سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے - ردِ رافضیت |…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 1 از 5
سیدنا حسینؓ شہید کر دیے گئے
سیدنا حسینؓ نے اپنی بات ان تک پہنچا دی تھی۔ آپؓ چاہتے تھے کہ یہ معاملہ امن کے ساتھ کسی نتیجہ پر پہنچ جائے لیکن ابنِ زیاد اور شمر نے سیدنا حسینؓ کے پیغامِ امن کو جنگ میں بدلنے کی پوری منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ وہ نہ چاہتے تھے کہ یہ مسئلہ پر امن طور پر حل ہو جائے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر سیدنا حسینؓ اور یزید کے درمیان ملاقات ہو جاتی ہے پھر ان کے ناپاک ارادے اور مکروہ منصوبے ناکام ہو جائیں گے اسی لیے وہ اسی بات پر مصر رہے کہ سیدنا حسینؓ اپنے آپ کو پہلے ہمارے حوالہ کریں اور ہماری بیعت کریں پھر بات آگے چلے گی۔ مگر سیدنا حسینؓ نے ابن زیاد کی بات قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر وہاں تاریخ کا وہ المناک غمناک اور افسوسناک حادثہ رونما ہوا جس کے تکلیف دہ اثرات سے امت مسلمہ اب تک تڑپ رہی ہے۔ آپؓ کے سامنے آپؓ کے اہل و عیال اور دوست احباب یکے بعد دیگرے شہید ہوتے گئے۔ چھوٹا بچہ آپؓ کے ہاتھ پر تھا ظالموں نے اسے بھی اپنے ظلم کا نشانہ بنا لیا۔ سیدنا حسینؓ اکیلے رہ گئے، ظالموں نے آپ پر پے در پے حملے کر کے زخمی کر دیا، زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے آپؓ کی طاقت جواب دے گئی اور شقی القلب کوفیوں نے آپؓ کو نہایت ہی بے رحمی سے شہید کر دیا۔
مؤرخین لکھتے ہیں کہ بدن کے مختلف حصوں پر زخموں کے علاؤہ 33 زخم تیروں کے اور 34 زخم تلواروں کے تھے۔ آپؓ نے دس محرم الحرام 61ھ جمعہ کے دن عصر کے وقت عراق کے شہر کربلا میں جام شہادت نوش کیا، اس وقت آپ کی عمر 57 سال تھی۔
رضی الله تعالى عنه.
سیدنا حسینؓ کے ساتھ اور 72 حضرات بھی شہید ہوئے۔ محمد بن حنفیہؒ کا بیان ہے کہ سیدنا حسینؓ کے ساتھ شہید ہونے والوں میں سترہ افراد سیدہ فاطمہؓ کی اولاد میں سے تھے۔
( البدایہ: جلد 9، صفحہ 189، صفحہ 212)
شیعہ علماء اور ان کے ذاکرین ٹی وی پر سجائی جانے والی مجالس میں نہایت ہی جذباتی انداز میں دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ اور آپؓ کے رفقاء کی لاشوں کی بڑی ہی بےحرمتی کی گئی اور ان کی لاشوں پر گھوڑے دوڑائے گئے تھے۔ یہ سن کر شیعہ عوام دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوا تھا؟ شیعہ مرکزی کتاب اصول کافی سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔
شیعہ راوی بیان کرتا ہے کہ جب سیدنا حسینؓ شہید کر دیے گئے تو دشمنوں نے چاہا کہ ان کے جسم کو گھوڑوں سے روندیں۔ اتنے میں ایک شیر نکل آیا وہاں جناب فضہؒ کھڑی تھیں تو فضہؒ نے شیر سے کہا :
يا ابا الحارث فرفع رأسه ثم قالت أتدري ما يريد من أن يعلموا غدا بابي عبد الله يريدون أن يوطهؤ الخيل ظهره قال فمشي حتى وضع يده على جسد الحسين فاقبلت الخيل فما ظهروا إليه قال لهم عمر بن سعد لعنه الله فتنة لا تثيروها انصرفوا
(اصولِ کافی: صفحہ 295)
اے ابو الحارث (شیر کی کنیت ہے) تو شیر نے اپنا سر اٹھایا پھر فضہؒ نے کہا تجھے معلوم ہے کہ دشمنوں کا کیا ارادہ ہے؟ وہ چاہتے ہیں کہ کل سیدنا حسینؓ کے جسم پر گھوڑے دوڑائیں راوی کہتا ہے کہ شیر آگے بڑھا اور اس نے سیدنا حسینؓ کے جسم پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ جب گھوڑے پر سوار لوگ آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شیر ہے، عمرو بن سعد نے کہا یہ ایک فتنہ ہے اس کو مت چھیڑو اور یہاں سے نکل چلو چنانچہ سب واپس چلے گئے (اور آپؓ کا جسم محفوظ رہا)
جب یزید کو سیدنا حسینؓ، آپؓ کے گھر والوں اور آپؓ کے رفقاء کی شہادت کی خبر ملی تو اسے افسوس ہوا اور اس نے ابن زیاد پر لعنت بھی کی اور کہا کہ جب سیدنا حسینؓ نے تین باتوں میں سے کسی ایک بات پر اپنی رضا کا اظہار کر دیا تھا تو ابن زیاد نے کیوں ان کی بات نہ مانی اور ان کی جان کیوں لی؟
یزید کا کہنا تھا کہ اسی ابن زیاد کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے نظر میں برا اور قابلِ مذمت بنا اور ان کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت بھر دی گئی۔ خدا اس پر لعنت کرے، اس کو رسوا کرے اور اس پر اپنا غضب اتارے ۔
امام شمس الدین ذہبیؒ 748ھ نے سیر اعلام النبلاء میں اور حافظ ابن کثیرؒ 774ھ نے البدایہ میں یزید کا یہ بیان اس طرح نقل کیا ہے:
لَعَنَ اللَّهُ ابْنَ مَرْجَانَةَ فَإِنَّهُ أَخْرَجَهُ وَاضْطَرَّهُ، وَقَدْ كَانَ سَأَلَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَهُ أَوْ يَأْتِيَنِي أَوْ يَكُونَ بِثَغْرٍ مِنْ ثُغُورِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ تَعَالَى، فَلَمْ يَفْعَلْ، وَأَبَى عَلَيْهِ وَقَتَلَهُ، فَبَغَّضَنِي بِقَتْلِهِ إِلَى الْمُسْلِمِينَ، وَزَرَعَ لِي فِي قُلُوبِهِمُ الْعَدَاوَةَ، فَأَبْغَضَنِي الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ بِمَا اسْتَعْظَمَ النَّاسُ مِنْ قَتْلِي حُسَيْنًا، مَا لِي وَلِابْنِ مَرْجَانَةَ، لَعَنَهُ اللَّهُ، وَغَضِبَ عَلَيْهِ.
( البدایہ: جلد 8 صفحہ 232)
شیعہ عالم شیخ احمد بن علی طبرسی 548ھ کا بیان ہے کہ یہ بات سیدنا حسینؓ کے فرزند محترم سیدنا زین العابدین رحمۃاللہ سے بھی کہی تھی:
فقال له يزيد: لا يؤديهن غيرك، لعن الله ابن مرجانة، فوالله ما أمرته بقتل أبيك، ولو كنت متوليا لقتاله ما قتلته، ثم أحسن جائزته وحمله والنساء إلى المدينة.
(الاحتجاج: جلد 2 صفحہ 40)
ترجمہ: یزید نے ان سے کہا کہ آپ کے قافلہ کی خواتین کو اب آپ ہی مدینہ منورہ ساتھ لے جائیں گے ابن مرجانۃ پر خدا کی لعنت ہو خدا کی قسم میں نے آپ کے والد سیدنا حسینؓ کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا اور اگر اس وقت میں وہاں موجود ہوتا تو میں کبھی انہیں قتل نہ کرتا۔ بعد ازاں یزید نے ان کے حق میں اچھا معاملہ کیا ان سب کے لئے سواری کا انتظام کیا اور انہیں مدینہ منورہ روانہ کیا۔
شیعہ عالم ملا باقر مجلسی نقل کرتا ہے کہ جو شخص یہ کہتا ہوا یزید کے پاس آیا کہ اس نے اس شخص (یعنی سیدنا حسینؓ) کو شہید کیا ہے جو سب سے افضل ہے تو جواباً یزید نے کہا کہ جب تو ان کو اتنا عظیم شخص جانتا تھا تو پھر اسے قتل کیوں کیا؟ بعد ازاں یزید نے اس شخص کے قتل کا حکم صادر کر دیا ۔
(دیکھیے جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 248)
صفحہ 1 از 5