آل حسین رضی اللہ عنہ اور پسران حسین رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ واپسی
ابو شاہینیزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خواتین اور دختران کو مدینہ منورہ روانگی کے لیے تیار ہونے کو کہا، پھر اس نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ان لوگوں کی روانگی کا سامان تیار کرو۔ خواتین نے اس سے جو بھی مطالبہ کیا اس نے ہر مطالبہ پورا کیا اور مدینہ منورہ میں ان کی ضرورت کی جملہ اشیاء فراہم کی۔ (الطبقات: جلد، 5 صفحہ، 397 تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 393) ان کی روانگی سے قبل یزید نے سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہما سے کہا، اگر تم ہمارے پاس رہنا پسند کرو تو ہمیں خوشی ہو گی مگر انہوں نے اس سے انکار کرتے ہوئے مدینہ منورہ جانے کو پسند کیا۔ یزید نے دوسرے پسران حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے ہاں قیام کرنے یا مدینہ منورہ واپس جانے میں کسی ایک چیز کے انتخاب کرنے کے لیے کہا، مگر انہوں نے مدینہ منورہ واپسی کو ترجیح دی۔ (منہاج: جلد،4 صفحہ، 559) دمشق چھوڑتے وقت یزید نے حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہما سے دوبارہ معذرت کرتے ہوئے کہا، اللہ تعالیٰ ابن مرجانہ (عبید اللہ) پر لعنت کرے، و اللہ اگر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ میرے پاس آتے تو وہ مجھ سے جس چیز کے خواست گار ہوتے میں وہی کرتا، اور جس طرح مجھ سے بن پڑتا انہیں ہلاکت سے بچا لیتا، اگرچہ اس میں میری اولاد میں سے بھی کوئی تلف ہو جاتا۔ مگر اللہ کو وہی منظور تھا جو تم نے دیکھا۔ تمہیں جس چیز کی ضرورت ہو مجھے لکھ بھیجنا۔
(تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ، 393)
یزید نے حکم دیا کہ آل ابی سفیان کے موالی میں سے ایک وفد آل حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ جائے، (الطبقات: جلد، 5 صفحہ، 397 مواقف المعارضۃ: صفحہ، 286) یہ تیس شہسوار تھے۔ یزید نے انہیں حکم دیا کہ مدینہ منورہ کے یہ مسافر جہاں چاہیں اور جب چاہیں سواریوں سے اتریں اور آرام کریں۔ انہیں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس نے ان کے ساتھ محرز بن حریث کلبی اور ایک دوسرے آدمی کو بھی بھیجا، ان دونوں کا شمار اہل شام کے فاضل لوگوں میں ہوتا تھا۔ ( الحجۃ فی بیان المحجۃ: جلد، 2 صفحہ، 525 اور 226 مواقف المعارضۃ: صفحہ، 286)
آل حسین رضی اللہ عنہ دمشق سے مدینہ منورہ پورے احترام سے پہنچے۔ یزید کے بارے میں ابن کثیر فرماتے ہیں : اس نے آل حسین رضی اللہ عنہ کی عزت کی، ان کی ہر گم شدہ چیز دوگنی کر کے واپس کی اور انہیں باعزت طریقے سے سواریوں پر بٹھا کر مدینہ منورہ پہنچایا، (مواقف المعارضۃ: صفحہ، 286) اور یزید کے گھر والوں نے ان کے لیے گریہ و زاری کی۔ (البدایۃ و النہایۃ نقلا عن مواقف المعارضۃ: صفحہ، 267)