واقعہ حرہ اور حضرت زین العابدین رحمۃ اللّٰہ - ردِ رافضیت |…

واقعہ حرہ اور حضرت زین العابدین رحمۃ اللّٰہ

  (محققِ اہلسنت حضرت مولانا مہر محمد رحمۃ اللّٰہ)

صفحہ 2 از 3

(تاریخ اسلام نجیب آبادی بلفظہ جلد 2 صفحہ 86)

جب مسلم بن عقبہ فوج لے کر مدینہ کے قریب پہنچا تو مدینہ والوں نے مشورہ کیا کہ پہلے مقامی بنو امیہ کو ختم کر دینا چاہیے تاکہ یہ فوج سے مل کر اندرونی نقصان نہ پہنچائیں مگر عبداللہ بن حنظلہ نے کہا ایسا کرنے سے تمام عراقی و شامی مدینہ پر یورش کر دیں گے بہتر یہ ہے کہ بنو امیہ سے یہ عہد و پیمان لے کر ان کو چھوڑ دیا جائے کہ وہ نہ ہماری مدد کریں نہ فوج کی، چنانچہ تمام بنو امیہ سے یہ اقرار لے کہ رخصت کر دیا گیا بجز عبد الملک بن مروان کے کہ اس کو مدینہ میں رہنے کی آزادی رہی۔ ان لوگوں کی وادی القریٰ میں مسلم بن عقبہ کے لشکر سے ملاقات ہوئی، مسلم نے ان سے پوچھا کہ ہم کو مدینہ پر کس طرف سے حملہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے عہد و قرار کا لحاظ کر کے مسلم کو جواب دینے سے انکار کر دیا اور اپنے عہد و اقرار کا لحاظ کرکے مسلم کو جواب نہ دیا، انہوں عبدالملک کے متعلق بتایا کہ اس سے عہد و پیمان نہیں لیا گیا چنانچہ مسلم نے کسی کو مدینہ بھیج کر عبد الملک کو بلوا بھیجا، اس کے مشورے سن کر حیران ہو گیا اور انہی پر عمل کیا، اس نے اہل مدینہ کو پیغام بھیجا کہ امیر المؤمنین یزید تم کو شریف سمجھتے اور تمہاری خونریزی کو پسند نہیں کرتے ہیں بہتر یہی ہے کہ تم اطاعت اختیار کرو ورنہ مجبوراً مجھ کو شمشیر نیام سے نکالنی پڑے گی، یہ پیغام بھیج کر تین دن مسلم نے انتظار کیا مگر اہل مدینہ لڑائی پر آمادہ ہو گئے، آخر مسلم نے حرہ کی جانب سے مدینہ پر حملہ کیا، اہل مدینہ نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا اور لشکر شام کا منہ پھیر دیا لیکن مسلم بن عقبہ کی بہادری اور تجربہ کاری سے اہل مدینہ کو شکست ہوئی 

حرہ کے نقصانات

عبداللہ بن حنظلہ، فضیل بن عباس بن عبد المطلب، محمد بن ثابت بن قیس، عبدالله بن زید بن عاصم، محمد بن عمرو بن حزم انصاری، وهب بن عبدالله بن زمعہ، زبیر بن عبد الرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب بہت سے سردارانِ مدینہ (رضی اللہ عنہم) جنگ میں کام آئے۔ فتح مند فوج مدینہ میں داخل ہوئی، مسلم بن عقبہ نے تین دن تک قتل عام اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس لڑائی اور قتل عام میں ایک ہزار کے قریب آدمی مارے گئے جن میں تین سو سے زیادہ شرفاء قریش و انصار شامل تھے۔

(بعض نے کل تعداد 365 لکھی ہے)

چوتھے روز مسلم نے قتل عام کو موقوف کر کے بیعت کا حکم دیا۔ جس نے مسلم کے ہاتھ پر آ کر بیعت کی وہ بچ گیا جس نے بیعت سے انکار کیا وہ قتل ہوا۔27 ذی الحجہ 63 ھجری کو یہ حادثہ ہوا اسی روز محمد بن عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب پیدا ہوا۔ یہی وہ محمد بن عبداللہ ہے جو محمد ابو العباس سفاح کے نام سے مشہور ہے اور عباسیوں کا پہلا خلیفہ ہے۔

(کلہ تاریخ اسلام اکبر شاہ نجیب آبادی جلد 2 صفحہ 88)

شهداء حرہ اور ہم

شیعہ حضرات کے کہنے کے مطابق حرہ کے واقعہ کی تفصیل ایک ہی غیر جانبدار تاریخ سے ہم نے نقل کر دی، واقعہ کے نقصانات کے اعتبار سے ہم بھی انا للّٰه و انا الیہ راجعون پڑھتے اور اظہار تاسف کرتے ہیں جو اہل مدینہ شہادت سے شادکام ہوئے ان پر دعائے ترحم کرتے ہیں، جن فوجیوں نے ناجائز اختیار استعمال کرکے بہیمیت اور درندگی کا ثبوت دیا احادیث صحیحہ کی روشنی میں ان کو مورد لعن اور مستحق عذاب الیم جانتے ہیں، لیکن علل و اسباب آپ کے سامنے ہیں، فرد جرم ایک طرف ہی لگا دینا انصاف کا تقاضہ نہیں آخر حضرت زین العابدین رحمۃاللہ کی غیر جانبداری بلکہ امکانی حد تک حمایت حضرت عبداللہ بن عمر جیسے اکابر کا رد عمل تصویر کا دوسرا رخ بھی پیش کرتے ہیں کہ جس سے بیعت خلافت کرلی جائے پھر بلا وجہ بغاوت کیوں؟

شیعہ حضرات کو تو اس واقعہ میں فریق مخالف کا پارٹ ادا نہ کرنا چاہیے، خصوصاً 1400 سال بعد اپنی سیاسی چالوں کو تقویت دینے کے لیے کیونکہ ان کے امام چہارم جن کی اتباع ان کے لیے فرض عین مثل اطاعتِ رسولﷺ کے ہے، نے جب یزید کی وفاداری اور خیر خواہی کی تو ان کو بھی آج یہی نظریہ رکھنا چاہئے۔

سادات کے مظالم

ہم سنی چونکہ صاف باطن ہوتے ہیں اس لیے کسی کے برے پہلو سے اعراض کرنا اور صرف قابلِ اتباع امور کی نشر و اشاعت کو خدمت دین جانتے ہیں، جو لوگ سنی نقطہ نظر سے ہٹ کر سوچتے ہیں وہ پھر سادات واہل بیت کو بھی جب تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو تاریخ ان کو بھی بہت کچھ ناقابل سماع مواد مہیا کرتی ہے اور حرم مدینہ، خانہ کعبہ اور شعائر اسلام کی عظمت کی دھجیاں ان کے ہاتھوں فضا میں بکھرتی نظر آتی ہیں، یہ کوئی انصاف نہیں کہ حضرت معاویہؓ، یزید، حجاج کو تو نشانہ طعن ہمہ وقت بنا لیا جائے مگر قاتلان عثمانؓ کی مدینہ میں سفاکی، جمل و صفین میں ان کی تباہ کاریاں، مختار بن عبید کی سیاہ کاریاں، علویوں کے خروج کے مظالم، خاندان بنی بویہہ اور فاطمین مصر کی چیره دستیاں یکسر معاف و فراموش کردی جائیں ہم مجبوراً یہاں چند واقعات نقل کرتے ہیں۔

1: محمد بن حسین بن جعفر بن موسیٰ کاظم اور علی بن حسین بن جعفر بن موسیٰ کاظم دونوں بھائیوں نے مل کر 271 ہجری میں المعتمد عباسی کے زمانہ میں خروج کیا، یہ دونوں بھائی شیطنت، خباثت، بے حیائی اور ظلم وجور کے مجسمے تھے چند روز ان کا مدینہ منورہ پر قبضہ رہا۔

علامہ ابن کثیر رحمۃاللہ لکھتے ہیں: ”مدینہ کے باشندوں کی بڑی تعداد کو قتل کر ڈالا، ان کا مال و اسباب چھین لیا، پورے چار ہفتے مسجد نبویﷺ میں نماز نہ ہوسکی، مدینہ کے علاوہ مکہ میں بھی یہی فتنہ برپا کیا، مسجد حرام کے دروازے پر لوگوں کو قتل کیا“

(البدایہ والنہایہ: جلد 11 صفحہ 49)

علامہ ابن حزم نے جمہرۃ الانساب صفحہ 54 پر یہی کچھ لکھا ہے۔

تشیع کا محافظ طبری مؤرخ بھی ایک علوی شاعر کے قطعہ میں یہ الفاظ کہتا ہے، ان لوگوں کا برا ہو جنہوں نے مدینہ اور مسجد نبویﷺ کو برباد کیا اور ایک ملعون ظلم ڈھانے والے کے ظلم کے سامنے واقعہ حرہ اور کعبہ کی بےحرمتی کی فرضی داستانیں گروہیں۔

(طبری جلد 11 صفحہ  329 بحوالہ عترتِ رسولﷺ صفحہ 177)

صفحہ 2 از 3