سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے - ردِ رافضیت |…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 4 از 5
بلا شک و شبہ سیدنا حسینؓ مظلومانہ شہید ہوئے ہیں اور جن کے ہاتھ آپؓ کے خون سے رنگین ہوئے وہ سب خدا کے مجرم ہیں:
فَلَا رَيْبَ أَنَّهُ قُتِلَ مَظْلُومًا شَهِيدًا، كَمَا قُتِلَ أَشْبَاهُهُ مِنَ الْمَظْلُومِينَ الشُّهَدَاءِ. وَقَتْلُ الْحُسَيْنِ مَعْصِيَةٌ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ مِمَّنْ قَتَلَهُ أَوْ أَعَانَ عَلَى قَتْلِهِ [أَوْ رَضِيَ بِذَلِكَ] ، وَهُوَ مُصِيبَةٌ أُصِيبَ بِهَا الْمُسْلِمُونَ مِنْ أَهْلِهِ وَغَيْرِ أَهْلِهِ، وَهُوَ فِي حَقِّهِ شَهَادَةٌ لَهُ، وَرَفْعُ دَرَجَةٍ، وَعُلُوُّ مَنْزِلَةٍ ; فَإِنَّهُ وَأَخَاهُ سَبَقَتْ لَهُمَا مِنَ اللَّهِ السَّعَادَةُ، الَّتِي لَا تُنَالُ إِلَّا بِنَوْعٍ مِنَ الْبَلَاءِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُمَا مِنَ السَّوَابِقِ مَا لِأَهْلِ بَيْتِهِمَا، فَإِنَّهُمَا تَرَبَّيَا فِي حِجْرِ الْإِسْلَامِ، فِي عِزٍّ وَأَمَانٍ، فَمَاتَ هَذَا مَسْمُومًا وَهَذَا مَقْتُولًا، لِيَنَالَا بِذَلِكَ مَنَازِلَ السُّعَدَاءِ وَعَيْشَ الشُّهَدَاءِ.
(منہاج السنة: جلد 4 صفحہ 550)
رہا سیدنا حسینؓ کا معاملہ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آپؓ نہایت مظلومیت کی حالت میں شہید کئے گئے جس طرح کہ آپؓ جیسے دوسرے بہت سے لوگ مظلومانہ شہید کئے گئے۔ سیدنا حسینؓ کا مقصد شروع میں قتال کرنا نہیں تھا۔ سیدنا حسینؓ کو قتل کرنا یا اس پر مدد کرنا یا اس پر راضی ہونا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بڑی نافرمانی تھی۔ سیدنا حسینؓ کا قتل مسلمانوں کے لئے ایک بڑی مصیبت تھی جو اپنوں اور غیروں کی وجہ سے پہنچی جبکہ یہ شہادت سیدنا حسینؓ کے لئے درجات کی بلندی اور بڑی منزلت کا سبب بن گئی۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپؓ کے لئے اور آپؓ کے بھائی کے لئے سعادت اور خوش نصیبی مقدر ہو چکی تھی جو کہ کسی امتحان کے آئے بغیر انہیں نہیں مل سکتی تھی اور اس خاندان میں ان دو بھائیوں جیسی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے اسلام کی گود میں عزت وامان کے ساتھ پرورش پائی پھر ان میں سے ایک کو بذریعہ زہر اور دوسرے کو قتل کر کے شہید کیا گیا تاکہ یہ دونوں حضراتؓ جنت میں شہداء کے درجات حاصل کر لیں۔
آپ یہ بھی لکھتے ہیں:
وَكَانَ قَتْلُهُ  رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ الْمَصَائِبِ الْعَظِيمَةِ فَإِنَّ قَتْلَ الْحُسَيْنِ، وَقَتْلَ عُثْمَانَ قَبْلَهُ: كَانَا مِنْ أَعْظَمِ أَسْبَابِ الْفِتَنِ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ وَقَتَلَتُهُمَا مِنْ شِرَارِ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ.
( فتاویٰ ابن تیمیه: جلد 3 صفحہ 411)
ترجمہ: سیدنا حسینؓ کی شہادت عظیم مصائب میں سے ہے کیونکہ سیدنا حسینؓ اور ان سے پہلے سیدنا عثمانؓ کی شہادت اس امت کے اندر فتنوں کا سب سے بڑا سبب ہے اور جن لوگوں نے انہیں شہید کیا وہ خدا کے نزدیک بد ترین مخلوق ہیں۔
( مجموعہ رسائل کبریٰ صفحہ 301)
حافظ ابن تیمیہؒ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
" کہ اللہ تعالیٰ نے عاشوراء جیسے محترم و معظم دن میں حضورﷺ کے نواسہ اور جوانانِ جنت کے سردار سیدنا حسینؓ کو بد نصیب فاجروں کے ہاتھوں شہادت کا اعزاز دے کر انہیں عزت و کرامت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا حسینؓ کی عزت افزائی اور ان کے درجات کو بلند کرنے اور شہداء کرام کے مقام و مرتبہ تک پہنچانے کے لئے انہیں اس حادثہ سے دوچار کیا اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ اس طرح نہیں آزمائے گئے تھے جس طرح ان کے مقدس نانا محترم، والدہ اور قابلِ احترام چچا (سیدنا جعفرؓ اور سیدنا عقیلؓ) اللہ کے دین کے لئے آزمائے گئے کیونکہ یہ دونوں شہزادے اسلام کے زمانے میں پیدا ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں کے ماحول میں آنکھیں کھولیں اور پرورش پائی، اللہ نے چاہا کہ ان دونوں کو مقامِ شہادت سے سرفراز کریں چنانچہ ان میں سے ایک بذریعہ زہر شہادت کے مقام کو پہنچے جبکہ دوسرے نے میدان کرب وبلاء میں جامِ شہادت نوش کیا. آپؓ کی شہادت کا واقعہ اسلام میں ہونے والے بڑے مصائب میں سے ایک ہے. جن لوگوں نے آپؓ کو شہید کیا اور جنہوں نے اس بارے میں قاتلوں کی مدد کی، اس قتل پر وہ راضی ہوئے وہ سب کے سب بدبخت ہو گئے۔ 
ومن ذلك أن اليوم الذي هو يوم عاشوراء الذي أكرم الله فيه سبط نبيه, وأحد سيدي شباب أهل الجنة بالشهادة على أيدي من قتله من الفجرة الأشقياء, وكان ذلك مصيبة عظيمة من أعظم المصائب الواقعة في الإسلام. وقد روى الإمام أحمد وغيره عن فاطمة بنت الحسين وقد كانت قد شهدت مصرع أبيها, الحسين بن علي رضي الله عنهم, عن جده رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "ما من رجل يصاب بمصيبة فيذكر مصيبته وإن قدمت, فيحدث لها استرجاعا إلا أعطاه الله من الأجر مثل أجره يوم أصيب بها" فقد علم أن الله أن مثل هذه المصيبة العظيمة سيتجدد ذكرها مع تقادم العهد, فكان من محاسن الإسلام أن روى هذا الحديث صاحب المصيبة والمصاب به أولا ولا ريب أن ذلك فعله الله كرامة للحسين رضي الله عنه, ورفعا لدرجته ومنزلته عند الله, تبليغا له منازل الشهداء, وإلحاقا له بأهل بيته الذين ابتلوا بأصناف البلاء, ولم يكن الحسن والحسين حصل لهما من الابتلاء ما حصل لجدهما ولأمهما وعمهما, لأنهما ولدا في عز الإسلام, تربيا في حجور المؤمنين, فأتم الله نعمته عليهما بالشهادة, أحدهما مسموما, والآخر مقتولا, لأن الله عنده من المنازل العالية في دار كرامته ما لا ينالها إلا أهل البلاء كما قال النبي صلى الله عليه وسلم وقد سئل: أي الناس بلاء؟ فقال: "الأنبياء ثم الصالحون ثم الأمثل فالأمثل, وابتلى الرجل حسب دينه, فإن كان في دينه صلابة زيد في بلائه, وإن كان في دينه رقة خفف عنه وما يزال البلاء بالمؤمن حتى يمشي على الأرض وليس خطيئة" وشقي بقتله من أعان عله, أو رضي به
(کتاب حقوق آل البیت: صفحہ 40)
سیدنا حسینؓ کے ساتھ جن ظالموں نے زیادتی کی ان کا سرغنہ عبید اللہ ابن زیاد تھا، اس نے جب آپؓ کے دانتوں کے ساتھ گستاخانہ سلوک کیا تو حضرت زید بن ارقمؓ (یا حضرت انسؓ) نے اسے سختی سے ڈانٹا اور کہا کہ 
ان کے لب مبارک سے چھڑی ہٹالو میں نے بارہا حضورﷺ کو ان کا بوسہ لیتے دیکھا ہے۔
صفحہ 4 از 5