Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نوار بنت مالک حضرمیہ کا موقف

  ابو شاہین

 یہ اس خولی بن یزید کی بیوی ہے جسے عمر بن سعدؒ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر دے کر عبیداللہ بن زیاد کے ساتھ بھیجا تھا۔ جب خولی سر مبارک لے کر کوفہ پہنچا تو قصر امارت کا دروازہ بند ہو چکا تھا، چنانچہ وہ سر مبارک کو گھر لے گیا اور اسے ٹب کے نیچے رکھ دیا، پھر جب وہ اپنی بیوی کے پاس گیا تو اس نے پوچھا، کیا خبر لے کر آئے ہو؟ اس نے جواب دیا، یہ حسین کا سر ہے جو تیرے گھر میں تیرے پاس رکھا ہے۔ وہ کہنے لگی، تیرے لیے ہلاکت ہو، لوگ سونا اور چاندی لے کر آئے ہیں اور تو نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سر لے کر آیا ہے، ہرگز نہیں ، تیرا اور میرا سر ایک گھر میں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ (تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 385)

 یہ خاتون عرصہ دراز تک اپنے خاوند کا انتظار کرتی رہی، پھر جب انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں، تو وہ ایسی خبر لے کر آیا جس نے اس کی زندگی کو مکدر کر دیا، وہ تو اس بات کی آس لگائے بیٹھی تھی کہ اس کا خاوند ایسی خوش کن خبریں لے کر آئے گا جو اسے خوش کر دیں گی۔ یہ درست ہے کہ اس کے خاوند کی صحیح و سالم واپسی اس کے لیے بڑی خوبصورت اور دل آویز خبر تھی، اگر وہ خالی ہاتھ بھی آتا تو بھی اسے اس کے آنے کی خوشی ہوتی مگر وہ تو اپنے ساتھ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک لے کر آیا تھا، پھر اس نے اپنی بیوی کو بڑی خوشی کے ساتھ یہ خبر سنائی۔

یہ اس بات کی دلیل تھی کہ وہ اس پر راضی بھی ہے اور شاداں و فرحاں بھی۔ مگر کیا وہ اس سے خوش ہو سکتی تھی؟ اگر وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کو اپنے ساتھ لائے بغیر اسے یہ خبر سناتا تو اس کے حزن و ملال کے لیے یہی کچھ کافی تھا، مگر اس وقت اس کا کیا حال ہوا ہو گا جب وہ اس خبر کے ساتھ ان کا سر مبارک بھی اپنے ساتھ لے کر آ گیا۔ یہ خبر تو ہر بندۂ مومن کو غم ناک کر دینے والی اور اسے تڑپا دینے والی تھی۔ لہٰذا اس نے اپنے خاوند کے بستر کو چھوڑ دیا اور آئندہ کے لیے ایک گھر میں اس کے ساتھ نہ رہنے کی قسم اٹھا لی۔ 

(الامویون بین الشرق و الغرب: جلد، 1 صفحہ، 153)