واقعہ حرہ اور حضرت زین العابدین رحمۃ اللّٰہ
(محققِ اہلسنت حضرت مولانا مہر محمد رحمۃ اللّٰہ)(اکثر شیعہ کہتے ہیں کہ) واقعہ حرہ کیوں اور کس کے حکم سے ہوا اور اس میں مدینہ اور اہل مدینہ کا کیا حال ہوا، ذرا تفصیل سے روشنی ڈالیے۔
جواب: یہ حادثہ حضرت عبد الله بن زبیرؓ کے دعویٰ خلافت اور آپؓ کے حامیوں کے یزید کی بیعت توڑ دینے کے رد عمل میں پیش آیا جب سیدنا حسینؓ کی شہادت کی خبر حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو پہنچی تو انہوں نے مجمع عام میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ”لوگو! دنیا میں عراق کے آدمیوں سے برے کہیں کے آدمی نہیں ہیں اور عراقیوں میں سب سے بدتر کوفی لوگ ہیں کہ انہوں نے بار بار خطوط بھیج کر باصرار سیدنا حسینؓ کو بلایا اور ان کی خلافت کے لیے بیعت کی جب ابن زیاد کوفہ میں آیا تو اسی کے گرد ہو گئے اور سیدنا حسینؓ کو جو نماز گزار، روزه دار، قرآن خواں ہر طرح مستحق خلافت تھے قتل کردیا اور ذرہ بھی خدا کا خوف نہ کیا۔“
(تاریخ اسلام نجیب آبادی: جلد 2 صفحہ 83)
یہ کہہ کر عبداللہ بن زبیرؓ رو پڑے، لوگوں نے کہا آپ سے بڑھ کر کوئی مستحق خلافت نہیں، آپ ہاتھ بڑھائیے ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور آپ کو خلیفہ وقت مانتے ہیں۔ چنانچہ تمام اہل مکہ نے عبداللہ بن زبیرؓ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کی، پھر آپ کے داعی مدینہ منورہ پہنچے وہاں بھی نوجوان طبقہ یزید کی بیعت توڑنے اور ابن زبیرؓ کی بیعت کرنے کے لیے آمادہ ہو گیا، مگر اکابر اور ذمہ دار لوگوں نے خصوصا بنو ہاشم اور علویوں نے اس کی مخالفت کی اور یزید کی اطاعت پر رہنے کا مشورہ دیا۔
عبداللہ بن حنظلهؓ، منذر بن زبیرؓ وغیرہ کی موجودگی میں ایک وفد شام کا دورہ کر کے آیا۔ انہوں نے یزید کے لہو و لعب اور خلاف شرع کاموں میں مصروف رہنے کا پروپیگینڈہ کیا عبداللہ بن مطیع ان لوگوں کے سرکردہ تھے مگر علویوں میں سے حضرت محمد بن علی بن الحنفیہ ان کے مخالف یزید کے دفاع میں کہتے،” جو کچھ تم اس کی برائیاں بیان کرتے ہو میں نے نہیں دیکھیں حالانکہ میں یزید کے پاس آیا گیا، اس کے ہاں قیام کیا، میں نے اسے نماز کا پابند نیکیوں کا متلاشی اور سنت نبویﷺ کا متبع پایا۔ فقہ اور دینی مسائل اس سے پوچھے جاتے تھے۔"
(البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 232 بحوالہ عدالت صحابہ کرامؓ صفحہ 344)
حضرت عبد ماللہ بن عمرؓ بن الخطاب نے اپنے تمام اعزہ احباب اور معتقدین کو جمع کر کے فرمایا:
”جس شخص کا میرے ساتھ تعلق ہے وہ سن لے کہ یزید کی مخالفانہ تحریک میں حصہ نہ لے کیونکہ ہم نے ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کی ہے، جیسے الله اور اس کے رسولﷺ کے حکم پر بیعت کرتے تھے، اور اس سے زیادہ غدر کوئی نہیں کہ کل ہم اس کے ہاتھ پر بیعت کریں، اور آج توڑ دیں، میں نے رسول اللهﷺ سے سنا ہے آپﷺ فرماتے تھے” قیامت کے دن غدار اور وعدہ خلافی کرنے والے کو اوندھا کر کے اس کے مقعد میں غداری کا جھنڈا لگا دیا جائے گا۔“ (بخاری محصلہ)
اس دوران منذر بن زبیرؓ نے حضرت عبدالله بن حنظلہؓ اور عبد الله بن مطیع سے کہا کہ تم کو چاہیے علی بن الحسینؓ ( زین العابدین رحمۃاللہ) کے ہاتھ پر بیعت خلافت کرو، چنانچہ یہ سب مل کر علی بن حسینؓ کے پاس گئے انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میرے باپ اور دادا دونوں نے خلافت کے حصول کی کوشش میں اپنی اپنی جانیں گنوائیں میں اب ہرگز ایسے خطرناک کام کی جرأت نہیں کر سکتا، میں اپنے آپ کو قتل کرانا پسند نہیں کرسکتا یہ کہہ کر وہ مدینہ سے باہر ایک موضع میں چلے گئے۔ مروان جو معہ دیگر بنو امیہ کے (جو ہزار بھر تھے) اپنی حویلی میں قید تھا اس نے عبد الملک کے ہاتھ علی بن الحسینؓ کو کہلا بھیجا کہ آپ نے جو کچھ کیا، بہت ہی اچھا کیا، ہم اس قدر امداد کے اور خواہاں ہیں۔ ہمارے بعض قیمتی اموال اور اہل و عیال جن کی اس جگہ گنجائش نہیں ہے آپ کے پاس بھجوائے دیتے ہیں آپ ان کی حفاظت کریں، علی بن حسینؓ نے اس کو منظور کر لیا اور مروان بن حکم نے رات کی تاریکی میں پوشیدہ طور پر اپنے اہل و عیال اور قیمتی اموال علی بن حسینؓ کے پاس اس کے گاؤں میں بھیج دیئے (حضرت) علی بن الحسینؓ نے مدینہ کے حالات یزید کو لکھ بھیجے اور اپنی نسبت لکھا کہ میں آپ کا وفادار ہوں اور بنوامیہ کی حمایت و حفاظت میں ممکن کوشش بجالا رہا ہوں، یزید نے مدینہ کے حالات سے واقف ہو کر نعمان بن بشیر انصاریؓ کو بلا کر کہا کہ تم مدینہ جا کہ لوگوں کو سمجھاؤ کہ ان حرکات سے باز رہیں اور مدینہ میں کشت وخون کے امکانات پیدا نہ کریں، نیز عبد اللہ بن حنظلہؓ کو بھی نصیحت کرو کہ تم یزید کے پاس گئے اور وہاں سے انعام واکرام حاصل کرکے خوش و خرم رخصت ہوئے لیکن مدینہ آ کر یزید کے مخالف بن گئے اور بیعت فسخ کرکے یزید پر کفر کا فتویٰ لگا کر لوگوں کو برانگیختہ کیا، یہ کوئی مردانگی اور دانائی کا کام نہیں کیا، علی بن حسینؓ سے مل کر میری طرف سے پیغام پہنچاؤ کہ تمہاری وفاداری اور کارگزاری کی قدر کی جائے گی، بنوامیہ سے جو وہاں موجود ہیں کہو کہ تم سے اتنا بھی کام نہ ہوا کہ مدینہ میں فتنہ پیدا کرنے والے دو شخصوں کو قتل کرکے اس فتنہ کو دبا دیتے یہ باتیں سن کر نعمان بن بشیرؓ سانڈنی پر سوار ہو کہ مدینہ کی طرف چلے انہوں نے ہر چند کوشش کی اور سب کو سمجھایا مگر کوئی نتیجہ پیدا نہ ہوا مجبوراً وہ مدینہ سے دمشق واپس آ گئے اور تمام حالات یزید کو سنائے، یزید نے مطلع ہو کر مسلم بن عقبہ کو طلب کیا اور کہا کہ ایک ہزار چیدہ جنگجو ہمراہ لے کر مدینہ پہنچو لوگوں کو اطاعت کی طرف بلاؤ اگر وہ اطاعت اختیار کر لیں تو بہتر ہے نہیں تو جنگ کرکے سب کو سیدھا کر دو۔
(مسلم نے بیماری کی معذرت کی مگر یزید نے اسے ہی اس مہم پر روانہ کیا) یزید نے رخصت کرتے وقت مسلم کو نصیحت کی کہ جہاں تک ممکن ہو نرمی اور درگزر سے کام لے کر اہل مدینہ کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرنا لیکن جب یہ یقین ہو جائے کہ نرمی اور نصیحت کام نہیں آسکتی تو پھر تجھ کو اختیار کامل دیتا ہوں کہ کشت و خون اور قتل و غارت میں کمی نہ کرنا مگر اس بات کا خیال رکھنا کہ علی بن الحسینؓ کو کوئی آزار نہ پہنچے کیونکہ وہ میرا وفادار اور خیر خواہ ہے اور اس کا خط میرے پاس آیا ہے جس میں لکھا ہے کہ مجھ کو اس شورش اور بغاوت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
(تاریخ اسلام نجیب آبادی بلفظہ جلد 2 صفحہ 86)
جب مسلم بن عقبہ فوج لے کر مدینہ کے قریب پہنچا تو مدینہ والوں نے مشورہ کیا کہ پہلے مقامی بنو امیہ کو ختم کر دینا چاہیے تاکہ یہ فوج سے مل کر اندرونی نقصان نہ پہنچائیں مگر عبداللہ بن حنظلہ نے کہا ایسا کرنے سے تمام عراقی و شامی مدینہ پر یورش کر دیں گے بہتر یہ ہے کہ بنو امیہ سے یہ عہد و پیمان لے کر ان کو چھوڑ دیا جائے کہ وہ نہ ہماری مدد کریں نہ فوج کی، چنانچہ تمام بنو امیہ سے یہ اقرار لے کہ رخصت کر دیا گیا بجز عبد الملک بن مروان کے کہ اس کو مدینہ میں رہنے کی آزادی رہی۔ ان لوگوں کی وادی القریٰ میں مسلم بن عقبہ کے لشکر سے ملاقات ہوئی، مسلم نے ان سے پوچھا کہ ہم کو مدینہ پر کس طرف سے حملہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے عہد و قرار کا لحاظ کر کے مسلم کو جواب دینے سے انکار کر دیا اور اپنے عہد و اقرار کا لحاظ کرکے مسلم کو جواب نہ دیا، انہوں عبدالملک کے متعلق بتایا کہ اس سے عہد و پیمان نہیں لیا گیا چنانچہ مسلم نے کسی کو مدینہ بھیج کر عبد الملک کو بلوا بھیجا، اس کے مشورے سن کر حیران ہو گیا اور انہی پر عمل کیا، اس نے اہل مدینہ کو پیغام بھیجا کہ امیر المؤمنین یزید تم کو شریف سمجھتے اور تمہاری خونریزی کو پسند نہیں کرتے ہیں بہتر یہی ہے کہ تم اطاعت اختیار کرو ورنہ مجبوراً مجھ کو شمشیر نیام سے نکالنی پڑے گی، یہ پیغام بھیج کر تین دن مسلم نے انتظار کیا مگر اہل مدینہ لڑائی پر آمادہ ہو گئے، آخر مسلم نے حرہ کی جانب سے مدینہ پر حملہ کیا، اہل مدینہ نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا اور لشکر شام کا منہ پھیر دیا لیکن مسلم بن عقبہ کی بہادری اور تجربہ کاری سے اہل مدینہ کو شکست ہوئی
حرہ کے نقصانات
عبداللہ بن حنظلہ، فضیل بن عباس بن عبد المطلب، محمد بن ثابت بن قیس، عبدالله بن زید بن عاصم، محمد بن عمرو بن حزم انصاری، وهب بن عبدالله بن زمعہ، زبیر بن عبد الرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب بہت سے سردارانِ مدینہ (رضی اللہ عنہم) جنگ میں کام آئے۔ فتح مند فوج مدینہ میں داخل ہوئی، مسلم بن عقبہ نے تین دن تک قتل عام اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس لڑائی اور قتل عام میں ایک ہزار کے قریب آدمی مارے گئے جن میں تین سو سے زیادہ شرفاء قریش و انصار شامل تھے۔
(بعض نے کل تعداد 365 لکھی ہے)
چوتھے روز مسلم نے قتل عام کو موقوف کر کے بیعت کا حکم دیا۔ جس نے مسلم کے ہاتھ پر آ کر بیعت کی وہ بچ گیا جس نے بیعت سے انکار کیا وہ قتل ہوا۔27 ذی الحجہ 63 ھجری کو یہ حادثہ ہوا اسی روز محمد بن عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب پیدا ہوا۔ یہی وہ محمد بن عبداللہ ہے جو محمد ابو العباس سفاح کے نام سے مشہور ہے اور عباسیوں کا پہلا خلیفہ ہے۔
(کلہ تاریخ اسلام اکبر شاہ نجیب آبادی جلد 2 صفحہ 88)
شهداء حرہ اور ہم
شیعہ حضرات کے کہنے کے مطابق حرہ کے واقعہ کی تفصیل ایک ہی غیر جانبدار تاریخ سے ہم نے نقل کر دی، واقعہ کے نقصانات کے اعتبار سے ہم بھی انا للّٰه و انا الیہ راجعون پڑھتے اور اظہار تاسف کرتے ہیں جو اہل مدینہ شہادت سے شادکام ہوئے ان پر دعائے ترحم کرتے ہیں، جن فوجیوں نے ناجائز اختیار استعمال کرکے بہیمیت اور درندگی کا ثبوت دیا احادیث صحیحہ کی روشنی میں ان کو مورد لعن اور مستحق عذاب الیم جانتے ہیں، لیکن علل و اسباب آپ کے سامنے ہیں، فرد جرم ایک طرف ہی لگا دینا انصاف کا تقاضہ نہیں آخر حضرت زین العابدین رحمۃاللہ کی غیر جانبداری بلکہ امکانی حد تک حمایت حضرت عبداللہ بن عمر جیسے اکابر کا رد عمل تصویر کا دوسرا رخ بھی پیش کرتے ہیں کہ جس سے بیعت خلافت کرلی جائے پھر بلا وجہ بغاوت کیوں؟
شیعہ حضرات کو تو اس واقعہ میں فریق مخالف کا پارٹ ادا نہ کرنا چاہیے، خصوصاً 1400 سال بعد اپنی سیاسی چالوں کو تقویت دینے کے لیے کیونکہ ان کے امام چہارم جن کی اتباع ان کے لیے فرض عین مثل اطاعتِ رسولﷺ کے ہے، نے جب یزید کی وفاداری اور خیر خواہی کی تو ان کو بھی آج یہی نظریہ رکھنا چاہئے۔
سادات کے مظالم
ہم سنی چونکہ صاف باطن ہوتے ہیں اس لیے کسی کے برے پہلو سے اعراض کرنا اور صرف قابلِ اتباع امور کی نشر و اشاعت کو خدمت دین جانتے ہیں، جو لوگ سنی نقطہ نظر سے ہٹ کر سوچتے ہیں وہ پھر سادات واہل بیت کو بھی جب تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو تاریخ ان کو بھی بہت کچھ ناقابل سماع مواد مہیا کرتی ہے اور حرم مدینہ، خانہ کعبہ اور شعائر اسلام کی عظمت کی دھجیاں ان کے ہاتھوں فضا میں بکھرتی نظر آتی ہیں، یہ کوئی انصاف نہیں کہ حضرت معاویہؓ، یزید، حجاج کو تو نشانہ طعن ہمہ وقت بنا لیا جائے مگر قاتلان عثمانؓ کی مدینہ میں سفاکی، جمل و صفین میں ان کی تباہ کاریاں، مختار بن عبید کی سیاہ کاریاں، علویوں کے خروج کے مظالم، خاندان بنی بویہہ اور فاطمین مصر کی چیره دستیاں یکسر معاف و فراموش کردی جائیں ہم مجبوراً یہاں چند واقعات نقل کرتے ہیں۔
1: محمد بن حسین بن جعفر بن موسیٰ کاظم اور علی بن حسین بن جعفر بن موسیٰ کاظم دونوں بھائیوں نے مل کر 271 ہجری میں المعتمد عباسی کے زمانہ میں خروج کیا، یہ دونوں بھائی شیطنت، خباثت، بے حیائی اور ظلم وجور کے مجسمے تھے چند روز ان کا مدینہ منورہ پر قبضہ رہا۔
علامہ ابن کثیر رحمۃاللہ لکھتے ہیں: ”مدینہ کے باشندوں کی بڑی تعداد کو قتل کر ڈالا، ان کا مال و اسباب چھین لیا، پورے چار ہفتے مسجد نبویﷺ میں نماز نہ ہوسکی، مدینہ کے علاوہ مکہ میں بھی یہی فتنہ برپا کیا، مسجد حرام کے دروازے پر لوگوں کو قتل کیا“
(البدایہ والنہایہ: جلد 11 صفحہ 49)
علامہ ابن حزم نے جمہرۃ الانساب صفحہ 54 پر یہی کچھ لکھا ہے۔
تشیع کا محافظ طبری مؤرخ بھی ایک علوی شاعر کے قطعہ میں یہ الفاظ کہتا ہے، ان لوگوں کا برا ہو جنہوں نے مدینہ اور مسجد نبویﷺ کو برباد کیا اور ایک ملعون ظلم ڈھانے والے کے ظلم کے سامنے واقعہ حرہ اور کعبہ کی بےحرمتی کی فرضی داستانیں گروہیں۔
(طبری جلد 11 صفحہ 329 بحوالہ عترتِ رسولﷺ صفحہ 177)
2:علی و محمد جو حسین الافطس بن حسن بن زین العابدین کے بیٹے تھے اور محمد بن جعفر بن محمد باقر بن زین العابدین نے مل کر 199 ہجری میں مکہ میں مامون رشید کے زمانہ میں خروج کیا حسین الافطس کو اکثر مؤرخین نے احد المفسدین فی الارض کہا ہے۔
(جمہرۃ الانساب: صفحہ 47)
مکہ معظمہ کی تاریخ میں انہیں بدترین سیرتوں والا کہا گیا ہے، حسین الافطس نے کعبہ سے غلاف اتار لیا اور اس کے بجائے ابو السرایا کا بھیجا ہوا غلاف چڑھایا، لوگوں کے مال بجبر و تعدی چھیننے لگا اکثر لوگ بخوف جان ومال مکہ چھوڑ کر بھاگ گئے اس کے ہمراہیوں نے حرم شریف کی جالیوں کو توڑ دیا، خود الافطس نے کعبہ شریف کے ستونوں پر چڑھا ہوا سونا کھرچ کر اتار لیا، کعبہ کا تمام خزانہ لوٹ کر ہمراہیوں میں تقسیم کر دیا۔
مشہور شیعہ مؤلف عمدۃ الطالب میں لکھتا ہے کہ اس نے کعبہ کا مال لوٹ لیا، جب اسے ابو السرایا کے مرنے کی اطلاع ملی تو بہت گھبرایا، جناب جعفر صادق رحمۃاللہ علیہ کے بیٹے محمد کے پاس آیا جو ایک نیک سیرت عالم فاضل تھے کہ میں آپ کے ہاتھ پر بیت کرتا ہوں پہلے تو انہوں نے انکار کیا آخر اپنے بیٹے علی کے کہنے پہ اس پر (بیعت پر) آمادہ ہو گیا، اب لوگ انہیں امیر المؤمنین کہنے لگے، علی بن محمد اور حسین الافطس نے محمد کی آڑ میں ہاتھ پاؤں نکالنے شروع کئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جہاں کسی خوبصورت عورت پر نظر پڑی اٹھا کر لے گئے، مکہ کے قاضی کے لڑکے کو منہ کالا کرنے کے لیے پکڑ کر لے گئے، آخر تنگ آ کر مکہ کے لوگوں نے ایک جلسہ کیا اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ محمد بن جعفر کے مکان سے لڑکا رہا کیا جائے، تاریخ کامل ابنِ اثیر کے حوالے سے ابن خلدون لکھتا ہے کہ قاضی کا نام محمد اور اس کے لڑکے کا نام اسحاق تھا جو بڑا خوبصورت تھا، اسے دیکھتے ہی ان شیطانوں کی رال ٹپک پڑی۔ (صفحہ 102)
3: ابراهيم الجزار بن موسیٰ کاظم نے 199ھ میں مامون کے خلاف خروج کیا، یہ ابراہیم بھی ابوالسرایا کی جانب سے یمن کا عامل مقرر کیا گیا تھا، اہل یمن کو کثرت سے قتل کرنے اور ان کے اموال لوٹنے کی وجہ سے قصاب کے نام سے مشہور ہوا۔
( البدایہ جلد 10 صفحہ 296)
4: محمد بن جعفر بن علی نقی شیعوں کے دسویں امام کے اس پوتے نے 300 ہجری میں دمشق میں المعتضد کے خلاف خروج کیا، محمد کے والد جعفر کو شیعہ جعفر کذاب کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بھائی حسن عسکری رحمۃاللہ علیہ کے لاولد فوت ہونے کا بھانڈا پھوڑ کر ان کے بارہویں امام کی پیدائش کے جھوٹ کا راز طشت ازبام کرنے کا موجب بنا، حسن عسکری کی کئی کنیزیں تھیں، شیعہ کہتے ہیں کہ صیقل نامی کنیز کے بطن سے مهدی موعود پیدا ہو کر غائب ہو گئے، ملا باقر علی مجلسی کنیز کا نام نرجس لکھتا ہے۔ ابھی تک یہ لوگ اپنے بارہویں امام کی ماں کے نام کا فیصلہ نہیں کر سکے۔ جعفر کذاب نے حسن عسکریؒ کے لاولد مرنے پر اس کے ترکہ کا دعوی کیا تھا، ترکہ تو مل گیا مگر عترتِ رسولﷺ کے محبین نے اسے کذاب بنا کر رکھ دیا ۔
قیاس کن زگلستان من بکار مرا،
(عترت رسولﷺ)
5: اسماعیل بن یوسف بن ابراہیم بن موسیٰ بن عبداللہ بن حسن مثنیٰ اس ذات شریف نے سن 251 ہجری میں مکہ معظمہ میں المستعین باللہ کے زمانے میں بغاوت کی، یہ حضرت اپنے پیشرؤں میں سب کے چچا نکلے، مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور جدہ میں نہ صرف گورنروں اور حکومت کے تمام کارندوں کے مکانات لوٹنے پر اکتفا کی بلکہ کعبہ کے وقفی خزانہ میں جو سونا چاندی تھا وہ بھی لوٹ لیا۔ کعبہ کا غلاف تک اتار لیا۔
(البدایہ والنہایہ: جلد 11 صفحہ 9 طبری جلد 11 صفحہ 136)
اہالیان مکہ سے دو ہزار اشرفیاں جبراً وصول کیں، پھر مدینہ میں تشریف لے گئے وہاں کے لوگوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا، جدہ میں تاجروں کا مال لوٹ لیا، حج کا موسم تھا ایک ہزار حاجیوں کو قتل کیا، اللہ کی مخلوق الامان الامان پکار اٹھی، پانی کی صراحی کی قیمت 3 درہم تک پہنچ گئی، ضروریات زندگی کا ملنا محال ہو گیا ۔ چنانچہ عمدۃ المطالب کا شیعہ مؤلف لکھتا ہے: واعترض الحجاج فقتل منهم كثيرا او نهبهم
(صفحہ نمبر 2)
ان مفسدین کے خوف وہراس سے لوگوں نے مسجد نبوی میں نماز پڑھنی چھوڑ دی۔
علامہ ابن حزم لکھتے ہیں،”اس نے مدینہ کا محاصرہ کیا، لوگ بھوک پیاس سے مرنے لگے، مسجد نبوی میں کوئی ایک شخص بھی نماز نہ پڑھ سکا، پچاس دن تک اسماعیل مکہ، مدینہ اور جدہ میں بلائے ناگہانی بنا رہا، لشکر خلافت پہنچنے پر لوگوں کو امن کا سانس لینا نصیب ہوا اور اسماعیل چیچک کی وبا سے بلاک ہوا “
(بحوالہ حقیقت مذہب شیعہ صفحہ 384 )
بہر حال سادات کے کائنات پر مظالم کی دل خراش و جاں سوز داستان طویل ہے، صرف ان پانچ مثالوں پہ اکتفا کر کے شیعہ حضرات سے عرض گذار ہوں کہ وہ منفی پروپیگینڈہ ختم کر کے نیکی اور تقویٰ کی تلقین کریں یا پھر عترتِ رسولﷺ کے ننگ و شرم ان یزیدوں کے کارناموں سے بھی دنیا کو آگاہ کیا کریں۔
الله تعالیٰ ہر مسلمان کو قرآن وسنت اور صحابہؓ و اہل بیتؓ کی متفقہ محبت اور اتباع کامل نصیب فرمائے۔ آمین