Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ لڑکی سے سنی لڑکے کا نکاح


شیعہ لڑکی سے سنی لڑکے کا نکاح

سوال:(1) لڑکا سنی ہے، اور شادی شدہ ہے۔ اور لڑکی سنی ہے۔ دوسری شادی شیعہ لڑکی سے کرنی ہے۔ اور لڑکی کے ماں باپ کا ارادہ ہے کہ شیعہ طریقے سے نکاح ہو، ان کے سماج میں دکھاوے کیلئے وہ شیعہ طریقے سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، ان کے نکاح کے بعد اگر لڑکا سنی طریقے سے اپنے گھر پر نکاح کر لیوے تو ان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

(2) لڑکی سنی طریقہ اختیار کرنے کو راضی ہے، صرف والدین کو راضی کرنے کیلئے وہ شیعہ طریقے سے نکاح کرنے کو کہہ رہی ہے۔

(3) اگر شیعہ طریقے سے نکاح کرتے ہیں تو اسلام سے خارج ہوتے ہیں یا نہیں؟

(4) اگر شادی کے بعد لڑکی شیعہ مذہب میں رہے اور لڑکا سنی مذہب میں رہے تو اس کیلئے مذہبی اعتبار سے کیا رائے ہے؟

جواب:(1) شیعوں اور روافض میں بہت سے فرقے ہیں، اور عقائد بھی مختلف ہیں۔ جو لوگ سیدنا علیؓ کو (معاذ الله) خدا سمجھتے ہیں اور خدا تعالیٰ جل شانہ کے ساتھ قدرت وغیرہ میں شریک مانتے ہیں، جن کا عقیدہ ہے کہ حضرت جبرائیلؑ نے وحی لانے میں غلطی کی، سیدنا علیؓ کے بجائے حضور اکرمﷺ کو وحی پہنچائی ہے، اور جو سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں اور جو لوگ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے صحابی ہونے کا انکار کرتے ہیں :وغیر ذلک: کفریہ عقائد رکھنے والوں کو فقہائے کرامؒ نے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ اور جن کے عقائد کفر تک نہ پہنچے ہو، مبتدع اور گمراہ ہیں۔

سوال میں جس لڑکی کا ذکر ہے وہ کس عقیدہ کی ہے؟ اور کس گروہ سے تعلق رکھتی ہے اس کا جاننا مشکل ہے۔ اس لئے جب تک لڑکی شیعی یا رافضی عقیدے سے تائب ہو کر اہلِ سنت و الجماعت میں شامل نہ ہو جائے اور سنی طریقہ سے شادی کرنا منظور نہ کرے اس سے نکاح نہ کیا جائے۔

چنانچہ عقائد الاسلام میں ہے کہ شیعہ کو کیا ہوا ہے کہ حضور اکرمﷺ کے صحابہؓ جن کی خوبیاں قرآن میں مذکور ہے اور ان کا ثبوت یقینی ہے کو بُرا کہتے ہیں۔ اور طرح طرح کے عیوب ان میں ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ان کی دشمنی کو اور ان پر لعن طعن کرنے کو اپنا ایمان بنا رکھا ہے۔ حضور اقدسﷺ کے چچا سیدنا عباسؓ اور ان کے بیٹے سیدنا عبداللہؓ کو اور حضور اکرمﷺ کی بیویوں کو کیا کیا عیب لگاتے ہیں، اور کیسے کیسے نالائق کلمات ان کی شان میں لکھتے ہیں۔ اور اگر کوئی کسی ادنٰی شخص کی بیوی کو ایسا کہے تو وہ اس کا کبھی منہ بھی نہ دیکھے۔ لیکن، افسوس صد افسوس ہے ان مسلمانوں پر جو ایسے ملعون لوگوں سے محبت رکھتے ہیں اور ان سے شادی بیاہ کرتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں سے بھی آنحضرتﷺ ناراض ہوں گے اور ان کو حوض کوثر سے ہانکیں گے۔

(2) اگر لڑکی اپنے عقائد باطلہ کی بنا پر کافرہ ہو گی تو اس سے نکاح کرنا حرام ہے۔ اور حرام کو حلال سمجھنے والا اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، اور اگر ایسے عقائد نہیں ہیں تو خارج نہ ہو گا۔ لیکن شیعہ طریقہ پر نکاح کرنے میں اس طریقہ کی تعظیم اور اپنے طریقہ اسلام اور جماعت کی تحقیر کا جرم عائد ہو گا۔

(3) اگر لڑکی کے عقائد کفر کی حد تک نہیں پہنچے ہیں تو جائز ہے :مع الكراهت: لیکن شرعی مصلحت کی بنا پر اس کی اجازت نہ ہو گی۔

(4) قرآن کریم میں اہلِ کتاب سے نکاح کرنے کی اجازت موجود ہے۔ لیکن شرعی مصلحت کی بناء پر سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کی مخالفت فرما دی۔ چنانچہ سیدنا حذیفہؓ نے جواب میں لکھا کہ: کیا کتابیہ سے نکاح حرام ہے؟ جواب میں سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے لکھا کہ: حرام تو نہیں کہتا لیکن اس اندیشہ کی وجہ سے اجازت نہیں دیتا کہ تم ان عورتوں کے پھندے میں پھنس جاؤ۔

تقریباً یہی واقعہ کسی قدر وضاحت کے ساتھ امام محمدؒ نے کتاب الآثار میں نقل فرمایا ہے : یعنی امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ نے حضرت حمادؒ سے روایت کیا ہیں کہ سیدنا حذیفہؓ نے مدائن میں یہودی عورت سے نکاح کیا تو سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے ان کو لکھا کہ اس کو چھوڑ دو۔ سیدنا حذیفہؓ نے لکھا: یا امیر المؤمنین! کیا یہودیہ (کتابیہ) سے نکاح حرام ہے؟ سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے جواب میں لکھا کہ میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ تم میرا یہ خط (ہاتھ سے) نہ رکھو اس سے پہلے کہ اس کو چھوڑ دو (یعنی پہلے اس کو چھوڑ دو، پھر خط ہاتھ سے رکھو) اس لئے کہ مجھ کو اندیشہ ہے کہ لوگ تمہاری پیروی کریں گے، اور ذمی عورتوں کے ساتھ نکاح کریں گے ان کی خوبصورتی کی وجہ سے، اور یہ مسلمان عورتوں کے واسطے بہت بڑا فتنہ ہو گا۔ امام محمدؒ نے فرمایا کہ اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں۔ ہم یہودی عورت سے نکاح کو حرام نہیں کہتے لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ مسلمان عورتوں کو ان پر ترجیح دی جائے، اور یہی قول امام اعظم امام ابوحنیفہؒ کا ہے۔

(فتاویٰ رحیمیه جلد 8، صفحہ 187)