شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 22 از 24

سوال: 174 خود شیعہ حضرات کے نزدیک بعض ایسی صحیح اور مستند روایات ہیں جو ان راویوں کی مذمت کرتی ہیں جنہوں نے اس قسم کی بے سروپا روایات گھڑی ہیں، جنہیں ان کا نام لے کر انہیں بُرا بھلا کہا گیا ہے مگر شیعوں کے مشائخ نے ان راویوں کے بارے میں مذمت کو قبول نہیں کیا ہے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ انہوں نے ان کے بارے میں وارد مذمت کو اگر قبول کر لیا تو وہ اہل سنت کے زمرے میں شمار ہونے لگیں گے اور اپنے شذوذ سے دست بردار قرار پا جائیں گے لہٰذا شیعوں کے مشائخ نے اس مذمت کا سامنا کرنے کے لیے تقیہ کا سہارا لیا ہے مگر یہ اس اشکال کا کوئی جواب نہیں ہے نہ ہی ان روایات کی توجیہ ہے بس یہ تو امام کے قول کے رد کرنے کا ایک چور دروازہ ہے مذہب شیعہ میں امام کی نص کا منکر کافر ہے۔

مذمت کے بارے میں نقاب کشائی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ان کے بارے میں بہت سی قابل عیب باتیں منقول ہیں، جیسے کہ ان کے علاوہ بہت سے جلیل القدر انصار اہل بیت اور ان کے ثقہ اصحاب کے بارے میں قابل مذمت بیانات موجود ہیں اور اس مذمت کا عمومی جواب یہ ہے کہ اس کے لئے تقیہ کو بطور علت استعمال کرنے کا عام رواج ہے۔

(الامام الصادق تالیف: محمد الحسین المظفر، صفحہ:178)

 مصنف لکھتا ہے کہ ان جیسے باعظمت لوگوں کو کیسے ہدف تنقید بنایا جاسکتا ہے کیوں کہ دین حق کا قیام اور اہلبیت کا مشن ان ہی کی دلائل سے غالب ہوا ہے، لہٰذا ان لوگوں کو کس بنیاد پر ہدف جرح وتعدیل بنایا جاسکتا ہے؟(نفس الموضع من المصدر السابق۔)

آپ ذرا اندازہ لگائیے کہ تقلید اہل تعصب کو کیسا اندھا بنا دیتا ہے؟ یہ لوگ ایک طرف لوگوں کی مدافعت کرتے ہیں جن کی ائمہ اہل بیت کی زبان سے مذمت صادر ہوئی ہے اور دوسری طرف یہ ان نصوص کی تردید بھی کرتے ہیں جو علمائے اہل بیت کی طرف سے ان پر طعن کی غرض سے ان سے ہوشیار رہنے کے بارے میں صادر ہوئی ہیں جن نصوص اور بیانات کو بذات خود کتب شیعہ نقل کرتی ہیں گویا وہ اپنے اس انداز سے اہل بیت کی تکذیب کرتی ہیں بلکہ ان عیاروں، مکاروں اور جھوٹوں نے جو کہا ہے اس کی تصدیق بھی کر رہے ہیں، یعنی ائمہ سے وارد ان کی مذمتوں اور برائیوں کو تقیہ پر محمول کرتے ہیں اور وہ اہل بیت کے ان اقوال کی اتباع نہیں کرتے ہیں جو اقوال امت کے علماء کے اقوال سے متفق ہوں بلکہ جو امت مسلمہ کے اعداء کے شانہ بشانہ چلنے اور ان کے اقوال و افعال کی پیروی میں ہوں، ان کو قبول کرتے ہیں جبکہ ائمہ کرام کے اقوال رد کرنے کے سلسلے میں تقیہ کا سہارا لیتے ہیں۔

سوال: 175 تواتر کے ساتھ ثابت ہے اور عوام وخواص میں سے کسی پر مخفی نہیں ہے کہ حضرت ابوبکرؓ و عمؓر و عثمانؓ کا نبی کریمﷺ سے بڑا عظیم اور خاص تعلق تھا اور تمام صحابہ کرامؓ میں سب سے زیادہ یہ لوگ نبی کریمﷺ کی صحبت اور قرب سے بہرور تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کا نبی کریمﷺ سے سسرالی رشتہ بھی تھا اور نبی کریمﷺ ان لوگوں سے بے پناہ محبت کرتے اور ان کی تعریف بھی کیا کرتے تھے۔ مذکورہ پیرایہ بیان سے دو ہی شکلیں اخذ کی جاسکتی ہیں: یا تو یہ لوگ نبی کریمﷺ کی زندگی اور آپﷺ کی موت کے بعد ظاہری اور باطنی طور پر راہ استقامت پر گامزن تھے یا یہ لوگ نبی کریمﷺ کی زندگی میں یا آپ کی موت کے بعد مذکورہ صورتحال کے برعکس راہ پرگامزن تھے۔ اگر یہ نبی کریمﷺ سے اتنا قریب ہونے کے باوجود استقامت کے علاوہ کسی صورتحال سے دو چار تھے، تب بھی دو صورتیں لازم آتی ہیں یا تو نبی کریمﷺ کو ان کے ذاتی حالات کا علم نہ تھا یا نبی کریمﷺ نے چشم پوشی اختیار کر رکھی تھی۔ ان دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو ان میں ہر ایک نبی کریمﷺ کی ذات کے لئے بڑی عظیم طعنہ زنی اور ہجو گوئی ہے کسی عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

فَاِنْ کُنْتَ لَا تَدْرِی فَتِلْكَ مُصِیْبَةٌ

وَاِنْ کُنْتَ تَدْرِی فَالْمُصِیْبَةُ اَعْظَمُ

"اگر تم صورتحال سے ناآشنا ہو تو یہ مصیبت ہے اور اگر آشنا ہو تو یہ مصیبت سے بڑھ کر مصیبت ہے۔"

اگر صحابہ کرامؓ استقامت کی راہ پر گامزن ہونے کے بعد انحراف کا شکار ہو گئے آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ دین کے منتخب اور چنیدہ لوگ مرتد ہو جائیں؟ ان الزامات کے ذریعہ شیعہ حضرات رسول اللہﷺ کی ذات کو داغ دار اور مجروح کرتے ہیں جیسا کہ امام ابو زرعہ الرازیؒ فرماتے ہیں:

 اس طریقہ سے ان لوگوں نے نبی کریمﷺ کی ذات پر طعنہ زنی کی کوشش کی ہے تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ آپﷺ کی ذات بڑی بری تھی لہٰذا آپﷺ کے اصحابؓ برے تھے اگر آپﷺ نیک وصالح ہوتے تو آپﷺ کے صحابہ کرامؓ بھی نیک وصالح ہوتے(نعوذ باللہ من ھذا البھتان العظیم

سوال: 176 سیدنا علیؓ کی بھی تکفیر و تفسیق بھی لازم آتی ہے، کیونکہ انہوں نے اللہ کے حکم آوری میں کوتاہی سے کام لیا ہے جس کی وجہ سے شریعت اسلامیہ کی بالادستی میں حرج پیدا ہوا اور ایک مدت تک شریعت اسلامیہ کا اسقاط لازم آیا بلکہ اس شریعت کو اس وقت تک باطل ٹھہرانا بھی لازم آتا ہے جب تک مرتد لوگ اس کو نقل کرتے رہے ہیں اور شیعوں کے اس الزام سے قرآن کے تقدس پر قدغن عائد ہوتی ہے کیونکہ قرآن کریم بھی تو ہم تک حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ وعثمانؓ اور ان جیسے جلیل القدر صحابہ کرامؓ کے واسطہ ہی سے پہنچا ہے یہی وہ خواب ہے جس کو شیعہ حضرات اپنے اس مقولہ سے شرمندہ تعبیر کرنے کے خواہش مند ہیں۔

سوال نمبر: 177 شیعوں کا کہنا ہے کہ امامت واجب اور ضروری امر ہے کیونکہ امام شرع اسلامی کی حفاظت و نگہداشت کرنے، مسلمانوں کو سیدھی راہ پر گامزن رکھنے اور احکامات اسلامیہ کمی وزیادتی سے حفاظت کے سلسلے میں نبی کریمﷺ کا نائب ہوتا ہے

(الشیعة فی التاریخ: صفحہ 44،45)

شیعوں کا کہنا ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے متعین امام کی تخت نشینی ضروری ہے کیونکہ اس عالم رنگ و بو کی ضرورت کا تقاضہ ہی یہی ہے کہ اس میں کسی قسم کا بگاڑ وفساد نہیں ہے لہٰذا امام کی تاج پوشی ضروری امر ہے۔(منھاج الکرامة  : صفحہ73،72)

صفحہ 22 از 24