شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 16 از 24

ترجمہ: یقیناً اللہ ان مومنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا۔ اس لیے اس نے ان پر سکینت اتار دی اور ان کو انعام میں ایک قریبی فتح عطا فرما دی۔ "

سوال: 65 شیعہ حضرات اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنھم نے نبی کریم ﷺ سے درخت کے نیچے بیعت کی جس کو بیعت رضوان کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اپنی رضا و خوشنودی کا اعلان فرما دیا اور ان کے دلوں میں صدق و صفا کے جو جذبات تھے اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی اپنی واقفیت کا اظہار کر ديا (الفتح: 18)

ہمارا سوال ہے کہ شیعہ حضرات کس بنیاد پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ بھیجی ہوئے اس حقیقت کا انکار کرتے ہیں اور بزعم خود اس حقیقت کے خلاف اعتقاد رکھتے ہیں؟ گویا زبان حال سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اے رب کریم اس حقیقت سے تو واقف نہیں ہے جسے ہم جانتے ہیں العیاذ باللہ!

سوال: 66 شیعہ حضرات کی مقدس کتابیں اس بات کی شہادت دینے کے لئے کافی ہیں کہ وہ اپنے اعتقاد کے مطابق صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہہ کر اللہ سے تقرب اور اس کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں صحابہ کرامؓ میں سے خلفاء ثلاثہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنھم کو وہ لوگ لعن و طعن کا نشانہ بناتے ہیں سنیوں میں سے کسی ایک سنی کے بارے میں بھی یہ بات ہمارے گوشہ ذہن میں نہ ہوگی کہ وہ آل بیت رسولﷺ کو گالی گلوچ کرنے کی جرأت کرے گا واللہ یہ بڑی جرأت کی بات ہے بلکہ اہل سنت والجماعت کا ہر ہر فرد اہل بیت سے محبت و موالاۃ کا اظہار کر کے عند اللہ تقرب کا خواہاں ہوتا ہے۔ اس حقیت کا شیعہ حضرات انکار نہیں کر سکتے اور تقیہ میں بھی اس بات کو وہ جھٹلا نہیں سکتے کیوں کہ یہ بات اظهر من الشمس ہے۔

سوال: 67 شیعہ حضرات اپنی کتابوں میں حضرت حسینؓ کے شہادت کے بارے میں بارہا یہ بات دہراتے ہیں کہ حضرت حسینؓ معرکہ کربلا میں پانی کے ایک ایک قطرے کو ترس گئے اور اسی پیاس کی حالت میں جام شہادت نوش فرمایا۔ اسی لئے ہم جگہ جگہ شیعوں کی وقف کرده سبیل میاہ پر یہ عبارت لکھی ہوئی دیکھتے ہیں کہ پانی سیر ہو کر پیو اور حضرت حسینؓ کی پیاس کو ذہن نشیں رکھو۔

ہمارا سوال ہے کہ شیعوں کے اعتقاد کی بنیاد پر اگر ائمہ کرام علم غیب سے بہرہ ور تھے تو کیا حضرت حسینؓ معرکہ کربلاء کے درمیان پانی کی ضرورت کو اس سے قبل نہ جان سکے؟ اور ان کو اس بارے میں علم نہ ہو سکا کہ وہ پانی کے ایک ایک قطرہ کو ترس جائیں گے اور اس کی وجہ سے انہیں جامِ شہادت نوش کرنا پڑے گا، لہٰذا اس بحران کے تدارک کے لئے پانی اتنی مقدار میں جمع کر لیتے کہ دوران معرکہ وہ ان کی ضروریات کے لئے کافی ہوتا۔

دورانِ جنگ پانی مہیا کرنا بھی جنگ کے لئے اسباب اختیار کرنے کی قبیل سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمۡ۞ (سورۃ الانفال: آیت 60)

ترجمہ: تم ان سے مقابلہ کے لئے اپنی استطاعت بھر قوت تیار کر لو اور گھوڑوں کو تیار کرو تاکہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو خوف زدہ کر سکو۔

تو کیا جنگ کے دوران پانی کا انتظام کرنا جنگی حکمتِ عملی میں سے نہیں ہے اور کیا جنگ کے اسباب اختیار کرنے کے ضمن میں اس کا شمار نہیں ہوتا؟

سوال: 68 رسول اللہﷺ کے عہد میں دین اسلام کی تکمیل ہو گئی تھی۔ ارشاد باری تعالی ہے: اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (سورۃ المائدة: آیت 3)

آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا۔"

سوال: 69 شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم کا مقصود ہی ریاست اور ملک پر قبضہ کرنا تھا جس کے حصول میں انہوں نے دوسروں پر ظلم کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان خلفاء نے کسی مسلمان سے قتال کیا ہے؟ ان کی تو تمام جنگیں کفر کے خلاف تھیں۔ انہوں نے قیصر کے غرور کو خاک میں ملایا تھا کسریٰ کے شہروں کو زیرنگین بنایا تھا۔ اسلام کو مستحکم کیا تھا، اہل ایمان کو سر بلند بنایا تھا جب کہ ان کے مقابلے میں کفر اور اہل کفر ذلیل و رسوا ہوا تھا۔

حضرت عثمانؓ اس معاملے میں حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما سے پیچھے رہے ہیں کیونکہ ان کے دورِ خلافت میں بلوائیوں نے انہیں قتل کرنا چاہا لیکن اس کے باوجود انہوں نے مسلمانوں سے لڑائی کی اور نہ ہی اپنی خلافت و ریاست کو بچانے کے لیے کسی مسلمان کو قتل کیا۔ جب اس خلافت کو بھی ظلم سے تعبیر کیا جائے گا تو لازم ہے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت پر یہ الزام لگایا جائے کیونکہ اس دور میں بہر حال مسلمانوں کی آپس میں جنگیں ہوئی تھیں۔

سوال: 70 قادیانیوں نے اپنے نائب کے لیے نبوت کا دعویٰ کر کے کفر کا ارتقاب کیا ہے۔

لہٰذا سوال یہ ہے کہ ان قادیانیوں کے درمیان اور ان شیعہ کے درمیان کیا فرق ہے جو اپنے ائمہ کے لیے انبیاء کا بلکہ ان سے بھی زیادہ کا دعویٰ کرتے ہیں! کیا یہ کفریہ دعویٰ نہیں ہے؟ کیا وہ ہمارے سامنے اپنے ائمہ اور رسول کے درمیان چند جوہری فرق بیان کرنا پسند کریں گے؟ کیا رسول اللہﷺ دنیا میں اس لیے تشریف لائے تھے کہ آپﷺ ان ائمہ کی بشارت سنائیں جن کے اقوال آپﷺ کے اقوال کی مانند ہوں گے اور ان کے افعال آپﷺ کے مثل ہوں گے اور وہ آپﷺ ہی کی طرح معلوم ہوں گے؟

سوال: 71 رسول اللہﷺ کو کیونکر حجرہ عائشہؓ میں دفن کیا گیا؟ حالانکہ تم انہیں العیاذ باللہ کفر فسق اور نفاق سے متہم کرتے ہو؟ کیا یہی رسول اللہﷺ کی ان کے ساتھ محبت اور رضامندی کی واضح دلیل نہیں ہے؟

سوال: 72 ایک بات یہ بھی ہے کہ رسول اللہﷺ کو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کے درمیان کس طرح دفن کر دیا گیا حالانکہ وہ دونوں تمھاری نظر میں کافر ہیں؟ اور مسلمان کو کافروں کے درمیان دفن نہیں کیا جاتا، علاوہ ازیں نبی اکرمﷺ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی وفات کے بعد بھی تمھارے دعوے کے مطابق آپﷺ کی کافروں کی ہمسائیگی سے حفاظت نہیں فرمائی۔

صفحہ 16 از 24