استحقاق خلافت پر شرعی نصوص کے واضح اشارے - دفاعِ اہلِ سنت |…

استحقاق خلافت پر شرعی نصوص کے واضح اشارے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

اس حدیث میں فضیلت میں فرق مراتب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے پہلے ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر عثمان رضی اللہ عنہم ہیں۔ اسی طرح یہ حدیث سیّدنا عمر فاروقؓ کے استحقاقِ خلافت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے اور یہ کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بعد وہی خلافت کے ذمہ دار ہوں گے اور حدیث میں ان کا یہ کہنا: ’’ہم نے رسول اللہﷺ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے۔‘‘ یہ اس وجہ سے ہوا کہ آپ نے ترازو اٹھا لیے جانے کی تاویل خلافت عمر کے بعد امور خلافت کے زوال اور فتنوں کے ظہور سے کی۔ 

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں نے آج رات خواب میں بادل دیکھا جس سے پنیر اور شہد کی بارش ہو رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ لوگ اسے اپنی ہتھیلیوں میں بھر رہے ہیں۔ کسی نے زیادہ لیا، کسی نے کم۔ پھر ایک ایسی چیز نمودار ہوئی جو زمین سے آسمان کی طرف چڑھ رہی تھی۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اسے پکڑ لیا اور بلند ہو گئے پھر دوسرے آدمی نے اس کو پکڑا وہ بھی بلند ہو گیا، پھر تیسرے آدمی نے اس کو پکڑا تو وہ چیز ٹوٹ گئی، لیکن پھر جڑ گئی۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان ہوں۔ آپﷺ مجھے اس کی تعبیر بتا دیجیے۔ آپﷺ نے فرمایا: تم تعبیر بتاؤ۔ انہوں نے کہا: بادل سے مراد اسلام ہے اور اس سے برسنے والے پنیر اور شہد سے مراد قرآن اور اس کی مٹھاس کی بارش ہے۔ تو کچھ لوگ زیادہ قرآن پڑھنے والے ہیں اور کچھ کم ہیں اور جو چیز زمین سے آسمان کی طرف بلند ہو رہی تھی اس سے وہ حق مراد ہے جس پر آپ ہیں۔ آپ نے اس کو پکڑا اور اس نے آپ کو بلند کیا، پھر اس کو دوسرا آدمی پکڑتا ہے اور وہ بھی اس کے سہارے بلند ہوتا ہے۔ پھر ایک آدمی اس کو پکڑتا ہے اور وہ چیز کٹ جاتی ہے، پھر جڑ جاتی ہے اور وہ اس کے سہارے اوپر چڑھ جاتا ہے۔

اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، مجھے بتایے کیا میں نے صحیح تعبیر کی یا کوئی غلطی کی ہے؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

أَصَبْتَ بَعْضًا وَآَٔخْطَأْتُ بَعْضًا۔

ترجمہ:’’کچھ تم نے صحیح کہا اور بعض میں غلطی کی۔‘‘

میں نے کہا: اللہ کی قسم، اے اللہ کے رسول! میری غلطی مجھے ضرور بتائیے۔

آپﷺ نے فرمایا: ’’ لَا تُقْسِمُ‘‘ قسم نہ کھاؤ۔ 

(فتح الباری: العسقلانی: جلد، 7 صفحہ 46 )

یہ حدیث بھی حضرت عمرؓ کے استحقاق خلافت کی طرف اشارہ کرتی ہے، بایں طور کہ حدیث میں ہے: ’’پھر اسے دوسرے آدمی نے پکڑا اور وہ اس سے بلند ہوا‘‘ وہ ابوبکرؓ تھے۔ اور دوبارہ یہ کہنا کہ ’’پھر اسے ایک آدمی نے پکڑا اور وہ کٹ گئی‘‘اس سے عمر فاروقؓ کی خلافت کی طرف اشارہ ہے۔ 

(عقیدۃ أہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ الکرام: جلد، 2 صفحہ 637 )

 سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو مصطلق (کے لوگوں) نے مجھے رسول اللہﷺ کے پاس یہ کہہ کر بھیجا کہ میں آپﷺ سے دریافت کروں کہ آپﷺ کے بعد ہم زکوٰۃ کسے دیں گے؟ میں آپﷺ کے پاس آیا اور دریافت کیا۔ آپﷺ نے فرمایا: ابوبکر کو۔ میں ان کے پاس واپس آیا اور انہیں بتایا، تو انہوں نے کہا: جاؤ، دوبارہ آپﷺ سے دریافت کرو اور کہو کہ اگر ابوبکر کے ساتھ کوئی حادثہ ہو جائے تو کسے دیں؟ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپﷺ سے دریافت کیا تو آپﷺ نے فرمایا: عمر کو۔ پھر میں ان کے پاس آیا اور ان کو بتایا۔‘‘

(سنن أبی داود: جلد، 2 صفحہ 512 سنن ترمذی: جلد، 4 صفحہ 540 )

اس حدیث میں عمر رضی اللہ عنہ کے استحقاقِ خلافت کی طرف واضح اشارہ ہے اور یہ کہ آپؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات کے بعد مسلمانوں کے معاملات کے ذمہ دار ہوں گے۔ 

(عون المعبود شرح سنن أبی داود: جلد، 13 صفحہ 378)

سیدنا عمرؓ خلافت کے زیادہ حق دار تھے، اس بات کی ایک اہم دلیل صحابہ کرامؓ کا اس بات پر اجماع ہے کہ وہ اس کے لیے اپنے سب سے افضل اور سب سے بہتر ہی کو آگے بڑھائیں گے اور پھر حضرت عمرؓ کے بارے میں ابوبکر اور علی رضی اللہ عنہما کی رائے بھی بہتری کی ہو۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے آپ کے بارے میں فرمایا تھا: ’’اے اللہ میں نے ان (مسلمانوں) پر تیرے بندوں میں سب سے بہتر فرد کو حاکم بنایا ہے۔‘‘ 

(صحیح مسلم: جلد، 4 صفحہ 1777،1778 )

اور آپؓ کے بارے میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے جسے امام بخاریؒ نے محمد بن حنفیہؒ سے روایت کیا ہے، جو علی بن ابی طالبؓ کے لڑکے ہیں، ان کا بیان ہے کہ ’’میں نے اپنے والد سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ابوبکر۔ میں نے کہا: پھر کون؟ انہوں نے جواب دیا: عمر۔ مجھے خوف تھا کہ آپؓ کہیں عثمان کا نام نہ لے لیں۔ میں نے کہا: پھر آپ؟ انہوں نے جواب دیا: میں تو عام مسلمانوں کا ایک فرد ہوں۔‘‘ 

(عقیدۃ أہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ الکرام: جلد، 2 صفحہ 638 )

خلاصہ یہ کہ مذکورہ تمام احادیث جن کو میں نے ذکر کیا ہے سب اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ سیّدنا عمرؓ خلافت کے زیادہ حق دار تھے۔ 

(المستدرک: جلد، 3 صفحہ 82۔ رقم الحدیث: 4460)۔ 

یہ حدیث سنداً صحیح ہے اور ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔

علامہ سفارینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت عمرؓ کی خلافت حضرت ابوبکر صدیقؓ کے استحقاق خلافت کا لازمہ ہے، اور حضرت ابوبکرؓ کے مستحق خلافت ہونے پر اجماع اور کتاب و سنت کے اشارات موجود ہیں، لہٰذا اصل یعنی حضرت ابوبکرؓ کے مستحق خلافت ہونے میں جو چیز ثابت ہے وہ اس کی فرع یعنی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لیے ثابت ہو گی، اس لیے گمراہ فرقوں میں سے کسی کو عمرؓ کے مستحق خلافت ہونے میں طعن و تشنیع کرنے کا کوئی حق نہیں اور اہلِ علم کو یقینی طور سے یہ چیز معلوم ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خلافتِ صدیقی پر اجماع ہے، اور اس اجماعِ صحابہؓ سے شذوذ اختیار کرنا اس سلسلہ (خلافت)میں ضرر رساں نہیں ہو سکتا۔‘‘ 

(عقیدۃ أہل السنۃ والجماعۃ: جلد، 2 صفحہ 639 )


صفحہ 3 از 3