واقعہ حرہ اور حضرت زین العابدین رحمۃ اللّٰہ - ردِ رافضیت |…

واقعہ حرہ اور حضرت زین العابدین رحمۃ اللّٰہ

  (محققِ اہلسنت حضرت مولانا مہر محمد رحمۃ اللّٰہ)

صفحہ 1 از 3

(اکثر شیعہ کہتے ہیں کہ) واقعہ حرہ کیوں اور کس کے حکم سے ہوا اور اس میں مدینہ اور اہل مدینہ کا کیا حال ہوا، ذرا تفصیل سے روشنی ڈالیے۔

جواب: یہ حادثہ حضرت عبد الله بن زبیرؓ کے دعویٰ خلافت اور آپؓ کے حامیوں کے یزید کی بیعت توڑ دینے کے رد عمل میں پیش آیا جب سیدنا حسینؓ کی شہادت کی خبر حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو پہنچی تو انہوں نے مجمع عام میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ”لوگو! دنیا میں عراق کے آدمیوں سے برے کہیں کے آدمی نہیں ہیں اور عراقیوں میں سب سے بدتر کوفی لوگ ہیں کہ انہوں نے بار بار خطوط بھیج کر باصرار سیدنا حسینؓ کو بلایا اور ان کی خلافت کے لیے بیعت کی جب ابن زیاد کوفہ میں آیا تو اسی کے گرد ہو گئے اور سیدنا حسینؓ کو جو نماز گزار، روزه دار، قرآن خواں ہر طرح مستحق خلافت تھے قتل کردیا اور ذرہ بھی خدا کا خوف نہ کیا۔“

(تاریخ اسلام نجیب آبادی: جلد 2 صفحہ 83)

یہ کہہ کر عبداللہ بن زبیرؓ رو پڑے، لوگوں نے کہا آپ سے بڑھ کر کوئی مستحق خلافت نہیں، آپ ہاتھ بڑھائیے ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور آپ کو خلیفہ وقت مانتے ہیں۔ چنانچہ تمام اہل مکہ نے عبداللہ بن زبیرؓ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کی، پھر آپ کے داعی مدینہ منورہ پہنچے وہاں بھی نوجوان طبقہ یزید کی بیعت توڑنے اور ابن زبیرؓ کی بیعت کرنے کے لیے آمادہ ہو گیا، مگر اکابر اور ذمہ دار لوگوں نے خصوصا بنو ہاشم اور علویوں نے اس کی مخالفت کی اور یزید کی اطاعت پر رہنے کا مشورہ دیا۔

عبداللہ بن حنظلهؓ، منذر بن زبیرؓ وغیرہ کی موجودگی میں ایک وفد شام کا دورہ کر کے آیا۔ انہوں نے یزید کے لہو و لعب اور خلاف شرع کاموں میں مصروف رہنے کا پروپیگینڈہ کیا عبداللہ بن مطیع ان لوگوں کے سرکردہ تھے مگر علویوں میں سے حضرت محمد بن علی بن الحنفیہ ان کے مخالف یزید کے دفاع میں کہتے،” جو کچھ تم اس کی برائیاں بیان کرتے ہو میں نے نہیں دیکھیں حالانکہ میں یزید کے پاس آیا گیا، اس کے ہاں قیام کیا، میں نے اسے نماز کا پابند نیکیوں کا متلاشی اور سنت نبویﷺ کا متبع پایا۔ فقہ اور دینی مسائل اس سے پوچھے جاتے تھے۔"

(البدایہ والنہایہ  جلد 8 صفحہ 232 بحوالہ عدالت صحابہ کرامؓ صفحہ 344)

حضرت عبد ماللہ بن عمرؓ بن الخطاب نے اپنے تمام اعزہ احباب اور معتقدین کو جمع کر کے فرمایا:

”جس شخص کا میرے ساتھ تعلق ہے وہ سن لے کہ یزید کی مخالفانہ تحریک میں حصہ نہ لے کیونکہ ہم نے ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کی ہے، جیسے الله اور اس کے رسولﷺ کے حکم پر بیعت کرتے تھے، اور اس سے زیادہ غدر کوئی نہیں کہ کل ہم اس کے ہاتھ پر بیعت کریں، اور آج توڑ دیں، میں نے رسول اللهﷺ سے سنا ہے آپﷺ فرماتے تھے” قیامت کے دن غدار اور وعدہ خلافی کرنے والے کو اوندھا کر کے اس کے مقعد میں غداری کا جھنڈا لگا دیا جائے گا۔“ (بخاری محصلہ)

اس دوران منذر بن زبیرؓ نے حضرت عبدالله بن حنظلہؓ اور عبد الله بن مطیع سے کہا کہ تم کو چاہیے علی بن الحسینؓ ( زین العابدین رحمۃاللہ) کے ہاتھ پر بیعت خلافت کرو، چنانچہ یہ سب مل کر علی بن حسینؓ کے پاس گئے انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میرے باپ اور دادا دونوں نے خلافت کے حصول کی کوشش میں اپنی اپنی جانیں گنوائیں میں اب ہرگز ایسے خطرناک کام کی جرأت نہیں کر سکتا، میں اپنے آپ کو قتل کرانا پسند نہیں کرسکتا یہ کہہ کر وہ مدینہ سے باہر ایک موضع میں چلے گئے۔ مروان جو معہ دیگر بنو امیہ کے (جو ہزار بھر تھے) اپنی حویلی میں قید تھا اس نے عبد الملک کے ہاتھ علی بن الحسینؓ کو کہلا بھیجا کہ آپ نے جو کچھ کیا، بہت ہی اچھا کیا، ہم اس قدر امداد کے اور خواہاں ہیں۔ ہمارے بعض قیمتی اموال اور اہل و عیال جن کی اس جگہ گنجائش نہیں ہے آپ کے پاس بھجوائے دیتے ہیں آپ ان کی حفاظت کریں، علی بن حسینؓ نے اس کو منظور کر لیا اور مروان بن حکم نے رات کی تاریکی میں پوشیدہ طور پر اپنے اہل و عیال اور قیمتی اموال علی بن حسینؓ کے پاس اس کے گاؤں میں بھیج دیئے (حضرت) علی بن الحسینؓ نے مدینہ کے حالات یزید کو لکھ بھیجے اور اپنی نسبت لکھا کہ میں آپ کا وفادار ہوں اور بنوامیہ کی حمایت و حفاظت میں ممکن کوشش بجالا رہا ہوں، یزید نے مدینہ کے حالات سے واقف ہو کر نعمان بن بشیر انصاریؓ کو بلا کر کہا کہ تم مدینہ جا کہ لوگوں کو سمجھاؤ کہ ان حرکات سے باز رہیں اور مدینہ میں کشت وخون کے امکانات پیدا نہ کریں، نیز عبد اللہ بن حنظلہؓ کو بھی نصیحت کرو کہ تم یزید کے پاس گئے اور وہاں سے انعام واکرام حاصل کرکے خوش و خرم رخصت ہوئے لیکن مدینہ آ کر یزید کے مخالف بن گئے اور بیعت فسخ کرکے یزید پر کفر کا فتویٰ لگا کر لوگوں کو برانگیختہ کیا، یہ کوئی مردانگی اور دانائی کا کام نہیں کیا، علی بن حسینؓ سے مل کر میری طرف سے پیغام پہنچاؤ کہ تمہاری وفاداری اور کارگزاری کی قدر کی جائے گی، بنوامیہ سے جو وہاں موجود ہیں کہو کہ تم سے اتنا بھی کام نہ ہوا کہ مدینہ میں فتنہ پیدا کرنے والے دو شخصوں کو قتل کرکے اس فتنہ کو دبا دیتے یہ باتیں سن کر نعمان بن بشیرؓ سانڈنی پر سوار ہو کہ مدینہ کی طرف چلے انہوں نے ہر چند کوشش کی اور سب کو سمجھایا مگر کوئی نتیجہ پیدا نہ ہوا مجبوراً وہ مدینہ سے دمشق واپس آ گئے اور تمام حالات یزید کو سنائے، یزید نے مطلع ہو کر مسلم بن عقبہ کو طلب کیا اور کہا کہ ایک ہزار چیدہ جنگجو ہمراہ لے کر مدینہ پہنچو لوگوں کو اطاعت کی طرف بلاؤ اگر وہ اطاعت اختیار کر لیں تو بہتر ہے نہیں تو جنگ کرکے سب کو سیدھا کر دو۔

(مسلم نے بیماری کی معذرت کی مگر یزید نے اسے ہی اس مہم پر روانہ کیا) یزید نے رخصت کرتے وقت مسلم کو نصیحت کی کہ جہاں تک ممکن ہو نرمی اور درگزر سے کام لے کر اہل مدینہ کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرنا لیکن جب یہ یقین ہو جائے کہ نرمی اور نصیحت کام نہیں آسکتی تو پھر تجھ کو اختیار کامل دیتا ہوں کہ کشت و خون اور قتل و غارت میں کمی نہ کرنا مگر اس بات کا خیال رکھنا کہ علی بن الحسینؓ کو کوئی آزار نہ پہنچے کیونکہ وہ میرا وفادار اور خیر خواہ ہے اور اس کا خط میرے پاس آیا ہے جس میں لکھا ہے کہ مجھ کو اس شورش اور بغاوت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

صفحہ 1 از 3