شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 18 از 24

یا آپ کو علم تھا کہ حق حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ ہے۔

یہ بات تو ناممکن ہے کہ سیدنا علیؓ نے ان کی مخالفت محض اس لئے ترک کی کہ انہیں فتنہ وفساد اور خانہ جنگی کا خطرہ تھا کیونکہ جب ان کی امیر معاویہ سے جنگ ہوئی تو صحابہ کرامؓ  کی ایک بہت بڑی تعداد اس جنگ کی نذر ہو گئی، یہ حضرت علیؓ ہی تھے جنہوں نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنھما سے جنگ کی حتیٰ کہ حضرت عائشہؓ سے بھی اس بنیاد پر جنگ ہوئی کہ آپ کو یقین تھا میں حق پر ہوں۔ یہ بات بھی ناممکن ہے کہ آپ حضرت ابوبکر کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے اور عاجز محض تھے کیونکہ جن لوگوں نے امیر معاویہؓ کے زمانے میں آپ کی مدد کی تھی وہ تمام کے تمام سقیفہ کے موقع پر حضرت ابوبکر کو خلیفہ منتخب کرنے کے دن اور شوریٰ کی مجلس کے دن سب کے سب حالتِ ایمان پر قائم تھے اگر ان کو اس بات کا علم ہوتا کہ حضرت علىؓ حق پر ہیں تو وہ سارے کے سارے صحابہؓ حضرت ابوبکرؓ کے خلاف حضرت علیؓ کی مدد کرتے کیونکہ سیدنا امیر معاویہؓ کے مقابلہ میں حضرت ابوبکرؓ سے جنگ وجدال کرنا آسان تھا۔ یہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت علیؓ کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ حق حضرت ابوبکرؓ ہی کے ساتھ ہے اور حضرت ابوبکرؓ کی موجودگی میں خلافت و امامت کا کسی کو حق نہیں پہنچتا۔

سوال: 78 شیعوں کا دعویٰ ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ کافر اور مرتد تھے۔ اس دعویٰ کی بنیاد پر حضرت علیؓ اور ان کے صاحبزادے حضرت حسنؓ کی ذات بھی اس دعویٰ کی زد میں آتی ہے۔ کیونکہ شیعوں کے اس دعویٰ کی بنیاد پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ بھی مرتدین سے مغلوب ہو گئے تھے اور حضرت حسنؓ نے مرتدین سے عاجز آ کر زمام حکومت انہیں کو سونپ دی تھی۔

جبکہ تاریخی صفحات شاہد ہیں کہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے عہد خلافت میں مرتدین سے باقاعدہ جنگ لڑی اور ان کی سرکوبی کر کے انہیں حق کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ کفار کے مقابلہ میں حضرت خالدؓ کے لئے اللہ کی جو مدد آئی، اس میں حضرت خالدؓ، حضرت علیؓ سے زیادہ خوش نصیب محسوس نہیں ہوتے ہیں؟ کیونکہ انہیں مرتدوں پر فتح نصیب ہوئی تھی شیعہ کے مطابق حضرت علیؓ کی مرتدین مراد حضرت امیر معاویہؓ سے جو جنگ ہوئی اس میں حضرت علیؓ عاجز اور بے بس نظر آئے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف سے کام لینے والا ہے اور اس نے حضرت خالدؓ اور حضرت علی میں سے کسی پر بھی ظلم نہیں کیا ہے۔ لہذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت خالدؓ کیوں کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حضرت علیؓ سے افضل قرار پاتے ہیں؟ بلکہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ بنی امیہ کی فوجوں نے کفار کے لشکروں کے لشکر کاٹ ڈالے اور ان کو فتح و نصرت حاصل ہوئی جب کہ حضرت علیؓ اپنے مد مقابل مرتدین کے مقابلے میں عاجز و بے بس رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: 

وَلَا تَهِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‏ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 39)

ترجمہ: (مسلمانو) تم نہ تو کمزور پڑو، اور نہ غمگین رہو، اگر تم واقعی مومن رہو تو تم ہی سربلند ہو گے۔

دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَلَا تَهِنُوۡا وَتَدۡعُوۡۤا اِلَى السَّلۡمِ‌ وَاَنۡـتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ‌ وَاللّٰهُ مَعَكُمۡ وَلَنۡ يَّتِـرَكُمۡ اَعۡمَالَـكُمۡ ۞ (سورۃ محمد آیت 35)

ترجمہ: لہٰذا (اے مسلمانو) تم کمزور پڑ کر صلح کی دعوت نہ دو۔ تم ہی سربلند رہو گے، اللہ تمہارے ساتھ ہے، اور وہ تمہارے اعمال کو ہرگز برباد نہیں کرے گا۔

بالآخر جب حضرت علیؓ، حضرت امیر معاویہؓ کو ان کے ارادے سے باز رکھنے یا اپنے ملک سے باہر نکال بھگانے میں ناکامی اور بے بسی کا شکار ہو گئے تو انہوں نے ان سے صلح کی پیش کش کی اور ان سے اس بات کا مطالبہ کیا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہے گا اور اپنے دائرے میں کام کرتا رہے گا۔ یہاں اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیعہ حضرات کے مطابق اگر حضرت علیؓ کے رفقاء مؤمن تھے اور امیر معاویہؓ کے ساتھی مرتد تھے تو اس کا حتمی نتیجہ یہ نکلتا ہے حضرت علیؓ کے اصحاب ہی غالب اور فتح یاب ہوئے ہوں اور ان کے مدمقابل لوگ ناکام و نامراد ہوئے ہوں جبکہ ایسا نہیں ہے۔

صفحہ 18 از 24