شیعہ عقیدہ رجعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ عقیدہ رجعت

  مولانا غلام محمد

صفحہ 5 از 5

ان اقتباسات سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رجعت کے عقیدہ کا پہلا قائل عبداللہ بن سباء یہودی تھا دوسرے نمبر پر جابر جعفی تھا جس نے اس عقیدہ کی بڑی تبلیغ کی اس طرح یہ عقیدہ آگے چل کر شیعہ مذہب کے ایمانیات کا جز لاینفک بن گیا۔ اب موجودہ شیعہ حضرات جو اپنے مذہب کو بارہ ائمہ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اپنی فقہ کو فقہ جعفریہ کا نام دیتے ہیں، یہ بھی رجعت کے قائل ہیں یہاں تک کہ قریبی دور کے سیاسی اور مذہبی رہنما خمینی کو تو شیعوں نے امام زمان کے نائب اور قائم مقام امام کہہ کے مشہور کیا ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ 260ھ کے بعد شیعہ میں خمینی وہ پہلا شخص ہے جس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ امام کا نائب اور قائم مقام ہے یا شیعوں نے اس کو اس عہدہ پر فائز شدہ تسلیم کر لیا ہے۔ ایران میں آج کل امام زمان کے ظہور اور رجعت کا خوب پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور شیعوں نے اب بھی اپنے مذہب کی تبلیغ کا رخ مکمل طور پر امام زمان کے ظہور کو بنایا ہے۔

شیعہ مذہب میں اس عقیدہ کے خلاف صرف فرقہ زیدیہ کے شیعہ ہیں جو کہ حضرت زین العابدین رحمۃاللہ  کے فرزند زید سے اپنے مذہب کو منسوب کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں اس عقیدہ کی روایات کو ائمہ کی طرف منسوب کرنے کو اچھی طرح باطل کیا ہے، جیسا کہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ تحفہ اثناءعشریہ میں لکھتے ہیں:

زیدیہ قاطبہ منکر رجعت اند و انکار شدید نمودہ اندو در کتب ایشان بروایت ائمہ رد این عقیدہ بوجہ متوفی مذکور است پس حاجت رد این خرافات اہل سنت رانماند وكفی الله المؤمنين القتال

(تحفہ اثناء عشریہ فارسی: صفحہ232)

ترجمہ: "تمام زیدیہ شیعہ اس دنیا میں واپسی کے سختی سے منکر ہیں اور انہوں نے اپنی کتابوں میں ائمہ کی روایات سے اسی (رجعت کے) عقیدہ کو وضاحت سے رد کیا ہے لہٰذا اہل سنت کو اس خرافات کو باطل کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی اور ایمان والوں کی طرف سے اللّٰہ کا قتال کرنا کافی ہے"۔

شیعہ مجتہد العصر علامہ و ڈاکٹر سید موسی الموسوی کی کتاب الشیعہ و التصیح کا اردو ترجمہ اصلاح شیعہ اس وقت میرے سامنے ہے جس میں ڈاکٹر صاحب شیعیت میں رجعت کے عقیدہ کا مندرجہ ذیل الفاظ میں نچوڑ پیش کرتے ہیں:

"جب دیو مالائی کہانیاں عقیدہ کے ساتھ اور اوہام حقائق میں خلط ملط ہو جائیں تو ایسی بدعتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں جو ایک ہی وقت میں ہنساتی بھی ہیں اور رلاتی بھی"

(اصلاحِ شیعہ: صفحہ241)

حقیقت میں اسلام میں نہ شیعہ مذہب کا عقیدہ امامت ہے اور نہ ہی اسلام میں امام العصر یا امام زمان یا صاحب الامر کا کوئی تصور ہے اور نہ ہی رجعت کے عقیدہ کو اسلام میں کوئی دخل ہے، بلکہ سچ یہ ہے کہ شیعیت اسلام کے بگاڑ کا دوسرا نام ہے اور شیعہ مذہب کو اسلام کہنا خود اسلام کے نام کی تحریف اور توہین ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں اور اسلام کی حفاظت فرمائے آمین۔


صفحہ 5 از 5