شیعہ عقیدہ رجعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ عقیدہ رجعت

  مولانا غلام محمد

صفحہ 3 از 5

ناظرین روایت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں (ناظرین کی سہولت فہم کے لیے ایک حد تک آزاد ترجمہ کرنا مناسب سمجھا گیا ہے)۔ مفضل نے امام جعفر صادق رحمۃ اللّٰہ سے عرض کیا کہ اے میرے آقا! صاحب الامر امام مہدی مکہ معظمہ کے بعد دوسرے کس مقام کا رخ کریں گے؟ آپ نے فرمایا کہ ہمارے نانا رسول خداﷺ کے شہر مدینہ جائیں گے وہاں ان سے ایک عجیب بات کا ظہور ہوگا جو مؤمنین کے لیے خوشی و شادمانی کا اور منافقوں کے لیے ذلت و خواری کا سبب بنے گا۔ مفضل نے پوچھا وہ عجیب بات کیا ہوگی؟ امام جعفر صادق نے فرمایا کہ جب وہ اپنے نانا رسول خداﷺ کی قبر کے پاس پہنچیں گے تو وہاں کے لوگوں سے پوچھیں گے کہ لوگو بتاؤ کیا یہ قبر ہمارے نانا رسول خداﷺ کی ہے؟ لوگ کہیں گے کہ ہاں یہ انہی کی قبر ہے، پھر امام پوچھیں گے کہ یہ اور کون لوگ ہیں جو ہمارے نانا کے پاس دفن کر دیے گئے ہیں؟ لوگ بتائیں گے کہ یہ آپ کے خاص مصاحب ابوبکرؓ و عمرؓ ہیں۔ حضرت صاحب الامر (امام مہدی) اپنی سوچی سمجھی پالیسی کے مطابق (سب کو جاننے کے باوجود) ان لوگوں سے کہیں گے کہ ابوبکرؓ کون تھا؟ اور عمرؓ کون تھا؟ اور کس خصوصیت کی وجہ سے ان دونوں کو ہمارے نانا رسول خداﷺ کے ساتھ دفن کیا گیا؟ لوگ کہیں گے یہ دونوں آپ کے خلیفہ اور آپ کی بیویوں (عائشہؓ اور حفصہؓ)کے والد تھے، اس کے بعد جناب صاحب الامر فرمائیں گے کہ کیا کوئی ایسا آدمی بھی ہے جس کو اس بارے میں شک ہو کہ یہی دونوں یہاں مدفون ہیں؟ لوگ کہیں گے کہ کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جس کو اس بارے میں شک و شبہ ہو سب یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ رسول خداﷺ کے پاس یہی دو بزرگ مدفون ہیں۔

پھر تین بار پوچھنے کے بعد صاحب الامر حکم دیں گے کہ دیوار توڑی جائے اور ان دونوں کو ان کی قبروں سے باہر نکالا جائے۔ چنانچہ دونوں کو قبروں سے نکالا جائے گا۔ ان کا جسم تازہ ہوگا اور صوف کا وہی کفن ہوگا جس میں وہ دفن کیے گئے تھے۔ پھر آپ حکم دیں گے کہ ان کا کفن الگ کر دیا جائے (ان کی لاشوں کو برہنہ کر دیا جائے) اور ایک بالکل سوکھے درخت پر لٹکا دیا جائے۔ اس وقت مخلوق کے امتحان و آزمائش کے لیے یہ عجیب واقعہ ظہور میں آئے گا کہ وہ سوکھا درخت جس پر لٹکائے جائیں گی ایک دم سر سبز ہو جائے گا، تازہ ہری پتیاں نکل آئیں گی اور شاخیں بڑھ جائیں گی بلند ہو جائیں گی۔ پس وہ لوگ جو ان دونوں سے محبت رکھتے ہیں اور ان کو مانتے تھے (یعنی اہل سنت) کہیں گے کہ واللّٰہ یہ ان دونوں کی عند اللّٰہ مقبولیت اور عظمت کی دلیل ہے اور ان کی محبت کی وجہ سے ہم نجات کے مستحق ہوں گے اور جب سوکھے درخت کے اس طرح سرسبز ہو جانے کی خبر مشہور ہوگی تو جن لوگوں کے دلوں میں ان دونوں کی ذرا برابر بھی محبت و عظمت ہوگی وہ اس کو دیکھنے کے شوق میں دور دور سے مدینہ آ جائیں گے تو جناب قائم صاحب الامر کی طرف سے ایک منادی ندا دے گا اور اعلان کرے گا کہ جو لوگ ان دونوں (ابوبکرؓ و عمرؓ) سے محبت و عقیدت رکھتے ہوں وہ ایک طرف الگ کھڑے ہو جائیں اس اعلان کے بعد لوگ دو حصوں میں بٹ جائیں گے ایک گروہ ان دونوں سے محبت کرنے والوں کا ہوگا اور دوسرا ان پر لعنت کرنے والوں کا اس کے بعد صاحب الامر ان لوگوں سے جو ان دونوں سے محبت کرنے والے ہوں گے (یعنی سنیوں سے) مخاطب ہو کر فرمائیں گے کہ ان دونوں سے بیزاری کا اظہار کرو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو تم پر ابھی خدا کا عذاب آئے گا۔ وہ لوگ جواب دیں گے کہ ہم جب ان کی عند اللّٰہ مقبولیت کے بارے میں پوری طرح جانتے بھی نہیں تھے اس وقت بھی ہم نے ان سے بیزاری کا رویہ اختیار نہیں کیا تو اب جب کہ ہم نے ان کے مقرب اور مقبول بارگاہ خداوندی ہونے کی علامت آنکھوں سے دیکھ لی تو ہم کیسے ان سے بیزاری کا رویہ اختیار کر سکتے ہیں؟ بلکہ ہم تم سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں اور سب لوگوں سے جو تم پر ایمان لائے اور جنہوں نے تمہارے کہنے سے ان بزرگوں کو قبروں سے نکال کر ان کے ساتھ توہین و تذلیل کا یہ معاملہ کیا۔ ان لوگوں کا یہ جواب سن کر امام مہدی کالی آندھی کو حکم دیں گے کہ وہ ان لوگوں پر چلے اور ان سب کو موت کے گھاٹ اتار دے پھر امام مہدی حکم دیں گے کہ ان دونوں (ابوبکرؓ و عمرؓ) کی لاشوں کو درخت سے اتارا جائے، پھر ان دونوں کو قدرت الٰہی سے زندہ کریں گے۔"

آگے خون کھولا دینے اور ایک مومن کو لرزا دینے والی روایت کے بقیہ الفاظ فارسی میں مع ترجمہ یہ ہیں:

وامر فرماید خلائق راکہ ہمہ جمع شوند، پس ہر ظلمےو کفرے کہ از اول عالم تا آخر شد گنا ہش را برایشان لازم آورد، وزدن سلیمان فارسی و آتش افروختن بدرخانہ امیرمومنین راو فاطمہ و حسن و حسین رابرائے سوختن ایشان وزہردادن امام حسن و کشتین امام حسین و اطفال ایشان و پسر عمان دیاران اواسیر کردن وذریت رسول وریختن خون آل محمد در ہر زمانے وہر خونے کہ بہ ناحق ریختہ شد و ہر فرجے کے بحرام جماع شد،و ہر سودے وحرامے کہ خور دہ شد تا قیام قائم آل محمد ہمہ رابا یشان بشمارد کہ از شما شدہ وایشان اعتراف کنند زیرا کہ اگر در روز اول غصب حق خلیفہ بحق نمی کردند اینہا نمی شد، پس امر فرماید کہ از برائے مظالم ہر کہ حاضر باشدازایشان قصاص نمایند، پس ایشان را بفر ماید کہ از درخت برکشندو آتشے را فرماید کہ از زمین بیرون آیدو ایشانرا بسوزاندہ بادرخت، وباوے رافر ماید کہ خاکستر ایشان رابہ دریا ہا پاشد مفضل گفت اے سید من این آخر عذاب ایشان خواہد بود؟ فرمود کہ ھیہات اے مفضل! واللہ کہ ایسے سید اکبر محمد رسول وصدیق اکبر و امیر المومنین و فاطمہ زھراء حسن مجتبی و حسین شہید کربلا وجمیع ائمہ ھدی ہمگی زندہ خواہند شد وہر کہ ایمان محض خالص داشتہ و ہرکہ کافر محض بودہ ہمگی زندہ خواہند شدواز برائے جمیع ائمہ والمومنان ایشان را عذاب خواہند کرد حتی آ ئکہ در شبانہ روزے ہزار مرتبہ ایشان را ببرد ومعذب گرداند

( حق الیقین :صفحہ361، 362 اور امام زمان کی حدیث مقبول حاشیہ صفحہ850)

صفحہ 3 از 5