شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 24

مذکورہ صورت حال اس نتیجے سے خالی نہیں کہ دونوں بھائیوں میں سے ایک حق پر تھے اور دوسرے غلطی پر، یعنی اگر سیدنا حسنؓ کا لڑنے کی صلاحیت کے باوجو اپنے حق سے دستبرداری اختیار کرنا برحق ہے تو سیدنا حسینؓ کا مصالحت کا امکان ہوتے ہوئے اور طاقت و قوت سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے خروج کرنا باطل ہوگا اور اگر سیدنا حسینؓ کا کمزوری اور ناتوانی کے باوجود خروج کرنا برحق تھا تو سیدنا حسینؓ کا قوت کے باوجود مصالحت اختیار کرنا اور اپنے حق خلافت سے دستبردار ہونا باطل ہوگا۔

اس سوال کا شیعہ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے کیونکہ اگر وہ یہ کہیں کہ سیدنا حسنینؓ دونوں ہی حق پر تھے تو انہوں نے اجتماع ضدین کا ارتکاب کیا۔

اور اگر وہ حسنؓ کے فعل کے بطلان کی بات کرتے ہیں تو ان کے قول سے سیدنا حسنؓ کی امامت کا بطلان لازم آتا ہے اور ان کی امامت کے باطل ہونے سے ان کے والد سیدنا علیؓ کی امامت اور عصمت خودبخود باطل ہو جاتی ہے کیونکہ سیدنا علیؓ نے آپ کے بارے میں وصیت کی تھی اور شیعہ کے مطابق امام معصوم اپنے جیسے معصوم شخص کے لیے ہی وصیت کر سکتا ہے۔

اور اگر وہ سیدنا حسینؓ کے فعل کے بطلان کی بات کرتے ہیں تب بھی ان کے لیے مفر نہیں ہے کیونکہ ان کے اس قول سے سیدنا حسینؓ کی امامت و عصمت پر زد پڑتی ہے اور ان کی امامت اور عصمت کے باطل قرار پانے سے ان کے تمام بیٹوں اور ان کی ساری اولاد کی امامت اور عصمت باطل ہو جاتی ہے کیونکہ سیدنا حسینؓ کے دم سے ہی ان کی ذریت کی امامت و عصمت قائم ہے جب اصل کا بطلان ہو گیا تو فرع خودبخود باطل ہو گئی۔

 سوال: 8 شیعہ کے مشہور عالم کلینی نے اپنی کتاب (الکافی جلد 1 صفحہ 239) میں یہ روایت نقل کی ہے کہ ہم سے ہمارے کئی ساتھیوں نے ابوبصیر سے یہ روایت نقل کی ہے کہ میں ایک مرتبہ ابو عبد اللہ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے عرض کیا میں آپ علیہ السلام پر قربان جاؤں، دراصل میں آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہیں کوئی ہماری سرگوشی سن تو نہیں رہا ہے؟ کہتے ہیں کہ ابو عبداللہ علیہ السلام نے پردہ گرا دیا، پھر ابوبصیر کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا: کہ اے ابو محمد! اب تمہارے جی میں جو آئے پوچھو۔ میں نے کہا میں قربان جاؤں آپ پر ۔۔۔اس کے بعد آپ علیہ السلام نے تھوڑی دیر کے لیے سکوت اختیار کیا پھر فرمایا: ہمارے پاس مصحف فاطمہ علیھا السلام ہے اور ان کو کیا پتہ کہ مصحف فاطمہ علیھا السلام کیا ہے؟ ابو بصیر نے کہا میں نے استفسارکیا! مصحف فاطمہ علیھا السلام کیا ہے؟ فرمایا: یہ وہ مصحف ہے جس میں تمہارے اس قرآن سے تین گنا زیادہ مواد موجود ہے اور تمہارے قرآن کا اس میں ایک حرف بھی موجود نہیں ہے۔ ابوبصیر نے کہا میں نے کہا یہی تو علم ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا رسول اللہﷺ کو مصحف فاطمہؓ کی خبر تھی؟ اگر آپؓ کو مصحف فاطمہؓ کی خبر نہیں تھی تو آل بیت کو اس کی خبر کیسے پہنچی؟ حالانکہ آپﷺ تو اللہ کے رسول تھے؟ بالفرض نبی کریمﷺ کو اس کی خبر تھی تو آپ نے اس کو اپنی امت سے مخفی رکھا؟ جبکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

يٰۤـاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ‌۔۔(سورۃالمائدہ آیت 675)

ترجمہ: اے رسول! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ) تم نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔

سوال: 9 کلینی کی کتاب الکافی کے جزء اول میں ان ناموں کی ایک فہرست ہے جن کے واسطے سے شیعہ حضرات نے رسول اللہﷺ کی احادیث اور اہل بیت کے اقوال نقل کیے ہیں ان میں مندرجہ ذیل نام بھی ہیں۔

1: مفضل بن عمر، 2: احمد بن عمرالحلبی، 3: عمر بن ابان، 4: عمر بن اذینہ، 5: عمر بن عبدالعزیز، 6: ابراہیم بن عمر، 7: عمر بن حنظلۃ، 8: موسی بن عمر، 9: عباس بن عمر وغیرہ

ان تمام ناموں میں عمر ہے۔ خواہ وہ راوی کا نام ہے خواہ راوی کے باپ کا، بہرحال عمر ہر نام میں موجود ہے۔

آخر ان تمام لوگوں کا نام عمر کیوں رکھا گیا ہے؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان لوگوں کو حضرت عمرؓ سے محبت اور لگاؤ تھا۔

 سوال: 10 اللہ تعالیٰ اپنی کتاب محکم میں ارشاد فرماتے ہیں۔

وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيۡنَ۞  الَّذِيۡنَ اِذَآ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَالُوۡٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَ۞اُولٰٓئِكَ عَلَيۡهِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةٌ‌وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُهۡتَدُوۡنَ ۞(سورۃ البقرہ آیت 155 تا 157)

ترجمہ: اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ “ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں، اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں۔

وَالصّٰبِرِيۡنَ فِى الۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيۡنَ الۡبَاۡسِ  (سورۃ البقرہ: آیت 177)

ترجمہ: اور تنگ دستی تکلیف و جنگ کے وقت صبر سے کام لینے والے ہیں۔

حضرت علیؓ نے نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "اے نفس! اگر تجھے جزع و فزع اور نوحہ و ماتم سے نہ منع کیا گیا ہوتا اور آپﷺ نے صبر کی تلقین نہ کی ہوتی تو میں رو رو کر آنکھوں کا پانی خشک کر لیتا۔"

{نہج البلاغہ: صفحہ 576 اور مستدرک الوسائل: صفحہ 445 جلد 2}۔

یہ روایت بھی مروی ہے کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا ہے "جس نے مصیبت کے وقت اپنی رانوں پر ہاتھ مارا تو اس کا عمل ضائع اور برباد ہوئے گا۔{الخصال للصدوق صفحہ 612 اور وسائل الشیعہ جلد 3 صفحہ 270}۔

حضرت حسینؓ نے حادثۂ کربلا میں اپنی بہن زینبؓ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا میری پیاری بہن! میں تم کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں اگر میں قتل کر دیا جاؤں تو تم مجھ پر گریبان چاک نہ کرنا اور اپنے ناخنوں سے اپنے چہرے کو نہ چھیدنا اور میری شہادت پر ہلاکت و تباہی کی دہائی نہ دینا۔

صفحہ 3 از 24