حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے اللہ تعالیٰ کا انتقام
ابو شاہینابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں جو امور و فتن بیان کیے گئے ان میں سے زیادہ تر صحیح ہیں، جن لوگوں نے آپ کو قتل کیا ان میں سے کوئی بھی اس دنیا میں ذلت و آفت اور مصیبت سے بچ نہ سکا، ان میں سے زیادہ تر کو جنون لاحق ہو گیا اور کوئی کسی موذی مرض میں مبتلا ہو گیا۔ روافض نے حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کے قتل کے بارے میں بے شمار جھوٹ وضع کیا اور جھوٹی خبریں پھیلائیں، ہم نے جو کچھ بیان کیا وہ کافی ہے اور اس کا بعض حصہ محل نظر ہے، اگر ابن جریر وغیرہ نے اس کا ذکر نہ کیا ہوتا، تو میں بھی اسے ذکر نہ کرتا، اس کا زیادہ تر حصہ ابو مخنف لوط بن یحییٰ کی روایات پر مبنی ہے، جو شیعہ تھا اور ائمہ حدیث کے نزدیک ضعیف الحدیث ہے، لیکن وہ حافظ مورخ ہے اور اس کے پاس وہ چیزیں ہیں جو دوسروں کے پاس نہیں ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد آنے والے اکثر مصنّفین اس کی اتباع کرتے ہیں۔" (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 577)
ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’رہا اہل بیت کو قیدی بنانے اور انہیں ننگی پیٹھ کے اونٹوں پر سوار کرانے کا سوال، تو یہ انتہائی قبیح اور واضح جھوٹ اور زنادقہ اور منافقین کی افترا پردازی ہے، جس سے ان کے پیش نظر اسلام اور اہل اسلام پر اعتراضات کی بوچھاڑ کرنا ہے، وہ اہلِ بیت ہوں یا دوسرے مسلمان، اس لیے کہ جو شخص اس قسم کی باتوں اور ان میں موجود کذب و افترا کو سنے گا، وہ یہی سمجھے گا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے معجزات اور اولیاء کی کرامات بھی اس جنس سے ہیں۔"
پھر جب یہ بات واضح ہو جائے گی کہ امت نے اپنے نبی کے اہلِ بیت کے ساتھ اسی قسم کا ناروا سلوک کیا، تو اس سے اس بہترین امت پر اعتراض آئے گا جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا، اس لیے کہ ہر عاقل شخص اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ خراسانی اونٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور اہل بیت کے وجود سے پہلے بھی موجود تھے اور اس طرح موجود تھے، جس طرح دوسرے اونٹ، بکریاں، گائیں، گھوڑے اور خچر موجود تھے۔‘‘ (الفتاوی: جلد، 6 صفحہ 304)
مگر یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ تاریخ طبری اور تاریخ ابن عساکر جیسے اسلامی تاریخی مصادربھی ان جیسی خرافات سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ ان دونوں کتابوں کی خاص طور پر اور دیگر تاریخی کتب کی عام طور پر علمی تحقیق کی جائے۔ (احداث و احادیث: صفحہ 213)