شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 20 از 24

سوال: 171 شیعوں کے مشہور عقائد میں سے عقیدہ طینة ہوچکا ہے! اس عقیدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شیعہ کو خاص مٹی سے پیدا کیا ہے اور اہل سنت والجماعت کو دوسری خاص مٹی سے پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص انداز سے دونوں مٹیوں کو ملا کر خلط ملط کردیا، لہٰذا اگر شیعوں میں کسی قسم کے معاصی و جرائم ہیں تو یہ سنی کی مٹی سے متاثر ہونے کی وجہ سے ہیں اور اہل سنت والجماعت میں جو بھی نیکی اور امانت داری ہے تو وہ شیعہ کی مٹی سے متاثر ہونے کی وجہ سے ہے، چنانچہ قیامت کے دن شیعوں کی نافرمانیاں اور ان کے کبائر و صغائر ذنوب اکٹھے کیے جائیں گے اور ان کو سنیوں کے اوپر لاد دیا جائے گا اور اہل سنت والجماعت کی نیکیاں اور ان کے اچھے اعمال جمع کئے جائیں گے اور وہ شیعہ کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے۔

شیعوں کے ذہن سے یہ بات محو ہو گئی کہ ان کے اس ایجاد کردہ عقیدہ کا ری ایکشن یہ ہے کہ یہ عقیدہ قضاء و قدر اور افعال عباد کے بارے میں ان کے مذہب کے عین منافی ہے کیونکہ اس عقیدہ کا تقاضہ یہ ہے کہ بندہ اپنے افعال کے اعتبار سے مجبور محض ہے اس کو کسی چیز کا اختیار نہیں ہے کیونکہ اس کے افعال کا تعلق اس مٹی سے ہے جس سے اس کی تخلیق ہوئی ہے جبکہ شیعوں کا مذہبی عقیدہ یہ ہے کہ بندہ اپنے فعل کا بذات خود خالق ہے جیسا کہ معتزلہ کا مذہب ہے۔

سوال: 172 علمائے شیعہ اثناء عشریہ اکثر وبیشتر حضرت علیؓ بن ابی طالب سے انصارِ صحابہؓ کی محبت اور تعلق قلبی کا بڑے جوش وخروش کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ وہ جنگ صفین کے موقع پر آپؓ (حضرت علیؓ) کی فوج میں شامل تھے مگر سوال یہ ہے کہ انصار نے حضرت علیؓ کو پہلا خلیفہ منتخب کیوں نہیں کیا اور خلافت حضرت ابوبکرؓ کے بجائے حضرت علیؓ کے ہاتھ میں کیوں نہ دی؟ آپ اس کا شافی و کافی اور تسلی بخش جواب ان کے پاس ہرگز نہ پائیں گے۔ 

جب ہم شیعوں کی ان کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہیں جو انصار صحابہ کرامؓ کی تعریف اور مدح سرائی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں جنہوں نے حضرت علیؓ کے شانہ بشانہ موقعہ صفین میں ساتھ دیا تھا بالکل یہی کتابیں حادثہ سقیفہ بنی ساعدہ کے بعد انہی صحابہ کرامؓ کو ارتداد اور انقلاب علی الاعقاب سے متصف کرتی دکھائی دیتی ہیں!

شیعوں کے نزدیک اصحابِ رسولﷺ کے لیے میزان نقد عجیب و غریب ہے۔ اگر صحابہ کرامؓ حضرت علیؓ کے مؤقف کی حمایت میں ہیں تو خیر الناس ہیں اور اگر کہیں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو حضرت علیؓ کے مؤقف کے خلاف ہیں یا انہوں نے اس نظریہ کے خلاف اپنی رائے پیش کی جو حضرت علیؓ کا نقطۂ نظر تھا۔ وہ بزعم شیعہ مرتد، مطلب پرست اور دو رخے ہیں۔

اگر شیعہ یہ کہیں کہ ہم نے اس گروپ کے صحابہ کرامؓ پر اس لئے ارتداد اور اسلام سے روگردانی کا حکم لگایا ہے کہ انہوں نے اس نص صریح کا انکار کیا ہے جو حضرت علیؓ کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہے، تب اس قسم کے خیال والوں سے میرا کہنا یہ ہے کہ کیا شیعہ اثناء عشریہ اس بات کا اقرار اور اعتراف نہیں کرتے کہ حدیث غدیر خم متواتر ہے اور سینکڑوں صحابہ کرامؓ نے اس حدیث کی روایت کی ہے؟ کہاں ہے وہ انکار جس کا تم دعویٰ کر رہے ہو تو میں حضرت علیؓ کی شان میں وارد نص کا انکاری کیسے ہوا۔

اگر یہ کہا جائے کہ صحابہ کرامؓ کے اس گروپ نے اس نص کے معنیٰ کا انکار کیا ہے تو ان کے جواب میں کہا جائے گا کہ کون سی ایسی شخصیت ہے جس نے اس بات کا تمہارے لئے تزکیہ پیش کیا ہے کہ تم نے حضرت علیؓ کے بارے میں وارد حدیث میں جو رائے اختیار کی ہے وہی مبنی برحق ہے؟ کیا تم اصحابؓ رسولﷺ سے زیادہ حدیث کی غرض وغایت اور اس کے مفہوم و مدعا کا ادراک رکھنے والے ہو۔ وہ اس روحانی اور نورانی مال کے پروردہ ہیں جس میں انہوں نے بنفس نفیس درس حدیث کو اپنے کانوں سے سنا ہے۔ کیا تم صحابہ کرامؓ سے زیادہ عربی زبان میں دسترس اور عبور رکھنے والے ہو۔ جس کی بنیاد پر تم فہم و ادراک کے اس مقام پر پہنچ گئے ہو جہاں تک (العیاذ باللہ) صحابہ کرامؓ کی بھی رسائی نہ ہوسکی۔

(ثم ابصرت الحقیقة، محمد سالم الخضر: صفحہ 291، 292)

سوال: 173 ہمارے سامنے دو فریق ہیں ایک فریق تو وہ ہے جو کتاب اللہ میں تحریف و تبدیلی کے وقوع پذیر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، ان میں سرفہرست نوری طبرسی کا نام آتا ہے جو کتاب المستدرک کا مؤلف ہے اس کتاب کو شیعوں کے نزدیک حدیث کی آٹھ اصولی کتابوں میں سے ایک گردانا جاتا ہے نوری طبرسی نے اس سلسلہ میں فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب کے نام سے کتاب تصنیف کی ہے اس میں قرآن اور اس میں تحریف کے واقع ہونے کے بارے میں بیان کرتا ہے اس کی عبارت یہ ہے! 

"قرآن کریم کے اندر تحریف کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ قرآن کریم کے بعض فقرات میں تو فصاحت و بلاغت اپنی اوج کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور بعض میں انتہائی گھٹیا پن ہے!"

سید عدنان بحرانی کہہ رہا ہے کہ قرآن کے بارے میں اخبار و نقول کی اتنی کثرت ہے جس کا بیان نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کی تعداد تواتر سے بھی آگے پہنچ چکی ہے اور اس کے نقل کرنے میں نہ ہی کوئی خاطر خواہ فائدہ ہے کیونکہ تحریف و تغییر کے بارے میں فریقین کی بیان بازی عام ہو چکی ہے اور صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ کے نزدیک مسلمہ حقیقت ہے اور فرقہ محققہ کا اس پر اجماع بھی ہے اور چونکہ یہ ان کے مذہب کی ضروریات میں سے ہے لہذا اس کے بارے میں ان کی اخبار وآراء کی بھرمار ہے۔

(مشارق الشموس الدریۃ: صفحہ 126) 

صفحہ 20 از 24