شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 17 از 24

سوال: 73 ہم سب کو بخوبی علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قصۂ افک کے بارے میں سیدہ عائشہؓ کی برأت کا حکم اپنی کتاب قرآن کریم میں نازل فرمایا ہے انہیں تہمت سے مبرا قرار دے کر رہتی دنیا تک آپ کی عزت و ناموس کو دوام بخش دیا ہے۔ اس کے باوجود بعض غالى قسم کے شیعہ اب بھی سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو اس تہمت سے متہم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں انہیں مبرا قرار دیا ہے اور ان کو شیعہ خیانت سے متصف کرتے ہیں۔ تفسیر قمی جلد 2 صفحہ 377 البرهان للبحراني جلد 4 صفحہ 358) سیدہ عائشہؓ پر بہتان باندهنا دراصل رسول اللہﷺ کی ناموس پر حملہ ہے بلکہ اس جرأت سے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی زد پڑتی ہے۔ کیا وہ اپنے نبیﷺ کو اس بات کی خبر نہ دیتا کہ ان کی شریک حیات نعوذ باللہ خائنہ ہے؟ حاشا وکلا ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ نبی کریمﷺ کی بیوی خائنہ ہو یہ شیعوں کا اسلام اور مسلمانوں کو داغدار کرنے کا محض پروپیگنڈہ ہے۔ کیسا ہی بدترین مذہب ہے جو زوجات رسول اللہﷺ کی عزت و عصمت کو داغدار کرنے کی پلاننگ کرتا ہے اور امهات المؤمنینؓ کی ناموس کو اپنے ناپاک اغراض و مقاصد کی خاطر آلودہ کرنے کی تگ و دو کرتا ہو۔

شیعہ حضرات کا اعتقاد ہے کہ سیدنا علیؓ اور ان کے دونوں صاحبزادی مشکل کشا ہیں جو مصائب و آلام کے وقت ان کے کام آتے ہیں۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر وہ مشکل کشا ہیں تو اپنی زندگی میں جب ان لوگوں کو مصائب اور مشکلات کا سامنا پڑا تھا اس وقت ان لوگوں نے خود اپنی مشکل کشائی کیوں نہیں کی؟ تاریخ گواہ ہے کہ سیدنا علیؓ کے دور خلافت میں امن وامان نہ ہو سکا اور ان کا عہد خلافت خانہ جنگی کی نذر ہو گیا۔ اسکے نتیجہ میں آپ کو جام شہادت بھی نوش فرمانا پڑا۔ حضرت حسنؓ کو بھی سیدنا امیر معاویہؓ کیلئے خلافت سے مجبوراً دستبردار ہونا پڑا۔ بلکہ حضرت حسینؓ کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کے نتیجے میں آپ کی شہادت کا جانکا واقعہ پیش آیا، اسکے باوجود انکا مشن پورا نہیں ہو سکا۔ حتیٰ کہ انکے بعد بھی خانہ جنگی کا تسلسل قائم رہا ۔

ہمارا یہ سوال ہے کہ مذکورہ مشکلات اور مصائب کے وقت ان اصحاب کے خارق عادت کارنامے کہاں گئے؟ اور انہوں نے اس پر مصائب مواقع پر اپنی خارق عادت چیزوں کو خود اپنی مشکل کشائی کیلئے پیش کیوں نہیں کیا؟ 

سوال: 74 شیعہ حضرات کا خیال ہےکہ حضرت علیؓ کے فضائل شیعوں کی روایت کے مطابق حد تواتر کو پہنچے ہوئے ہیں اور ان کی خلافت اور امامت کی نص بھی متواتر ہے۔ یہاں یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ وہ شیعہ رواۃ جو صحابہ کرامؓ کے دور کے نہیں ہیں اور انہوں نے نہ نبی کریمﷺ کا دیدار ہی کیا ہے اور نہ ہی نبی کریمﷺ سے براہ راست سماعت کی ہے آپ سے ان کا حدیث بیان کرنا مرسل کے حکم میں ہے اور اگر انہوں نے صحابی کی طرف نسبت کے بغیر اس حدیث کی روایت کی ہے تو وہ حدیث منقطع ہے۔ اس حدیث کو حدیث صحیح نہیں کہا جا سکتا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صحابہ کرامؓ سے راہ و رسم رکھنے والے شیعہ رواۃ کی تعداد دس سے زیادہ نہیں۔ علاوہ ازیں ان دس کے دس شیعہ کا صحابہ کرامؓ سے تواتر کے ساتھ روایت کرنا ثابت بھی نہیں ہے! تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ جمہور صحابہ کرامؓ جن سے شیعہ حضرات نے سیدنا علیؓ کے فضائل نقل کئے ہیں، ان پر شیعہ حضرات قدغن لگاتے ہیں اور ان کو کافر قرار دیتے ہیں۔

شیعہ حضرات ان جمہور صحابہ کرامؓ کے بارے میں، جن کی قرآن کریم نے مدح سرائی کی ہے، حد سے زیادہ تجاوز کرنے اور ان پر بہتان بازی اور الزام تراشی کرنے، ان کو کتمان حق کے کا مجرم قرار دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ لہٰذا شیعہ رواۃ کے اس قلیل گروہ جس پر جھوٹ کا الزام لگانا زیادہ آسان اور زیادہ مناسب ہے۔

سوال: 75 شیعہ حضرات کا دعویٰ ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنھم کا مقصد حصول تخت و تاج کے لیے تھا ان لوگوں نے دوسروں پر ظلم وزیادتی کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان لوگوں نے کبھی بھی حکومت اور ولایت کے لئے کسی مسلمان سے جنگ وجدال نہیں کیا بلکہ جن سے جنگ و جدال کیا وہ یا تو مرتدین تھے یا کفار و مشركين!

سوال: 76 شیعوں کا دعویٰ ہے کہ سیدنا علیؓ کی امامت منصوص علیہ ہے اور ان کے منصب خلافت کے استحقاق کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے لیکن صحابہ کرامؓ نے اس پر پردہ ڈال کر اسے چھپا دیا۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ دعوی سراسر باطل ہے کیونکہ صحابہ کرامؓ نے ان احادیث تک کا کتمان نہیں کیا ہے جن سے شیعہ حضرات سیدنا علیؓ کی امامت انتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسى کہ تمہاری حیثیت میرے نزدیک ایسی ہے جیسے حضرت ہارون کی موسیٰ کے نزدیک اس کے علاوہ اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں ہمارا سوال ہے کہ جب صحابہ کرامؓ نے اس قسم کی احادیث کا کتمان نہیں کیا تو یہ بات کیسے باور کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے قرآن کریم میں اس قسم کی آیات کا کتمان کیا ہے؟

سوال: 77 رسول اللہﷺ کے بعد سیدنا اصدیق اکبرؓ خلیفۂ حق ہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ نے بالا تفاق آپؓ کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے، آپ کے حکم کو بجالانے اور آپ کی مخالفت سے اجتناب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اگر سیدنا ابوبکر صدیقؓ خلافت کے مستحق نہ ہوتے تو یہ لوگ آپ کو قطعاً خلافت کے منصب پر فائز نہ کرتے اور ایک لمحہ کے لئے بھی آپ کو خلافت کرنے نہ دیتے اور نہ ہی آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے کیونکہ یہ لوگ تقوی و پرہیز گاری زہد و ورع دین و ایمان میں اپنی مثال آپ تھے ان کو اللہ کے بارے میں لعنت ملامت کرنے والے کی کچھ بھی پرواہ نہیں تھی لہٰذا ان لوگوں کا بالاجماع حضرت ابوبکر صدیقؓ کو خلیفہ منتخب کرنا اس بات کی بین دلیل ہے کہ آپ برحق خلیفہ ہیں۔

2: حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے دوران خلافت نہ تو ان کی مخالفت کی نہ ہی ان سے جنگ و جدال کیا اور نہ ہی ان کے خلاف صف آرائی کے لئے کبھی کمربستہ ہونے کی کوشش کی حضرت علیؓ کے اس مؤقف سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یا آپ نے حضرت ابوبکرؓ سے جنگ و جدال کا معاملہ محض فتنہ و فساد کے ڈر سے ترک کر دیا۔

یا آپ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سامنے بے بس ولا چار تھے۔

صفحہ 17 از 24