؓ کی شخصیت کو صدیق کے لقب سے یاد کرتے ہوئے سنا اس شخص نے دریافت کیا: آپ بھی اس کو صدیق کے لقب سے موصوف کرتے ہیں؟ امام باقر نے جواب دیا۔ جی ہاں آپ واقعی صدیق ہیں جو شخص دنیا میں آپ کو صدیق کہنا گوارا نہیں کرتا اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کی بات کی تصدیق نہ کرے گا؟ (مقاتل الطالبین: صفحہ 88, 142, 188)

اس کے باوجود شیعہ کی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بارے میں کیا رائے ہے؟

سوال: 59 ابوالفرج الاصفہانی نے "مقاتل الطالبين كشف الغمة، جلد 2، صفحہ 66) میں اور الاربلی نے کشف الغمة " الغمة صفحہ 360 میں اور مجلسی نے (جلاء العیون صفحہ 582 میں یہ بات ذکر کی ہے کہ ابوبكر بن على بن ابی طالب نے کربلا میں اپنے بھائی حضرت حسینؓ کے ساتھ جام شہادت نوش فرمایا ہے ان کے ساتھ حضرت حسینؓ کے صاحبزادے ابوبکر نے بھی اس معرکہ میں شہادت پائی تھی۔

محمد الاصغر کو ابوبکر کی کنیت سے پکارا جاتا تھا۔

شیعہ حضرات ان حقائق کو کیوں چھپاتے ہیں؟ اور ساری توجہ حضرت حسینؓ کی شہادت پر ہی کیوں مرکوز رکھتے ہیں۔ اس کے پس پردہ یہ سبب پنہاں ہے کہ حضرت حسینؓ کے بھائی اور صاحبزادے کا نام ابوبکر تھا۔

شیعہ نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کو اس حقیقت کا علم ہو جائے اور نہ ہی ان کے سیدھے سادے پیروکاروں کو اس حقیقت کا علم ہو جائے کہیں آل بیت اور اکابر صحابہ کرامؓ اور ان میں بھی خصوصاً ان دعوؤں کی قلعی نہ کھل جائے اگر آپ کافر اور مرتد ہوتے اور منصبِ خلافت پر فائز ہو کر آپ نے حضرت علیؓ اور آپ کی آل کی حق تلفی کی ہوتی تو ہم آل بیت کو آپ کے اس نام پر نام رکھتے ہوئے نہ دیکھتے۔

یہ بھی بتایا جائے کہ شیعہ حضرات حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ کی اقتداء میں اپنے بیٹوں کا نام ابوبکر کے نام پر کیوں نہیں رکھتے؟

سوال: 60 رسول اللہﷺ کو خاتم الانبياء تسلیم کرنے سے امامت کا مقصود حاصل ہو جاتا ہے اور یہ مقصود رسول اللہﷺ کی زندگی میں اور آپ کی موت کے بعد دونوں صورتوں میں حاصل ہو جاتا ہے کیونکہ یہ شخص اس بات کا عقیدہ رکھتا ہے کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور ان کی اطاعت واجب ہے وہ رسول اللہﷺ کی اطاعت و پیروی کی کوشش بھی کرتا ہے تو اس کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ جنت میں داخل ہوگا تو اس اعتقاد کی بنیاد پر مسئلہ امامت و ولایت پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں رہے گی اور اس کے ذمہ رسول اللہﷺ کی اتباع کے علاوہ کسی اور کی اتباع لازم نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جنت میں داخلہ اس وقت تک کہ ناممکن ہوگا جب تک وہ امام کی اتباع اور پیروی نہ کرے گا تو یہ اعتقاد نصوص قرآنیہ کے سراسر خلاف ہے کیونکہ نصوص قرآنیہ میں بارہا اس شخص کے لیے جنت واجب قرار دے دی گئی ہے جو صرف اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرے گا۔

قرآن کریم کی کسی نص میں بھی اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے دخول کو امام کی امامت پر ایمان لانے کے ساتھ مربوط کیا ہو

ارشاد باری تعالیٰ ہے

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا۞ (سورۃ النساء آیت 69)

ترجمہ: اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ وَذٰ لِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ۞(سورۃ النساء آیت 13)

ترجمہ: اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ایسے لوگ ہمیشہ ان (باغات) میں رہیں گے، اور یہ زبردست کامیابی ہے۔

اگر ایمان اور کفر کے درمیان امامت ہی حد فاصل ہوتی یا دین میں اس رکن اعظم کی کوئی حیثیت ہوتی کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ بندے کا عمل قبول نہیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی ان آیات میں اس کا ضرور ذکر کرتا اور اس کی تاکید فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ اس مسئلہ میں بعد میں اختلافات رونما ہوں گے۔

صفحہ 14 از 24