شیعہ سے 185 سوالات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ سے 185 سوالات

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 9 از 24

انہی روایات میں سے ایک وہ روایت بھی ہے جس کو شیخ صدوق نے (الفقیہ) میں اپنی سند کے ساتھ اسماعیل بن مسلم کے واسطہ سے حضرت جعفر صادق علیہ السلام) سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نبی کی طرف وحی نازل فرمائی اور اس میں اپنے نبی کریمﷺ کو حکم دیا کہ مؤمنین کو اس بات سے آگاہ کر دیں کہ وہ میرے دشمنوں کا لباس زیب تن نہ کیا کریں اور میرے اعداء کا کھانا نہ کھایا کریں۔ مجھ سے عداوت رکھنے والوں کی راہوں پر نہ چلا کریں۔ ورنہ تم بھی میرے ویسے ہی دشمن ہو جاؤ گے جسے وہ میرے دشمن ہیں۔

(وسائل الشیعہ: جلد 4 صفحہ 384۔ بحار الانوار: جلد 20 صفحہ 291، 28، 48)

کتاب عیون الاخبار میں حدائق میں موجود روایت کے موجب دوسری سند سے خبر نقل کرنے کے بعد حضرت علی بن ابی طالب کے واسطہ سے رسول اللہﷺ سے یہ فرمایا ہے ”میرے دشمنوں کا لباس کالا لباس ہے! دشمنوں کا کھانا نبیذ، نشہ آور چیزیں، جو کی شراب، گارا، جری نامی مچھلی، سانپ، زمیر نامی مچھلی اور وہ مچھلی جو مرنے کے بعد پانی کی سطح پر تیرنے لگے فرماتے ہیں کہ دشمنوں کا راستہ اختیار کرنا اپنی ذات کو متہم کرنے کا پیش خیمہ ہے۔ اسی طرح جام و مینا اور رقص و سرور کی محفلیں اور وہ مجالس جن میں ائمہ کرام علیہ السلام اور مؤمنین پر طعنہ زنی اور تہمت طرازی کی جاتی ہے اور فساق و فجار، مفسدین و ظالمین کی مجالس میں شرکت اپنی عزت و آبرو کو داغدار کرنے کا وسیلہ ہے۔

(عیون الاخبار: جلد 1 صفحہ 26)

یہ بحث کالا لباس پہننے کی مذمت میں ائمہ کرام کے اقوال پر مشتمل ہے اور جس سے عیاں ہے کہ کالا لباس شیعوں کے دشمنوں کا لباس ہے۔ لیکن اس کے باوجود شیعہ حضرات کالا لباس پہنتے ہیں۔ اس کو عزت واحترام کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔اس کو سادات کا نشان گردانتے ہیں بلکہ انہوں نے تو کالے لباس کو اپنے مذہب کا شعار بنا رکھا ہے، آخر ایسا کیوں ہے؟

سوال: 41 اگر کوئی شخص شیعہ بننا چاہے تو وہ شیعوں کے مختلف اور بے شمار فرقوں میں سے کس فرقہ کو اختیار کرے گا ؟ ان تمام فرقوں میں سے ہر فرقہ آل بیت رسولﷺ کی طرف اپنا انتساب کرتا اور امامت کا اقرار کرتا ہے۔ صحابہ کرامؓ سے بغض و عداوت کا اظہار کرتا ہے۔ ہر فرقہ حضرت علیؓ بن ابی طالب کی امامت کا اس طرح اقرار کرتا ہے۔ گویا یہ ان کے ایمان کا رکن عظیم ہے، ان میں سے ہر فرقہ یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ حضرت علیؓ کے پاس ہی اصل دین ہے۔

 سوال: 42 شیعہ حضرات جب بارہ ائمہ کی امامت کا اثبات کرتے ہیں تو ردائے مصطفیٰ حدیث سے کیسے استدلال کرتے ہیں؟

سوال ہے کہ (حضرت سیدہ فاطمہؓ) کا نام رداء حدیث میں صراحت کے ساتھ موجود ہے اس کے باوجود شیعہ ان کو اماموں کے زمرے سے خارج سمجھتے ہیں اور ان کو ائمہ کی فہرست میں ذکر کیوں نہیں کرتے؟

 سوال: 43 شیعہ حضرات دعویٰ کرتے ہیں کہ امامت کی شروط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ امام مکلف شرعی ہو یعنی بالغ اور عاقل ہو، اور یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ ان کے امام غائب کو محمد العسکری کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، کی امامت کا اثبات اس وقت ہی کر لیا گیا تھا جب وہ صرف پانچ سال یا تین سال کے تھے۔ یہ ان کے دستخط کردہ خطوط سے واضح ہوتا ہے۔ یہاں اس شرط کو کالعدم قرار دے کر ان کی امامت کو کیوں تسلیم کیا گیا ہے؟

 سوال: 44 کیا رسول اللہﷺ پر قرآن کریم کے علاوہ دوسری کتابوں کا بھی نزول ہوا ہے؟ جن کتابوں کو رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ کے لیے خاص کر دیا تھا؟

اگر تم کہتے ہو ایسا نہیں ہے تو تم مندرجہ ذیل اپنی روایات کا کیا جواب دینا پسند کرو گے:

(1) الجامعة:

حضرت ابوبصیر ابوعبداللہ علیہ السلام کے واسطے سے نقل کرتے ہیں کہ ابوعبداللہ علیہ السلام نے فرمایا میں محمد ہوں اور ہمارے پاس "الجامعہ" ہے اور تمہیں کیا پتہ کہ یہ الجامعہ کیا ہے؟ ابوبصیر کہتے ہیں میں نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے دریافت کیا: "میں آپ پر قربان جاؤں یہ بتلائیے کہ الجامعہ کیا ہے؟ ابو عبداللہ علیہ السلام نے جواب دیا وہ ایک صحیفہ ہے جس کی لمبائی رسول اللہﷺ کے ستر ہاتھ ہے جس کو آپﷺ نے اپنی زبان سے املا کرا دیا ہے اور حضرت علیؓ نے اسے اپنے داہنے ہاتھ سے لکھا ہے۔ اس میں حلال و حرام موجود ہے۔ اس میں ہر وہ بات موجود ہے جس کی لوگوں کو ضرورت در پیش ہو سکتی ہے یہاں تک کہ خراش کی دیت کا مسئلہ بھی (الکافی: جلد 1 صفحہ 239) ذرا اس جملہ پر غور وفکر کیجیے کہ اس صحیفہ میں ہر وہ بات موجود ہے جس کی لوگوں کو حاجت در پیش آسکتی؟ 

آخر صحیفہ کو پوشیدہ کیوں رکھا گیا ہے ہم کو اس صحیفے کی تعلیمات سے کیوں محروم رکھا گیا ہے؟ کیا یہ کتمان علم کے زمرے میں نہیں آتا؟ 

(2) صحيفة الناموس

 امام مہدی کی علامات میں یہ صراحت منقول ہے:

"ان کے پاس ایک صحیفہ ہو گا۔ جس میں قیامت تک کے جتنے بھی شیعہ ہوں گے ان کے اسماء درج ہوں گے اور ایک دوسرا صحیفہ ہو گا جس میں قیامت تک کے جو بھی ان کے اعداء ہوں گے ان کے نام درج ہوں گے (بحار الانوار: جلد 25 صفحہ 117)۔

ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ یہ کون سا صحیفہ ہے جو اتنی ضخامت کا حامل ہو گا۔ جس میں قیامت تک کے شیعوں کے نام درج ہوں گے؟

 اگر اس میں عصر حاضر کے صرف ایرانی شیعوں کے نام لکھے جائیں تو اس کے لئے کم از کم ایک سو جلدیں درکار ہوں گی۔ چہ جائیکہ پوری دنیا میں آنے والے شیعوں کی فہرست لکھی جائے یہ ایک ناممکن بات ہے ۔ عقل سلیم اس کو تسلیم کرنے کے لئے ہرگز ہرگز تیار نہیں ہے!!

 (3) صحيفة العبيطة

امیرالمؤمنینؓ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم! میرے پاس ایسے بہت سے صحیفے ہیں۔ جن میں رسول اللہﷺ اور اہل بیت رسولﷺ کی جاگیریں، عطیات، صلہ رحمی اور قطع تعلقی کے واقعات ہیں۔ اس صحیفہ میں ایک ایسا صحیفہ ہے جس کو (العبيطة) کہا جاتا ہے۔ عربوں کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی چیز باعث مصیبت نہیں ہے۔ اس میں ایسے ساٹھ عرب قبائل کا ذکر ہے جنہوں نے ناحق خون خرابہ کیا ہے ان کا اللہ کے دین سے کوئی تعلق نہیں ہے

 (بحار الانوار: جلد 26 صفحہ 37)

صفحہ 9 از 24