شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 15 از 24

شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو گا جو کہتا ہو کہ آیات مذکورہ میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ضمن میں امامت کا مسئلہ بھی مضمر ہے کیونکہ یہ بات کہنا تفسیر قرآن کے ساتھ ظلم ہے۔ اس دعویٰ کے بطلان کے لئے یہ کہنا کافی ہے کہ رسول اللہﷺ کی اطاعت ہی گویا کہ اس رب کریم کی اطاعت ہے جس نے ان کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کو تن تنہا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ اپنے رسولﷺ کی اطاعت کو بھی ذکر کیا ہے۔ رسول اللہﷺ کی اطاعت کو الگ طور پر اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ عقیدۂ اسلام کے دو اہم ترین ارکان کو واضح کیا جائے جو کہ اللہ کی اطاعت اور رسول اللہﷺ کی اطاعت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ضروری سمجھا گیا کہ اللہ کی اطاعت کے بعد جنت میں دخول کے لئے بطورِ شرط اللہ کے رسول کی اطاعت کا ذکر کیا جائے ، کیونکہ رسول اللہﷺ کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے مبلغ کی ہے اور نبی کی اطاعت گویا کہ اس ذات کی اطاعت ہے جس نے اُسے رسول بنا کر بھیجا ہے اور چونکہ رسول اللہﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے بلا شرکت غیر کے کامیابی و کامرانی اور جنت کے حصول کو اپنے رسول کی اطاعت اور اس کے حکم کو لازم پکڑنے میں پنہاں رکھا ہے۔سوال: 61 نبی کریمﷺ کے عہد میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو صرف ایک مرتبہ آپﷺ کے دیدار سے مشرف ہونے کے بعد اپنے آبائی وطن واپس چلے گئے تھے۔ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ انہوں نے زبان رسالت سے حضرت علیؓ ان کے سب بیٹوں اور پوتوں کی ولایت اور امامت کے سلسلہ میں کچھ نہیں سنا تھا۔ کیا ان کا اسلام ناقص کہلائے گا؟ اگر تم لوگ ہاں میں جواب دیتے ہو تو ہم یہ کہیں گے کہ اگر اس کی اتنی ہی اہمیت تھی تو نبی کریم اس بات کے بدرجہ اولی حقدار تھے ان لوگوں کے اسلام کی تصحیح کرتے اور انہیں امامت کے مسئلہ سے آگاہ کرتے مگر تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک مرتبہ بھی ایسا نہیں کیا کہ انہیں جمع کیا ہو اور عامۃ الناس کے سامنے امامت ولایت یا خلافت کا مسئلہ رکھا ہو۔

سوال: 62 شیعوں کے نزدک مقدس ترین کتاب نہج البلاغہ ہے جس کو شیعہ حضرات احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس میں مندرجہ ذیل عبارت موجود ہے۔

امام علی کا نامہ بنام امیر معاویہ۔

"بلا شبہ ان لوگوں نے مجھ سے بیعت خلافت کر لی ہے جنہوں نے حضرت ابوبکر و حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھم سے بیعت کی تھی اور من و عن انہی شروط پر بیعت کی ہے جن پر حضرات خلفاء راشدینؓ سے کی تھی ، لہٰذا جو شخص موجود ہے اسے اختیار کا حق نیں اور جو غائب ہے اسے روگردانی کا حق نہیں۔ جہاں تک مجلس شوریٰ کا تعلق ہے وہ مہاجرین و انصار دونوں پر مشتمل ہے اگر مہاجرین و انصار کسی ایک شخص پر اجماع کر کے اسے اپنا امام نامزد کر دیں تو اللہ کے لئے اس کی رضامندی کی دلیل ہے اگر کوئی شخص ان کی ذات پر لعن و طعن کرتے ہوئے یا بدعت کی راہ ایجاد کرتے ہوئے بغاوت کرتا ہے تو انصار و مہاجرین کو حق پہنچتا ہے کہ اسے راہ استقامت یا جاده حق پر واپسی کے لیے دعوت دیں اگر وہ اسے قبول کرتا ہے تو ٹھیک وگرنہ مؤمنین کے راستہ سے بغاوت کرنے کی وجہ سے اس سے اعلان جنگ کر دیں اور اے معاویہ اگر تم عقل و خرد سے کام لیتے ہوئے ہوائے نفس کو پس پشت ڈالتے ہوئے سوچو تو تم مجھے حضرت عثمان غنیؓ کے خون سے تمام لوگوں سے بڑھ کر بری پاؤ گے اور تمہیں یقینی طور پر اس بات کا علم ہو جائے گا کہ میں ان سے الگ تھلگ ہوں البتہ اگر تم مجھ پر ظلم وزیادتی کے درپے ہو جاؤ تو یہ اور بات ہے تمہیں جو سمجھ میں آئے وہ کرو! والسلام" (نهج البلاغہ: صفحہ 593)

مذکورہ عبارت میں ان باتوں کی دلیل ہے۔

1: امام کا انتخاب مہاجرین و انصار کی رائے شماری اور اجماع پر ہوا کرتا تھا اس کا شیعوں کے والے رکن اعظم کے دور کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

2: حضرت علیؓ کی اسی طریقہ پر بیعت خلافت ہوئی جس طریقہ پر حضرات خلفاء راشدینؓ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کی بیعت ہوئی تھی۔

3: مذکوره عبارت اس بات کی شہادت ہے کہ مجلس شوریٰ حضرات مهاجرین وانصار ہی سے عبارت تھی، یہی ان کی فضلیت ان کی علو مرتبت اور اللہ کے نزدیک مقرب ترین ہونے کی دلیل ہے۔

4: کسی امام پر مہاجرین وانصار کا اتفاق اللہ کی رضامندی اور خوشنودی پر تو ہے لہٰذا یہاں کسی کی حق تلفی یا بےجا دخل اندازی کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا جیسا کہ شیعہ حضرات کا دعویٰ ہے وگرنہ اللہ تعالیٰ اس پر کس طرح راضی ہو سکتا ہے؟

5: شیعہ حضرات امیر معاویہؓ پر لعن و طعن کرتے ہیں اور انہیں برا بھلا کہتے ہیں مگر ہم تو حضرت علیؓ کے ان خطوط تک میں سے کسی خط میں سیدنا امیر معاویہؓ کو لعن طعن کا اشارہ تک نہیں پاتے۔ اللہ تعالىٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ان سب سے راضی ہے اور اس نے ان کے دلوں میں موجود خلوص ایمان اور محبت رسول وغیرہ کو بھی جان لیا ہے اب شیعہ کے لیے یہ بات کس طرح لائق ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر سے کفر و انکار کریں اور اللہ تعالیٰ کے برخلاف دعویٰ کریں؟ گویا یہ کہہ رہے ہیں: اے پروردگار! ان کے بارے میں جو ہم جانتے ہیں وہ تو نہیں جانتا۔ العیاذ باللہ!

سوال: 63 ہم شیعہ حضرات کو دیکھتے ہیں کہ وہ کبار صحابہ کرامؓ کو گالی گلوچ کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی سعی کرتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں ہم ایک بھی اہل سنت کو نہیں دیکھتے ہیں کہ آل بیت میں سے کسی ایک کو بھی سب وشتم کرتا ہو؟ بلکہ وہ تو ان کی محبت کے باعث اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا شیعہ حضرات انكلين كيسک خواهم دروغ گوئی انکار نہیں کر سکتے خواہ وہ دروغ گوئی کی بھی کوشش کریں۔

سوال: 64 شیعہ کتب کے مطابق اللہ نے شہادتِ حسینؓ کے متعلق فرمایا ہے

لَـقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا ۞ (سورة الفتح آيت 18)

صفحہ 15 از 24