کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 21 از 50

يقينا خدا صاحبان ايمان سے اس وقت راضی ہوگيا جب وه درخت کے نيچے آپ کی بيعت کررہے تھے پھر اس نے وه سب کچھ ديکھ ليا جوان کے دلوں ميں تھا تو ان پر سکون نازل کرديا اور انہيں اس کے عوض قريبی فتح عنايت کردی۔

٣۔مہاجرين لِلْفُقَرَاء الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ۔

يہ مال ان مہاجر فقراء کے لئے بھی ہے جنہيں ان کے گھروں سے نکال ديا گيا اور ان کے اموال سے انہيں دور کرديا گيا اور وه صرف خدا کے فضل اور اس کی مرضی کے طلب گار ہيں اور خدا اور رسول کی مدد کرنے والے ہيں يہی لوگ دعوائے ايمان ميں سچے ہيں۔

٤۔اصحابِ فتح

لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا

محمد الله کے رسول ہيں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہيں وه کفار کے لئے سخت ترين اور آپس ميں انتہائی رحم دل ہيں تم ان کوديکھو گے کہ بارگاه احديت ميں سرخم کئے ہوئے سجده ريز ہيں اور اپنے پروردگار سے فضل وکرم اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہيں کثرت سجود کی وجہ سے ان کے چہروں پر سجده کے نشانات پائے جاتے ہيں۔

دوسری قسم:
بزم رسالت ميں کچھ افراد ايسے بھی تھے جنہيں پيغمبر خداﷺکی مصاحبت تو حاصل ہوئی تھی مگر وه يا تو منافق تھے يا پھر ان کے دل ميں مرض تھا قرآن مجيد نے پيغمبر اسلامﷺ کے لئے ايسے افراد کی حقيقت کو نماياں کيا ہے اور آنحضرتﷺ کو يہ تاکيد کی ہے کہ ان سے محتاط رہيں۔ يہاں پر ہم اس سلسلے ميں نازل ہونے والی آيتوں کے چند نمونے پيش کرتے ہيں:
 ١۔معروف منافق صحابہ

إِذَا جَاءكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ

اے پيغمبر! يہ منافقين آپ کے پاس آتے ہيں تو کہتے ہيں کہ ہم گواہی ديتے ہيں کہ آپ الله کے رسول ہيں اور لله بھی جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہيں ليکن لله گواہی ديتا ہے کہ يہ منافقين اپنے دعوے ميں جھوٹے ہيں

 ٢۔غير معروف منافق صحابہ

وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى النِّفَاقِ لاَ تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ

اور تم لوگوں کے گرد، ديہاتيوں ميں بھی منافقين ہيں اور اہل مدينہ ميں تو وه بھی ہيں جو نفاق ميں ماہر اور سرکش ہيں تم لوگ ان کو نہيں جانتے ہو ليکن ہم خوب جانتے ہيں۔

 ٣۔دل کے کھوٹے صحابہ 

وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُؤُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ

اور جب منافقين اور جن کے دلوں ميں مرض تھا يہ کہہ رہے تھے کہ خدا اور رسول نے ہم سے صرف دھوکا دينے والا وعده کيا ہے۔

٤۔گناه گار

وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِہِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَی اللهُ نْ يَتُوبَ عَلَيْہِمْ نَّ اللهَ غَفُور رَحِيم

اور دوسرے وه لوگ جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کيا کہ انہوں نے نيک اور بد اعمال مخلوط کردئيے ہيں عنقريب خدا ان کی توبہ قبول کر لے گا وه بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔
ایمان لائے پھر کافر ،دوبارہ ایمان لائے اور دوبارہ کافر ہونے والے صحابہ

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا

جو لوگ ایمان لائے اور پھر کفر اختیار کرلیا پھر ایمان لے آئے اور پھر کافر ہوگئے اور پھر کفر میں شدید و مزید ہوگئے تو خدا ہرگز انہیں معاف نہیں کرسکتا اور نہ سیدھے راستے کی ہدایت دے سکتا ہے ۔

قرآن مجيد کی آيات کے علاوه پيغمبر اکرمﷺ سے بھی بعض صحابہ کی مذمت ميں بہت سی روايات نقل ہوئی ہيں ان ميں سے ہم صرف دو روايتوں کو بطور نمونہ پيش کرتے ہيں :

١۔ابوحازم،سہل بن سعد سے نقل کرتے ہيں کہ پيغمبر خداﷺ نے ارشاد فرمايا :

''أنا فرطکم علیٰ الحوض مَن ورد شرب و مَن شرب لم يظمأ أبداً و ليردنّ علّ أقوام أعرفھم و يعرفونن ثم يحال بين و بينھم.''

صفحہ 21 از 50