شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 19 از 24

سوال: 79 اگر ہم تعصب کی عینک اتار کر حقیقت کے آئینہ میں شیعہ حضرات کے عقائد کا مطالعہ کریں تو ہمیں اس بات کا بخوبی علم ہو جائے گا کہ شیعہ حضرات کے بس کی بات نہیں کہ وہ حضرت علیؓ کے ایمان و عدل کو ثابت کر سکیں جب ان کو خوارج وغیرہ کہتے ہیں کہ علی مؤمن نہیں بلکہ کافر اور ظالم تھے اس وقت تشیع کو اہل سنت بننا پڑتا ہے کیونکہ جو روایات سیدنا علیؓ کے ایمان پر شاہد ہیں انہی سے سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما کا ایمان ثابت ہوتا ہے۔ اگر شیعہ ان احادیث سے استدلال کریں جو حضرت علیؓ کے اسلام، ہجرت اور جہاد کے بارے میں حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں تو بالکل وہی احادیث خلفاء ثلاثہؓ کے ایمان ہجرت اور جہاد پر تواتر کے ساتھ دلالت کرتی ہیں بلکہ حضرت امیر معاویہؓ اور بنی امیه و بنی عباس کے خلفاء اسلام نماز روزے اور جہاد پر دلالت کرتی ہیں۔ اگر شیعہ خلفاء ثلاثہؓ میں سے کسی ایک کے بارے میں منافق ہونے کا دعویٰ کریں تو خارجی شخص کے لئے بھی اس بات کا پورا امکان ہے کہ وہ حضرت علیؓ کو منافقین کی صف میں شمار کرے۔ اس وقت اے شیعہ حضرات! تمہارا کیا جواب ہو گا تم کہاں سے اپنے عقیدہ کی صفائی پیش کرو گے؟ اور اگر شیعہ حضرات خلفاء ثلاثہؓ کے بارے میں کوئی شبہ یا شوشہ چھوڑتے ہیں تو خوارج کے پاس بھی بے شمار ایسے شبہات ہیں جو شیعہ حضرات کے شبہات سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہیں؟ اور اگر شیعہ حضرات اس دروغ کا سہارا لیں کہ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ دونوں ہی منافق اور نبی کریمﷺ کے دشمن تھے، اور ان دونوں نے نبی کریمﷺ کے دین کو حسب امکان بگاڑ ڈالا ہے تو خارجی کے لئے بھی اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ بھی حضرت علیؓ کے بارے میں یہی بات کہے کہ حضرت علیؓ اپنے چچازاد بھائی سے عداوت اور حسد رکھتے تھے کیونکہ زیادہ تر خاندانی لوگوں سے ہی عداوت اور حسد ہوا کرتا ہے گویا حضرت علیؓ دین اسلام کا قلع قمع کر دینا چاہتے تھے مگر نبی کریمﷺ کی زندگی میں ان کی ایک نہ چل پائی اور خلفائے ثلاثہؓ کے دور میں بھی ان کا بس نہ چل سکا اور جب وہ مجبور ہو گئے تو انہوں نے خلیفہ ثالث کے قتل کی سازش کی اور ان کو قتل کر کے فتنہ و فساد کی آگ بھڑ کا دی، گویا انہوں نے نبی کریمﷺ کے صحابہ اور امت محمدیہﷺ کی ایک بہت بڑی تعداد میں محض اپنے بغض و عدوات کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے قتل و غارت گری کے بازار کو گرم کر دیا۔ حضرت علیؓ منافقین کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے جو آپ کے بارے میں الوبيت اور نبوت کے دعوے رکھتے تھے اور آپ کے دل میں کچھ اور ہوتا تھا اور اظہار کچھ اور کرتے تھے گویا کہ آپ تقیہ پر عمل کرتے تھے اسی لئے باطنی لوگ آپ کے متبع اور پیروکار ہیں اور آپ کے محرم راز ہیں جو آپ سے باطنی قصے اور کہانیاں گھڑتے ہیں آپ کی طرف نسبت رکھنے کے جھوٹے دعویدار ہیں۔ اگر شیعہ حضرات حضرت علیؓ کے ایمان اور ان کی عدالت کو نص قرآنی سے ثابت کرنا چاہیں تو ان سے کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کا خطاب عام ہے اگر وہ حضرت علیؓ کو شامل ہو تو وہ ان کے علاوہ دوسروں کو آپ سے بڑھ کر شامل ہوتا ہے اور اگر حضرت علیؓ کے ایمان اور ان کی عدالت کا اس سے ثبوت فراہم ہوتا ہے تو اس سے کہیں زیادہ دوسرے لوگوں کے ایمان اور عدالت کے ثبوت اس میں موجود ہیں۔ قرآن کریم کی کسی بھی آیت کے شیعہ حضرات اکثر حضرت علیؓ کے ساتھ مخصوص ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس بات کا بھی پورا امکان موجود ہے کہ اسی آیت کو حضرات صحابہ کرامؓ یا اس جیسی دوسری آیت کو شیخین کے ساتھ مخصوص ہونے کا دعویٰ کیا جائے اور حضرات شیخین باری میں دعویٰ کسی تیسرے کے مقابلے میں زیادہ ممکن ہے۔ لہٰذا شیعوں کا دعوی ہی بے بنیاد ہے اور حضرات شیخین کے بارے میں اگر یہی دعویٰ کیا جائے تو قرین قیاس ہے اور اس کا امکان قوی ہے۔ اگر شیعہ حضرات یہ کہیں کہ اس کا ثبوت نقل روایت سے فراہم ہوتا ہے۔ ہمارا جواب یہ ہے کہ عقلی و نقلی روایات و آثار ان حضرات ثلاثہ کے بارے میں کہیں زیادہ بھی ہیں اور مشہور و معروف بھی ہیں اور اگر شیعہ اس بات کا دعویٰ کریں کہ یہ تواتر کے ساتھ منقول ہے تو ہم کہیں گے کہ حضرات ثلاثہ کے بارے میں تواتر مستند اور صحیح ترین روایات سے منقول ہے اور اگر شیعہ حضرات آثار صحابہ کرامؓ کو بنیاد بناتے ہیں تو حضرات ثلاثہ کے مناقب و فضائل کے بارے میں آثار صحابہ کی بہتات ہے جن کا شمار کرنا مشکل ہے۔

سوال: 80 شیعہ کا خیال ہے کہ حضرت علیؓ ہی سب سے زیادہ امامت کے حق دار تھے کیونکہ حضرت علیؓ کے فضائل اور مناقب باقی صحابہ کرامؓ سے کہیں زیادہ ہیں۔ تب ہم یہ کہیں گے کہ حضرت علیؓ کے مناقب و فضائل معلوم ہیں مثلاً اسلام میں سبقت لے جانا اور رسول اللہﷺ کے ساتھ جہاد کرنا اور علم وفضل اور زہد ورع ساتھ ہی ان کے علاوہ حسن و حسين، سعد بن ابی وقاص، عبد الرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن عمر اور ان کے علاوہ دوسرے مہاجرین و انصار کے فضائل بھی موجود ہیں۔

شیعہ نے علی الاعلان دروغ گوئی کے ذریعہ حضرت علیؓ کی خلافت ثابت کرنے کو درست سمجھا ہے تو ان لوگوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ حضرت امیر معاویہؓ کے لئے خلافت کی افضلیت کا ثبوت پیش کریں خواہ وہ دروغ گوئی اور تہمت ترازی کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو؟ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ‌ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا ۞ (سورۃ الاسراء: آیت 33)

ترجمہ: اور جو شخص مظلومانہ طور پر قتل ہو جائے تو ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔ چنانچہ اس پر لازم ہے کہ وہ قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یقیناً وہ اس لائق ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔

اس آیت کی رو سے حضرت امیر معاویہؓ کے ساتھی یہ کہیں گے کہ حضرت عثمان بن عفانؓ مظلومِ زمانہ ہیں اور حضرت عثمان غنیؓ کا خون بہا لینے میں اللہ تعالیٰ نے امیر معاویہؓ کی نصرت و مدد کی ہے۔

صفحہ 19 از 24