شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 8 از 24

سوال: 35 شیعہ حضرات کا اعتقاد ہے کہ ان کے مہدی منتظر کا جب بھی ظہور ہو گا تو وہ آل داؤد کا طرز حکومت اپنائیں گے اور انہیں کی شریعت نافذ کریں گے!

ذرا بتایا جائے کہ اس وقت شریعت محمدیﷺ کہاں چلی جائے گی جو اپنے سے پہلی تمام شریعتوں کے لئے ناسخ ہے؟

 سوال: 36 جب شیعوں کے امام مہدی آئیں گے تو سوال یہ ہے کہ آتے ہی یہود و نصارٰی سے مصالحت کیوں کریں گے اور عربوں اور قریشیوں کو تہہ تیغ کیوں کریں گے؟

کیا محمدﷺ قریش اور عرب میں سے نہیں ہیں؟اور تمہارے ائمہ بھی تمہارے کہنے کے مطابق عرب ہی ہیں۔

سوال: 37  شیعہ حضرات اعتقاد رکھتے ہیں کہ ائمہ کرام کی ماؤں نے ان کا حمل اپنے پہلوؤں میں رکھا ہے اور رحم مادر میں ان کی تکوین نہیں ہوئی بلکہ ان کی ولادت داہنی ران سے ہوئی ہے۔(اثبات الوصية المسعودى: صفحہ 196) 

  کیا محمدﷺ نبیوں میں افضل ترین نبی اور پوری انسانیت میں معزز و مکرم نہیں ہیں؟ ان کا حمل تو رحم مادر میں ٹھہرا اور ان کی ولادت بھی عمومی طبعی طریقہ پر ہوئی تھی۔ آخر شیعہ کے ائمہ کی ولادت پہلوئے مادر سے کیوں ہوتی ہے؟

سوال: 38 شیعہ حضرات ابو عبداللہ جعفر صادق رحمۃاللہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اس شریعت کا حامل ایسا شخص ہے جس کے نام پر اگر کوئی شخص نام رکھتا ہے تو وہ کافر ہے۔

(الانوار النعمانية: جلد 2 صفحہ 53)

 خود شیعہ حضرات ہی ابو محمد عسکری سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے امام مہدی کی ماں کو بشارت دیتے ہوئے کہا: 

"عنقریب تو ایک لڑکے سے حاملہ ہو گی جس کا نام محمد ہو گا اور وہی میرے بعد منصب خلافت پر فائز ہو گا۔

(الانوار النعمانيه: جلد 2 صفحہ 55)

کیا مذکورہ دونوں روایتوں میں تضاد اور تناقض نہیں ہے؟ ایک مرتبہ تو تم کہتے ہو کہ جو شخص اس شریعت کے حامل شخص کے نام پر نام رکھے گا وہ کافر ہو گا اور ایک مرتبہ تم کہتے ہو کہ خود حسن عسکری نے امام مہدی کا نام محمد رکھا ہے یہ کیسا تضاد ہے؟

 سوال: 39 عبد اللہ بن جعفر صادق، اسماعیل بن جعفر صادق کے حقیقی بھائی تھے۔ ان دونوں کی ماں ایک ہی تھیں جن کا نام فاطمہ بنت حسین بن علی بن حسینؓ بن علیؓ بن ابی طالب تھا۔

دونوں بھائی تمہارے مطابق سید ہیں، حسینی ہیں، بلکہ نجیب الطرفین ہیں، یعنی ان کا نسب باپ اور ماں دونوں کی طرف سے آل بیت رسول اکرمﷺ سے جا ملتا ہے۔

 سوال یہ ہے کہ سید عبداللہ بن جعفر کو اپنے حقیقی بھائی اسماعیل بن جعفر کی موت کے بعد منصب امامت سے کیوں محروم رکھا گیا؟

جو اپنے والد کی زندگی میں ہی انتقال کر گیا تھا۔

سوال: 40 کلینی نے اپنی کتاب الکافی میں احمد بن محمد رفعہ کے واسطہ سے ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت بیان کی ہے کہ تین چیزوں کے علاوہ کالے رنگ کو مکروہ قرار دیا گیا ہے 

1: موزے 2: عمامہ 3: کملی  

ان تینوں چیزوں میں کالے رنگ کے استعمال کی گنجائش ہے اس کے علاوہ اور چیزوں میں کالے رنگ کا استعمال مکروہ ہے

(کتاب الوسائل: جلد 3 صفحہ 278، فروع الکافی، للکلینی: جلد 6 صفحہ 449)

  ابو عبد اللہ علیہ السلام ہی سے مروی ہے رسول اللہﷺ تین چیزوں کے علاوہ کسی اور چیز میں کالے رنگ کا استعمال ناپسند فرماتے تھے 

1: موزوں میں  2: چادر یا شال میں  3: عمامہ میں

(کتاب الکافی طبع طہران سنہ: 131 جلد 2 صفحہ 205)

میں باب لبس السواد کے تحت نقل کیا ہے ناپسند رکھتے تھے تین چیزوں کے۔ البتہ اس میں چادر کا ذکر پگڑی پر مقدم ہے کہ

"إِنَّ النِّسَاءَ لَا يَرِثن مِنَ الْعِقَارِ شَيْئًا "

 الحر العاملی نے اپنی کتاب الوسائل میں الصدوق کے ذریعہ محمد بن سلیمان کے واسطہ سے مرسلا ابو عبداللہ علیہ السلام سے یہ روایت نقل کی ہے کہ آپ علیہ السلام سے میں نے پوچھا کیا میں کالی ٹوپی پہن کر نماز ادا کر سکتا ہوں؟

آپ علیہ السلام نے جواب دیا کالی ٹوپی پہن کر نماز مت پڑھو کیونکہ یہ جہنمیوں کا لباس ہے۔

(وسائل الشیعہ: جلد 3 صفحہ 281۔ الفقیہ جلد 2 صفحہ 232)

شیخ صدوق سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا: 

"کالا رنگ مت پہنا کرو کیونکہ یہ فرعون کا لباس ہے" 

اپنی سند کے ساتھ الوسائل میں حضرت حذیفہ بن منصور  سے نقل کیا ہے کہ میں ابو عبداللہ علیہ السلام  کے پاس "حیرة" میں موجود تھا۔ 

خلیفہ وقت کا قاصد ابو العباس پہنچا جو آپ کو بلانے آیا تھا، ابو عبداللہ علیہ السلام نے برساتی پہن رکھی تھی جو اون سے بنی ہوئی ہوتی ہے جسے بارش سے بچاؤ کے لئے پہنا جاتا ہے

(الکافی: جلد 2 صفحہ 205۔ الوسائل: جلد 3 صفحہ 279)

بلکہ شیعوں کی بعض روایات میں یہاں تک وارد ہوا ہے کہ کالا لباس بنو عباس کا لباس ہے جو ان کے اعداء میں سے تھے۔ 

صدوق کی کتاب ”فقیہ" میں ہے، کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریمﷺ کے پاس تشریف لائے اور وہ کالا چوغہ پہنے ہوئے اور سر پر ایک پٹکا باندھے ہوئے تھے۔ اس میں خنجر بھی لٹکا ہوا تھا۔ نبی کریمﷺ نے حضرت جبریل علیہ السلام سے پوچھا:"اے جبریل! یہ کیسا لباس ہے؟ جبریل علیہ السلام نے جواب دیا، آپﷺ کے چچا عباس کے صاحبزادے کا لباس ہے۔ چنانچہ آپﷺ اسی وقت حضرت عباس کے پاس تشریف لائے اور ان کو مخاطب کر کے ارشاد فر مایا ”میرے چچا جان! آپ کی اولاد میں میرے بچوں کے لیے ہلاکت ہے۔"

 انہوں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ! کیا میں اپنے اوپر غالب آ سکتا ہوں؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "قلم تقدیر چل چکا ہے۔ “بظاہر اس سے مراد اہل جہنم ہیں جیسا کہ بعض آثار میں وارد ہوا ہے کہ یہی وہ لوگ ہوں گے جو ہمیشہ ہمیشہ عذاب سے دو چار رہیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو فرعون اور ان جیسے لوگوں کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں گے اور جو بھی ان کی مشابہت اختیار کرے گا وہ سرکش اور باغی قسم کے گمراہوں میں شامل ہے جیسے کہ بنو عباس کے خلفاء وغیرہ ہیں، وہ اس امت مرحومہ اور امم سابقہ کے کفار و مشرکین کی قبیل سے ہوں گے جنہوں نے کالے لباس کو اپنا شعار بنایا ہو گا۔

(الفقیہ: جلد 2 صفحہ 252)

صفحہ 8 از 24