شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 24

چنانچہ نبی کریمﷺ نے عائشہ بنت ابی بکرؓ اور حفصہؓ بنت عمرؓ سے شادی کی اور یکے بعد دیگر اپنی دو بیٹیوں رقیہؓ اور ام کلثومؓ کا رشتہ تیسرے خلیفہ راشد عثمان بن عفانؓ کو دیا۔ دنیا آپؓ کو ذوالنورین کے لقب سے پکارتی ہے۔

آپؓ کے صاحبزادے ابان بن عثمانؓ نے ام کلثوم بنت عبداللہ بن جعفرؓ بن ابی طالب سے شادی کی۔ ام قاسم بنت الحسن بن الحسن بن علیؓ بن ابی طالب کی بیٹی مروان بن ابان بن عثمان کی زوجیت میں تھیں۔ زید بن عمرو بن عثمان کے عقد میں سکینہ بنت حسینؓ تھیں۔

ہم صحابہ کرامؓ میں سے صرف خلفائے ثلاثہؓ کے ذکر پر اکتفا کریں گے ورنہ خلفائے ثلاثہؓ کے علاوہ اور بہت سے صحابہ کرامؓ ہیں جن کا اہل بیت سے سسرالی تعلق تھا جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اہل بیت اور صحابۂ کرامؓ کا آپس میں رشتہ و ناطہ تھا۔ {دامادی و رشتوں کی تفصیل الدرالمنثور من تراث اھل البیت میں دیکھیں}۔

شیعہ حضرات کے معتمد علیہ مصادر و مراجع میں منقول ہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنے ایک بیٹے کا نام ، جو آپ کی بیوی لیلی بنت مسعود کے بطن سے تھا ابوبکرؓ کے نام پر رکھا تھا۔

حضرت علیؓ بنی ہاشم میں وہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے اپنے بیٹے کو اس نام سے موسوم کیا ہے۔{مقاتل الطالبین لابی الفرج الاصبھانی الشیعی صفحہ 91}

سیدنا حسنؓ بن علیؓ نے اپنے بیٹوں کے یہ نام رکھے تھے:

1: ابوبکر

2: عبدالرحمٰن

3: طلحہ

4: عبیداللہ

{التنبیہ والاشراف للمسعودی الشیعی: صفحہ 263}

علاوہ ازیں حسن بن حسن بن علی نے اپنے بیٹوں کو صحابہ کرامؓ کے ناموں سے موسوم کیا تھا۔{مقاتل الطالبین لابی الفرج الاصبھانی الشیعی}

موسیٰ کاظم نے اپنی صاحبزادی کا نام عائشہ رکھا تھا۔ اہل بیت رسول اللہﷺ میں کچھ لوگوں نے ازراہ محبت اپنی کنیت ابوبکر رکھی تھی اگرچہ انکا نام کچھ اور تھا، مثال کے طور پر زین العابدین بن علی  {کشف الغمۃ لاربلی صفحہ 26 جلد 3 نفس المصدر صفحہ 317 جلد 2}

 اور علی بن موسی الرضا

{مقاتل الطالبین لابی الفرج الاصبھانی الشیعی صفحہ 561ـ 526}

نے اپنی اپنی کنیت کو ابوبکر کے نام سے موسوم کر رکھا تھا۔

اب ہم ان لوگوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو عمرؓ کے نام سے موسوم کر کے پکارا تھا۔ ان میں بھی سر فہرست سیدنا علیؓ کا نام نامی آتا ہے ۔ آپؓ نے اپنے بیٹے کا نام عمر الاکبر رکھا تھا جو ام حبیب بنت ربیعہؓ کے بطن سے تھے باللف کے مقام پر اپنے بھائی حسینؓ کی معیت میں ان کی شہادت کا حادثہ پیش آیا اور سیدنا علیؓ نے اپنے دوسرے بیٹے کا نام عمر الاصغر رکھا تھا۔ ان کی والدہ کا نام الصہباء التغلبیہؓ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں طویل زندگی سے نوازا تھا اور انہوں نے اچھی خاصی زندگی پائی اور اپنے بھائیوں کی شہادت کے بعد ان کے صحیح وارث اور جانشین کہلائے۔{ملاحظہ ہو: الارشاد للمفید صفحہ 353، معجم رجال الحدیث للخوئی صفحہ 13 جلد 1، و مقاتل الطالبیین لابی الفرج صفحہ 83}

حضرت حسنؓ بن علیؓ نے اپنے دونوں بیٹوں میں سے ایک کو حضرت ابوبکرؓ اور دوسرے کو حضرت عمرؓ کے نام نامی اسم گرامی سے موسوم کر رکھا تھا۔ ( الارشاد للمفید صفحہ 194۔ منتہی الامال جلد 1 صفحہ 240. امۃ الطالب صفحہ 81) 

علی بن الحسینؓ بن علیؓ

 {الارشاد للمفید: جلد 2 صفحہ 155 کشف الغمہ:   جلد 2 صفحہ 201}

علی زین العابدین موسیٰ کاظم، حسین بن زید بن علی، اسحاق بن الحسن بن علی بن الحسینؓ، حسن بن علی بن الحسن بن الحسین بن الحسن نے اپنے آباؤ اجداد کی سنت کو زندہ رکھا اور اپنے بیٹوں کو خلیفۂ ثانی کے اسم گرامی سے موسوم کر کے ان سے اپنے تعلق کا ثبوت پیش کیا۔

ان کے علاوہ اسلاف کی ایک طویل فہرست ہے لیکن اندیشہ طوالت کے باعث ہم صرف اہل بیت میں سے انہی متقدمین کے ذکر پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔{مزید تفصیل: مقاتل الطالبین، الدرالمنثور صفحہ 65۔ 69}

جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے اپنی بیٹیوں کا نام سیدہ عائشہؓ کے نام پر رکھ کر اہل بیت سے محبت کا ثبوت دیا ہے ان میں موسیٰ کاظم

{الارشاد صفحہ 302 الفصول الھمہ صفحہ 242، کشف الغمہ جلد 3 صفحہ 26}

اور علی بن الھادی کا نام نامی سرفہرست ہے۔{الارشاد المفید جلد 2 صفحہ 312}

یہاں پر ہم صرف ام المؤمنین عائشہؓ کے ذکر پر اکتفا کریں گے۔

 سوال: 6 کلینی نے کتاب الکافی میں ذکر کیا ہے کہ ائمہ علیہم السلام جانتے ہیں کہ وہ کب مریں گے اور جب مریں گے اپنے اختیار سے ہی مریں گے۔ {اصول الکافی للکلینی: جلد 10 صفحہ 258۔ الفصول الھمہ صفحہ 155}

مجلسی اپنی کتاب بحارالانوار میں ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ کوئی ایک امام ایسا نہیں ہے جو فوت ہوا ہو بلکہ ان میں سے ہر ایک مقتول ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوا ہے۔ ( بحار الانوار: جلد 43 صفحہ 364)

یہاں ہم شیعہ برداری سے پوچھنا چاہیں گے کہ اگر آپ کے امام علم غیب جانتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اس بات کا پتہ تھا کہ انہیں کھانے کے لیے دستر خوان پر کیا پیش کیا جارہا ہے لہذا اگر کھانے پینے کی چیز تھی تو یہ بات بھی ان کے سابقہ علم میں تھی کہ یہ کھانا زہریلا ہے جس سے بچنا چاہیے۔ علم کے باوجود ان کا اس کو کھانا اور اس کو کھانے سے پرہیز نہ کرنا تو خودکشی ہے کیونکہ انہوں نے جان بوجھ کر زہریلا کھانے سے اپنے آپ کو لقمۂ اجل بنایا ہے گویا وہ خودکشی کرنے والے ہوئے حالانکہ نبی کریم ﷺ نے اس بات سے متنبہ فرما دیا ہے کہ خودکشی کرنے والا آگ کا ایندھن ہے۔ کیا شیعہ حضرات اپنے ائمہ کے اس انجام سے راضی ہیں ؟

سوال: 7 سیدنا حسن بن علیؓ نے امیر معاویہؓ کے لیے خلافت سے ایسے موقع پر دستبرداری اور مصالحت کا اعلان کیا تھا، جس وقت ان کے پاس جان نثار بھی موجود تھے اور سیدنا امیر معاویہؓ سے جنگ جاری رکھنا بھی ممکن تھا۔ اس کے برخلاف آپؓ کے بھائی حسینؓ نے یزید کے خلاف اپنے چند اقارب کے ساتھ جنگ کو ترجیح دی۔ جبکہ باعتبار وقت، آپؓ  کے لیے نرمی اور مصلحت اندیشی کا پہلو اختیار کرنا زیادہ مناسب تھا۔

صفحہ 2 از 24