شیعہ عقیدہ رجعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ عقیدہ رجعت

  مولانا غلام محمد

صفحہ 4 از 5

ترجمہ: اور حکم دیں گے کہ تمام مخلوق جمع ہو، پھر یہ ہوگا کہ دنیا کے آغاز سے اس کے اختتام تک جو بھی ظلم اور جو بھی کفر ہوا، سب اس کا گناہ ان دونوں پر لازم کیا جائے گا اور انہی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا (خاص کر) سلمان فارسیؓ کو پیٹنا اور امیر المومنینؓ اور فاطمۃزہراءؓ اور حسنؓ و حسینؓ کو جلا دینے کے لیے ان کے گھر کے دروازے میں آگ لگانا، امام حسنؓ کو زہر دینا، حسینؓ، ان کے بچوں، چچا زاد بھائیوں اور ان کے ساتھیوں و مددگاروں کو کربلا میں قتل کرنا، رسول خداﷺ کی اولاد کو قید کرنا اور ہر زمانہ میں آل محمد کا خون بہانا اور ان کے علاوہ جو بھی ناحق خون کیا گیا ہو اور کسی عورت کے ساتھ جہاں کہیں بھی زنا کیا گیا ہو اور جو سود یا جو بھی حرام کا مال کھایا گیا ہو، جو بھی گناہ اور جو ظلم و ستم قائم آل محمد (یعنی امام غائب مہدی) کے ظہور تک دنیا میں کیا گیا ہو اس سب کو ان دونوں کے سامنے گنوایا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ یہ سب کچھ تم سے اور تمہاری وجہ سے ہوا ہے؟ وہ دونوں اقرار کریں گے (کہ ہاں ہماری ہی وجہ سے ہوا کیونکہ اگر رسول اللّٰہﷺ کی وفات کے بعد) پہلے ہی دن خلیفہ برحق (علیؓ) کا حق یہ دونوں مل کر غصب نہ کرتے تو ان گناہوں میں کوئی بھی نہ ہوتا اس کے بعد صاحب الامر حکم فرمائیں گے کہ جو لوگ حاضر و موجود ہیں وہ ان دونوں سے قصاص لیں اور ان کو سزا دی جائے، پھر صاحب الامر حکم فرمائیں گے کہ ان دونوں کو درخت پر لٹکا دیا جائے اور آگ کوحکم دیں گے کہ زمین سے نکلے اور ان دونوں کو مع درخت کے جلا کر راکھ کر دیں اور ہوا کو حکم دیں گے کہ ان کی راکھ کو دریاؤں پر چھڑک دیں۔ مفضل نے عرض کیا کہ اے میرے آقا یہ ان لوگوں کو آخری عذاب ہوگا؟ امام جعفر صادق رحمۃ اللّٰہ نے فرمایا کہ اے مفضل ہرگز نہیں۔ خدا کی قسم !سید اکبر محمد رسول اللّٰہﷺ اور صدیق اکبر امیر المومنینؓ (علیؓ) اور سیدہ فاطمۃالزہراءؓ اور حضرت حسن مجتبیؓ اور حسینؓ شہیدِ کربلا اور تمام ائمہ معصومین سب زندہ ہوں گے اور جو خالص مؤمن ہوں گے اور جو خالص کافر ہوں گے سب زندہ کیے جائیں گے اور تمام ائمہ اور تمام مؤمنین کے حساب میں ان دونوں کو عذاب دیا جائے گا یہاں تک کہ دن رات میں ان کو ہزار مرتبہ مار ڈالا جائے گا اور زندہ کیا جائے گا اس کے بعد خدا جہاں چاہے گا ان کو لے جائے گا اور عذاب دیتا رہے گا۔"

ناظرین کرام!

یہ ہیں شیعہ کے باکمال امام زمان یا امام العصر یا امام صاحب زمان (غائب مہدی) جس کا سن 260 ہجری کے بعد شیعوں کے ہاں اول قائم مقام یا نائب خمینی کو تسلیم کیا گیا ہے کہ اس نے خود کو تسلیم کرایا ہے یعنی اس نے یہ دعویٰ کیا ہے اور یہ ہیں اس غائب مہدی کے لیے ذکر کیے گئے کارنامے جن کے لیے بیچارے شیعہ تقریباً بارہ سو برس سے اس کے لیے بڑی بے قراری سے شب و روز انتظار کی گھڑیاں شمار کر رہے ہیں کہ وہ جلد از جلد آ کر مذکورہ کارناموں سے ان کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچائیں۔

ناظرین کرام!

آپ یقین کریں نہ کوئی امام زمان پیدا ہوا تھا اور نہ ہی غائب ہوا بلکہ یہ شروع سے ایک دھوکہ اور فریب ہے جو کہ شیعہ سادہ لوح مسلمانوں کو دے رہے ہیں۔ کیا آپ یہ بھی نہیں سوچ سکتے کہ جو لوگ قرآن کریم میں تحریف کے بارے میں خود ساختہ روایات ائمہ کی طرف منسوب کر کے بے شمار لوگوں کو یہ غلط عقیدہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو ان کے لیے امام زمان جیسی فرضی اور خیالی شخصیت بنانے اور عبداللّٰہ بن سباء کے دیے گئے درس رجعت کے عقیدہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے یہ خرافاتی افسانہ تراش کر مشہور کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔

عقیدہ رجعت کے موجد کون ہیں؟ اور یہ کب ایجاد ہوا؟ اور اس کا اصلی مقصد کیا تھا؟

عقیدہ رجعت کب ایجاد ہوا؟ اور کس نے ایجاد کیا؟ اس بارے میں شاہ عبدالعزیز رحمۃاللہ "تحفہ اثناء عشریہ" میں فرماتے ہیں کہ:

1 :چنانچہ قصہ دعوت او تبما مہادر ترجمہ تاریخ طبری کہ مترجم آن شیعی است میگوید پس سال سی و پنجم از ہجرت آمد ودرین سال مذہب رجعت پدید آمد و فتنہ ہابر خاست بر عثمان عبداللّٰہ بن سباء اول مذہب رجعت آور دو اومردےبود جہود از زمین یمن

( تحفہ اثناء عشریہ فارسی : صفحہ23)

ترجمہ: چنانچہ تاریخ طبری کے ترجمہ میں جس کا مترجم خود شیعہ ہے اس میں عبداللّٰہ بن سباء کی دعوت کا تفصیل سے ذکر ہے یہ لکھتا ہے کہ:

جب 35 ہجری شروع ہوا تو اسی سال رجعت(کا عقیدہ) رونما ہوا اور عثمانؓ پر فتنوں کا ہجوم ہو گیا۔ رجعت کے مذہب کا بانی عبداللّٰہ بن سبا تھا جو کہ یہودی اور یمن کا باشندہ تھا۔

2: بالجملہ مفاسد این عقیدہ باطلہ زیادہ از ان است کہ ور تحریر گنجد و اول کسے کہ قول بہ رجعت آورد عبداللّٰہ بن سباء بودا ماور حق پیغمبر خاصہ و جابر جعفی دراول ماتہ ثانیہ بہ رجعت حضرت امیر نیز قائل شد

(تحفہ اثناء عشریہ: فارسی صفحہ243)

ترجمہ: یعنی اس رجعت کے باطل عقیدہ کی برائیاں لکھنے اور جمع کرنے سے زیادہ ہیں۔ سب سے پہلے جو شخص رجعت کا عقیدہ کا قائل تھا وہ عبداللہ بن سبا تھا اور وہ بھی حضورﷺ کے بارے میں پھر دوسری صدی ہجری کے شروع میں جابر جعفی حضرت علیؓ کے بارے میں رجعت کا قائل بنا۔

3: وچون نوبت بقرن ثالث رسید اہل مأتہ ثلالثہ از روافض رجعت جمیع ائمہ و اعدائے ایشان نیز برائے تسلی خاطر خود قرار دادند۔

(تحفہ اثناء عشریہ فارسی:  صفحہ243)

جب تیسری صدی ہجری شروع ہوئی تو اس زمانے کے رافضی اپنے دل کو تسلی پہنچانے کے لیے تمام ائمہ اور ان کے دشمنوں کے بارے میں رجعت کے عقیدہ کے قائل بن گئے۔

4: فتنہ ابن سبا المعروف بہ "تاریخ مذہب شیعہ" میں ہے کہ

عبداللّٰہ بن سبا نے ایک نیا عقیدہ پیش کیا وہ یہ تھا کہ محمدﷺ بھی دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ (جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے)

 (فتنہ ابن سبا مطبوعہ: صفحہ 55)

اسی کتاب کے صفحہ139 پر ہے کہ

5: ابن سباء نے جو پہلا عقیدہ لوگوں کو سامنے پیش کیا تھا وہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح حضرت محمدﷺ بھی دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے بہت دیر کے بعد اس کی حکمت کھلی۔

صفحہ 4 از 5