شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 23 از 24

شیعوں کا یہ بھی کہنا ہے امامت کو اس لئے واجب قرار دیا گیا ہے کیونکہ لطف و عنایت کا مقام ہے اور واقعی یہ لطف و عنایت ہے کیونکہ اگر لوگوں کا کوئی قابلِ اطاعت ناصح و مربی قائد ہو گا تو وہ ظالم کو اس کے ظلم و زیادتی کے رویہ سے باز رکھنے کی کوشش کرے گا اور ان کو خیر کے کاموں کی رہنمائی کرے گا اور برائی و معصیت سے دور رہنے کی تلقین کرے گا لوگ نیکی اور اچھائی کے گرویدہ ہونے لگیں گے اور فتنہ و فساد سے دور تر ہوتے چلے جائیں گے تو یہی لطف و عنایت ہو گا۔(اعیان الشیعة جلد 1، 2 صفحہ 6)

شیعہ حضرات سے یہ کہا جائے گا کہ سیدنا علیؓ کے علاوہ تمہارے بارہ کے بارہ اماموں میں سے کسی کی بھی کسی منصب تک رسائی نہ ہوسکی، نہ تو ان کو دنیاوی امور میں کوئی سربراہی نصیب ہوئی اور نہ ہی دینی امور میں کسی کلیدی عہدے کی ذمہ داری ان کے ہاتھ آئی اور نہ ہی وہ ظالم کو اس کے ظلم سے روک سکے نہ ہی لوگوں کو خیر کے کاموں کی طرف موڑ سکے۔ آخر تم لوگ خوامخواہ کیوں خیالی دعوے کرتے ہو جو واقعاتی زندگی میں کبھی درپیش نہیں آئے اگر تم ذرا غور و خوض سے کام لو تو تمہاری سمجھ میں آ جائے کہ اس دعوے سے ائمہ کی امامت کا بطلان لازم آتا ہے اور مذکورہ قول ہی ان کی امامت کی نقیض ہے کیونکہ تمہارے قول کے مطابق انہیں اس مرتبے کا کبھی حصول نہ ہوسکا جس کا تم دعویٰ کرتے ہو۔

سوال: 178 نہج البلاغة میں ہے کہ: حضرت علیؓ اللہ کی بارگاہ میں اس دعا کے ذریعے مناجات کیا کرتے تھے:

اللّھُمَّ اغْفِرْلِی مَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّی فَاِنْ عُدْتُّ فَعُدْ عَلَیِّ الْمَغْفِرَةَ اللّھُمَّ اغْفِرْلِی مَا اَوَیْتُ مِنْ نَّفْسِی وَلَمْ تَجِد لَهُ وَفَاءً عِنْدِی اللّھُمَّ اغْفِرْلِی مَا تَقَرَّبْتُ بِهِ اِلَیْكَ بِهِ بِلِسَانِی ثُمَّ اَلَفَهُ فِی قَلْبِی، اللّھُمَّ اغْفِرْلِی رَمَزَاتِ الْاَلْحَاظِ وَسجقَطَاتِ الْاَلْفَاطِ، وَجَسَھَوَاتِ الْحِبَانِ وَھَفَوَاتِ اللِّسَانِ.

"اے میرے اللہ! میری مغفرت فرما جو کچھ تو میرے متعلق جانتا ہے اگر میں وہ گناہ دوبارہ کروں مغفرت کو مجھ پر دوبارہ فرما دے: اے میرے اللہ! میری مغفرت فرما اس چیز سے جس کا میں نے اپنے نفس سے وعدہ کیا تھا مگر میں ایفا نہ کر سکا، اے میرے اللہ! تو میری مغفرت فرما جس کے ذریعہ میں نے اپنی زبانی تیرا تقرب حاصل کیا تھا پھر وہ چیز میرے قلب میں جاگزیں ہو گئی اے میرے اللہ! میری نگاہوں کے اشاروں اور کنکھیوں کے کناروں اور الفاظ کی لغزشوں اور دل کی غلط خیالوں اور زبان کی غلطیوں کو معاف فرما۔"

(نھج البلاغة، شرح ابن ابی الحدید:جلد6،صفحہ 176)

مذکورہ الفاظ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ حضرت علیؓ اللہ کے حضور دست دعا دراز کر کے درخواست کر رہے ہیں کہ ان سے جانے اور ان جانے میں جو لغزشیں ہوگئی ہیں ان سے درگزر کا معاملہ فرمائے۔ اے شیعہ حضرات! حضرت علیؓ کی یہ دعا تمہارے اس دعوائے عصمت کے منافی ہے جس کا تم حضرت علیؓ کے لئے اثبات کرتے ہو۔

سوال: 179 شیعوں کا اعتقاد ہے کہ نبیوں میں سے کوئی ایسا نبی نہیں گزرا ہے جس نے سیدنا علیؓ کی ولایت کی دعا نہ کی ہو۔

(بحار الانوار: جلد 11 صفحہ 60 اور المعالم الزلغی: صفحہ 303) 

اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے حضرت علیؓ کی ولایت کا عہد و پیمان لیا ہے،(المعالم الزلغی، صفحہ 303) بلکہ شیعہ حضرات حضرت علیؓ کے بارے میں مبالغہ آرائی اور غلو کاری کر گئے ہیں حتیٰ کہ ان کے مذہبی شیخ طہرانی نے حضرت علیؓ کی ولایت کے بارے میں یہاں تک کہہ دیا ہے: "ان کی ولایت کو ہر چیز پر پیش کیا گیا جس نے آپؓ کی ولایت کو قبول کیا وہ چیز اچھی ہو گئی اور جس چیز نے آپؓ کی ولایت کو قبول نہ کیا وہ چیز فاسد اور خراب ہو گئی۔

(ودائع النبوة للطھرانی: صفحہ 155)

شیعہ حضرات سے کہا جائیگا کہ انبیاء کرامؑ کی دعوت کا محور توحید خالص تھی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ کی خالص عبادت کی جائے نہ کہ انبیاءؑ کی دعوت کا مرکز ولایت علیؓ کا اقرار تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْ اِلَیْهِ اَنَّهُ لَا اِلهَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ۞(سورۃ الانبیاء آیت 25)

ترجمہ: اور ہم نے آپﷺ سے قبل جو رسول بھیجے ان کی طرف بھی یہی وحی نازل کی کہ صرف میری عبادت کی جائے۔"

اگر سیدنا علیؓ کی ولایت واجب ہوتی تو تمام انبیاء علیہم السلام کے صحیفوں میں لکھی ہوئی ہوتی تو صرف شیعہ حضرات انفرادی طور پر اسے نقل کرتے نظر نہ آتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ولایت علیؓ کو شیعوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا ہے۔ اس ولایت کو کم از کم اہل کتاب کیوں نہیں جانتے ہیں؟ ان میں سے بے شمار لوگوں نے اسلام قبول کیا مگر انہیں اس ولایت کا پتہ تک نہ تھا اور نہ انہوں نے زبان سے اس کا تذکرہ ہی کیا۔ اس سے بھی ایک قدم آگے جائیں اس ولایت کو قرآن کریم میں کیوں نہیں لکھا گیا حالانکہ قرآن کریم تو تمام کتابوں کا محافظ اور نگران ہے؟

سوال: 180 شیعہ حضرات کی خدمت میں سوال یہ ہے کہ کیا ائمہ کرام نے متعہ کیا تھا؟ ان کے عقد متعہ کے ذریعے پیدا شدہ صاحبزادے کون سے ہیں براہ کرام ان کے اسمائے مبارکہ سے ہمیں آگاہ فرما دیں؟

سوال: 181 شیعہ حضرات کا کہنا ہے کہ ائمہ ماضی، حال اور مستقبل کا علم رکھتے ہیں۔ وہ علم غیبیہ میں سے ایک ایک چیز کی خبر رکھتے ہیں ان پر کوئی چیز مخفی نہیں ہوتی ہے اور حضرت علیؓ تو باب العلم، یعنی علوم ومعارف کا مخزن یا اس کا دروازہ ہیں۔ 

تو حضرت علیؓ مذی کے احکام سے ناآشنا کیوں تھے؟ وہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں ایک شخص کو اس کے متعلقہ احکامات دریافت کرنے کیلئے کیوں بھیجتے وہ نبی کریمﷺ سے اس سے متعلق احکامات معلوم کر کے انہیں اس سے آگاہ کرے؟

صفحہ 23 از 24