شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 21 از 24

یوسف البحرانی یہ کہہ رہا ہے کہ اخبار وآثار میں جو دلالت صریحہ اور واضح ہے اسی کو ہم نے بطور دلیل اختیار کیا ہے وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہے یہ چیز ہر اس شخص پر واضح ہے جو ہمارے اختیار کو دیکھے گا تو اسے شفاف دین کی جھلک نمایاں ملے گی، اگر ان مشہور ومعروف اور کثیر تعداد منتشر اخبار کو ہدف طعن بنایا گیا تو پھر شریعت کے تمام اصول و قواعد کو ہدف طعن بنانا ممکن ہوگا، کیونکہ اصول سارے کے سارے ایک ہی ہوا کرتے ہیں یعنی طرق روایات اور مشائخ رواة ایک ہی ہیں اور میری عمر کی قسم قرآن میں عدم تغییر و تبدیل کے قول سے ائمہ کے بارے حسن ظن کو ٹھیس نہیں پہنچتی اور یہ بات بھی اپنی جگہ پر ثابت ہو جاتی ہے کہ دوسری ضمنی قسم کی امانتوں میں خیانتوں کے ظہور کے باوجود جو کہ دین اسلام کے لئے بہت ہی ضرر رساں ہیں، انہوں نے امامت کبریٰ میں کسی طریقہ کی خیانت نہیں کی ہے۔

(الدرالنجفيه: ليوسف البحراني: مؤسسة آل البيت لاحياء التراث: صفحہ 298)

اس فریق کا قرآن کریم میں طعن کا واضح ہدف یہی ہے کہ اس قرآن کریم میں تحریف کو زور وشور سے ثابت کر دیا جائے۔

دوسرا فریق شیعہ اثناء عشریہ کا ہے یہ لوگ صحابہؓ کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ انہوں نے حضرت علیؓ کے بجائے خلافت حضرت ابوبکرؓ کو سونپ دی تھی۔

پہلا گروپ جس نے کتاب اللہ پر طعن بازی کی ہے ان کی طرف سے علماء شیعہ اثناء عشریہ معذرت کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ اتنا کہتے ہیں کہ ان سے لغزش سرزد ہو گئی ہے گویا ان لوگوں نے اجتہاد کیا اور تاویل کرنے کی کوشش کی اور ضروری نہیں کہ ہم ان کے اجتہاد ورائے سے اتفاق کریں۔ ہم اہل سنت والجماعت کو یہ بات سمجھ میں  نہیں آتی کہ کتاب اللہ کی حفاظت اور اسکی تحریف کا مسئلہ میدان اجتہاد کیسے بن گیا؟ اس مجرم کے قول میں کون سا اجتہادی نکتہ ہے؟ جس کا بیان ہے کہ قرآن کریم گھٹیا اور اس میں کم وزن آیات ہیں: اللہ کی قسم! یہ تو قیامت کبریٰ کے مترادف مصیبت ہے۔

تحریف کے قائلین علمائے شیعہ اثناء عشریہ کے نظریات ملاحظہ کریں:

سید علی میلانی اپنی کتاب عدم تحریف القرآن کے صفحہ 34 پر مرزا نوری طبرسی کی مدافعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ مرزا نوری طبرسی کا کبار محدثین میں شمار ہوتا ہے اور ہم ان کا احترام کرتے ہیں کیوں کہ وہ ہمارے اکابر علماء میں سے ایک ہیں ہم ذرہ برابر ان کے بارے میں گستاخی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس کا ہمارے لئے کسی صورت میں جواز پیدا ہوتا ہے مگر ان کا یہ مؤقف سراسر حرام ہے۔ بلاشبہ وہ ہمارے اکابر علماء میں محدث کبیر کہلاتے ہیں ذرا آپ شیعوں کی عبارت کے تضاد کو ملاحظہ فرمائیے۔ (ثم ابصرت الحقیقة: صفحہ 294)

ارشاد باری تعالی ہے:

اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِیَآءَ (سورۃ الاعراف: آیت 3)

ترجمہ: تم اس چیز کی اتباع کرو جو تمہارے رب کی جانب سے تمھاری طرف نازل کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سرپرستوں کی اتباع مت کرو۔

یہ آیت اللہ کے رسولﷺ کے سوا کسی دوسرے کی اتباع کے بطلان کے بارے میں نص صریح ہے لیکن شیعوں کے نزدیک امامت کا فرض ہونا ضروری امر ہے تاکہ امام اللہ تعالیٰ کی طرف سے وارد عہد و میثاق کے بندوں پر تنفیذ کا فریضہ انجام دیں۔ امام کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو دین کی ان چیزوں کی معرفت کروائیں جسے وہ چاہتے نہیں ہیں، جس دین کو نبی کریمﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علیؓ کو جب قرآن کریم کے ذریعہ فیصلہ کرنے کو کہا گیا اور انہیں اس بات کی خبر دی گئی کہ قرآن کریم حق ہے اگر علیؓ کا مؤقف درست ہے تو یہی ہمارا قول ہے اور اگر انہوں نے باطل کو قبول کیا ہے تو یہ آپ کی خوبی نہیں ہے۔ اگر قرآن کی تحکیم امام کی موجودگی میں جائز نہ ہوتی تو سیدنا علیؓ نے اسی وقت تردید کرتے ہوئے کہہ دیا ہوتا کہ تم قرآن کریم سے فیصلے کا کیسے مطالبہ کر رہے ہو جب کہ میں تو اللہ کے رسولﷺ کی طرف سے تبلیغ کی مہم جوئی کرنے والا امام موجود ہوں۔

اگر شیعہ یہ کہیں کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد ایک ایسے امام کی موجودگی ضروری ہے جو تبلیغ دین کا فریضہ انجام دے۔

اس کا جواب یہ ہو گا یہ قول باطل ہے اور یہ دعویٰ بلا دلیل ہے اور اس کی صحت کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ رسول اللہﷺ کا کلام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی ہے اور تمام اہل زمین تک پہنچایا جاچکا ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ وہ غیر مکلّف ہے اور اس کو پیغام رسالت نہیں پہنچ سکا ہے۔

اگر شیعہ حضرات یہ کہیں کہ جب تک یہ دنیا ہے اس وقت تک ہر زمانے میں ایک امام کی موجودگی ضروری ہے۔ تو یہ دعویٰ خود انکی زبانی باطل ہے کیونکہ دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو دور دراز علاقہ میں پائے جاتے ہیں اور زمین کے دوسرے کونے پر رہتے ہیں۔ ان کو امام کی بھنک تک نہیں لگی ہے وہ کیسے امام کی تعلیمات صادرہ سے مستفید ہوسکتے ہیں؟ کیونکہ اس کرۂ ارض پر باسی مشرق کے ہوں یا مغرب کے، فقیر ہوں یا ضعیف، عورت ہو یا مرد، مریض ہوں یا تندرست ان تمام کے تمام لوگوں کے لیے امام کا مشاہدہ کرنا ناممکن ہے! لہٰذا ان تک پیغامِ رسالت کی تبلیغ کی ضرورت ہے۔ 

یہاں یہ بات ثابت ہو گئی کہ امام کی جانب سے بھی تبلیغ ضروری ہے اور رسول اللہﷺ کی طرف سے تبلیغ کسی اور کی تبلیغ سے کہیں زیادہ موزوں اور افضل ہے یہ وہ جواب ہے جس سے وہ اپنا دامن کبھی بھی چھڑا نہیں سکتے۔ (الفصل فی الملل والنحل:جلد4،صفحہ 159 ،160)

صفحہ 21 از 24