استحقاق خلافت پر شرعی نصوص کے واضح اشارے - دفاعِ اہلِ سنت |…

استحقاق خلافت پر شرعی نصوص کے واضح اشارے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

قرآنِ مجید میں سیّدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت کے صحیح ہونے اور ان کی اطاعت کے وجوب پر واضح دلیل موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اعراب (بدویوں) کے بارے میں اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

فَاِنۡ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنۡهُمۡ فَاسۡتَـاْذَنُوۡكَ لِلۡخُرُوۡجِ فَقُلْ لَّنۡ تَخۡرُجُوۡا مَعِىَ اَبَدًا وَّلَنۡ تُقَاتِلُوۡا مَعِىَ عَدُوًّا‌ اِنَّكُمۡ رَضِيۡتُمۡ بِالۡقُعُوۡدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقۡعُدُوۡا مَعَ الۡخٰلـِفِيۡنَ ۞ (سورۃ التوبۃ: آیت، 83)

ترجمہ:’’پس اگر اللہ تجھے ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے، پھر وہ تجھ سے (جنگ کے لیے) نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دے تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے اور میرے ساتھ مل کر کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے۔‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ سورۂ ’’برأۃ‘‘ جس میں یہ حکم کا نزول ہوا ہے وہ غزوۂ تبوک کے بعد نازل ہوئی،

(تاریخ الطبری: جلد، 4 صفحہ 248) 

 اس سورۃ میں ایسے تین افراد کا تذکرہ ہے جو اس غزوہ میں شریک ہونے سے پیچھے رہ گئے تھے جن کی معذرت قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اس غزوۂ تبوک کے بعد اپنی وفات تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی لڑائی میں حصہ نہیں لیا۔

مزید اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

سَيَـقُوۡلُ الۡمُخَلَّفُوۡنَ اِذَا انْطَلَقۡتُمۡ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاۡخُذُوۡهَا ذَرُوۡنَا نَـتَّبِعۡكُمۡ‌ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّبَدِّلُوۡا كَلٰمَ اللّٰهِ‌ قُلْ لَّنۡ تَتَّبِعُوۡنَا كَذٰلِكُمۡ قَالَ اللّٰهُ مِنۡ قَبۡلُ‌ ۞ (سورۃ الفتح: آیت 15)

ترجمہ: ’’عنقریب پیچھے چھوڑ دیے جانے والے لوگ کہیں گے جب تم کچھ غنیمتوں کی طرف چلو گے، تاکہ انھیں لے لو، ہمیں چھوڑو کہ ہم تمھارے ساتھ چلیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔ کہہ دے تم ہمارے ساتھ کبھی نہیں جاؤ گے، اسی طرح اللہ نے پہلے سے کہہ دیا ہے۔ ‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح اشارہ موجود ہے کہ غزوۂ تبوک کے بعد اہلِ عرب رسول اللہﷺ سے جنگ نہیں کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں رسول اللہﷺ کے ساتھ غزوہ کرنے کی ممانعت کے پیچھے ہی فرمایا:

قُلْ لِّلۡمُخَلَّفِيۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰى قَوۡمٍ اُولِىۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ تُقَاتِلُوۡنَهُمۡ اَوۡ يُسۡلِمُوۡنَ‌ فَاِنۡ تُطِيۡـعُوۡا يُـؤۡتِكُمُ اللّٰهُ اَجۡرًا حَسَنًا‌ وَاِنۡ تَتَـوَلَّوۡا كَمَا تَوَلَّيۡـتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا‏ ۞ (سورۃ الفتح: آیت 16)

ترجمہ: ’’بدؤوں میں سے پیچھے چھوڑے جانے والوں سے کہہ دے عنقریب تم ایک سخت لڑنے والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے، تم ان سے لڑو گے، یا وہ مسلمان ہو جائیں گے، پھر اگر تم حکم مانو گے تو اللہ تمھیں اچھا اجر دے گا اور اگر پھر جاؤ گے، جیسے تم اس سے پہلے پھر گئے تو وہ تمھیں سزا دے گا، درد ناک سزا۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خبر دی ہے کہ پیچھے رہنے والوں کو جنگجو قوم سے جنگ کرنے کے لیے، جس میں ان سے لڑائی ہو گی یا وہ مسلمان ہو جائیں گے، نبی کے علاوہ دوسرا شخص بلائے گا اور اس شخص کی دعوت پر اطاعت کرنے والوں سے اللہ نے بڑے اجر و ثواب کا وعدہ کیا اور اس کی نافرمانی کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب کی دھمکی دی۔

(الدر المنثور فی التفسیر المأثور: السیوطی: جلد، 4 صفحہ 119 تا 122 )

ابو محمد بن حزمؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے بعد ان بدؤوں کو جنگجو قوم سے قتال کرنے یا انہیں مسلمان بنانے کی طرف سیّدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے علاوہ کسی دوسرے نے دعوت نہ دی۔ چنانچہ مرتدین عرب مثلاً بنو حنیفہ، طلیحہ، سجاح اور اسود عنسی کے پیرو کاروں اور روم و فارس کے لوگوں سے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے انہیں بلایا، خاص طور پر روم اور فارس والوں سے قتال کے لیے سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں تیار کیا، مزید برآں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں روم، فارس اور ترک والوں سے لڑنے کی دعوت دی۔

لہٰذا مذکورہ قرآنی صراحت کے پیشِ نظر سیّدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی اطاعت لازمی ہے اور جب ان کی اطاعت لازم ہے تو ان کی امامت و خلافت بھی صحیح ہے۔ رضی اللہ عنہم اجمعین 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 رَأَیْتُ کَأَنِّیْ أَنْزِعُ بِدَلْوٍ بَکْرَۃٍ عَلٰی قَلِیْبٍ فَجَائَ أَبُوْبَکْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوْبًا أَوْذَنُوْبَیْنِ فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِیْفًا وَاللّٰہُ یَغْفِرْلَہُ، ثُمَّ جۃاجَ عُمَرُ فَاسْتَسْقٰی فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَْرَعَبْقَرِیًّا یَفْرِیْ فَرْیَہٗ حَتّٰی رَوِیَ النَّاسُ وَضَرَبُوْا الْعَطَنَ

’’میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک کنویں پر، اس سے (پانی کا) ڈول کھینچ رہا ہوں، پھر ابوبکر آئے اور انہوں نے کمزوری سے ایک یا دو ڈول کھینچے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر عمر آئے انہوں نے کھینچا تو وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا، میں نے آپ جیسا شہ زور پہلوان نہیں دیکھا جو آپ جیسا زور آور ہو، یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو گئے اور اونٹوں کو خوب پانی پلایا (انہیں آرام کی جگہ میں بٹھایا)۔

اس حدیث میں ضمناً شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کی طرف اشارہ ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف بھی واضح اشارہ ہے، نیز اس بات پر بھی دلالت ہے کہ آپؓ کے زمانے میں فتوحات کی کثرت ہو گی اور اسلام غالب ہوگا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خواب ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں واقع ہونے والے واقعات، ان کی حسنِ سیرت، نقوش کی پائیداری اور لوگوں تک نفع رسانی کی واضح دلیل ہے اور یہ سارے عادات و کمالاتِ نبیﷺ کی فیض صحبت کا نتیجہ ہیں کیونکہ رسول اللہﷺ ہی اس معاملہ کے اصل ذمہ دار تھے، آپﷺ نے اسے کماحقہ ادا کیا، جیساکہ دین کے بنیادی اصولوں کو مقرر کیا، اس کے احکامات کو وسعت دی، اس کے اصول اور فروع کو واضح کیا اور لوگ دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگے اور اللہ تعالیٰ نے آپﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی:

صفحہ 1 از 3