سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے - ردِ رافضیت |…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 2 از 5
شیعہ علماء کم از کم لوگوں کو اس دھوکہ میں تو نہ رکھیں کہ سیدنا حسینؓ کے قاتلین اہلِ شام تھے، ان میں کوئی بھی عراقی نہ تھا اور نہ آپ کے قاتل کوفہ کے شیعہ تھے۔ سچ یہ ہے کہ ان لوگوں کی یہ بات غلط ہے! شیعہ کے معروف مؤرخ علی بن حسین مسعودی 346ھ نے کھل کر لکھا ہے کہ جن لوگوں نے آپؓ کو دھوکہ دیا آپؓ سے جنگ کی اور آپؓ کے خون سے جن لوگوں نے اپنے ہاتھ سرخ کیے ہیں بطورِ خاص سب کوفی تھے ان میں شام کے لوگ نہ تھے۔
وكان جميع من حضر مقتل الحسين من العساكر وحاربه وتولى قتله من أهل الكوفة خاصة، فلم يحضرهم شامي۔
(مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 71)
شیعہ کی معروف کتاب خلاصۃ المصائب کا یہ بیان بھی پیش نظر رکھیے 
ليس فيهم شامي ولا حجازي بل جميعهم من أهل الكوفة
(خلاصۃ المصائب: صفحہ 201)
سیدنا حسینؓ کے قاتل صرف کوفی لوگ تھے ان میں شام اور حجاز کا کوئی شخص نہ تھا ۔
ملا باقر مجلسی شیعہ ( 1111ھ) نے بھی یہ بات بحار الانوار میں لکھی ہے ( دیکھیے جلد 10 صفحہ 231)
محدث جلیل حضرت مولانا خلیل احمد مہاجر مدنیؒ(1346ھ) لکھتے ہیں:
جھوٹے مدعیان تشیع و ولاء کی بےایمانی اور نفاق نے اہل بیت رسالت کو بذلت و خواری میدان کربلاء میں ہلاک کیا جس پر آج تک خود ہی نوحہ اور گریہ کنان ہیں۔
(مطرقۃ الکرامۃ: صفحہ 286)
آپؓ یہ سمجھ کر نکلے تھے کہ جب وہاں کے لوگ مجھے بار بار بلا رہے ہیں اور میری اطاعت کرنے اور میرے مؤقف کا ساتھ دینا چاہتے ہیں تو آپؓ نے چاہا کہ وہاں جا کر حالات کا جائزہ لیں اور پھر اس کی روشنی میں سارے معاملات طے کئے جائیں مگر جب آپؓ آگے بڑھے تو وہی لوگ جو اپنے آپ کو آپؓ کے شیعہ کہتے تھے اور آپؓ کے نام کے نعرے لگاتے تھے بڑی عیاری سے دغا دے گئے اور اب آپؓ کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ نہ رہا کہ حالات کا دلیرانہ مقابلہ کیا جائے خواہ اس میں جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ 768ھ ایک مقام پر لکھتے ہیں:
وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا خَرَجَ يُرِيدُ الْقِتَالَ ، وَلَكِنْ ظَنَّ أَنَّ النَّاسَ يُطِيعُونَهُ، فَلَمَّا رَأَى انْصِرَافَهُمْ عَنْهُ، طَلَبَ الرُّجُوعَ إِلَى وَطَنِهِ، أَوِ الذَّهَابَ إِلَى الثَّغْرِ، أَوْ إِتْيَانَ يَزِيدَ، فَلَمْ يُمَكِّنْهُ أُولَئِكَ الظَّلَمَةُ لَا مِنْ هَذَا وَلَا مِنْ هَذَا [وَلَا مِنْ هَذَا] وَطَلَبُوا أَنْ يَأْخُذُوهُ أَسِيرًا إِلَى يَزِيدَ، فَامْتَنَعَ مِنْ ذَلِكَ وَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ مَظْلُومًا شَهِيدًا، لَمْ يَكُنْ قَصْدُهُ ابْتِدَاءً أَنْ يُقَاتِلَ.
(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 42)
اور سیدنا حسینؓ قتال کے لئے نہیں نکلے تھے۔ آپؓ کا خیال تھا کہ وہاں کے لوگ آپؓ کی اطاعت کریں گے، جب آپؓ کو پتہ چلا کہ وہ آپؓ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں تو اس وقتؓ آپ نے فریق مخالف سے تین مطالبات کیے 
1: انہیں وطن واپس جانے دیا جائے۔
2: سیدنا حسینؓ کو محاذ جنگ پر جانے دیا جائے تاکہ وہ دشمن کا مقابلہ کریں۔
3: آپؓ کو یزید کے پاس جانے دیا جائے۔
پس ان ظالموں نے آپؓ کی ایک بات نہ مانی بلکہ آپؓ کو گرفتاری پیش کرنے کا کہا گیا تاکہ آپؓ کو قیدی بنا کر پیش کیا جائے آپؓ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ لڑتے ہوئے مظلومانہ حالت میں شہید ہو گئے تاہم آپؓ کا ارادہ شروع میں ہر گز جنگ کا نہ تھا۔
علامہ ابن تیمیہؒ ایک اور جگہ بھی یہ لکھتے ہیں:
وَكَذَلِكَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يُقْتَلْ إِلَّا مَظْلُومًا شَهِيدًا، تَارِكًا لِطَلَبِ الْإِمَارَةِ ، طَالِبًا لِلرُّجُوعِ: إِمَّا إِلَى بَلَدِهِ، أَوْ إِلَى الثَّغْرِ ، أَوْ إِلَى الْمُتَوَلِّي عَلَى النَّاسِ يَزِيدَ
( منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ535 )
سیدنا حسینؓ کے ساتھ آپؓ کے سوتیلے بھائی جناب ابوبکرؒ اور جناب عثمانؒ بھی کربلاء میں شہید ہوئے تھے۔ مگر آپ نے کسی شیعہ ذاکر کو ان کے نام لیتے نہیں سنا ہو گا۔ حضرات شیخین کریمینؓ اور ان کے ناموں کے ساتھ کینہ اور بغض کی اس سے بری اور بد ترین مثال اور کیا ہو گی۔ آپؓ کے قاتلوں میں سنان بن انس نخعی اور شمر ذی الجوشن کا نام بھی آتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ شمر کون تھا؟
جواب یہ ہے کہ سیدنا حسینؓ کی سوتیلی والدہ ام البنین بنت حزام (جو سیدنا علیؓ کی چوتھی بیوی تھیں اور وہ قبیلہ بنی کلاب میں سے تھیں، ان کا نکاح عقیلؓ کی تجویز سے ہوا تھا۔ سیدنا علیؓ نے عقیلؓ سے کہا تھا کہ میرے نکاح کے لئے کوئی ایسی عورت تجویز کرو جس کے بھائی عرب کے بڑے بہادروں میں سے ہوں۔)
(عمدۃ الطالب و منتخب التواریخ: صفحہ 121 ایران)
اس پر حضرت مسلم بن عقیلؓ نے یہ تجویز دی۔ شمر ملعون انہیں میں سے تھا اور بنی کلاب میں سے تھا۔ انہی ام البنین میں سے حضرت عباسؓ علمدار تھے جو سیدنا حسینؓ کے بھائی اور سیدنا علیؓ کے بیٹے تھے۔ شمر اس رشتہ کے تعلق سے اپنے بھانجوں کے لئے ابن زیاد سے امان بھی لکھوا لایا تھا جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں بہر حال اس لحاظ سے یعنی سوتیلی والدہ حضرت ام البنین کے واسطہ سے شمر سیدنا حسینؓ کا رشتہ میں ماموں تھا۔ واللہ اعلم بحقيقة الحال۔
(عبقات من باب الاستفسارات: صفحہ 295)
کوفہ کے ان ظالموں نے حضورﷺ کی حرمت کا کوئی لحاظ نہ کیا اور یہ تک نہ سوچا کہ سیدنا حسینؓ کا اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ہاں کیا مقام و مرتبہ ہے اور آپ خاتونِ جنتؓ کے فرزند ارجمند ہیں۔ جس سر کو حضورﷺ بوسہ دیتے تھے چومتے تھے اس سر کو ظالموں نے تن سے علیحدہ کرنے میں کوئی حیاء نہ کی۔ سیدنا حسینؓ اپنے اہل وعیال سمیت میدان کربلا میں مظلوماً شہید کر دیے گئے۔ آپؓ کی اس مظلومانہ شہادت پر ہر مسلمان دکھی اور غمزدہ ہے اور اسے ہونا بھی چاہیے۔
مفسر شہیر حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:
صفحہ 2 از 5