سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے اور ساتھیوں کی شہادت کا زمہ…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے اور ساتھیوں کی شہادت کا زمہ دار کسے بتایا؟

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 2 از 2
بہرحال عراقی شیعہ کے مسلسل خطوط، ان کی طرف سے تعاون کی یقین دہانیوں کے بناء پر، جیسا کہ ہم بتا آئے ہیں کہ آپؓ نے پہلے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیلؓ کو بھیجا کہ وہ جا کر وہاں کے حالات دیکھیں اور آپؓ کو مطلع کریں۔ مسلم بن عقیلؓ مختلف اور دشوار گزار مراحل سے گزرتے ہوئے وہاں پہنچے اور ان لوگوں نے آپ کے ساتھ ظاہراً جیسے برتاؤ کا مظاہرہ کیا اس سے مسلم بن عقیلؓ متاثر ہو گئے اور سیدنا حسینؓ کو کوفہ آنے کا خط بھیج دیا، ادھر اہلِ کوفہ نے حضرت مسلم بن عقیلؓ کو پھر بے یارو مددگار چھوڑ دیا۔ مسلم بن عقیلؓ نے یہ خبر سیدنا حسینؓ تک پہنچائی تاہم سیدنا حسینؓ رکے نہیں بلکہ کوفہ جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ ہم پہلے بتاتے آئے ہیں کہ اہلِ مکہ و مدینہ نے بھی آپؓ کو کوفیوں کی بے وفائی اور غداری سے خبردار کیا تھا۔ حضرت عمرو بن عبدالرحمٰنؓ، عبداللہ بن عباسؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ وغیرہ نے آپؓ کو روکنے کی کوشش کی مگر وہ سب اس میں ناکام رہے اور آپؓ ذی الحجہ 60 ھجری کو مکہ مکرمہ سے عراق روانہ ہوئے، راستہ میں حضرت مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کی اطلاع بھی ملی تو آپؓ نے اپنے رفقاء کو جمع کر کے فرمایا:
قد خذلنا شيعتنا
(شیعہ کتاب خلاصۃ المصائب صفحہ 49)
شيعان مادست از يارى ما برداشت اند
( جلاء العیون از ملاّ باقر مجلسی وناسخ التواریخ صفحہ 163)
بیشک میرے شیعوں نے مجھے چھوڑ دیا اور میری مدد کرنے سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔
آپؓ نے انا للّٰہ پڑھا اور لوگوں نے کہا کہ اب اللہ ہی آپؓ کا محافظ ہے آپؓ نے فرمایا کہ ان کے بعد اب زندگی کا مزہ بھی نہیں رہا۔
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (852ھ) لکھتے ہیں کہ:
حر بن یزید نے آپؓ سے کہا کہ خدارا واپس چلیے، میں نے وہاں آپؓ کے لئے کوئی بھلائی نہیں چھوڑی، پھر آپؓ کو سارا واقعہ بتلایا۔ آپؓ نے پلٹنے کا ارادہ کر لیا تھا لیکن مسلمؓ کے بھائی نے کہا کہ جب تک ہم بدلہ نہیں لے لیتے یا قتل نہیں ہو جاتے واپس نہیں جائیں گے چنانچہ یہ لوگ چل پڑے اور آپؓ کربلا آئے، آپؓ کے ساتھ 45 لوگ سواری پر تھے جبکہ 100 کے قریب افراد پیدل چل رہے تھے۔
(الاصابہ: جلد 1، صفحہ 333)
سیدنا حسینؓ نے جب اپنے ہی شیعوں کی بے وفائی کھلی آنکھوں سے دیکھ لی اور سمجھ لیا کہ یہ لوگ مجھے دھوکہ دے کر یہاں لائے ہیں اور اب مجھے اکیلا چھوڑ گئے ہیں تو آپؓ نے حالات کے پیش نظر فریقِ مقابل کے سربراہ عمرو بن سعد سے کہا کہ میں تین باتیں پیش کر رہا ہوں ان میں سے ایک چیز آپ اختیار کر لیں۔
 میں اسلامی سرحدوں میں سے کسی ایک سرحد پر نکل جاؤں اور وہاں جا کر اسلامی فوج کی حفاظت کروں اور ان کے ساتھ مل کر اعدائے اسلام کا مقابلہ کروں ۔
 میں واپس مدینہ منورہ چلا جاؤں
 میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں۔
چنانچہ عمرو بن سعد نے ان کی بات قبول کر لی اور یہ معاملہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا۔ عبید اللہ بن زیاد نے جواب دیا کہ وہ سب سے پہلے اپنے آپ کو میرے حوالے کریں پھر بات آگے چلے گی۔( ایک روایت میں ہے کہ یہ بات شمر نے کہی کہ سب سے پہلے ابن زیاد کی بات مانی جائے گی اور اس کی بیعت کی جائے گی پھر بات آگے بڑھے گی ) سیدنا حسینؓ نے یہ بات قبول نہ فرمائی۔ ظاہر ہے کہ اب جنگ کے سوا کون سا راستہ نکل سکتا تھا۔
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ ( 728ھ) لکھتے ہیں:
أَرَادَ الرُّجُوعَ فَأَدْرَكَتْهُ السَّرِيَّةُ الظَّالِمَةُ، فَطَلَبَ أَنْ يَذْهَبَ إِلَى يَزِيدَ، أَوْ يَذْهَبَ إِلَى الثَّغْرِ، أَوْ يَرْجِعَ إِلَى بَلَدِهِ، فَلَمْ يُمَكِّنُوهُ مِنْ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ حَتَّى يَسْتَأْسِرَ لَهُمْ، فَامْتَنَعَ، فَقَاتَلُوهُ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا مَظْلُومًا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
( المنتقی: صفحہ 268، منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 472 و جلد 6 صفحہ 340)
سیدنا حسینؓ نے نے کربلا سے واپس لوٹ جانے کا ارادہ کیا تو ظالم لشکر نے آپؓ کو روک لیا، آپؓ نے یزید کے پاس جانے کی مہلت طلب کی یا سرحد کی طرف چلے جانے یا پھر اپنے شہر مدینہ منورہ لوٹ جانے کی پیش کش کی مگر انہوں نے آپؓ کی ایک بات قبول نہ کی اور کہا کہ پہلے آپؓ ان کے قیدی بن جائیں مگر آپؓ نے خود کو ان کے حوالہ کرنے اور عبید اللہ بن زیاد کے پاس جانے سے صاف انکار کر دیا اور جنگ کی یہاں تک کہ آپؓ کو قتل کر دیا گیا اور آپ مظلوم شہید ہو گئے۔ رضی اللّٰہ عنه
شارح صحیح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ ( 852ھ) لکھتے ہیں:
قال له الحسين: اختر مني إحدى ثلاث: إما أن ألحق بثغر من الثّغور، وإما أن أرجع إلى المدينة، وإما أن أضع يدي في يد يزيد بن معاوية.فقبل ذلك عمر منه، وكتب به إلى عبيد اللَّه، فكتب إليه لا أقبل منه حتى يضع يده في يدي، فامتنع الحسين، فقاتلوه فقتل معه أصحابه
وفيهم سبعة عشر شابّا من أهل بيته، الخ
(الاصابہ: جلد 2، صفحہ 71)
مؤرخ ابن جریر طبریؒ نے تاریخ طبری میں (دیکھیے جلد 4 صفحہ 207)
حافظ ابن عساکر رحمۃاللہ نے اپنی تاریخ دمشق میں،
امام شمس الدین ذہبیؒ (748ھ) نے سیر اعلام النبلاء( دیکھیے جلد 3، صفحہ 210) میں بھی مذکورہ بیان نقل کیا ہے۔
شیعہ علماء کو اہل سنت علماء کے ان بیانات سے اتفاق نہ ہو تو وہ کم از کم شیعہ مؤرخین اور محدثین کی بات پر تو یقین کر لیں۔

ابو الفرج الاصفہانی ( 356ھ) نے مقاتل الطالبیین (دیکھیے جلد 2) میں،
شیخ مفید( 413ھ) نے اپنی معروف کتاب الارشاد (دیکھیے صفحہ 213) میں،
ملا باقر مجلسی نے بحار الانوار ( دیکھئے جلد 10 صفحہ 211) میں
اور شیخ عباس قمی( 1359ھ) نے منتہی الاَمال(دیکھیے صفحہ 335) میں بھی اسے اسی طرح بیان کیا ہے۔

صفحہ 2 از 2