شیعہ عقیدہ رجعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ عقیدہ رجعت

  مولانا غلام محمد

صفحہ 1 از 5

شیعہ عقیدہ رجعت

(رجعت کا مطلب ہے کہ مرنے کے بعد قیامت سے پہلے دنیا میں واپسی)

لفظ رجعت کے معنیٰ اور مفہوم، شیعوں کا عقیدۂ رجعت نص قرآن و سنت و حدیث کے خلاف ہے۔ اس کے لیے چند دلائل یہ ہیں:

شیعہ کے عقیدہ رجعت پر اہلسنت علماء نے بالکل کم خیال آرائی کی ہے حالانکہ یہ عقیدہ بھی شیعہ اثناء عشریہ (بارہ اماموں کو معصوم اور انبیاء سے افضل ماننے والے شیعہ) کے مخصوص عقائد میں سے ہے اور قرآن و سنت کے صریحاً خلاف ہے۔

کیا کِیا جائے سنی علماء شیعوں کے کن کن عقائد پر لکھیں! شیعوں کا کون سا عقیدہ ہے جو قرآن و سنت کے موافق ہے؟ اس مذہب کے ایجاد کرنے والوں کا مقصد ہی اسلام دشمنی تھی لہٰذا اس کی نہایت مؤثر صورت ان لوگوں کو یہ نظر آئی کہ وہ قرآن کریم کے اولین مخاطبین و مبلغین، عینی گواہوں اور عاملین قرآن یعنی حضورﷺ کے مقدس ساتھیوں صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کو غیر معتبر، مفاد پرست، مرتد و کافر قرار دے کر قرآن و سنت کی صحت کا انکار کریں(نعوذ باللہ)۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اس انکار کرنے کے بعد ان کے لیے راستہ بالکل آسان ہوگیا اور انہوں نے اسلام کے خلاف اسلام کے نام سے ہر چیز خود بنا کر ائمہ کی طرف منسوب کر کے میدان میں لائی ہے جس کا قرآن و سنت سے کوئی واسطہ نہیں ہے "رجعت" کا عقیدہ بھی ان میں سے ایک ہے۔

لفظ رجعت کا معنیٰ واپسی ہے۔

(فیروز اللغات: صفحہ 455) 

شیعہ مذہب کے اس اصطلاحی لفظ کے مفہوم اور اس کے اطلاق کی وسعت آپ شیعوں کی اصلی روایات سے سمجھ سکیں گے جو کہ آگے آئیں گی، مجھے یہاں پر صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ شیعہ مذہب کے عقیدہ رجعت کا مطلب ہے کہ شیعوں کا ایک فرضی اور خیالی غائب امام زمان( غائب مہدی) بھی ہے جس کے لیے وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آج سے تقریباً ایک ہزار ایک سو اسی سال پہلے وہ شخص پیدا ہو کر چار پانچ برس کی عمر میں قتل کے خوف سے ایک غار میں غائب ہو گیا۔ جب وہ غار سے برآمد ہوگا تو اسی وقت اس دنیا میں قیامت سے پہلے ایک قیامت قائم کرے گا اس میں رسول اللّٰہﷺ، سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ، حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ اور دیگر تمام ائمہ کرام اور تمام شیعہ اپنی قبروں سے باہر نکل آئیں گے۔

بعد ازاں سب سے پہلے اس شخص کی حضورﷺ بیعت کریں گے بعد میں حضرت علیؓ اور دیگر ائمہ حضرات اور شیعہ اس سے بیعت ہو کر اس کی فرمانبرداری کا عہد کریں گے۔

یعنی بیعت کرنے والے مرید ہیں اور جس کی بیعت کی جا رہی ہے وہ مرشد ہے اور افضل ہے تو گویا حضورﷺ سے شیعہ کا امام مہدی جسے بارہواں امام کہتے ہیں افضل ہوا۔ نعوذباللہ

یہ ہے ان کا امام غائب مہدی ہے جس کا تذکرہ آپ نے شیعوں کے ذاکروں سے سنا ہوگا اور اس وقت ایران میں اسی نام کی باز گشت ہے۔

بقول شیعہ اس کے بعد غار سے برآمد شدہ یہ شخص یعنی امام زمان (غائب مہدی) اماموں اور شیعوں کے دشمنوں حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرفاروقؓ، سیدنا عثمان ذوالنورینؓ اور حضورﷺ کی ازواج مطہراتؓ میں سے سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور دیگر تمام وہ صحابہ کرامؓ اور سنی مسلمان جو اس دنیا میں ان حضرات سے محبت رکھتے ہوں گے ان سب کو قبروں سے زندہ کر کے باہر حاضر کرے گا۔

پھر یہ امام زمان اللّٰہ کا عادل خلیفہ حضرت علیؓ کے جمع کردہ قرآن کے واضح احکامات اور شیعوں کے اہم عقیدہ عدل کے مطابق اس طرح ایک اعلیٰ ترین عدل کی مثال قائم کرے گا کہ جو اس دنیا کے روز اول سے لے کر فیصلہ کے دن تک دنیا میں جو کچھ گناہ صغیرہ اور کبیرہ ہوئے ہوں گے یعنی کفر، ارتداد، ناحق قتل وغیرہ جو بھی گناہ ہوئے ہوں گے ان سب گناہوں کا ذمہ دار دو اشخاص حضرت ابوبکر صدیقؓ و عمرفاروقؓ کو بنا کر ان کو سزا دے گا اور بار بار سزا دے گا اور حضورﷺ کی ازواج مطہراتؓ میں سے سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو بھی امام زمان عام لوگوں کے سامنے سزا دے گا( نعوذ باللّٰہ)۔

یہ ہے شیعوں کے عقیدہ رجعت کا خلاصہ اور اس کے اہم نکات

اب آئیے ہم دیکھیں کہ کیا اس عقیدہ رجعت یعنی قیامت قائم ہونے سے پہلے اس دنیا کے چلتے ہوئے بھی اور کوئی قیامت واقع ہوگی؟ کیا اس کا ذکر قرآن و سنت میں ہے؟ تو اس کے لیے اگر حقیقت کو دیکھا جائے تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ شیعوں کے عقیدے امامت کا بھی جب قرآن و سنت میں کہیں اس کا ذکر نہیں بلکہ یہ عقیدہ صرف شیعہ علماء و مجتہدین کا خود ساختہ ہے تو پھر اس عقیدہ رجعت کا قرآن و سنت میں کہاں ذکر ہوگا بلکہ یہ دونوں عقیدے شیعوں کی طرف سے خود ساختہ جھوٹ ہیں جن کا حقیقت میں قرآن و سنت اور اسلام سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں۔

قرآن کریم میں سینکڑوں آیات ہیں جن میں قیامت کا ذکر موجود ہے۔ اسی طرح احادیث کی کتابیں بھی قیامت کے ذکر سے بھری پڑی ہیں جن کے ذکر کی اس تحریر میں گنجائش نہیں ہے۔

قرآن کریم اور احادیث رسولﷺ کے مطابق قیامت کی حقیقت میں دو باتیں آجاتی ہیں۔

1: اس موجودہ عالم کا مکمل طرح فنا ہو جانا

2: عالم آخرت کا وجود میں آجانا

ان دونوں واقعات کو اللہ تعالیٰ نے "نفختین" یعنی دو مرتبہ صور پھونکنے سے وابستہ کر دیا ہے۔ اس کی مختصر تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ جب اس دنیا کی عمر ختم ہو جائے گی تو اسرافیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہلی مرتبہ صور پھونکیں گے جس کی وجہ سے تمام انسان، حیوانات اور پوری دنیا فنا ہو جائے گی پہاڑ روئی کی طرح ہو کر ہوا میں اڑنے لگیں گے چاند سورج اور ستارے ٹوٹ کر گریں گے وغیرہ.

قران کریم میں ہے:

وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ

ترجمہ: (یعنی )اور صور (پہلی بار) پھونکا جائے گا پھر جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ مر جائیں گے۔

(سورۃ الزمر آیت:68)

دوسری بار صور پھونکنے کے بارے میں قرآن مجید میں ہے:

ثُمَّ نُفِخَ فِیۡہِ اُخۡرٰی فَاِذَا ھُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ

یعنی پھر صور دوسری بار پھونکا جائے گا تو یہ (مرے ہوئے) فوراً زندہ ہو کر کھڑے ہو کر دیکھیں گے۔

(سورۃ الزمر آیت:68)

احادیث میں آتا ہے کہ ان دو نفخوں کے درمیان چالیس برس کا وقفہ ہوگا۔ قرآن مجید میں یہ حقیقت بھی واضح طور پر موجود ہے کہ جس نے جو کچھ کیا ہوگا اس کا اس کو پورا بدلہ دیا جائے گا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:

صفحہ 1 از 5