قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ذمہ دار - دفاعِ اہلِ سنت |…

قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ذمہ دار

  ابو شاہین

صفحہ 3 از 3

اللہ کی قسم! اگر ان کا صاحب میں ہوتا تو ان سے درگزر کرتا، مگر یزید کی طرف سے قتل حسین پر آہ و بکا کرنا اور ابن مرجانہ کو سب و شتم کرنا، اسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقا کے قتل کی ذمہ داری سے مکمل آزاد نہیں کرتا اور یہ اس لیے کہ وہ ابن زیاد کو واضح حکم دے سکتا تھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو قتل کرنے سے باز رہنا اور ان کے ساتھ حکمت اور عقل مندی پر مبنی رویہ اپنانا، تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی رشتہ داری اور قرابت داری کا پاس کیا جا سکے اور مسلمانوں کے دلوں میں ان کا جو احترام ہے اسے ملحوظ رکھا جا سکے۔

بہر حال ایک درجے میں قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری یزید پر عائد ہوتی ہے، اس لیے کہ وہ اس کے دورِ حکومت میں شہید ہوئے اور اس زمین پر ہوئے جس پر اس کی افواج کا قبضہ تھا۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تو عراق یا شام میں غیر ہموار راستے کی وجہ سے بکری یا خچر کی ذمہ داری بھی قبول کرتے تھے، لیکن اگر اس کے قاتل ان کے اپنے ہی لشکری ہوتے تو پھر کیا ہوتا؟ (الامویون بین الشرق و الغرب: جلد، 1 صفحہ، 265) قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یزید بن معاویہ کے دورِ حکومت پر رہتی دنیا تک سیاہ داغ رہے گا۔


صفحہ 3 از 3