شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 6 از 24

سوال یہ ہے کہ اگر حضرت علیؓ امام وقت، وصی زمانہ اور خلیفہ متعین ہوتے تو کیا رسول اللہﷺ ان کو اس پر خطر موقع اپنے بستر پر چھوڑ کر مدینہ ہجرت فرماتے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کو محفوظ و مامون اپنے ساتھ ہجرت کے لئے منتخب فرماتے؟ اور اگر ایسا ہی ہوتا جیسا کہ شیعہ حضرات کا اعتقاد ہے تو آپﷺ حضرت علیؓ کے لیے یہ خطرہ مول نہ لیتے کیونکہ یہ ایک پرخطر مؤقف تھا۔ اگر خدانخواستہ حضرت علیؓ اس خطرے کی نذر ہو جاتے تو چونکہ وہ بقول شیعہ امام اور وصی اور اللہ کے مقرر کردہ خلیفہ اللہ فی الارض ہیں تو ان کے بدلے کون امامت کا حقدار قرار پاتا؟ اور اگر حضرت ابوبکرؓ اس خطرے کی نذر ہو جاتے تو امامت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور ان کی موت کے بعد سلسلہ امامت منقطع نہیں ہوتا۔ نبی کریمﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو اپنی مصاحبت کے لئے اختیار فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ شیعہ حضرات کا حضرت علیؓ کو امام حقیقی اور وصی اور اللہ کا مقرر کردہ خلیفہ کہنا سراسر بےبنیاد ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں میں اولیت کس کو حاصل ہے؟ اس شخص کو جس کو زندہ رکھنا مقصود ہے کہ اسے ایک کانٹا تک نہ چھبنے پائے یا اس کو جسے فراش موت پرخطروں اور موت کے لئے چھوڑ دیا جائے؟ اگر پھر بھی تم اس بات پر مصر ہو کہ حضرت علیؓ علم غیب جانتے تھے تو بستر پر رات گزارنے میں آپ کی کون سی افضلیت ہے؟

 سوال: 25 تقیہ صرف اور صرف خوف و ہراس کے سب کیا جاتا ہے۔ اور آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ خوف کی دوقسمیں ہیں: 

 اولاً: اپنی جان کا خوف جس سے مراد یہ ہے ایسا نازک مسئلہ در پیش ہو کہ اس میں جان جانے کا خطرہ ہو۔ 

اس قسم کا خوف ائمہ کرام کے حق میں دو وجوہات کی بنیاد پر مردود تھا۔ 

پہلی وجہ: تو ہے کہ ائمہ اثنا عشریہ کی موت تمھارے دعوے کے مطابق ان کے اختیار میں ہوتی ہے۔

دوسری وجہ: یہ ہے کہ بزعم شیعہ، ائمہ کرام کو جو ہونے والا ہے اور جو ہو چکا ہے، اس کا علم ہوتا ہے وہ اپنی موت سے باخبر ہوتے ہیں بالخصوص انہیں اپنی موت کی کیفیات اور اوقات کا بھی علم ہوتا ہے۔

جب ان کو اپنی موت کا علم ہے اور یہ بھی پتہ ہے کہ ان کو کب اور کس کیفیت میں موت آئے گی۔ موت سے قبل ڈرنے اور خوف کھانے کی کیا ضرورت ہے اور نہ ہی ان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ اپنے دین میں منافقانہ رویہ اختیار کریں یا عوام کو دھوکہ دیں۔ 

مصائب و آرام میں صبر سے کام لینا علماء کرام کا شیوہ ہونا چاہیے کیونکہ اہل بیت پر اپنے جدِ امجد نبی کریمﷺ کے دین کی نصرت و حمایت کی خاطر پر تحمل و صبر سے کام لینے کی پوری ذمہ داری کہیں زیادہ عائد ہوتی ہے۔

مذکورہ دونوں صورتوں میں تقیہ کی ضرورت کس لیے ہے؟ 

 سوال: 26 شیعہ حضرات کا اہم ترین عقیدہ ہے کہ امام معصوم کو منصب خلافت پر فائز کرنا واجب ہے تاکہ وہ تمام شہروں اور دیہاتوں سے عدل و انصاف کا رویہ رکھے اور ظلم و استبداد کا قلع قمع کر دے۔

سوال یہ ہے کہ کیا تمہارا کہنا یہ ہے کہ دنیا کے ہر ہر شہر اور ہر ہر گاؤں میں، ایک معصوم کا وجود لازم ہے جو لوگوں سے ظلم و زیادتی کو دور کرتا ہے۔

اس صورت میں تمہیں جواب دیا جائے گا کہ یہ سراسر ایک سینہ زوری ہے۔ کیا بلاد کفر مشرکین اور نصاریٰ میں بھی امام معصوم رہے ہیں؟

 پھر تمھیں کہا جائے گا کہ کیا اس کے نائبین تمام شہروں میں موجود ہیں یا بعض شہروں میں ہیں۔

 اگر تم کہو کہ وہ عالم رنگ و بو کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں پھیلے ہوئے ہیں تو پھر بھی تمھیں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بھی پہلی سینہ زوری ہے اس میں اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔

 اگر تم یہ کہو کہ اس کے نائبین بعض شہروں اور بعض دیہاتوں میں ہیں۔ اس پر تم سے جواباً یہ کہا جائے گا کہ ان تمام شہروں اور دیہاتوں میں امام معصوم کی ضرورت ہے۔

 سوال: 27 شیعوں کے امام کلینی نے اپنی کتاب (الکافی) میں ایک باب باندھا ہے جس کا عنوان رکھا ہے:

"إِنَّ النِّسَاءَ لَا يَرِثن مِنَ الْعِقَارِ شَيْئًا "

" بے شک عورتیں زمین و جائیداد میں سے کسی چیز کی وارث نہیں ہیں"

 اس میں امام جعفر رحمۃاللہ کا فرمان روایت کیا ہے کہ عورتیں، زمین و جائیداد اور غیر منقولہ اشیاء میں سے کسی چیز میں بھی وراثت کا حق نہیں رکھتیں۔

(فروع الكافي، للكلينی جلد 7 صفحہ127)

طوسی نے"التهذيب (نفس المصدر جلد 9 صفحہ 254)

میں شیخ میسر کا قول نقل کیا ہے کہ میں نے ابو عبداللہ سے عورتوں کے بارے میں سوال کیا کہ ان کو میراث میں کیا استحقاق حاصل ہے؟ انہوں نے جواب دیا ان کے لئے میراث میں اینٹ، لکڑی، عمارت، بانس اور سرکنڈے کی قیمت میں سے حصہ کا استحقاق ہے جہاں تک زمین اور غیر منقولہ جائیداد کا تعلق ہے تو اس میں انہیں بطور میراث کچھ نہیں ملے گا۔

حضرت ابوجعفر رحمۃاللہ سے روایت فرماتے ہیں کہ عورتیں زمین اور جائیداد میں میراث کا حق نہیں رکھتی ہیں۔ حضرت عبدالملک بن اعین سے مروی ہے عورتوں کے لئے عمارت اور غیر منقولہ جائیداد میں بطور وراثت کوئی حصہ نہیں ہے۔

لہٰذا حضرت فاطمہؓ کا کوئی حق نہیں رہتا کہ وہ رسول اللہﷺ کی میراث سے اپنے حق کا بھی مطالبہ کریں ان روایات کے مطابق شیعہ کے بقول جو کچھ رسول اللہﷺ کی ملکیت میں تھا وہ امام کے لیے ہے چنانچہ محمد بن یحییٰ، امام ابو جعفر سے نقل کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو پیدا کیا اور زمین کی جاگیر ان کو دی تو رسول اللہﷺ اس کے وارث ہیں اور جو حصہ نبی کریمﷺ کا وہ آل محمدﷺ کے ائمہ کے لیے ہے۔

( اصول الكافى للكلینى كتاب الحجة باب ان الأرض كلها لإمام عليه السلام: جلد 1 صفحہ476)

رسول اللہﷺ کے  بعد امام اول شیعوں کے عقیدہ کے اعتبار سے حضرت علیؓ ہیں۔

صفحہ 6 از 24