شیعہ عقیدہ رجعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ عقیدہ رجعت

  مولانا غلام محمد

صفحہ 2 از 5

ارشاد باری ہے:

وَ تَرَی الظّٰلِمِیۡنَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ یَقُوۡلُوۡنَ ھَلۡ اِلٰی مَرَدٍّ مِّنۡ سَبِیۡلٍ

(سورۃ الشوریٰ آیت:44)

"اور جب ظالموں کو عذاب نظر آجائے تو تم انہیں یہ کہتا ہوا دیکھیں گے کہ : کیا واپس جانے کا بھی کوئی راستہ ہے؟"

اس پوری دنیا کے فنا ہونے سے پہلے فوت شدہ انسانوں کے زندہ ہو کر اس دنیا میں واپس آنے کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں رد کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد الہٰی ہے:

قَالَ رَبِّ ارۡجِعُوۡنِ  لَعَلِّیۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًا فِیۡمَا تَرَکۡتُ کَلَّا اِنَّہَا کَلِمَۃٌ ھُوَ قَآئِلُہَا وَ مِنۡ وَّرَآئِہِمۡ بَرۡزَخٌ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ 

(سورۃ المؤمنون آيت:99، 100)

"کہے گا اے رب مجھ کو پھیر دیجیے شاید میں کچھ بھلا کام کر لوں اس میں جو پیچھے چھوڑ آیا ہرگز نہیں یہ ایک بات ہے کہ وہ وہی کہتا ہے اور ان کے پیچھے پردہ ہے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں"

اس ایت میں درج ذیل الفاظ قابل غور ہیں

قال رب : وہ کہیں گے اے میرے پروردگار

ارجعون :واپس دنیا میں بھیج

کلا: کبھی ایسا نہیں ہونا ہے ،ہرگز نہیں

قائلها :بات، بکواس

برزخ: قبر والا عالم

الی: تک

یوم: دن

یبعثون: اٹھائے جائیں گے

ان الفاظ کے معنیٰ کو سامنے رکھ کر پھر مکمل ترجمہ پڑھیں تو مطلب واضح ہو جائے گا کہ ان کو جواب ملے گا یہ سوال کرنا ہی بےکار ہے یہ قبر اور برزخ والا پردہ قیامت کے دن کے قائم ہونے تک باقی رہے گا تو درمیان میں بقول شیعوں کے مہدی سب کو زندہ کریں گے یہ کہاں سے ثابت ہوا؟ اسی آیت سے یہ بات بالکل عیاں ہو گئی کہ شیعوں کا عقیدہ رجعت باطل ہے اور امام غائب کا لوگوں کو زندہ کر کے سزا دینا یہ سارے افسانے خود ساختہ ہیں۔

رجعت کے عقیدہ کی تائید میں شیعوں کے معتبر مجتہدوں کی خود ساختہ اور ائمہ کی طرف منسوب کردہ بیہودہ روایات

قرآن کریم میں چند غائب اشیاء پر ایمان لانا لازمی کہا گیا ہے شیعوں کے ہاں ان غائب چیزوں میں سے ایک امام غائب بھی ہیں جن پر ایمان لانا انتہائی ضروری ہے سید مقبول احمد شاہ صاحب اپنی تصنیف "مقبول ترجمہ" میں سورۃالبقرہ کی آیت 3 الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ جو غیب پر ایمان لائیں

(البقرہ آیت 3 شیعہ ترجمہ مقبول)

(1) الغیب کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ

" الغیب: جو ظاہری حواس سے محسوس کرنے کی چیز نہ ہو جیسے توحیدِ خدا، نبوتِ انبیاءؑ، قیام قائم ( امام غائب مہدی)، مسئلہ رجعت، قیامت کے دن پھر جی اٹھنا، حساب و کتاب ہونا، جنت و دوزخ اور اسی قسم کے امور جن پر ایمان لانا لازم ہے اور جو آنکھوں سے نہیں دیکھے جاتے بلکہ ان دلیلوں سے پہچانے جاتے ہیں جو خدا نے قائم فرمائی ہیں"

(حاشیہ اردو مقبول ترجمہ : صفحہ3)

یہاں یہ بات ثابت ہوئی کہ شیعہ مذہب میں امام غائب مہدی کے وجود پر ایمان اور رجعت کے عقیدہ پر ایمان لانا اتنا ضروری اور لازمی ہے جتنا اللّٰہ کی وحدانیت اور انبیاء علیہم السلام کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ بحالت دیگر وہ شخص اللّٰہ کی وحدانیت اور نبی کی نبوت کا منکر یعنی کافر سمجھا جائے گا، استغفراللّٰہ

2: شیعوں کا مجتہد اور محدث ملا باقر مجلسی حق الیقین میں رقم طراز ہے

چون قائم آل محمدﷺ بیرون آید خدا اور ایاری کند بملائکہ واول کسیکہ با او بیعت کند محمد باشد

(حق الیقین مطبوعہ تہران (ایران):صفحہ347)

ترجمہ: جب قائم آل محمد امام زمان ظاہر ہوگا رجعت کرے گا تو اللہ تعالی اس کی فرشتوں سے مدد کریں گے اور سب سے پہلے حضورﷺ اس سے بیعت ہوں گے۔

(استغفراللّٰہ استغفراللّٰہ استغفراللّٰہ)

3: اس عبارت کی تصدیق شیعوں کی معتبر کتاب مختصر بصائر الدرجات سے بھی ہوتی ہے:

ویکون جبریل امامه ميكائيل عن يمينه واسرافيل عن يساره والملائكۃ المقربون خزائه اول من بايعه محمد رسول اللّٰہﷺ۔

(مختصر بصائر الدرجات: صفحہ 213)

ترجمہ: ظہورِ مہدی (رجعت) کے وقت جبریل آگے آگے ہوں گے میکائیل داہنے طرف اسرافیل بائیں طرف اور مقرب فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے اور سب سے پہلے حضورﷺ اس سے بیعت ہوں گے (العیاذ باللّٰہ)

4: ملا باقر مجلسی حق الیقین میں بروایت امام باقر یہ روایت لاتا ہے:

چون قائم ما ظاہر شود عائشہؓ را زندہ کندہ تابروا حد بزند

(حق الیقین مطبوعہ تہران (ایران) صفحہ347)

ترجمہ: جب ہمارے قائم (امام زمان) ظاہر ہوں گے تو وہ عائشہؓ کو (معاذ اللّٰہ) زندہ کر کے سزا دیں گے۔

ان چاروں روایات سے یہ بات صراحت سے معلوم ہوئی کہ شیعوں کے فرضی اور خیالی امام زمان کا رتبہ اور عزت و عظمت حضورﷺ سے انتہائی بلند و بالا ہے کہ اس سے سب سے پہلے رسول اللّٰہﷺ بیعت ہوں گے اور پھر یہ صاحب نعوذ باللہ حضورﷺ کے دو بڑے صحابیوں حضرت ابوبکر صدیقؓ و عمرؓ اور حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کو زندہ کر کے تمام لوگوں اور حضورﷺ کے سامنے اس دنیا میں سزا دیں گے۔ استغفر اللّٰہ!

دوستو! یہ ہیں شیعہ کے اصلی خدوخال جن سے ہمارے عام مسلمان ناواقف ہیں اور شیعہ مذہب کے پرکشش نعرہ محبت اہل بیت سے متاثر ہو کر شیعت کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

5:  شیعہ محدث، مجتہد ملا باقر مجلسی نے اپنی تصنیف حق الیقین میں شیعہ مذہب کے اس خاص عقیدہ رجعت کے بیان میں امام جعفر صادق رحمۃ اللّٰہ کے حوالے سے ایک طویل حدیث درج کی ہے، روایت کی نوعیت یہ ہے کہ مفضل نامی ایک شخص سوال کرتا ہے اور امام صاحب اس کو جواب دیتے ہیں۔ اس روایت کے اکثر حصے کا صرف ترجمہ عرض کرتا ہوں تاکہ معاملہ کچھ مختصر ہو جائے۔ فارسی متن کے ساتھ روایت کا صرف وہ حصہ پیش کروں گا جس میں حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے خلاف انتہائی بیہودہ اور دل کی دھڑکن تیز کردینے والا مواد ہے لیکن کیا کیا جائے نقل کفر کفر نباشد، ایک مذہب کے پوشیدہ حقائق کو بھی ظاہر کرنا ضروری ہے تاکہ عام مسلمان اس کے دامِ فریب میں نہ پھنس جائیں۔ روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ امام جعفر صادق رحمۃ اللّٰہ نے بیان فرمایا کہ صاحب الامر امام غائب جو ظاہر ہوں گے تو پہلے مکہ معظمہ آئیں گے اور وہاں یہ اور وہ کریں گے۔

صفحہ 2 از 5