استحقاق خلافت پر شرعی نصوص کے واضح اشارے - دفاعِ اہلِ سنت |…

استحقاق خلافت پر شرعی نصوص کے واضح اشارے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

 اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَ رَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ ۞(سورۃ المائدة آیت 3)

ترجمہ: ’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔‘‘

چنانچہ جب رسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو سیّدنا ابوبکر صدیقؓ نے دو سال اور کچھ مہینے، یعنی ’’ایک ڈول یا دو ڈول‘‘ کھینچے، ایک یا دو کا شک راوی کی جانب سے ہے، دراصل دو ڈول والی بات صحیح ہے، کیونکہ دوسری روایت میں اس کی صراحت ہے۔ 

(عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ الکرام: جلد، 2 صفحہ 634)

سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کی مدت خلافت میں مرتدین اسلام سے جنگ ہوئی، آپ نے اس فتنہ کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور اسلام کی فتوحات کا دائرہ زیادہ سے زیادہ وسیع کیا۔ آپؓ نے اپنے دورِ خلافت میں مدت خلافت کی طولانی، اسلامی شہروں کی وسعت اور اموالِ غنیمت کی کثرت کی وجہ سے اپنی رعایا کے لیے ایسے احکامات مقرر کیے کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس طرح گویا یہ حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے استحقاقِ خلافت، اس کی صحت و کمال صفت اور مسلمانوں کی نفع رسانی جیسے اہم امور پر مشتمل ہے۔

(الاعتقاد للبیہقی: صفحہ 173 )

سیّدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم نبیﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپﷺ نے فرمایا:

إِنِّیْ لَا أَدْرِیْ مَا قَدْرُ بَقَائِیْ فِیْکُمْ فَقْتَدُوْا بِالَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِیْ۔ وَأَشَارَ إِلٰی أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ۔وَتَمَسَّکُوْا بِہَدْیِ عَمَّارٍ، وَمَا حَدَّثَکُمُ ابْنُ مَسْعُوْدٍ فَصَدِّقُوْہُ۔

(الفصل فی الملل والأہواء والنحل: جلد، 4 صفحہ 109، 110)

ترجمہ: ’’میں نہیں جانتا کہ کب تک تم میں میں باقی ہوں، تو تم میرے بعد دو آدمیوں کی پیروی کرنا، اور آپﷺ نے ابوبکر و عمر کی طرف اشارہ کیا اور عمار کے طریقے کو اختیار کرو اور ابنِ مسعود تم کو جو حدیث بیان کریں اس کی تصدیق کرو۔‘‘

پس یہ حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے استحقاق خلافت کی صریح دلیل ہے۔ چنانچہ آپﷺ کے فرمان: اِقْتَدُوْا بِالَّذَیْنِ۔ ذال کے فتحہ کے ساتھ کے معنیٰ ہیں کہ میرے بعد جو دو خلیفہ میرے قائم مقام ہوں گے وہ ابوبکر و عمر ہیں۔ پس آپ کا ان دونوں کی اطاعت کا حکم ان دونوں کی تعریف کو بھی شامل ہے، کیونکہ وہ دونوں اس لائق تھے کہ جو کچھ وہ حکم دیں یا جس سے وہ منع کریں ان کی اطاعت کی جائے۔ کیونکہ ان دونوں کے حسنِ سیرت اور باطن کی صداقت پر نبوت کی شہادت ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ دونوں آپﷺ کے بعد خلیفہ ہوں گے۔ 

السَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پیروی پر اس قدر زور دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ فطری طور پر اخلاقِ حسنہ اور نیک طبیعت کے مالک تھے اور اسی لیے وہ انبیاء علیہم السلام کے بعد افضل ترین انسان قرار پائے اور پھر ان کے بعد قیامت تک جس نے بہتر طریقے سے ان کی پیروی کی وہ سب سے بہتر مخلوق ہے۔ 

(عقیدۃ أہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ الکرام: جلد، 2 صفحہ 635)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَیْتُ قَدَحًا أُتِیْتُ بِہٖ فِیْہِ لَبَلٌ فَشَرِبْتُ مِنْہُ حَتّٰی إِنِّیْ لَأَرَی الرِّیَّ یََجْرِیْ فِیْ أَظْفَارِیْ ثُمَّ أَعْطَیْتُ فَضْلِیْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔

ترجمہ: ’’میں سویا ہوا تھا، میں نے ایک پیالہ دیکھا وہ مجھے دیا گیا جس میں دودھ بھرا تھا، میں نے اس سے پیا، یہاں تک کہ میں نے اس کی تراوٹ اپنے ناخنوں کے نیچے محسوس کی، پھر میں نے اپنا بچا ہوا (دودھ) عمر بن خطاب کو دے دیا۔‘‘

صحابہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟

آپﷺ نے فرمایا: ’’العلم‘‘ یعنی دودھ سے مراد علم ہے۔ 

(عقیدۃ أہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ الکرام: جلد، 2 صفحہ 635)

یہ حدیث عمر رضی اللہ عنہ کے استحقاقِ خلافت کی دلیل ہے اور اس حدیث میں علم سے مراد کتاب اللہ اور سنتِ رسول پر مبنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت ہے۔ سیّدنا عمر فاروقؓ نے اس علم میں اس لیے مخصوص مقام حاصل کیا کہ سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کے مقابلے میں آپؓ کی مدت خلافت لمبی تھی اور سیدنا عثمانؓ کے مقابلے میں آپؓ کی خلافت پر لوگوں کا اتفاق تھا، حضرت ابوبکرؓ کی مدت خلافت مختصر تھی، اس میں فتوحات کی کثرت نہیں ہوئی، جس میں عموماً اختلاف رونما ہوتے ہیں اس کے باوجود لمبی مدت پا کر بھی، حضرت عمرؓ نے اس میں لوگوں کے درمیان خلافت کی ایسی کامیاب خلافت کی کوئی آپ کا مخالف نہ ہوا۔ پھر خلافتِ عثمانی میں اسلامی حکومت کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا، چہ میگوئیاں زیادہ ہو گئیں، آراء و خیالات میں اختلاف ہونے لگا اور لوگوں کی طرف سے آپؓ کے حق میں اتفاقِ رائے کا اس طرح مظاہرہ نہ ہوا جس طرح حضرت عمرؓ کے لیے ہوا تھا۔ یہیں سے فتنوں کا ظہور ہوا اور معاملہ آپؓ کی شہادت پر جا کر ختم ہوا۔ پھر سیدنا علیؓ خلیفہ منتخب ہوئے لیکن اختلافات میں اضافہ اور فتنوں میں انتشار ہی ہوتا رہا۔

(فیض القدیر: المناوی: جلد، 2 صفحہ 56) 

گویا حدیث میں خلافتِ فاروقی کی صحت اور حقیت پر واضح اشارہ موجود ہے۔

(صحیح مسلم: 2391) 

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن فرمایا:

مَنْ رَأَیْ مِنْکُمْ رُؤْیًا؟

ترجمہ: ’’تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟‘‘

ایک آدمی نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ آسمان سے ایک ترازو نازل ہوا، پھر آپ اور ابوبکر اس میں وزن کیے گئے لیکن آپ ابوبکر کے مقابلہ میں بھاری ہو گئے۔ پھر عمر اور ابوبکر وزن کیے گئے تو ابوبکر عمر کے مقابلہ میں بھاری ہو گئے۔ پھر عمر اور عثمان وزن کیے گئے تو عمر بھاری نکلے، پھر ترازو اٹھا لیا گیا۔

اور ہم نے نبیﷺ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے۔

صفحہ 2 از 3