قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ذمہ دار - دفاعِ اہلِ سنت |…

قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ذمہ دار

  ابو شاہین

صفحہ 2 از 3

ابنِ زیاد کے لیے ضروری تھا کہ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مطالبات کو تسلیم کر لیتا اور انہیں یزید کے پاس جانے کے لیے آزاد چھوڑ دیتا یا وہ جہاں بھی جانا چاہتے، ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کرتا اور خاص طور پر ان کے لیے کوفہ کا راستہ کھلا چھوڑ دیتا۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ، 297)

ابن صلاح اپنے فتاویٰ میں رقم طراز ہیں:

 ’’اصل بات یہی ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دینے والا جس کا نتیجہ قتل حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کی صورت میں سامنے آیا وہ ابن زیاد ہی ہے۔‘‘ (القید الشرید: صفحہ، 13)

یوسف العش رقم طراز ہیں:

 ’’ہمارے لیے یہ کہنا مناسب ہے کہ قتل حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا پہلا ذمہ دار شمر ہے اور دوسرا عبیداللہ بن زیاد۔‘‘ (الدولۃ الامویۃ: صفحہ، 172)

صحیح بات یہ ہے کہ اس دل فگار واقعہ کی پہلی ذمہ داری اور سب سے بڑا گناہ ابن زیاد کے کندھوں پر ہے، کیونکہ اس سارے واقعہ کے پیچھے اسی کا شیطانی دماغ کام کر رہا تھا اور اسی نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی پیش کش کو مسترد کیا تھا۔ تاریخ ہمیشہ اس کے اس فعل بد کی بڑی شدت کے ساتھ مذمت کرتی رہے گی اور اس پر بربریت و سرکشی کا التزام لگاتی رہے گی۔ 

(عبدالملک بن مروان و الدولۃ الامویۃ: صفحہ، 105)

امام ذہبی عبیداللہ بن زیاد کے ترجمہ کے آخر میں لکھتے ہیں، ’’اہل تشیع جب تک ابن زیاد اور اس جیسے دوسرے لوگوں پر لعنت نہ کریں ان کا دل ٹھنڈا نہیں ہوتا، مگر ہم اللہ کے لیے ان سے نفرت کرتے ہیں، ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں، مگر ان پر لعنت نہیں کرتے، ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔‘‘ (ایضاً)

3۔ عمر بن سعد بن ابی وقاص

قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری اپنے لشکر کے قائد عمر بن سعد پر بھی عائدہوتی ہے۔ یہ سلف کا بدترین خلف یا ایک عظیم باپ کا انتہائی گھٹیا بیٹا تھا، اس کے بعد قتل حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری اس کے لشکر پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے آل حسین رضی اللہ عنہ پر ترس کھائے بغیر اس کے ظالمانہ احکامات کی تعمیل کی، اس کے لشکر کے لیے اس واقعہ سے الگ رہنا یا حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کی صفوں میں شامل ہونا ممکن تھا، جیسا کہ اس کے پہلے قائد حر بن یزید نے کیا، جب انہوں نے دیکھا کہ ابن زیاد اور اس کے ساتھیوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی منصفانہ درخواست کو ردّ کر کے ظلم و زیادتی کا ارتکاب کیا ہے، تو وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے کیمپ میں چلے گئے اور آخر لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ (عبدالملک بن مروان و الدولۃ الامویۃ: صفحہ، 105)

ابن سعد شروع میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے نہیں نکلا تھا، بلکہ وہ چار ہزار جنگجوؤ ں کے ساتھ ’’دیلم‘‘ سے جنگ کرنے کے لیے روانہ ہو چکا تھا، جب ابن زیاد کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں اطلاع ملی، تو اس نے ابن سعد کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے کے لیے ان کی طرف بھیج دیا اور اس سے کہا، حسین کے ساتھ قتال کرو اور ادھر سے فارغ ہو کر دیلم کی طرف پلٹ جانا۔ ابن زیاد نے اسے ’’رے‘‘ کی امارت دے رکھی تھی، اس نے ابن زیاد سے اس بارے میں معذرت کی مگر ابن زیاد نے اسے ’’رے‘‘ کی امارت سے معزول کر دینے کی دھمکی دی تو وہ لوگوں سے مشورہ کرنے لگا، ان سب نے اسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑنے کے لیے روانگی سے منع کیا، اس کے بھانجے حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ نے اس سے کہا، ماموں ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کے خلاف مت اٹھیں، اگر آپ نے یہ کام کیا تو اپنے رب کی نافرمانی کریں گے اور قطع رحمی کے مرتکب ہو ں گے، اگر آپ اپنی دنیا، اپنے مال اور حکومت سے محروم ہو جائیں، تو یہ آپ کے لیے اس بات سے بہترہے کہ آپ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ناحق خون سے اپنے رب سے ملاقات کریں۔

 (انساب الاشراف: جلد، 3 صفحہ، 219 اور 220 حسن سند کے ساتھ)

 اس کے جواب میں ابن سعد نے کہا، میں ان شاء اللہ ایسا ہی کروں گا۔ مگر چونکہ اس کا نفس دنیا اور امارت کی محبت میں گرفتار تھا، اس لیے وہ خیرخواہوں کی نصیحت اور ڈرانے والوں کی ترہیب کے باوجود ایسا کرنے سے قاصر رہا۔ یہ کہنا بجا ہے کہ اس نے حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں سے جنگ سے بچنے کا کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی مگر اسے اس کی توفیق ارزاں نہ ہوئی۔ دنیا کی ہوس رکھنے والے لوگ دنیا کے حصول کے لیے مردان کار کی شہامت اور باعزت لوگوں کی مروّت کو بھی بھول جایا کرتے ہیں۔ بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لیے کھڑا ہونے کو بھی بھول جاتے ہیں اور اس امر کو بھی کہ ان کے ہر عمل کا مواخذہ ہو گا، بلکہ وہ تو دنیا کے نشے میں بدیہی امور کو بھی طاق نسیان پر رکھ دیتے ہیں ، وہ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ آخر دنیا کو فنا ہونا ہے، مقام و منصب کو زوال آنا ہے اور اقتدار و اختیار کا خاتمہ ہو کر رہنا ہے، ابن سعد کو غداروں اور خائنوں کے ناموں کی فہرست میں اپنا نام لکھوانے اور مجرموں اور ظالموں کے رجسٹر میں نام مندرج کروانے کی ضرورت نہیں تھی، اگر وہ اپنے مقام و منصب کی قربانی دیتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو قبول کر لیتا تو متاع دنیا سے اس کا جو حصہ مقرر تھا، وہ اسے مل کر ہی رہتا اور اللہ کے نزدیک نیک اور پارسا لوگوں میں شمار ہوتا۔

 (الامویون بین الشرق و الغرب: جلد، 1 صفحہ، 266)

4۔ یزید بن معاویہ

جہاں تک یزید کا تعلق ہے، تو ظاہر امر یہ ہے کہ اس نے قتل حسین کو ناپسند کیا، لیکن اس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو خروج سے منع کیا تھا، اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو خروج سے منع کیا جائے۔ جب آپ کا سر مبارک اس کے سامنے رکھا گیا، تو اس نے کہا، اللہ ابن مرجانہ پر لعنت کرے، میں قتل حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کے بغیر بھی تمہاری اطاعت سے راضی ہو جاتا،

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ، 678)

صفحہ 2 از 3