واقعہ حرہ اور حضرت زین العابدین رحمۃ اللّٰہ - ردِ رافضیت |…

واقعہ حرہ اور حضرت زین العابدین رحمۃ اللّٰہ

  (محققِ اہلسنت حضرت مولانا مہر محمد رحمۃ اللّٰہ)

صفحہ 3 از 3

2:علی و محمد جو حسین الافطس بن حسن بن زین العابدین کے بیٹے تھے اور محمد بن جعفر بن محمد باقر بن زین العابدین نے مل کر 199 ہجری میں مکہ میں مامون رشید کے زمانہ میں خروج کیا حسین الافطس کو اکثر مؤرخین نے احد المفسدین فی الارض کہا ہے۔

(جمہرۃ الانساب: صفحہ 47)

مکہ معظمہ کی تاریخ میں انہیں بدترین سیرتوں والا کہا گیا ہے، حسین الافطس نے کعبہ سے غلاف اتار لیا اور اس کے بجائے ابو السرایا کا بھیجا ہوا غلاف چڑھایا، لوگوں کے مال بجبر و تعدی چھیننے لگا اکثر لوگ بخوف جان ومال مکہ چھوڑ کر بھاگ گئے اس کے ہمراہیوں نے حرم شریف کی جالیوں کو توڑ دیا، خود الافطس نے کعبہ شریف کے ستونوں پر چڑھا ہوا سونا کھرچ کر اتار لیا، کعبہ کا تمام خزانہ لوٹ کر ہمراہیوں میں تقسیم کر دیا۔

مشہور شیعہ مؤلف عمدۃ الطالب میں لکھتا ہے کہ اس نے کعبہ کا مال لوٹ لیا، جب اسے ابو السرایا کے مرنے کی اطلاع ملی تو بہت گھبرایا، جناب جعفر صادق رحمۃاللہ علیہ کے بیٹے محمد کے پاس آیا جو ایک نیک سیرت عالم فاضل تھے کہ میں آپ کے ہاتھ پر بیت کرتا ہوں پہلے تو انہوں نے انکار کیا آخر اپنے بیٹے علی کے کہنے پہ اس پر (بیعت پر) آمادہ ہو گیا، اب لوگ انہیں امیر المؤمنین کہنے لگے، علی بن محمد اور حسین الافطس نے محمد کی آڑ میں ہاتھ پاؤں نکالنے شروع کئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جہاں کسی خوبصورت عورت پر نظر پڑی اٹھا کر لے گئے، مکہ کے قاضی کے لڑکے کو منہ کالا کرنے کے لیے پکڑ کر لے گئے، آخر تنگ آ کر مکہ کے لوگوں نے ایک جلسہ کیا اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ محمد بن جعفر کے مکان سے لڑکا رہا کیا جائے، تاریخ کامل ابنِ اثیر کے حوالے سے ابن خلدون لکھتا ہے کہ قاضی کا نام محمد اور اس کے لڑکے کا نام اسحاق تھا جو بڑا خوبصورت تھا، اسے دیکھتے ہی ان شیطانوں کی رال ٹپک پڑی۔ (صفحہ 102)

3: ابراهيم الجزار بن موسیٰ کاظم نے 199ھ میں مامون کے خلاف خروج کیا، یہ ابراہیم بھی ابوالسرایا کی جانب سے یمن کا عامل مقرر کیا گیا تھا، اہل یمن کو کثرت سے قتل کرنے اور ان کے اموال لوٹنے کی وجہ سے قصاب کے نام سے مشہور ہوا۔

( البدایہ جلد 10 صفحہ 296)

4: محمد بن جعفر بن علی نقی شیعوں کے دسویں امام کے اس پوتے نے 300 ہجری میں دمشق میں المعتضد کے خلاف خروج کیا، محمد کے والد جعفر کو شیعہ جعفر کذاب کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بھائی حسن عسکری رحمۃاللہ علیہ کے لاولد فوت ہونے کا بھانڈا پھوڑ کر ان کے بارہویں امام کی پیدائش کے جھوٹ کا راز طشت ازبام کرنے کا موجب بنا، حسن عسکری کی کئی کنیزیں تھیں، شیعہ کہتے ہیں کہ صیقل نامی کنیز کے بطن سے مهدی موعود پیدا ہو کر غائب ہو گئے، ملا باقر علی مجلسی کنیز کا نام نرجس لکھتا ہے۔ ابھی تک یہ لوگ اپنے بارہویں امام کی ماں کے نام کا فیصلہ نہیں کر سکے۔ جعفر کذاب نے حسن عسکریؒ کے لاولد مرنے پر اس کے ترکہ کا دعوی کیا تھا، ترکہ تو مل گیا مگر عترتِ رسولﷺ کے محبین نے اسے کذاب بنا کر رکھ دیا ۔

قیاس کن زگلستان من بکار مرا،

(عترت رسولﷺ)

5: اسماعیل بن یوسف بن ابراہیم بن موسیٰ بن عبداللہ بن حسن مثنیٰ اس ذات شریف نے سن 251 ہجری میں مکہ معظمہ میں المستعین باللہ کے زمانے میں بغاوت کی، یہ حضرت اپنے پیشرؤں میں سب کے چچا نکلے، مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور جدہ میں نہ صرف گورنروں اور حکومت کے تمام کارندوں کے مکانات لوٹنے پر اکتفا کی بلکہ کعبہ کے وقفی خزانہ میں جو سونا چاندی تھا وہ بھی لوٹ لیا۔ کعبہ کا غلاف تک اتار لیا۔

(البدایہ والنہایہ: جلد 11 صفحہ 9 طبری جلد 11 صفحہ 136)

اہالیان مکہ سے دو ہزار اشرفیاں جبراً وصول کیں، پھر مدینہ میں تشریف لے گئے وہاں کے لوگوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا، جدہ میں تاجروں کا مال لوٹ لیا، حج کا موسم تھا ایک ہزار حاجیوں کو قتل کیا، اللہ کی مخلوق الامان الامان پکار اٹھی، پانی کی صراحی کی قیمت 3 درہم تک پہنچ گئی، ضروریات زندگی کا ملنا محال ہو گیا ۔ چنانچہ عمدۃ المطالب کا شیعہ مؤلف لکھتا ہے: واعترض الحجاج فقتل منهم كثيرا او نهبهم

 (صفحہ نمبر 2)

ان مفسدین کے خوف وہراس سے لوگوں نے مسجد نبوی میں نماز پڑھنی چھوڑ دی۔

علامہ ابن حزم لکھتے ہیں،”اس نے مدینہ کا محاصرہ کیا، لوگ بھوک پیاس سے مرنے لگے، مسجد نبوی میں کوئی ایک شخص بھی نماز نہ پڑھ سکا، پچاس دن تک اسماعیل مکہ، مدینہ اور جدہ میں بلائے ناگہانی بنا رہا، لشکر خلافت پہنچنے پر لوگوں کو امن کا سانس لینا نصیب ہوا اور اسماعیل چیچک کی وبا سے بلاک ہوا “

(بحوالہ حقیقت مذہب شیعہ صفحہ 384 )

بہر حال سادات کے کائنات پر مظالم کی دل خراش و جاں سوز داستان طویل ہے، صرف ان پانچ مثالوں پہ اکتفا کر کے شیعہ حضرات سے عرض گذار ہوں کہ وہ منفی پروپیگینڈہ ختم کر کے نیکی اور تقویٰ کی تلقین کریں یا پھر عترتِ رسولﷺ کے ننگ و شرم ان یزیدوں کے کارناموں سے بھی دنیا کو آگاہ کیا کریں۔

الله تعالیٰ ہر مسلمان کو قرآن وسنت اور صحابہؓ و اہل بیتؓ کی متفقہ محبت اور اتباع کامل نصیب فرمائے۔ آمین


صفحہ 3 از 3