سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے اور ساتھیوں کی شہادت کا زمہ…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے اور ساتھیوں کی شہادت کا زمہ دار کسے بتایا؟

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 1 از 2
سیدنا حسینؓ نے اپنے اور ساتھیوں کی شہادت کا ذمہ دار کسے بتایا؟
حضرت مسلم بن عقیلؓ (جنہیں سیدنا حسینؓ نے کوفہ والوں کے خطوط کی روشنی میں اپنے سے پہلے عراق بھیجا تھا اور ان سے تعاون کرنے کا حکم دیا تھا مگر عراقیوں نے ان کو دھوکہ دیا اور پھر دشمنوں کے نرغے میں انہیں اکیلا چھوڑ دیا اور آخر کار وہ شہید کر دیئے گئے) نے وصیت کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ:
"میری طرف سے سیدنا حسینؓ کو لکھ دینا کہ کوفیوں نے مجھ سے بے وفائی کی ہے ان پر اعتماد نہ کرنا۔
(دیکھیے شیعہ کتاب جلاء العیون)
حضرت مسلم بن عقیلؓ نے سیدنا حسینؓ کے نام یہ پیغام بھیجا کہ کوفہ کے لوگ بے وفا اور غدار ہیں، ان کی باتوں اور خطوط پر اعتبار نہ کریں اور یہاں نہ آئیں ورنہ یہ لوگ آپؓ کے ساتھ بھی وہی سلوک کریں گے جو انہوں نے میرے ساتھ کیا ہے۔
حضرت حرؒ شہید نے بھی کوفہ کے شیعوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا اور ان کو سرِ عام برا بھلا کہا۔
(دیکھئیے شیعہ کتاب خلاصۃ المصائب: صفحہ 60)
سیدنا حسینؓ کے ایک اور جانثار بریری بن حضیر نے بھی اہلِ کوفہ کو اس کا مجرم بتایا اور کہا کہ تم نے سیدنا حسینؓ کو مدد کے وعدے کر کے بلایا اور پھر ان پر پانی تک بند کر دیا۔
(دیکھیے شیعہ کتاب جلاءالعیون )
سیدہ زینبؓ بنت علیؓ نے بھی اہل کوفہ کو غدار، فریبی اور مکار جیسے الفاظ برسرِ عام کہے اور کہا کہ:
"اب تم ہم پر ماتم کرتے ہو حالانکہ ہمارے قاتل تم ہو۔ تم نے جگر گوشہ رسولﷺ کو شہید کیا، تم نے اہلِ بیت کی باپردہ عورتوں کو بے پردہ کیا ہے۔
(دیکھیے جلاء العیون)
سیدنا حسینؓ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؒ کا بیان بھی یہی تھا۔ آپ نے کہا:
"اے اہل مکر و فریب تم نے ہمیں کافر سمجھا اور ہمارے قتل تک کو حلال جانا۔
( احتجاج طبرسی: صفحہ 157)
خود شہیدِ کربلا سیدنا حسینؓ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ:
تم لوگوں نے مجھے یہاں بلا کر میرا ساتھ چھوڑ دیا مجھے اس پر کوئی حیرانگی نہیں ہے، کیونکہ تم اس سے پہلے میرے بھائی اور میرے والد اور میرے چچازاد بھائی مسلم سے بھی اسی طرح بے وفائی کر چکے ہو۔
( دیکھیے طبری: جلد 5 صفحہ 403)
آپؓ نے اہل کوفہ سے کہا کہ:
" تم لوگوں نے خود مجھے بلایا ہے اور خود ہی میرے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہو! اللہ تمہیں کبھی سیراب نہ کرے۔
( ناسخ التواریخ: صفحہ 335)
اے بے وفاؤ! غدارو! مجبوری کے وقت تم نے اپنی مدد کے لئے ہمیں بلایا اور جب ہم آ گئے تو کینے کی تلوار ہم پر چلائی۔
(ایضاً: صفحہ 391)
اے اللہ! شیعانِ کوفہ نے مجھے اپنی مدد کے لئے بلایا پھر وہ ہمیں قتل کرنے کے درپے ہیں، اے اللہ ان سے میرا انتقام لے اور حاکموں کو کبھی ان سے خوش نہ رکھ۔
(جلاء العیون: صفحہ 405)
تم پر تباہی ہو حق تعالیٰ دونوں جہانوں میں میرا تم سے بدلہ لے گا،تم خود اپنی تلواریں ایک دوسرے کے منہ پر چلاؤ گے، اپنا خون خود بہاؤ گے، اور دنیا سے نفع نہ پاؤ گے، اپنی امیدوں کو نہ پہنچو گے، اور آخرت میں بدترین عذاب تمہارے لئے تیار ہے۔
(ایضاً: صفحہ 409)
حتیٰ کہ جب آپؓ کے تمام ساتھی کربلا میں یکے بعد دیگرے شہید کر دیئے گئے اور آپؓ کے ہاتھ میں اپنا چھوٹا بیٹا تھا، اس کو ایک تیر لگا اور خون اچھلنے لگا تو آپؓ خون صاف کرتے جا رہے تھے اور کہہ رہے تھے:
اللهم احكم بيننا وبين قوم دعونا لينصرونا فقتلونا
(البداية: جلد 8، صفحہ 197۔ مروج الذهب: صفحہ 70 از مسعودی شیعی)
اے اللہ! ہمارے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ فرما جس نے ہمیں دعوت دے کر یہاں بلایا کہ وہ ہماری مدد کریں گے(مگر انہوں نے بے وفائی کی اور دغا دیا) اور انہوں نے ہمیں قتل کر ڈالا (یعنی ہمیں قتل ہونے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا)
سیدنا زین العابدینؒ نے کوفیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ: تم نے میرے والد کو بلایا اور دھوکہ دیا اور قتل کر دیا، تم ہلاک ہو گئے۔
(احتجاج طبرسی: صفحہ 159)
جب آپؒ کربلا سے کوفہ آئے تو دیکھا کہ مرد و عورتیں رو رہی ہیں، آپؒ نے انہیں اس طرح روتے دیکھ کر فرمایا:
ان هؤلاء يبكون علينا فمن قتلنا غيرهم
(شیعہ کتاب الاحتجاج: صفحہ 156)
ترجمہ: اب یہ لوگ ہماری شہادت اور ہمارے حال پر ماتم کر رہے ہیں پر یہ تو بتاؤ کہ ان کے علاؤہ ہمیں کن لوگوں نے قتل کیا ہے،
یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو ہمارے قاتل ہیں، اور اب دنیا کو دکھانے کے لئے ماتم کر رہے ہیں اور منافقانہ آوازوں سے دنیا کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں، سیدنا زین العابدینؒ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ تم بخوبی جانتے ہو کہ تم لوگوں نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔
أيها الناس ناشدتكم اللَّه هل تعلمون أنكم كتبتم إلى أبي وخدعتموه وأعطيتموه من أنفسكم العهود والميثاق والبيعة وقاتلتموه، فتبا لكم
(الاحتجاج: صفحہ 157)
"اے لوگو! تمیں یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ تم نے میرے والد محترم کو خط لکھ لکھ کر بلایا پھر تم نے ان کے ساتھ فریب کیا، تم نے میرے والد کے ساتھ مدد کا پکا وعدہ کیا تھا اور بیعت کے عہد کئے تھے لیکن تم نے ان سے قتال کیا تم لوگوں نے اُنہیں رسوا اور ذلیل کیا سو تمارے لئے بربادی ہو"
صاحبِ اعلام الوری شیعہ نے قاتلانِ حسینؓ کی کس طرح نشاندہی کی ہے اسے دیکھیے:
اہل کوفہ نے آپؓ کی بیعت کی، نصرت کے ضامن بنے پھر بیعت توڑ دی اور آپؓ کو بے یار و مددگار دشمن کے حوالے کیا، آپؓ پر خروج کر کے آپؓ کا وہاں محاصرہ کر لیا جہاں سیدنا حسینؓ کا نہ کوئی مددگار تھا اور نہ جائے فرار، ان لوگوں نے آپؓ پر دریائے فرات کا پانی بند کر دیا پھر قدرت پا کر آپؓ کو اس طرح شہید کر دیا جس طرح آپؓ کے والد اور بھائی شہید ہوئے تھے۔
(اعلام الوری: صفحہ 219 ماخوذ از تحفۃ الاخیار صفحہ 14)
صفحہ 1 از 2