شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 5 از 24

اس کے بالمقابل ہم دیکھتے ہیں کہ امام معصوم کی خلافت میں جن کی ولایت کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے رحمت بنایا ہے امت اسلامیہ کا شیرازہ منتشر ہو گیا اور خانہ جنگی کی آگ بھڑک اٹھی یہاں تک اعدائے اسلام، اسلام اور مسلمان کے خلاف کمربستہ ہو گئے۔ کیا امام معصوم کے دور کو اس طرح کی صورتحال کے تناظر میں رحمت سے تعبیر کیا جائے گا؟ آخر یہ کون سی رحمت ہے جس کا امام معصوم کی خلافت کے دوران وجود پذیر ہونے کا شیعہ حضرات دعویٰ کر رہے ہیں؟ کیا اس قسم کی کوئی باعث رحمت صورت حال ائمہ معصوم کے دور میں پیش آئی، اگر نہیں اور بالکل نہیں، تو پھر یہ شیعہ حضرات کس رحمت کے متقاضی ہیں؟

 سوال: 18 شیعہ کا دعویٰ ہے کہ امیر معاویہؓ کافر تھے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ حضرت حسنؓ بن علیؓ نے ان کے حق میں خلافت سے دست برداری کا اعلان کیا، حالانکہ حضرت حسنؓ امام معصوم ہیں لہٰذا یہاں پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے ایک کافر کے لیے خلافت سے دستبرداری کا اعلان کیا حالانکہ یہ چیز حسنؓ کی عصمت کے خلاف ہے یا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امیر معاویہؓ مسلمان ہیں، ان دو صورتوں میں ایک صورت کو بہرحال تسلیم کرنا ہے۔

 سوال: 19 کیا نبی کریم ﷺ نے تربت حسینیؓ پر سجدہ کیا ہے؟ جس پر شیعہ حضرات سجدہ کرتے ہیں؟

اگر شیعہ حضرات ہاں میں جواب دیتے ہیں تو ہمارا دو ٹوک جواب یہ ہے کہ اللہ کی قسم یہ جھوٹ ہے۔

اور اگر وہ نفی میں جواب دیتے ہیں تو ہم ان سے یہ کہنے کے مجاز ہیں کہ کیا تم رسول اللہﷺ  سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔

ہم یہاں اس بات کی طرف بھی اشارہ کر دیں کہ شیعہ کی روایات بتاتی ہیں کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہﷺ کی خدمت میں کربلا کی مٹی لائے تھے۔

 سوال: 20 شیعوں کا دعویٰ ہے کہ صحابہ کرامؓ رسول اللہﷺ  کی وفات کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور وہ پہلی کیفیت پر آ گئے تھے۔

ہمارا شیعہ حضرات سے سوال ہے کہ کیا اصحابِ رسولﷺ نبی کریمﷺ کی وفات سے قبل شیعہ اثناء عشریہ تھے، آپﷺ کی وفات کے بعد اہل سنت والجماعت ہو گئے تھے۔ یا لوگ نبی کریمﷺ کی وفات سے قبل اہل سنت والجماعت تھے اور بعد از وفات شیعہ اثنا عشریہ ہو گئے؟

کیونکہ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونے کو ہی انقلاب، تغیر اور تبدل کہا جاتا ہے۔

سوال: 21 یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حضرت حسنؓ حضرت علیؓ کے فرزند اکبر تھے۔ ان کی والدہ حضرت فاطمہؓ ہیں، شیعوں کے نزدیک حضرت حسنؓ ان افراد میں سے ایک ہیں جن کو اہل کساء ہونے کا شرف حاصل ہے .

(حدیث کساء کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریمﷺ ایک مرتبہ باہر تشریف لائے اور آپﷺ کے جسم پر کالی کملی کالے اون سے بنی ہوئی تھی، آپﷺ کے باہر آتے ہی حضرت حسنؓ تشریف لے آئے تو آپﷺ نے ان کو اپنی کملی میں داخل فرما لیا، اس کے بعد حضرت حسینؓ تشریف لے آئے تو آپﷺ نے ان کو بھی اپنی کملی میں داخل فرما لیا۔ اس کے بعد حضرت فاطمؓہ تشریف لے آئیں تو آپﷺ نے ان کو بھی اپنی کملی میں داخل فرما لیا، اس کے بعد حضرت علیؓ تشریف لائے تو آپﷺ نے ان کو بھی اپنی کملی میں داخل فرما لیا، پھر یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:

﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ (سورۃ الاحزاب: آیت 33)

"ترجمہ: اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے گھر والو! تم سے وہ ہر قسم کی لغو بات کو دور کر دے اور تمھیں خوب صاف کر دے۔"

(اخرجه مسلم في فضائل الصحابةؓ)

 ائمۂ معصومین میں بھی ان کا شمار ہوتا ہے۔ مذکورہ اعزازات میں حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ ہم مرتبہ ہوئے۔ 

ہمارا سوال یہ ہے کہ حضرت حسنؓ کی اولاد سے امامت کیوں ختم ہو گئی؟ جبکہ حضرت حسینؓ کی اولاد سے امامت کا سلسلہ جاری ہے۔ حالانکہ دونوں کی ماں ایک ہے۔ دونوں کا باپ ایک ہے اور دونوں نواسۂ رسولﷺ ہیں۔ حضرت حسنؓ کو حضرت حسینؓ پر ایک اعتبار سے فوقیت بھی حاصل ہے کہ آپؓ اپنے بھائی حضرت حسینؓ سے عمر میں بڑے ہیں اور امامت کے ان سے پہلے مستحق ہیں کیونکہ بڑے بیٹے کو فوقیت اور اولیت حاصل ہوتی ہے۔ کیا شیعہ حضرات کے پاس کوئی معقول اور تشفی بخش جواب ہے؟

سوال: 22 سوال یہ ہے کہ حضرت علیؓ بن ابی طالب نے نبی کریمﷺ کے مرض الموت کے ایام میں کسی ایک بھی  نماز میں عامۃ المسلمین کی امامت کا فریضہ انجام کیوں نہیں دیا؟ حالانکہ حضرت علیؓ آپﷺ کے بعد امام برحق ہیں؟ ایک باطل اعتقاد ہے کیونکہ لوگوں کی نماز میں امامت کرنا امامت صغریٰ کہلاتی ہے جو پیش خیمہ ہوتی ہے امامت کبریٰ، یعنی منصب خلافت کا۔

 سوال: 23 شیعہ حضرات کا کہنا ہے کہ ان کے بارہویں امام کی غار میں روپوشی کا سبب ظالموں کے ظلم سے خوف و دہشت ہے تو یہ بتایا جائے یہ روپوشی ابھی تک کیوں قائم ہے۔ حالانکہ وہ خطرہ، جس کے تحت آپ کے امام روپوش ہوئے تھے، تاریخ کے مختلف ادوار میں بعض شیعی حکومتوں کے قیام کی وجہ سے ٹل چکا ہے۔ مثال کے طور پر عبیدیوں، بویہیوں اور صفویوں کی حکومتیں آئیں اور اب دور حاضر میں ایرانیوں کی شیعی حکومت قائم ہے۔

 آپ کے بارہویں امام نکل کر منظر عام پر جلوہ افروز کیوں نہیں ہوتے؟ اس وقت شیعہ حضرات اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنی حکومت کی چھتری تلے ان کی بھرپور نصرت و حمایت کر سکتے ہیں کیونکہ اس وقت شیعہ حضرات کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں اور صبح و شام امام غائب پر اپنی روحوں کو قربان کرتے رہتے ہیں۔

سوال: 24 نبی کریمﷺ نے اپنی ہجرت کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اپنی مصاحبت کے لئے پسند فرمایا اور انہیں زندہ رہنے کے لیے باقی رکھا اور حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر موت اور ہلاکت کے سامنے پیش کر دیا۔ 

صفحہ 5 از 24