حضرت عمرؓ کتاب وسنت کے مطابق عمل نہیں کرتے تھے کہ جنبی کیلئے تیمم جائز نہ جانا. (فقہ عمر از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی)
زینب بخاریحضرت عمرؓ کتاب وسنت کے مطابق عمل نہیں کرتے تھے کہ جنبی کیلئے تیمم جائز نہ جانا.
(فقہ عمر از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی)
(الجواب اہلسنّت)
تیمم کے مسئلہ پر ایک واقعہ پیش آیا حضرت عمارؓ اور حضرت عمرؓ سفر میں تھے حضرت عمرؓ نے جنابت کی حالت میں تیمم کرنا جائز نہ سمجھا اور حضرت عمارؓ نے پورا جسم مٹی لت پت کر لیا، ان دونوں حضرات کا مسئلہ بارگاہ نبویﷺ میں پیش ہوا تو رحمت عالمﷺ نے دونوں کی اصلاح فرما دی اور بحالت جنابت تمیم کو جائز قرار دے دیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے حضرت عمرؓ سے مذکورہ روایت نقل کر کے روایت کی غلطی خود بیان فرما دی ہے کہ اس اجتہاد پر کلام ہے کیونکہ جب حضرت عمارؓ نے یہ واقعہ بیان کیا تو حضرت عمرؓ نے اس کی تصدیق کر دی تھی ، لہذا حضرت عمرؓ کی تصدیق کر دینے کے بعد بھی حضرت امیر المؤمنین فاروق اعظمؓ کے قول سابق کی بنا پر اعتراض دھرنا معترض کے خبث باطن کی دلیل ہے، ورنہ حضرت عمرؓ کا دامن اسے الزام سے پوری طرح پاک ہے۔
مزید یہ کہ کتاب میں کسی مسئلہ کا لکھا جانا محض اس لئے نہیں ہوتا کہ اب بھی ان کا عمل یہی ہے بلکہ زندگی کے تمام کاموں اور اعمال کو نقل کرتے ہوئے قدیم جدید تمام اعمال لکھے جاتے ہیں، حضورﷺ نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے 17 مہینے سے زیادہ نماز ادا کی تو اس سابق عمل کی بنا پر یہ لکھ دینا لیا درست ہو گا کہ قرآن پاک کے حکم کے برعکس حضورﷺ نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے؟ حق یہ ہے کہ بے شک آپﷺ نے قبلہ بیت المقدس کو بنایا مگر جب علم ربانی نازل ہوا تو وہ قبلہ چھوڑ کر بیت اللہ کی طرف منہ کر لیا گیا حضرت عمرؓ کو جب اس مسئلہ کی وضاحت معلوم ہوگئی تو اس حکم نبوی پر وہ بھی عمل پیرا ہو گئے اور بحالت جنابت پانی کے نہ ہونے کا استعمال پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں تیمم کو جائز سمجھنے لگے