سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے - ردِ رافضیت |…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 3 از 5
فَكُلُّ مُسْلِمٍ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُحْزِنَهُ هَذَا الَّذِي وَقَعَ مِنْ قَتْلِهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَإِنَّهُ مِنْ سَادَاتِ الْمُسْلِمِينَ وَعُلَمَاءِ الصَّحَابَةِ، وَابْنُ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي هِيَ أَفْضَلُ بْناتِهِ، وَقَدْ كَانَ عَابِدًا وَشُجَاعًا وَسَخِيًّا، وَلَكِنْ لَا يُحْسِنُ مَا يَفْعَلُهُ الشِّيعَةُ مِنْ إِظْهَارِ الْجَزَعِ وَالْحُزْنِ الَّذِي لَعَلَّ أَكْثَرَهُ تَصَنُّعٌ وَرِيَاءٌ، وَقَدْ كَانَ أَبُوهُ أَفْضَلَ مِنْهُ، وَهُمْ لَا يَتَّخِذُونَ مَقْتَلَهُ مَأْتَمًا كَيَوْمِ مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ، فَإِنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ فِي السَّابِعَ عَشَرَ مِنْ رَمَضَانَ سَنَةَ أَرْبَعِينَ، وَكَذَلِكَ عُثْمَانُ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عَلِيٍّ، عِنْدَ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ، وَقَدْ قُتِلَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي دَارِهِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ مِنْ شَهْرِ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ، وَقَدْ ذُبِحَ مِنَ الْوَرِيدِ إِلَى الْوَرِيدِ، وَلَمْ يَتَّخِذِ النَّاسُ يَوْمَ مَقْتَلِهِ مَأْتَمًا، وَكَذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَهُوَ أَفْضَلُ مِنْ عُثْمَانَ وَعَلِيٍّ، قُتِلَ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ صَلَاةَ الْفَجْرِ، وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَلَمْ يَتَّخِذِ النَّاسَ يَوْمَ قَتْلِهِ مَأْتَمًا، وَكَذَلِكَ الصِّدِّيقُ كَانَ أَفْضَلَ مِنْهُ، وَلَمْ يَتَّخِذِ النَّاسُ يَوْمَ وَفَاتِهِ مَأْتَمًا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَقَدْ قَبَضَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ كَمَا مَاتَ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلَهُ، وَلَمْ يَتَّخِذْ أَحَدٌ يَوْمَ مَوْتِهِ مَأْتَمًا يَفْعَلُونَ فِيهِ مَا يَفْعَلُهُ هَؤُلَاءِ الْجَهَلَةُ مِنَ الرَّافِضَةِ يَوْمَ مَصْرَعِ الْحُسَيْنِ، وَلَا ذَكَرَ أَحَدٌ أَنَّهُ ظَهَرَ يَوْمَ مَوْتِهِمْ وَقِبَلَهُمْ شَيْءٌ مِمَّا ادَّعَاهُ هَؤُلَاءِ يَوْمَ مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ مِنَ الْأُمُورِ الْمُتَقَدِّمَةِ، مِثْلَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْحُمْرَةِ الَّتِي تَطْلُعُ فِي السَّمَاءِ وَغَيْرِ ذَلِكَ.
وَأَحْسَنُ مَا يُقَالُ عِنْدَ ذِكْرِ هَذِهِ الْمَصَائِبِ وَأَمْثَالِهَا مَا رَوَاهُ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ جَدِّهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَتَذَكَّرُهَا وَإِنْ تَقَادَمَ عَهْدُهَا، فَيُحْدِثُ لَهَا اسْتِرْجَاعًا، إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ يَوْمٍ أُصِيبَ بِهَا» ". رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ.
(البدايه: جلد 11 صفحہ 579، 580)
ترجمہ: ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ آپؓ کی شہادت پر غمزدہ ہو، بلاشبہ آپؓ سادات المسلمین اور علماء صحابہؓ میں سے تھے اور حضورﷺ کی اس دختر نیک اخترؓ کے شہزادے تھے جو آپﷺ کی بیٹیوں میں سب سے افضل تھی آپؓ عبادت گزار، بہادر اور سخی تھے لیکن شیعہ جس طرح ان کی شہادت پر جزع فزع کرتے ہیں وہ درست نہیں ہے اور ان کی اکثریت تصنع و ریاء سے کرتی ہے۔ آپؓ کے والد گرامی آپؓ سے کہیں افضل تھے، وہ بھی شہید ہوئے مگر شیعہ کبھی ان کی شہادت کا ماتم نہیں مناتے بلاشبہ آپؓ کے والد مکرم سیدنا علیؓ 17 رمضان 40ھ نماز فجر کو جاتے ہوئے شہید ہوئے تھے اسی طرح سیدنا عثمانؓ بھی شہید ہوئے اور اہل سنت و الجماعت کے ہاں آپؓ سیدنا علیؓ سے افضل ہوئے، آپؓ ماہ ذی الحجہ 36ھ کے ایام التشریق میں اپنے گھر میں محصور کئے گئے اور وہیں آپؓ کو شہید کیا گیا، آپؓ کی شہ رگ کاٹی گئی مگر لوگوں نے آپؓ کی شہادت والے دن کو کبھی یومِ ماتم نہیں بنایا، اسی طرح آپؓ سے پہلے سیدنا عمر بن الخطابؓ بھی شہید ہوئے جو سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علیؓ سے افضل تھے آپؓ محراب میں نمازِ فجر میں قرآن پڑھتے ہوئے شہید کئے گئے مگر مسلمانوں نے کبھی ان کے لئے ماتم کا دن نہیں منایا، اسی طرح آپؓ سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیقؓ تھے، جو آپؓ سے افضل تھے وہ بھی دنیا سے تشریف لے گئے مگر کبھی ان کا یومِ ماتم نہیں منایا گیا اور ان سب سے پہلے حضور اکرمﷺ ہیں جو دنیا و آخرت میں سب لوگوں کے سردار ہیں، آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وفات دی جیسے آپﷺ سے پہلے انبیاءؑ نے وفات پائی مگر کسی نے بھی اس دن کو یومِ ماتم نہیں قرار دیا اور نہ وہ کام کئے جو جاہل شیعہ ماتمِ حسینؓ میں کرتے ہیں اور نہ ان کی وفات کے دن اور نہ ان سے پہلے کسی نے اس طرح کبھی کیا جس طرح یہ لوگ سیدنا حسینؓ کی شہادت پر کرتے ہیں۔ اس طرح کی مصیبتوں کے موقع پر سب سے اچھی بات وہی ہے جو سیدنا حسینؓ بن علیؓ نے حضورﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا جس مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ اس کے قدیم العہد ہونے کے باوجود اسے یاد کرتا ہےاور اس پر انا اللّٰہ و انا الیہ راجعون پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن کی طرح (صبر کرنے کا) اجر عطا فرماتا ہے (جس دن اسے یہ مصیبت پہنچی تھی)۔ جناب سلمیٰ کہتی ہیں میں ام المؤمنین ام سلمہؓ کے پاس آئی تو آپؓ کو روتا ہوا پایا، میں نے رونے کا سبب پوچھا تو کہا کہ میں نے حضورﷺ کو خواب میں دیکھا آپﷺ کے سر اور داڑھی مبارک پر گرد و غبار پڑا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ کیا ہوا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا
(سنن ترمذی: رقم الحدیث 3771)
میں نے حسینؓ کا قتل ابھی ابھی دیکھا ہے۔
نوٹ ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ کی وفات 59ھ میں ہے بعض نے کہا کہ 62ھ میں ہوئی قول اول صحیح تر ہے اور سیدنا حسینؓ کی شہادت 61ھ میں پیش آئی اگر حضرت ام سلمہؓ کی وفات 59ھ میں ہوئی ہو تو پھر اس کا معنیٰ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس واقعہ کے وقوع سے پہلے ان کو خواب میں یہ منظر دکھایا ہو اور آنفا یعنی اب کہنا باعتبار تحقیق اس کے ہے کہ اس وقت میں۔
(مظاہرِ حق: جلد 5 صفحہ 157)
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ 728ھ لکھتے ہیں:
صفحہ 3 از 5